Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 

انقلاب اسلامی ایران کے سربراہ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ عالمی معاشرے کے حقائق امریکی خواہشات کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہے ہيں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے 1393 شمسی سال کے آغاز کے پہلے دن ایران کے مقدس شہر مشہد ميں لاکھوں زائرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ خاص اہداف جسے عالمی سامراج خاص طور پر امریکہ، ایران، فلسطین، شام، عراق اور افغانستان میں حاصل کرنے کے درپے تھا، انہیں وہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوا اور آئندہ بھی کامیاب نہيں ہوپائے گا۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ فلسطین کو ایک یہودی ریاست میں تبدیل کر دے، یعنی فلسطینی چاہے وہ مسلمان ہو یا عیسائی اس سرزمین پر زندگی گذارنے کا حق اس سے چھین لے، لیکن اس کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے اور آئندہ بھی یہ کوششیں بے نتیجہ ہی رہیں گی۔

 

 

شیخ الازہر "احمد الطیب" نے ایک ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران واضح کیا ہے کہ تکفیر کا حق صرف خدا کو حاصل ہے اور کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے کو کافر قرار دے ۔  الشیخ  احمد  الطیب  نے  مصری  ٹی  وی  چینل  کے  ساتھ  خصوصی  گفتگو  کے  دوران  تکفیری  گروپوں  کی  جانب  سےدوسرے  مسلمانوں کو جان  بوجھ  کر کافر  قرار  دینے اور  بغیر کسی شرعی  دلیل  کے  فتوی  صادر  کرنے  کے  خطرناک  نتائج  پر  خبردار  کیا  ہے  ۔

 

انہوں  نے  واضح  کیا  :  علمائے  اسلام   نے "احکام  کفر"  سے  متعلق  باب  میں   کفر  کے  اثبات  کے  لیے  خاص  شرائط  وضع  کی  ہیں  جن  پر  عمل  کرنا  سب  کے  لیے  ضروری  ہے  ۔ انہوں  نے  مزید کہا  :  کسی  کے  بارے  میں  کفر  کا  فتوی  دینا  صرف  قاضی  کا کام  ہے  اور  قاضی  کو بھی اس  بات  کا  یقین  ہونا  چاہیئے  کہ جس  پر  کفر  کا  حکم  لگایا  جا  رہا  ہے  اس  نے  اصول  اسلام  میں  سے  کسی  ایک  اصل  کا  جان  بوجھ  کر  انکار  کیا  ہے  ۔

 

 اسلامی جمہوری ایران کے اسکولوں اور یونیورسٹیز کے ہزاروں طلباء نے آج رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے تہران میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات سامراج کی مخالفت کے قومی دن کی مناسبت سے انجام پائی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ہزاروں طلباء سے اپنےخطاب میں فرمایا کہ تیس برس قبل ایرانی جوانوں نے تہران میں امریکی سفارتخانے کا نام جاسوسی کا اڈا رکھا تھا اور آج امریکہ کے قریبی ترین ملکوں میں بھی امریکہ کے سفارتخانوں کو جاسوسی کے اڈے کہا جا رہا ہے، یعنی ایران اسلامی کے انقلابی جوان تیس برس آگے تھے۔

سعودی عرب کے ایک اخبار نے اعتراف کیا ہےکہ سعودی عرب کے سیکڑوں خود کش بمبار دہشتگرد عراق میں موجودہ ہیں۔   سعودی عرب کے تکفیری دہشتگرد عناصر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے عراق میں بدامنی پھیلانے کےلئے تین سو خود کش بمبار دہشتگرد بھیجے ہیں۔ اس اخبار نے عراق میں سعودی عرب کے تکفیری عناصر کی تخریبی کاروائیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہابی مفتی اپنے جاہلانہ فتووں کے سہارے سعودی جوانوں کو موت کے منہ میں ڈھکیل رہے ہیں۔