Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

  آیت اللہ جوادی آملی                                                                                                            ترجمہ : محمد حسن حیدری                       

              

پیٹ بھرکر کھانے کی مذمت

     ماہ مبارک رمضان  اسرار عالم کو جاننے کا بہترین موقع ہے، اس مہینے میں اتنی مقدار میں کھانا چاہئے جتنا بدن کے لئے ضروری ہو کیونکہ زیادہ کھانے کے ذریعے کوئی بھی کسی مقام تک نہیں پہنچتا ہے ۔         اخلاقی روایات میں پیغمبر اکرم ﷺ سے نقل ہوا ہے: ((کسی بھی چیز کا بھرنا اتنا برا نہیں ہے جتنا پیٹ کا بھرنا برا ہے ))   ؛ کیونکہ جب انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے تو سمجھنے کا راستہ بند ہوجاتا ہے ۔ پیٹ بھر کر کھانے والا کسی بھی مطلب کو نہیں سمجھ پاتا ہے اور کبھی بھی اسرار عالم کی اطلاع حاصل نہیں کرسکتا ہے ۔ پیٹ بھرکر کھانا سستی کا باعث ہے جبکہ کھانے میں اعتدال کی رعایت کرنا سلامتی ، طول عمر اور دل کی روشنی کا باعث بنتا ہے ۔حد سے زیادہ کھانا روح اور بدن دونوں پر بوجھ کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں انسان اس دنیا سے جلدی چلا جاتا ہے ۔ معمولا کھانے میں زیادہ روی کرنے والے کی عمر کم ہوا کرتی ہے ۔ نیز کھانے میں زیادہ روی کرناسستی اور نیند کا باعث بنتا ہے ۔

 

جب بھی پیغمبر اکرم ﷺ کے اصحاب آنحضرت (ص)  کے حضور شرفیاب ہوتے تو پیغمبر اکرم ﷺ ان سے پوچھتے تھے : (( کل کی رات کیسا خواب دیکھا جو خوشخبری کا باعث بنے ؟ )) هل من مبشرات ؟ ))   پس انسان سوتا ہے کسی چیز کو سمجھنے کے لئے ۔ ایسا نہیں ہے کہ زیادہ کھائے اور زیادہ سوجائے ۔

ایک شخص نے پیغمبر اکرم ﷺ کے سامنے ڈکار لی تو آنحضرت (ص) نے فرمایا : کم کھایا کریں ۔ اچھا نہیں ہے کہ انسان زیادہ کھائے اور دوسروں کے سامنے ڈکار لے ۔

پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں : (( اقصر من جشائک فان اطول الناس جوعا یوم القیامة اکثرهم شبعا فی الدنیا )) 

  (( قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکے لوگ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں سب سے زیادہ کھاتے تھے )) ۔

حضرت علی ؑ کی حالات زندگی میں نقل ہوا ہے کہ : ایک دن آنحضرت ؑ نے اپنے باغبان سے پوچھا : کیا کھانے کے لئے کوئی چیز ہے ؟ عرض کیا سادہ سا کدو بنا ہوا ہے جو آپ کے لائق نہیں ہے کیونکہ بغیر گھی کا بنا ہوا ہے ۔ فرمایا : کوئی بات نہیں ہے، لاؤ ۔ پھر امام ؑ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور اس کھانے کو تناول فرمایا ، اور اپنے شکم مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : (( اتنے سادہ کھانے سے بھرنے والا پیٹ ! بدبخت ہے وہ انسان کہ جس کا پیٹ اس کو جھنم کی طرف لے جائے ! ))  ۔

 

اسلام میں آزادی کی  اہمیت

     ہمارے بزرگوں نے فرمایا ہے : اگرچہ روزہ رکھنا سخت ہے لیکن نداء پروردگار کے سننے کی لذت جو فرماتا ہے : ((یاایها الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ))  روزہ کی تھکاوٹ اور سختی کو ختم کردیتی ہے (( اللذۃ ما فی النداء ازال تعب العبادۃ والعناء ))  اس نداء پروردگار کے سننے سے عبادت کی سختی ہمارے لئے آسان ہوجاتی ہے ۔

