Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

                                                                                تحریر:   خدا امان

 

مقدمہ 

)( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ، أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ  ))[i]

 

ترجمہ:اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کردئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کردئے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوی کی صفت پیدا ہوگی چند مقر ر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے  دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے۔جو لوگ روزے  رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں(پھر نہ رکھیں)تو و ہ  فدیہ دیں ۔ایک روزے کا فدیہ مسکین کو کھانا کھلانا اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی  کے لیے بہتر ہے ۔اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں ہے یعنی اگر تم سچ کو سمجھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے کہ تم روزے رکھو۔

 

 

سورہ بقرہ کی آیات ١٨٣ تا ١٨4 تک دین  کے ایک اہم رکن (روزہ)کاحکم دیا گیا ہے ا ور تمام تفصیلات  بتائی گئی ہے اگر ان آیات کے آخری قصہ میں بیان کردہ حقائق کا طبی نکتہ نظر سے مطالعہ کریںتو معلوم ہوتا ہے کہ روزہ ایک اچھی چیز ہے جس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔

 

ابھی کچھ عرصہ قبل تک یہ سمجھا جاتا تھاکہ روزہ بجزاس کے اور کچھ نہیں کہ اس سے نظام ہضم کوآرام ملتا ہے جیسے جیسے طبی علم نے ترقی کی اس حقیقت کا بتدریج علم حاصل ہوا کہ روزہ تو ایک معجزہ ہے۔ جس کے ذریعہ بہت سی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا۔

 

 

الف :  روزہ کا نظام ہضم پر اثر

 

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نظام ہضم ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے اہم اعضاء جیسے منہ اور جبڑے میں لعابی غدود ،زبان ، مقوی نالی ،معدہ ،بارہ انگشتی آنت،جگر اور لبلبہ اور آنتوں سے مختلف حصے وغیرہ تمام نظام اس نظام کا حصہ ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیںیا کھانے کا ارادہ کرتے ہیں یہ نظام حرکت  میںآجاتا ہے اور ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کردیتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ سارا نظام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ اور غلط قسم کی خوراک کی وجہ سے ایک طرح سے گھس جاتا ہے ۔

 

 

روزہ ایک طرح اس سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کردیتا ہے مگر در حقیقت اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے ۔کیونکہ جگر کے کھانا ہضم کرنے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی ہوتے ہیں ۔یہ اسطرح تھکان کا شکار ہوجاتا ہے. جیسے ایک چوکیدار ساری عمر کیلئے پہرے پر کھڑا ہو ۔ اسی کی وجہ سے صفرا کی رطوبت جس کا اخراج ہا ضمہ کیلئے ہوتا ہے، مختلف قسم کے مسائل پیدا کرتی ہے اور دوسرے اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے۔

 

دوسری طرف روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ  گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے ، یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے ۔کیونکہ بے حد معمولی مقدا ر کی خوراک یہاںتک ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہوجائے تو پورا کا پورا نظام ہضم اپنا کام شروع کردیتا ہے اور جگر فوراًمصروف عمل ہوجاتا ہے ۔ طبی نکتہ نظر سے دانشمندوں نے یہ دعوا کیا ہے اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ تو ہونا ہی چاہیے[ii]۔

 

پیامبر اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ((صوموا تصحوا )) روزہ رکھو تاکہ سالم رہو[iii]  نیز  رسول خدا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : انسان کا معدہ بیماریوں کا گھر ہے اسکا علاج صرف پرہیز کرنا ہے[iv]۔ ایک اور جگہ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ روزہ معدہ کے آرام کا باعث بنتا ہے اور معدہ میں  زخم ہونے سے روک دیتا ہے[v]۔

 

 

روزہ متعدد بیماریوں کا علاج

 

