Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 8

کل 9

اس هفته 8

اس ماه 181

ٹوٹل 22022

 سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کے رہنما شیخ باقرالنمر کو، چھیالیس دیگر افراد کے ہمراہ پھانسی دے دی گئی۔ مشرقی سعودی عرب میں فروری 2011 میں وسیع پیمانے پرآل سعود حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد جولائی 2012 میں سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین شیخ باقر النمر کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ زیر حراست انھیں فائرنگ کا بھی نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ان کے علاج معالجے پر بھی سعودی حکام نے کوئی توجہ نہیں دی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی فوجداری کی عدالت نے 15 اکتوبر 2014 کو سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ باقرالنمر کو اپنے خود ساختہ اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جلاد اور امریکہ نواز شیطانی حکومت نے سعودی عرب کےممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر نمر النمر کو پھانسی دیکر شہید کردیا ہے۔  سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جلاد اور امریکہ نواز شیطانی حکومت نے سعودی عرب کےممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر نمر النمر کو پھانسی دیکر شہید کردیا ہے۔

  رہبر انقلاب اسلامی نے سعودی عرب کے مظلوم و مومن عالم دین کو شہید کرنے سے متعلق اس ملک کی حکومت کے ہولناک جرم کی شدید مذمت کی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اتوار کی صبح، فقہ کے درس خارج میں معروف عالم دین شیخ باقر النمر کو شہید کئے جانے سے متعلق سعودی حکومت کے جرم اور یمن و بحرین میں بھی اسی طرح کے جرائم کے ارتکاب کے سلسلے میں عالمی برادری کے احساس ذمہ داری کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ یقینا اس مظلوم شہید کا، ناحق بہایا جانے والا خون، جلد اپنا رنگ لائے گا اور سعودی حکمرانوں کو الہی انتقام سے دوچار کردے گا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس مظلوم عالم نے نہ تو عوام کو ہتھیاروں کے ساتھ تحریک چلانے کی ترغیب دلائی اور نہ ہی کسی خفیہ سازش کا اقدام کیا بلکہ اس عالم دین نے صرف سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دینی غیرت کی بنیاد پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مظاہرہ کیا۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شیخ باقر النمر کی شہادت اور ان کا خون ناحق بہائے جانے کو سعودی حکومت کی ایک بڑی سیاسی غلطی قرار دیا اور فرمایا کہ خداوند متعال، بے گناہوں کے خون کو کبھی معاف نہیں کرے گا اور سعودی حکمرانوں کو، خون ناحق بہانے کا جلد ہی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

 نائیجیریا ایک افریقی ملک ہے، جس کی کل آبادی 17 کروڑ ہے، جس میں 60 فیصد مسلمان اور ان میں سے 7 فیصد شیعہ ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں تشیع میں روز بروز اضافے کی وجہ سے اسرائیل اور وہابیت نائجیرین عوام کے جانی دشمن بن گئے ہیں، دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی بھرپور سعی کر رہا ہے۔ شیخ ابراہیم زکزاکی ملت جعفریہ نائیجیریا کے قائد، اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ اور رہبرِ مسلمینِ جہاں آیت اللہ السید علی خامنہ ای کے نائجیریا کے لئے نمائندے بھی ہیں۔ جن کے اعلٰی اخلاق کی وجہ سے تمام مسلمان بشمول شیعہ و سنی حتیٰ کہ عیسائی بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شیخ زکزاکی نے خود بھی امام خمینی کے افکار سے متاثر ہوکر شیعہ مذہب اختیار کیا اور اب تک لاکھوں لوگوں کو شیعہ کرچکے ہیں۔

 سعودی عرب کے مذہبی پیشوا آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دینے کے آل سعود کے جرم نے بہت سے ایسے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں کہ جن کا باریکی سے جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے-

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ نمر کو اس حساس دور میں کیوں شہید کیاگیا- ؟ کیا سعودی عرب کے حکمرانوں کی امتیازی پالیسیوں پر شیخ نمر کی تنقید ریاض کے لئے اتنا بڑا خطرہ بن گئی تھی کہ سزائے موت کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا تھا؟گذشتہ دو دنوں سے سعودی عرب سے وابستہ عرب ٹی وی چینل اپنے تمام تجزیوں اور رپورٹوں کا رخ اس موضوع پر مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ سعودی عرب میں جو کچھ ہوا اس کی جڑیں ایران میں ہیں-

سعودی حکام نے اس زاویے سے پروپیگنڈہ کرتے ہوئے سنیچر کی شام ، تہران اور مشھد میں شیخ نمر کو سزائے موت دیئے جانے کے خلاف سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے کے سامنے ہونے والے عوامی مظاہروں سے متعلق خبروں کو ایک منظم سازش کے تحت ریاض و تہران کے تعلقات میں باقاعدہ کشیدگی پیدا کرنے کی جانب موڑ دیا -

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف اور خودسرانہ اقدام انجام دینے والوں کے خلاف تہران کی کارروائی کو نظر انداز کرتے ہوئے پورے مسئلے کو ہی تبدیل کر دیا اور نہایت عیاری سے گیند ایران کے کورٹ میں ڈال دی تاکہ دنیا پر یہ ظاہر کر سکیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں سفارت خانوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور وہاں سفارتی تحفظ کوئی مفھوم نہیں رکھتا- سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایران سے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلا کر اور تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرکے اس ہنگامہ کو انجام تک پہنچا دیا-

 لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے سعودی عرب کی طرف سے تشکیل دیئے گئے، دہشتگردی مخالف اتحاد کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکی سناریو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس اتحاد کی بنیاد پر خطے میں جہاں امریکی افواج اعزام نہیں ہوسکتی، وہاں ان اتحادی ممالک کی افواج اعزام ہوں گی۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے "العہد" نامی ویب سائٹس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حزب اللہ لبنان نے سعودی عرب کیجانب سے دہشتگردی مخالف اتحاد کے بارے میں اپنے ردعمل اور اعلامیہ میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ اسلامی ممالک کے اس اتحاد کے اہداف و مقاصد اور اس کی تشکیل کے پشت پردہ سعودی عرب کا اعلامیہ انتہائی مشکوک ہے۔ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کا یہ اعلامیہ اس امریکی سناریو کی تکمیل ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلا کو ان اتحادی ممالک کی افواج سے پر کرنا ہے۔ لبنان کے اس مزاحمتی گروہ نے سعودی عرب کے اس دعوے کہ لبنان بھی اس اتحاد کا حصہ ہے، کے بارے میں کہا ہے کہ حزب اللہ، لبنان کے اس اتحاد کا حصہ بننے کا مطلقاً مخالف ہے۔ حزب اللہ لبنان نے لبنانی وزیراعظم "تمام سلام" کی جانب سے اس اتحاد کی تشکیل کا خیرمقدم کرنے کے بارے میں کہا ہے کہ تمام سلام کا یہ اعلان ان کی اپنی ذاتی رائے ہے، کیونکہ لبنانی وزیراعظم کسی بھی ایسے اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتا، جس کے بارے میں بہت سے سوالات اور ابھامات موجود ہوں۔