 

پیغمبر اکرم ﷺ نے ماہ مبارک شعبان کے آخری جمعہ کو ایک خطبہ دیا جس میں فرمایا : ((ایها الناس ان انفسکم مرهونة باعمالکم ففکوها باستغفارکم ))  اے لوگو ! تم آزاد نہیں ہو۔ پنجرہ میں بند ہو ۔ تمہیں خبر نہیں ہے کہ اپنے گناہوں کے زندان میں میں گرفتار ہو ۔ ماہ مبارک رمضان میں استغفار کے ذریعے سے خود کوگناہوں کے زندان سے رہائی دو ، گناہکار انسان مقروض ہے اور مقروض کو چاہئے کہ قرض ادا ہونے تک قرض دینے والے کے پاس کوئی شئی گروی میں رکھ دے ؛ تاکہ وہ مطمئن رہے ۔ یہاں پر گھر اور زمین کو گروی کے طور پر قبول نہیں کرتے ہیں بلکہ جان کو گروی میں لے لیتے ہیں ؛ پس وہ شخص جو کہتا ہے میں جو بھی چاہوں کرتا ہوں یا جہاں چاہوں جاتا ہوں یا جو بھی چاہوں کہتا ہوں و۔۔۔ درحقیقت وہ شخص اسیر ہے آزاد نہیں ہے، ہوا و ہوس کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے ۔

دین مقدس اسلام میں کسی بھی چیز کی اہمیت ، آزادی کی اہمیت کے برابر نہیں ہے ۔ حضرت امام علی ؑ فرماتے ہیں : (( من ترک الشھوات کان حرا ))   ( وہ شخص آزاد ہے جو ( شھوات ) خواہشات کو چھوڑ دے ۔ ))

معصومین علیہم السلام نے اپنے بہت سے قیمتی فرامین میں ہمیں آزادی کی تعلیم دی ہے ۔

بیرونی اور ظاہری دشمن سے آزادی حاصل کرنا اتنا زیادہ اہم نہیں جتنا اہم باطنی اور اندرونی دشمن سے آزادی حاصل کرنا ہوتا ہے ۔

آزادی اور غلامی کی تشخیص کا معیار یہ ہے کہ جب بھی ہم کوئی کام انجام دیتے ہیں تو کس کی مرضی کے مطابق انجام دیتے ہیں ؟ خدا کی یا اپنی ؟ اگر اپنی مرضی کے مطابق انجام دیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم آزاد نہیں بلکہ ہوا و ہوس کے کے اسیر ہیں اور اگر خدا کی مرضی کے مطابق انجام دیں تو پھر آزاد ہیں کیونکہ آزاد انسان خدا کے سوا کسی اور کی فکر نہیں کرتا ہے ۔ ماہ مبارک رمضان میں انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئے فولادی زنجیروں اور ہوا و ہوس کی قید سے رہائی دلائے اور اس کی راہ استغفار اورطلب مغفرت ہے ۔ اسی لئے کہا گیا ہے روزانہ ذکر (( استغفراللہ ربی و اتوب الیہ )) کا کئی بار تکرار کریں ۔ پیغمبر اکرم ﷺ سے نقل ہوا ہے آپ فرماتے ہیں : میں روزانہ ستر (۷۰) مرتبہ ((استغفرالله ربی و اتوب الیه )) کہا کرتا ہوں  ۔

نماز کی حالت میں اور دوسرے حالات میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے طلب مغفرت کریں البتہ یہ استغفار فقط جھنم سے نجات یا بھشت کی طلب میں نہ ہو بلکہ ان چیزوں سے بالاتر ہونا چاہئے ۔

