Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 حضرت آیت الله الٰعظمی سید علی خامنہ ای نے ولادت حضرت مرسل آعظم حضرت محمد مصطفی(ص) اور حضرت امام جعفر صادق(ع) کے موقع پر ایرانی حکام ، علمائے عالم اسلام ، تیسویں اتحاد اسلامی کانفرنس کے شرکاء ، اسلامی ممالک کے سفراء اور مختلف طبقہ کی عوام سے ملاقات میں کہا: ان دِنوں علاقے میں دو ارادے ایک دوسرے کے مقابل اور روبرو ہیں ، ایک «اتحاد کا اراده» دوسرے «اختلاف کا اراده»، ان حساس حالات میں « قرآن کریم اور پیغمبر اعظم(ص) کی تعلیمات پر تکیہ و بھروسہ» عالم اسلام سے اختلافات کے خاتمہ کا بہترین راستہ اور اس بیماری کا بہترین درمان ہے ۔ رهبر انقلاب اسلامی نے حاضرین کو ولادت حضرت مرسل آعظم حضرت محمد مصطفی(ص) اور حضرت امام جعفر صادق(ع) کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے فرمایا : حضرت مرسل آعظم(ص) کی اھمیت اس قدر زیادہ اور اہم ہے کہ پروردگار عالم نے قران کریم میں انسانوں کو اس نعمت کے دینے پر منت اور احسان جتایا ہے ۔



آپ نے قران کریم کے ٹکڑے «رحمةً ‌للعالمین» کے ضمن میں پیغمبر اسلام(ص) کی تعلیمات کو بشریت کی نجات کا راستہ بتایا اور کہا: انسانیت کے دشمن اور صاحبان زر و زور ان نجات بخش تعلیمات کے مخالف ہیں ، اسی بنیاد پر خداوند متعال نے رسول اسلام کو حکم دیا کہ وہ کفار و منافقین سے مصالحت کرنے کے بجائے ان سے جھاد کریں اور ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئیں ۔ آپ نے فرمایا: انسانیت اور اسلام کے دشمنوں سے جھاد کی نوعیت ، حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ بدل جاتی ہے ، یہ جھاد کبھی فوجی ، کبھی سیاسی ، کبھی ثقافتی اور حتی کبھی علمی ہے ، ملت اسلامیہ خصوصا دین کے مبلغین اور جوان طبقہ ، الھی تعلیمات سے آشنائی اور شناخت حاصل کریں اور اس کا بخوبی استفادہ کریں ۔ رهبر انقلاب اسلامی نے ملت اسلامیہ میں اختلافات کی آگ بھڑکانے کے حوالے سے عالمی سامراجیت کی مسلسل اور روز و شب کوششوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: آج عالم اسلام بے شمار مصیبتوں اور درد و رنج میں مبتلا ہے کہ ان سے « بے انتہا اور فراوان اسلامی مشترکات کے زیر سایہ اتحاد، یکجتہی ، تعاون اور مذهبی و فکری اختلافات سے گذر» کے ذریعہ نجات پایا جاسکتا ہے ۔ حضرت آیت الله خامنہ ای نے تاکید کی : جب ملت اسلامیہ اور اسلامی حکومتوں کے اتحاد کے نتیجہ میں امریکن اور صھیونیزم مسلمانوں پر اپنے مطالبات تحمیل کرنے میں ناکام ہوجائیں گے تو فلسطین کی فراموشی کی سازش ناکامی سے روبر ہوجائے گی  ۔

آپ نے مشرقی ایشیا کے علاقے میانمار کے مسلمانوں پر حملے اور ان کے قتل عام ، مغربی افریقا کے علاقے نائجیریا اور علاقے کے اسٹراٹیجک اور نہایت اہم علاقوں میں مسلمانوں کے آپسی ٹکراو کو عالمی سامراجیت کی سازش اور اختلاف آمیز سیاست کا نتیجہ جانا اور کہا: ان حالات میں امریکا جیسے استعمار مزاج سنی اور انگلینڈ جیسے استعمار طبع شیعہ قیچی کے دولبوں کے مانند ہیں جو اختلافات کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہیں ۔ رهبر انقلاب اسلامی نے یہ کہتے ہوئے کہ اختلاف انگیز شیطانی ارادوں کا عزت ‌بخش اتحاد و یکجہتی کے ارادے سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے کہا: انگریزوں کی پرانی سیاست ، تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو اس وقت عالم اسلام کے خلاف دشمنان اسلام کی اہم ترین اسٹراٹیجی ہے ۔ آپ نے حالیہ دو صدیوں میں برطانیہ کی پالیسیوں اور اقدامات کو علاقے کی قوموں کے لئے شر، اختلاف و تفرقہ اور ذلت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا : حالیہ دنوں میں برطانیہ نے نہایت بے شرمی سے مظلوم ایران کو علاقے کے لئے خطرہ بتایا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ اس کے ان الزامات کے برخلاف انگریز ہی ہمیشہ خطرہ، فتنہ و فساد اور ذلت کی بنیاد بنے رہے ہیں ۔

