Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے سعودی عرب اور ایران کو بھائی بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے میں موجود کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔ منگل کو ایران کی اعلٰی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم اور ان کی ٹیم ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے ڈیووس روانہ ہوگئے۔ نواز شریف نے آج تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی، جس میں دنوں رہنماؤں نے ایران سعودیہ کشیدگی کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹینٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور ایرانی کابینہ کے ارکان بھی شریک ہوئے۔ نواز شریف نے صدر روحانی کو خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا، جس پر ایرانی صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد ڈیووس روانگی سے قبل نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب اور ایران بھائی بھائی ہیں اور پاکستان خطے میں موجود کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر ایران اور سعودی عرب تنازعے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ 1997ء میں بھی ہم نے ایران اور سعودی کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں ایران اور عراق کشیدگی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔



 وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھتے، دونوں ممالک میں کشیدگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نواز شریف نے تہران میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ سعودی عرب اور ایران ہمارے بھائی ہیں، دونوں کو دہشت گردی کے خطرے کا ادراک ہے، قرآن کریم کا فرمان ہے کہ دو مسلمان بھائی لڑیں تو ان کی صلح کراؤ، سعودی عرب اور ایران تنازع کا خاتمہ مقدس مشن ہے، امن مشن کا فیصلہ پاکستان نے خود کیا۔ انہوں نے کہا کہ دورے سے بہت مطمئن ہوں، دونوں ممالک کے درمیان صلح ہونی چاہیے، دہشت گردی اور انتہا پسندی ہماری اس وقت سب سے بڑی دشمن ہیں، دونوں ممالک سے بات چیت سے حوصلہ ملا ہے، سعودی عرب اور ایران نے ہمارے مؤقف کی تائید کی ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور ایران اپنے فوکل پرسن مقرر کریں گے، جبکہ فوکل پرسن مقرر کرنے کیلئے سعودی عرب سے بھی بات کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں برادر ملکوں نے ہماری کوششوں کو سراہا ہے، سعودی عرب نے کہا ہے کہ ایران سے ہماری کوئی دشمنی نہیں، ایران نے بھی کہا ہے کہ کسی طرح کی کشیدگی نہیں چاہتے، دونوں جانب سے کچھ تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کی میزبانی کرنا چاہتا ہے، اس حوالے سے ایران نے آمادگی ظاہر کر دی ہے، سعودی عرب سے بھی رائے لیں گے، 1997ء میں بھی سعودی اور ایرانی قیادت کی ملاقات کرائی تھی۔

اس سے پہلے تہران پہنچنے پر ایران کے وزیر دفاع اور اعلٰی حکام نے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد میں نواز شریف نے تہران میں ایرانی وزیر دفاع حسین دہقان سے ملاقات میں کہا کہ مسلم امہ کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ ایران کے وزیر دفاع نے وزیراعظم نواز شریف کے ایران کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ اس سے پہلے ریاض سے تہران جاتے ہوئے وزیراعظم نے پرواز کے دوران بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور دیگر حکام سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کے بارے میں مشاورت کی سعودی عرب اور ایران کے موقف کے حوالے سے سعودی قیادت سے ہونے والی بات چیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