امیرالمؤمنین ؑ کا مشھور خط جو مالک اشتر کے لئے لکھا تھا ، اس میں فرماتے ہیں : (( ان هذا ا لدین کان اسیرا فی ایدی الاشرار یعمل فیه بالهوی و یطلب به الدنیا ))  بے شک یہ دین دشمنوں کے ہاتھوں اسیر تھا ۔ وہ اپنی مرضی سے عمل کرتے تھے ۔ اس کو اپنے دنیا طلبی کا وسیلہ بنائے ہوئےتھے ۔ وہ لوگ جو دنیا میں شکست کھالیتے ہیں وہ اپنے نفس کی اسارت میں گرفتار ہوتے ہیں ، یہ لوگ دنیا میں رہنا بھی چاہتے ہیں اور موت سے بھی گھبراتے ہیں ، لیکن اسلام نے ان دونوں اصولوں کو باطل کردیا ہے ۔ ان کی جگہ پر دوسرے دو اصولوں کو جگہ دی ہے ۔

 

پہلا اصل یہ ہے کہ اس دنیا سے محبت نہیں کرو ۔ دوسرا یہ ہے کہ روحانی و غیر مادی دنیا سے نہیں گھبراؤ ۔

حضرت علی ؑ فرماتے ہیں : (( الا حر یدع هذہ اللماظة لاهلها ))   (( کیا کوئی ایسا آزاد مرد نہیں ہے جو دنیا کے اس چبائے ہوئے لقمہ کو دوسروں کے لئے چھوڑ دے )) جو چیز اس وقت دنیا کے نام پر موجود ہے ، جیسے مقام ، گھر ، زمین یا مال دولت و۔۔۔ ان سے گذشتہ نسلوں نے استفادہ کیا ہے اور جو کچھ آپ تک پہنچا ہے ان کا بچا ہوا  ہے اور دنیوی مقامات و عہدے یہ سب کے سب خیالات و اوھام ہیں ، آزاد انسان کو چاہئے کہ وہ ان سب کو چھوڑدے ۔ قرآن میں حق تعالی فرماتا ہے : (( کل امرء بما کسبت رهین ))   یا  (( کل نفس بما کسبت رهینة ))  ( ہر انسان اپنے اعمال کا گروی ہے )۔ فقط ایک ہی گروہ آزاد ہے (( الا اصحاب الیمین ))  ( وہ اصحاب یمین ہیں ۔ یہ وہ افراد ہے جو ہمیشہ ہمراہ و ہمنشین میمنت و برکت ہیں ۔ ان سے برکت کے سوا کسی اور چیز کی توقع نہیں کرتے ہیں اور وہ لوگ بھی یمین و برکت کے سوا اور کچھ نہیں کرتے ہیں یہ بھترین نعمت ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کو حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔

 

روزہ اور روزہ دار کی جزاء

   بعض روایات میں  وارد ہوا ہے کہ : روزہ رکھا کرو تاکہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں جو خوشی و شادابی ہے ، وہ ختم ہوجائے کیونکہ وہ وقتی اور عارضی ہے ، جب انسان روزہ رکھتا ہے اور اس سے دل لگاتا ہے تو آہستہ آہستہ روزہ کے باطن پر آگاہی حاصل ہوجاتی ہے۔ روزہ انسان کو لقائے حق تک پہنچاتا ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :    (( روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا )) (( الصوم لی و انا اجزء به ))   یہ تعبیر فقط روزہ کے لئے آئی ہے۔ دوسری کسی بھی عبادت کے لئے نہیں آئی ہے ۔

 

تمام اشیاء اور موجودات عالم کا مالک خدا ہے اور کوئی بھی چیز اس جہاں میں نہیں ہے جو اللہ کی ملکیت میں نہ ہو؛ کیونکہ تمام کی تمام مخلوقات عالم ، مملوک خدا ہیں اور ہماری آنکھ اور کان بھی اللہ کی ملکیت میں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : (( ام من یملک السمع والابصار ))  حضرت علی ؑ فرماتے ہیں : (( اعضائکم شهوده و جوارحکم جنوده و ضمایرکم عیونه و خلواتکم عیانه ))   ( تمھارے اعضاء ہی اس کے گواہ ہیں اور تمہارے ہاتھ پاؤں ہی اس کے لشکر ہیں ، تمہارے ضمیر اس کے جاسوس ہیں اور تمہاری تنہائیاں بھی اس کی نگاہ کے سامنے ہیں ) ۔