کتاب روزہ  ،بیماریوں کا جدید علاج، اس میں ڈاکٹر الکسی سوفورین روسی طبیب لکھتے ہیں کہ خون کی کمی، آنتوں کی کمزوری، پرانا ورم ، اندرونی اور بیرونی پھوڑے ، پھنسیاں ، تب دق ،اسکلیروز ،جوڑوں کا درد،گھٹیا،پیاس کی،بیماری، رعشہ،عرق النساء، جلد کا اکھڑنا ،آنکھوں کی بیماری، شوگر اور جلد بیماریاں ، جگر اور گردوں کی بیماریوں کا علاج وغیرہ روزے کے ذریعے کیا جاسکتا ہے[vi]۔ 

   

 

       روزہ سے سرطان کا علاج

 

ڈاکٹر کلوغ شمالی آمریکا کے ایک مشہور ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے اپنی معروف کتاب(( غذا کھانے والوں کا انسائیکلوپیڈیا))  میں لکھا ہے : (( جس وقت میں نے جرمنی میں استاد  اریخ  سے ملاقات کی تو اس وقت استاد نے اپنے تجربے اور تحقیقات اپنی  لیباٹری میںکیں جو بیماریوں اور سرطان کے مریضوں کی غذا سے متعلق تھیں جن کے کھانے سے مریضوں کو  روکا  جاتا تھا ۔کے نتائج تحریری صورت میں تھیں مجھے دکھایا اور ن تحریروں میں مدلل طریقے سے ثابت  کیا ہے کہ سرطان کے غدود کتنے ہی طاقتور اور مضبوط کیوں نہ ہوں غذا کے ذریعے انہیں کمزور کیا جاسکتا ہے ڈاکٹر ارلیخ کا کہنا ہے کہ ہم سرطان کے بڑھنے کو ان غذاؤں کے ذریعے روک سکتے ہیں جو اس مقصد کیلئے منتخب کی گئی ہیں اور حقیقی طور پر اس کی جڑوں کو اکھاڑنے کیلئے اسی وقت ممکن ہے کہ ہم مریض کو اس حد تک بھوکا رکھتے ہیں کہ موت کی سرحدوں کو چھونے لگے))[vii]۔

 

اس کے کہنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرطان کی جڑوں کو اکھاڑنے کیلئے واحد ذریعہ روزہ ہے۔پس لازم ہے کہ یورپ والے ڈاکٹر کلوغ کی تحقیق اور تجربات کے بارے میں دقیق معلومات حاصل کریں ۔ڈاکٹر کلوغ نے بارہا کہا ہے کہ(( سرطان عفونت اور اسکے زہر کے بدن کے ساتھ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ سب کچھ گوشت کے استعمال سے ہوتا ہے ۔اسکی دلیل یہ ہے کہ سرطان عام طور پر کور آنت اور بڑی آنت کے آخری سرے میں شروع ہوجاتا ہے اور یہ وہی جگہ ہے جہاں پر غذا کے فاضل مواد جمع ہوجاتے ہیں وہ کہتا ہے سرطان ابتدا میں ایک چھوٹی سے پھنسی کی شکل میں ہوتا ہے جو معدہ یا آنتوں میں ظاہر ہوتا ہے ان پھنسیوں کا علاج ایک دو ہفتے کے روزے سے کیا جاسکتا ہے میں نے اس بارے میں ٤٠ سال تحقیق کی ہے [viii]۔

 

 

روزہ کا بلڈ پیشر (Bp) پر اثر

 

آقای شیخ حسین منتظری کتاب (( روزہ ،روش نوین برای درمان بیماریھا)) میں اپنے بلڈپیشر کے علاج کا حال اسطرح لکھتے ہیں ۔میں چند سال سے بلڈپیشر  کا مریض تھا میرا(Bp)ہر وقت زیادہ رہتا تھا اور سر میں ہر وقت درد رہتا تھا خصوصاً مطالعے کے دوران ،میں نےتقریباً٢٩ دن روزے رکھا کوئی دوائی استعمال نہیں کی خدا کے کرم سے کاملاً صحت یاب ہو گیا اور بلڈپیشر اپنی معمولپر آگیا اس کتاب کے اندر سولہ برجستہ علماء نے اپنے مختلف بیماریوں کا علاج روزہ بتایا ہے[ix]۔

