Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 8

کل 9

اس هفته 8

اس ماه 181

ٹوٹل 22022

 رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے آغاز کی حالیہ کامیابی کو ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی انتھک محنتوں اور ایرانی قوم کی بھرپور حمایت و پشت پناہی کی مرہون منت قرار دیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مشرق وسطٰی کی موجودہ صورتحال کو امریکہ کے نئے مشرق وسطٰی کے منصوبے کا نتیجہ قرار دیا۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے پارلیمنٹ کا دسواں اور مجلس خبرگان کا پانچواں الیکشن کرانے والی کمیٹیوں، الیکشن کمیشن کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب میں ان دونوں ہی انتخابات کو بہت ہی اہم اور عظیم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شاندار اور صحتمندانہ مقابلے کی اہم شرط یہ ہے کہ سبھی رائے دہندگان حتی وہ لوگ بھی جو اسلامی جمہوری نظام سے راضی نہیں ہیں، وہ بھی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرنا چاہیئے جو کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد عوام کی خدمت اور عوام کے مفادات اور مصحلتوں کے لئے کام کریں۔ اسلامی جمہوری ایران کے سپریم لیڈر نے ایٹمی مسئلہ کے حل کے سلسلے میں صدر ڈاکٹر حسن روحانی، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور ایٹمی مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان کی زحمتوں کا شکریہ ادا کیا۔



انہوں نے وضاحت کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سارے مطالبات پورے نہیں ہوئے، لیکن حقیقت میں ایرانی حکام نے اس معاملے میں بہت محنت اور زحمت کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بارے میں اہم نکات بیان کرتے ہوئے ایرانی حکام کو مخاطب کرکے کہا کہ امریکہ وہی پہلے والا ہی امریکہ ہے، بنابریں مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے امریکہ کی نیرنگیوں اور چال بازیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ ایٹمی کامیابی ایرانی سائنسدانوں کی مہارتوں اور کوششوں نیز ایرانی عوام کی حمایت و پشت پناہی کا نتیجہ ہے۔ بنابریں یہ ناانصافی ہے جو بعض افراد ان نتائج کو امریکیوں کی مہربانی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ کی ماہیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی موجودہ صورتحال امریکہ کی طرف سے چند سال قبل پیش کئے گئے نئے مشرق وسطٰی کے منصوبے کو نمایاں کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کا نیا مشرق وسطٰی درحقیقت جنگ و دہشت گردی، تعصب، رجعت پسندی اور فرقہ وارانہ نیز داخلی جنگوں کا شکار مشرق وسطٰی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی کا اپنے خطاب کے ایک حصے میں ان افراد کو مخاطب کرتے ہوئے، جو تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانے پر حملے کا الزام ایران کے مذہبی اور انقلابی جوانوں پر لگا کر اور اسے بہانہ بنا کر انہیں اپنی بے جا تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، کہنا تھا کہ 2 جنوری کو تہران میں سعودی سفارتخانہ پر حملہ بہت برا اور غلط اقدام تھا اور اس سے قبل جو برطانوی سفارتخانہ پر حملہ ہوا، وہ بھی درست نہیں تھا، کیونکہ یہ حملے اسلام اور ایران کے خلاف تھے اور میں نے بھی انہیں پسند نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی سفارتخانے پر حملہ سے ایران اور اسلام کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اس حملہ کو ہمارے متقی نوجوانوں پر تنقید کے لئے عذر نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ ان متقی اور انقلابی جوانوں کی اسلام اور انقلاب کے لئے بہت قربانیاں ہیں، یہ وہ افراد ہیں جو اسلام اور انقلاب کے لئے ہر وقت اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے میدان میں موجود رہتے ہیں۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی کے ان انقلابی گارڈز کا مشکور ہوں، جنہوں نے گذشتہ ہفتے امریکی سیلرز کو حراست میں لیا، کیونکہ ان امریکی کشتیوں نے ایران اسلامی کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ انہوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ آئندہ بھی تمام میدانوں میں ایران اسلامی کی حدود کیخلاف تجاوز کرنے والوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی گارڈز نے امریکی عملہ کے ارکان کو رہا کرکے صحیح اقدام کیا۔