انسان ہر حالت میں نہان یا آشکار یا تنہائی کی حالت میں اللہ تعالی کے حضور اور نگاہ کے سامنے ہے ۔

کوئی بھی چیز دنیا میں ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالی کی یاد سے غافل ہو فقط انسان ہی ہے جو کبھی اس کی یاد میں ہوتا ہے اور کبھی غافل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق دنیا اس کی ملکیت ہے   ، زمین و آسمان کے سارے لشکر اس کے لئے ہیں  ۔  اللہ تعالی کا فرمان کہ روزہ میرے لئے ہے ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ ہے جو قابل غور ہے ۔

 

روزہ کے مختلف درجات ہیں ۔ ایک درجہ یہ ہے کہ انسان سحری سے لیکر افطار تک کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو روکئیں اور پرہیز کرے اور اس کا ہدف جنت میں داخل ہونا یا جھنم سے نجات حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے : (( جنات تجری من تحتها الانهار))  ۔ اس درجہ والے شخص کو اس جنت میں جس کے بارے میں فرمایا ہے : (( فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی ))  میں وارد ہونے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ درجہ اس درجہ سے بالاتر ہے ۔

چنانچہ روزہ کے مخصوص احکام و آداب ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایک حکمت بھی ہے ۔ وہ پروردگار سے ملاقات ہے

یہ حدیث شریف : (( الصوم لی ۔۔۔)) انسان میں عاشق ہونے کا شوق پیدا کرتی ہے ، جب تک انسان مشتاق نہ ہو تلاش و کوشش نہیں کرتا ہے اور جب تک تلاش و کوشش نہ کرے مطلوب تک نہیں پہنچتا ہے ۔

اس حدیث شریف میں اللہ تعالی نے روزہ کو اپنی ذات اقدس سے مخصوص کرتے ہوئے اس کی جزاء کو بھی اپنے ذمہ لیا ہے ۔

مرحوم علامہ محمد تقی مجلسی (قدس سرہ) فقاہت کے بلند مرتبہ پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سارے اسلامی معارف اور عقلی علوم پر بھی تبحر رکھتے تھے فرماتے ہیں : اس حدیث شریف میں اللہ تعالی نے فقط اس جملے پر (( الصوم لی ۔۔۔)) اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا :       (( اجزی به ))متکلم وحدہ کی ضمیر ( انا) کو فعل سے پہلے ذکرکیا یعنی اپنی ذات کو مطرح کرتے ہوئے فرمایا : روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دیتا ہوں  ۔

 

جزاء کی کیفیت

     خداوند متعال اولیاء الہی کے بارے میں (جو مستحب روزہ رکھتے ہیں اور اپنی افطاری ، یتیم ، فقیر اور مسکین کو دیتے ہیں ، باوجود  اینکہ یہ لوگ           (جنات تجری من تحتها الانهار ) ان کے اختیار میں ہیں) فرماتا ہے : ((فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی))    کیونکہ ان کا ہدف بلند ہے اس بلند ہدف کے لئے روزہ رکھتے ہیں لیکن وہ لوگ جو جنت اور اس کے میوہ جات کی لالچ میں روزہ رکھتے ہیں وہ فقط ایک طرح کا معاملہ اور تجارت کرتے ہیں۔ ان کا روزہ اس درجہ کا نہیں ہے ۔

 

روزہ اور دوسری عبادتوں میں فرق ہے ۔ دوسری عبادات اور اعمال کے بارے میں اللہ کے فرشتے ، موت کے وقت مؤمنین کے استقبال کے لئے آتے ہیں اور کہتے ہیں : (( سلام علیکم طبتم فادخلوها خالدین )) ۔

(( جس دروازے سے بھی چاہو بہشت میں داخل ہوجاؤ)) ۔

لیکن روزہ دار کے بارے میں خداوند متعال فرماتا ہے : (( روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا جزاء دوں گا ))۔

چنانچہ ، روزہ دار کو جزاء دینا نہ احکام روزہ ہے اور نہ آداب روزہ میں سے ہے اور اس کا ذکر نہ واجبات روزہ میں آیا ہے اور نہ مستحبات روزہ میں آیا ہے بلکہ یہ عبادات ارو روزہ کے حکمت میں سے ہے ۔ کیسے انسان اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں پر خداوند متعال اس کی جزاء کو اپنے ذمے میں لیتا ہے !