رهبر انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی ایران کی پیروزی کے بعد عالمی سامراجیت کی اسلام مخالف سرگرمیوں میں اضافہ کی بنیاد ، ایک مقتدر ، ترقی یافتہ اور آئڈیل نئے اسلامی نظام حکومت کے استقرار کا خوف بتایا اور کہا : دشمن اگر ظاھری حوالے سے اچھے اور سلجھے ہوئے بھی ہوں تو بھی وہ باطنی حوالے سے وحشی اور سنگ دل ہیں ، ملتیں اس بد اخلاق ، بے دین اور بے انصاف دشمن سے مقابلے کے لئے تیار رہیں ۔ حضرت آیت الله خامنہ ای نے «اتحاد» عالم اسلام کی اہم ترین ضرورت جانا اور کہا: تمام اسلامی مذاھب چاہے شیعہ و چاہے سنی اختلافات سے گریز کریں اور رسول اسلام (ص)، قران کریم اور بیت اللہ کے زیر سایہ اتحاد و یکجہتی کی فضا ھموار کریں ۔ رهبر انقلاب اسلامی نے سامراج مزاج طاقتوں کی استعماری شیطانی چالوں کے مقابل ملتوں اور حکمرانوں کو ہوشیار اور بیدار رہنے کی تاکید کی اور کہا: کیوں اسلام نما ممالک دھمکیوں اور دشمنیوں کے سلسلے میں دشمن کی باتوں اور ان کی سیاست کی پیروی کرتے ہیں ۔ آپ نے آخر میں ملت ایران کو خطاب کرتے ہوئے کہا: « راہ امام خمینی(رہ) اور انقلاب کا تسلسل »، « دشمنوں کے مقابل قیام » اور « حق و حقیقت کا بغیر تعصب و تبعیض کے دفاع » دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی کا باعث ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب سے پہلے اسلامی جمھوریہ ایران کے صدر مملکت حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی وحدت اسلامی کانفرنس کے مہمانوں سے خطاب میں انہیں یوم ولادت مرسل آعظم(ص) اور حضرت امام جعفر صادق(ع) کی مبارک باد پیش کی ۔

انہوں نے یوم ولادت رسول اسلام(ص) کو حق اور اخلاقی کمالات کی جانب دعوت دینے کا دن بتایا اور کہا: رسول اسلام (ص) نے حق و باطل کے درمیان بیچ کے راستے کا انتخاب نہیں تھا بلکہ حضرت (ص) نے حق کے میدان میں بہترین راستہ کا انتخاب کیا اور اعتدال کے معنی بھی یہی ہیں ۔ انہوں نے ایک دوسرے کی ہمراہی میں مادی اور معنوی ترقی کی جانب تاکید کی اور کہا: آج معنویت کے میدانوں میں جوانوں کا رجحان اور ذوق و شوق ماضی سے کہیں زیادہ ہے نیز سنٹرل بینک کی رپورٹ کے مطابق پہلے چھ ماہ کی مدت میں ۷/۴ پرسنٹ ملک میں ترقی ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر روحانی نے علاقے کی موجودہ صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بعض گروہوں نے پیغمبر رحمت (ص) کے نام پر قتل و تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے اور دین کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے کہا: اسلامی جمھوریہ ایران مظلوموں کے ساتھ کھڑا تھا اور ہمیشہ مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑا رہے گا نیز دہشت گردی کی مخالفت کرتا رہے گا ۔ اسلامی جمھوریہ ایران کے صدر مملکت نے عراق و شام کی فوج اور عوامی فورس کی دھشت گردوں پر کامیابی پر بعض ممالک کی جانب سے تشویش کا اظھار کئے جانے پر شدید تنقید کی اور کہا: افسوس بعض اسلامی ممالک کے حکمراں ، شام اور حلب کے مظلوم مرد و زن ، بچوں اور بوڑھوں کے سلسلے میں‌ تشویش کرنے کے بجائے انہیں دھشت گردوں کی سلامتی کی فکر لاحق ہے اور انہیں حلب سے صحیح و سالم نکالنے میں کوشاں ہیں ۔ حجت الاسلام و المسلمین روحانی نے یہ کہتے ہوئے کہ ظلم و زیادتی سے مقابلہ رسول اسلام(ص) کی سیرت طیبہ رہی ہے کہا: اختلافات اسلامی ممالک کی ترقی میں بہت بڑی روکاوٹ ہیں کہ اس سے نجات کا واحد راستہ اتحاد و ھمدلی ہے ۔ اس موقع پر تیسویں وحدت اسلامی کانفرنس کے مہمانوں نے آخر میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت ایت الٰعظمی سید علی خامنہ ای سے قریب سے ملاقات اور گفتگو کی ۔