Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

 رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ یمن، بحرین اور فلسطین کی اقوام، ہر طرح سے مظلوم ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران ان کی حمایت کرتا ہے۔  رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہفتے کی صبح تہران میں بعثت رسول اکرم(ص) کی مناسبت سے ملکی حکام اور اسلامی ملکوں کے سفراء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا بعثت کا مقصد جاہلیت کا مقابلہ کرنا تھا۔

آپ نے فرمایا کہ جاہلیت کا دور پھر پلٹ آیا ہے جو شہوت اور ظلم کے زیر اثر ہے البتہ ماضی کے دور جاہلیت میں حرام مہینوں میں مشرکین مکہ بھی جنگ روک دیا کرتے تھے- رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا آج وہ لوگ، اس وقت کے مشرکین مکہ سے بھی بدتر ہیں، جو حرام مہینے میں بھی بے گناہوں کا قتل عام کرکے یمنی عوام اور گھرانوں کو سوگوار بنا رہے ہیں۔  رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یمن میں بدامنی و قتل عام کے ذمہ دار، علاقے کے ہی بعض ممالک ہیں مگر انھوں نے دھوکہ کھایا ہے۔

 سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں آل سعود حکومت کے نجدی وہابی خود کش حملہ آور نے مسجد امام علی(ع) میں دوران نماز جمعہ خود کو دھماکہ سے اُڑا لیا جس سے 30 شیعیان علی شہید ہوگیے ، بی بی سی کے مطابق دھماکہ خودکش تھا، دھماکہ نماز جمعہ کے دوران ہوا، ابتدائی معلومات کے مطابق 30 افراد شہید ہوگئے ہیں جبکہ 100 زخمی ہیں، دھماکے کے وقت مسجد میں 150 کے قریب نمازی نماز جمعہ ادا کررہے تھے۔ بی بی سی کے مطابق ایک عینی شاہد کمال جعفرکا کہنا ہے کہ جب ہم نماز جمعہ کی پہلی رکت کے رکوع میں تھے تو ہم نے دھماکے کی آواز سنی، ہر طرف دھواں پھیل گیا ،حواس بحال ہوئے تو دیکھا ہر طرف خون ہی خون تھا۔

 عراق کے صوبے الانبار کی انتظامی کونسل کے سربراہ "صباح کرحوت" نے بدھ کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ عراق کی سیکورٹی فورس اور مختلف قبائل نے الرمادی کے مشرق میں دو علاقوں کو آزاد کرالیا ہے- آزاد کرائے جانے والے علاقے، سجاریہ اور الفلاحات، شہر الرمادی کے مشرق میں واقع ہیں- الانبار کی گورننگ کونسل کے چیئرمین نے اعلان کیا ہے کہ ان دونوں علاقوں کو آزاد کرانے کی کاروائی میں درجنوں داعش دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دیگر علاقوں کی آزادی کیلئے پیش قدمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے- الانبار کو آزاد کرانے کی عراقی فوجی کاروائی میں دس ہزار سے زائد مقامی قبائل بھی شریک ہیں۔ ادھر عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کی آمادگی میں اضافے کے لیے فوجی کمانڈروں کی سطح پر کئی تبدیلیاں کی ہیں-

 سعودی عرب نے یمن کے خلاف جارحیت کے خاتمے کے اعلان کے باوجود یمن کے نہتے عوام پر اپنے حملے جاری رکھے ہیں اور یمن کے عوام کے لئے امداد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔ چھبیس مارچ سے آل سعود، صیہونی حکومت اور امریکہ کی سازش سے یمن کے عوام پر حملے شروع ہوئے تھے یہ حملے براہ راست آل سعود اوراس کے پٹھوؤں نے شروع کئے تھے۔ آل سعود کی حکومت نے گذشتہ ہفتے ان حملوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ صرف اعلان ہی تھا جبکہ حملے بدستور جاری ہیں اور نہتے عوام ان میں شہید اور زخمی ہورہے ہیں۔ یمن میں آل سعود کے فریبی اقدامات کے ساتھ ساتھ آل سعود نے غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر اسلامی رویہ اختیار کرتے ہوئے جنگ اور امن کے زمانے میں عوام کے حقوق کو مکمل طرح سے پامال کردیا ہے اور انسان دوستانہ امداد کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے۔ واضح رہے آل سعود نے جنگ بندی کا اعلان کرنے کے باوجود ایران کے انسان دوستان امداد کے حامل دو طیاروں کو صنعامیں اترنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ قدرتی اور انسانوں کی لائي ہوئي آفتوں کے مینجمینٹ کی تاریخ سے پتہ چلتا ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران امن و صلح کا حامی ہے اور عوام کو مدد پہنچانے میں سب سے آگے آگے رہتا ہے۔ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی دنیا کے مختلف علاقوں میں حادثوں اور جنگوں سے متاثرہ عوام کو امداد پہنچانے میں مثبت ریکارڈ کی حامل ہے اور اس سلسلے میں عالمی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کرتی ہے،ایران  یمن کےعوام کو بھی اسی تناظر میں امداد پہنچانا چاہتا ہے۔

 

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے آج صبح (بروز پیر) پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور اس کے ہمراہ وفد کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے وسیع ثقافتی اور دینی مشترکات کو ایران اور پاکستان کی دو قوموں کے درمیان اچھے، صمیمی اور دوستانہ روابط کے اہم عوامل میں قراردیا اور اقتصادی شعبہ میں باہمی روابط کے فروغ  کی سطح کم ہونے پر گلہ و شکوہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ایسے عوامل و عناصر سرگرم ہیں جو مختلف طریقوں منجملہ مشترک طولانی سرحد پر بدامنی پھیلا کر پاکستان اور ایران کی دونوں دوست اور برادر قوموں  اور حکومتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں ، لیکن دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کے فروغ کے سلسلے میں موجود عظیم فرصت کو ضائع کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