ابن اثیر اس حدیث قدسی (( الصوم لی و انا اجزی به)) کے بارے میں کہتے ہیں : اس حدیث شریف کے لطیف نکتوں میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ : بت پرست اور مشرک لوگ کبھی بھی اپنے بتوں کے لئے روزہ نہیں رکھا کرتے تھے اگرچہ بتوں کے لئے نماز پڑھتے تھے ، قربانی کرتے تھے ، دوسرے مراسم انجام دیتے تھے ، روزہ صرف اور صرف خدا کے لئے ہے ، کیونکہ روزہ ایک حکم الہی ہے جو خدا سے مخصوص ہے ، دوسری تمام عبادات مورد شرک واقع ہوگئیں اور غیر خدا کے لئے انجام دی گئیں ہیں لیکن خداوند متعال روزہ کو خود سے نسبت دیتے ہوئے اس کی جزاء کو بھی اپنے ذمہ لیتا ہے  ۔

 

تقوی کے درجات اور حق تعالی سے ملاقات

 انسان پر روزہ فرض کیا گیا ہے تاکہ وہ متقی اور پرہیزگار بنے ۔     حق تعالی فرماتا ہے : ((كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ))  متقی و پرہیزگار انسان کے دو درجہ ہیں :

پہلا درجہ :

وہی جنت ہے جس میں بہت ساری نعمتیں موجود ہیں (( ان المتقین فی جنات و نهر))  (( بیشک صاحبان تقوا باغات اور نہروں کے درمیان ہوں گے )) اور یہ درجہ ظاہری لذتوں کے لئے ہے ۔

دوسرا درجہ :

قرب خداوندی کا ہے (( فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر))  (( اس پاکیزہ مقام پر جو صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے )) جنت کے اس درجہ میں پہلوں یا دوسری نعمتوں کی باتیں نہیں ہے ، کیونکہ باغات ، نہریں کھانے اور پینے کی چیزیں انسان کے جسم و بدن سے مربوط ہے اما پروردگار سے ملاقات کرنا اور اس سے نزدیک ہونا روح سے مربوط ہے اور یہی سر اور باطن روزہ ہے ۔

 

امام صادق ؑ فرماتے ہیں : (( للصائم فرحتان فرحة عند افطار و فرحة عند لقاء الله ))  ۔ ((روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ۱۔ افطاری کے وقت ۲۔ خدا سے ملاقات کے وقت ۔ یہی روایت دوسرے الفاظ میں بھی نقل ہوئی ہے :

(( للصائم فرحتان ، حین یفطر و حین یلقی ربه عزوجل))   روزہ دار بعض دعاؤں میں اللہ تعالی کی ذات سے جمال تام کی درخواست کرتا ہے : ((اللهم انی اسئلک من جمالک باجمله و کل جمالک جمیل))  ۔

مشہور شاعر نظامی گنجوی ، عشق حقیقی اور مجازی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : آخر کار جب لیلا بیمار ہوگئی تو اپنی ماں کو وصیت کرتے ہوئے کہنے لگی ۔ اماں جان میرے پیغام کو مجنون تک پہنچادو اور اس سے کہہ دیجئے : اگر کسی سے محبت اور عشق کرنا چاہتے ہو تو ایسے موجود سے نہیں کرو جو ایک معمولی بیمار کی وجہ سے اس دنیا سے چلا جائے ۔))

