Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

 سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کے رہنما شیخ باقرالنمر کو، چھیالیس دیگر افراد کے ہمراہ پھانسی دے دی گئی۔ مشرقی سعودی عرب میں فروری 2011 میں وسیع پیمانے پرآل سعود حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد جولائی 2012 میں سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین شیخ باقر النمر کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ زیر حراست انھیں فائرنگ کا بھی نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ان کے علاج معالجے پر بھی سعودی حکام نے کوئی توجہ نہیں دی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی فوجداری کی عدالت نے 15 اکتوبر 2014 کو سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ باقرالنمر کو اپنے خود ساختہ اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جلاد اور امریکہ نواز شیطانی حکومت نے سعودی عرب کےممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر نمر النمر کو پھانسی دیکر شہید کردیا ہے۔  سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جلاد اور امریکہ نواز شیطانی حکومت نے سعودی عرب کےممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر نمر النمر کو پھانسی دیکر شہید کردیا ہے۔

 

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق شیخ نمر سمیت 47 افراد کو پھانسی دی گئی ہے۔ سعودی عرب کی اعلی عدالت اور بادشاہ کی تائید کے بعد شیخ نمر کو پھانسی دی گئی ۔ شیخ باقر نمر سعودی عرب کے ممتاز شیعہ عالم دین تھے وہ 1379 ہجری قمری میں سعودی عرب کے صوبہ القطیف کے شہر العوامیہ میں ایک اعلی علمی گھرانے میں پیدا ہوئے اس علمی گھرانے میں آیت شیخ محمد بن ناصر آل نمر (قدس سرہ) اور علی بن ناصر آل نمر جیسے حسینی خطباء اپنی خدمات سرانجام دے چکے تھے۔

 

آیت اللہ باقر نمر نے شام اور ایران میں دینی تعلیم حاصل کی اور جب وہ واپس سعودی عرب پہنچے تو انھیں سعودی عرب کی ظالم و جابر حکومت نے 2006 میں پہلی بار گرفتار کیا۔ انھوں نے العوامیہ میں القائم دینی مدرسہ بھی قائم کیا ۔ شیخ باقر نمر کو سعودی عرب کی جلاد اور ظالم حکومت نے 2008 میں دوبارہ اس وقت گرفتار کیا جب شیخ نمر نے جنت البقیع کی دردناک صورتحال کے بارے میں سعودی حکومت کو ایک مراسلہ لکھا جس میں جنت البقیع کی تعمیر پر تاکید کی گئی تھی شیخ باقر النمر نے شیعہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں بھی سعودی عرب کی حکومت کو آگاہ کیا ۔

شیخ باقر النمر کو 2009 میں ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور یہ ان کی آخری گرفتاری نہیں تھی بلکہ شیخ کو 2012 میں پھر گرفتار کیا گیا اور 2014 میں ان پر آل سعود حکومت پر شدید تنقید کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور آخر کار سعودی عرب کی جلاد اور معاویہ و یزید کی حامی حکومت نے حسینی عالم دین کو پھانسی دیدی اور شیخ باقر النمر شہادت کے عظيم مرتبے پر فائز ہوگئے اور آل سعود کے ہاتھ ان کے مظلوم خون سے رنگین ہوگئے ۔ ذرائع کے مطابق شیخ باقر النمر کا ناحق خون آل سعود کی نابودی اور تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