  انسان کو چاہئے کہ خدا کے سوا کسی ایسی چیز جو متغیر ہونے والی ہو دل نہ لگائے کیونکہ خدا کے سوا تمام چیزیں زائل ہونے والی ہیں ، روزہ دار کے لئے جزاء نہیں بن سکتی ہیں ۔ روزہ دار کی جزاء صرف حق تعالی سے ملاقات ہوسکتی ہے ۔

 

   ہم سے کہا گیا ہے کہ ماہ مبارک کی سحری کے وقت دل و جان سے جمال مطلق پروردگار کو طلب کریں فقط دعاؤں کے سننے پر اکتفا نہ کریں کیونکہ دعاؤں کا سننا اور دل و جان سے چاہنا، اس میں بہت بڑا فرق ہے ۔ انسان کی بلند مقام و منزلت کی یہی دلیل ہے کہ اسے اس دعاء شریف کو پڑھنے کو کہا گیا ہے ۔ (( اللهم انی اسئلک من نورک بانوره و کل نورک نیر))  جس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ دار انسان اس قسم کی گفتگو کے لائق ہے اور روزہ کی حالت میں ہی ان کلمات کو کہہ سکتا ہے (( اللهم انی اسئلک من جلالک باجله و کل جلالک جلیل))  یہاں پر حور و غلمان جنت کے پھل ، نہریں اور باغات کی بات نہیں ہے بلکہ انسان کے معنوی کمالات کی بات ہور ہی ہے جو ہر انسان کے لئے اس مقام کو حاصل کرنا ممکن ہے اگر انسان  کے لئے ان مقامات تک رسائی ممکن نہیں ہوتی تو ان دعاؤں کو پڑھنے کا  بھی حکم نہیں ہوتا ۔ لہذا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اس مقام تک رسائی ممکن ہے کیونکہ انسان مستحب روزہ رکھ سکتا ہے اور اپنی افطاری کو غیر مسلم اسیر کے  لئے دے سکتا ہے ۔

 

...............................................................................

[1]۔ ماملا آدمی وعاءا شرا من البطن ، بحار ، ج ۳ ، ص ۳۳۰

2۔ کافی ، ج ۸ ، ص ۹۰

3۔ وسائل الشیعہ ، ج ۱۶ ، ص ۴۱۰

4۔ الکنی والالقاب ، ج۳ ، ص ۱۳۸

5۔ سورہ بقرہ /183

6 ۔مجمع البیان ، ج ۱ ، ص ۴۹۰

7۔ امالی صدوق ، ص ۸۵ ، عیون اخبار الرضا ، ج ۱ ، ص ۲۸۵

8۔ بحار ، ج ۷۴ ، ص ۲۳۹

9۔ بحار ، ج ۱۷ ، ص ۴۴

10 ۔ نھج البلاغہ ، نامہ ۵۳

11 ۔ نھج البلاغہ ، کلمات قصار ، ش ۴۵۶

12۔ سورہ طور /21

13۔ مدثر /38

14۔ مدثر/39

15۔  روضۃ المتقین ، ج۳ ، ص ۲۲۵

16۔  یونس / ۳۱

17۔  نھج البلاغۃ ، خطبہ ۱۹۹

18۔ آل عمران /189

19۔فتح /4

20۔ آل عمران/15

21۔ فجر/۲۹۔ ۳۰

22۔ روضۃ المتقین ، ج ۳ ، ص ۲۲۵

23۔فجر / ۲۹۔ ۳۰ : پھر میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا ۔

24۔ زمر/73 : تم پر ہمارا سلام ہو تم پاک و پاکیزہ ہو لھذا ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہوجاؤ۔

25۔ نہایہ ابن اثیر ، ج ۱ ، ص ۲۷۰

26۔ بقرہ/183

27۔ قمر/54

28 ۔قمر /55

29۔ وسائل الشیعہ ، ج ۱۰ ، ص ۴۰۳

30۔ وسائل الشیعہ ، ج ۱۰ ، ص ۴۰۳         

31۔ مفاتیح الجنان ، دعای سحر

32۔ مفاتیح الجنان ، دعای سحر

33مفاتیح الجنان ، دعای سحر