 

 

روزے  کے د وران خون پر فائدہ مند اثرات

 

دن میں روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہوجاتی ہے ۔ یہ اثر دل کو انتہائی فایدہ مند  آرام  مہیا کرتا ہے ۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سیلوں کے درمیان مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے ٹشو یعنی پٹھوں پر دباؤ کم ہوجاتا ہے ۔ پٹھوں پر دباؤ یا عام فہم ڈائسٹالک ( Diastolic) دباؤ دل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ ماہ رمضان المبارک کے روزے بطور خاص ڈائسٹالک پر یشر کو کم کرکے انسان کو بے پناہ فائدہ پہنچاتے ہیں[x]۔     

 

 

       یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی حیرانگی

 

 پروفیسر مور پالڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کی پہچان ہے۔انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولا دیا ہے ۔ اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف یہی روزے کا فارمولا ہی دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی۔

 

میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہئے پھر میں نے روزے مسلمانوں کی طرز پر رکھنا شروع کردیے ، میں عرصہ دراز سے معدے کے ورم (stomach inflammation)میں مبتلا تھا ۔کچھ دنوں کے بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقع ہوگئی ہے۔میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی پھر میں نے جسم میںکچھ اور اور تبدیلی بھی محسوس کی اور کچھ ہی عرصے بعد میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا۔حتی کہ میں نے ایک ماہ کے بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی[xi]۔

 

مستشرقین (Orientalists) اس وقت اسلامی تعلیمات کو کھنگال کر ان میں اپنے لیے اصلاحی راستے اور ترقی کی راہیں تلاش کر رہے ہیں . روزہ کے بارے میں یورپین ماہرین مسلسل تحقیق کر رہے ہیں حتی کہ وہ اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ روزہ جہاں جسمانی زندگی کو نئی روح اور توانائی بخشتا ہے وہاں اس سے بے شمار معاشی (Economical) پریشانیاں بھی دور ہوتی ہیں ۔کیونکہ جب امراض کم ہونگے تو ہسپتال  بھی کم ہونگے ہسپتالوں کا کم ہونا پر سکون معاشرے کی علامت ہے ۔ آج یورپ پھر پھراکر واپس اسلام کی طرف لوٹ رہا ہے اور ہم یورپ کی تقلید میں اندھے دوڑے چلے جارہے ہیں ۔

 

  



[i] . سورہ بقرہ / ١٨٣، 184

[ii] ۔ چغتائی ، حکیم محمد طارق محمود ، سنت نبوی اور جدید سائنس ، ج ۱ ، ص ۱۷۱، ناشر ، ادارہ اسلامیات لاہور ، اشاعت اول ، جنوری 1999ء

[iii] ۔ ہیئت تحریریہ ، مؤسسہ در راہ حق ، قم ، ص 9 ، چاپ اول ، دہ ماہ 1361ش .

[iv]۔ وہی منبع ، ص ۹ بحوالہ سفینۃ البحار ، مادہ طب ۔

[v]۔ پاک نژاد ، رضا ، اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر ، ج۲ ، ص 79، ناشر ، کتابفروشی اسلامی /1348ش ۔

[vi]۔ سوفوریں ، الکسی ، روزہ بیماریوں کا جدید علاج ، ص 69 ، مترجم ذوالفقار علی زیدی ، ناشر ، الحرمین پبلیشرز ، پاکستان کراچی ، دسمبر /2003

[vii] وہی منبع ، ص 69

[viii]۔ وہی منبع ، ص ۷۱

[ix]۔ امامی ، جعفر  ، روزہ روش نوین برای درمان بیماری ھا ، ج ۲ ، ناشر ، انتشارات قدس ، چاپ اول ، تابستان /1370 ش

[x]۔سنت نبوی اور جدید سائنس

[xi]۔ اسلامی نیا دنیا ، ( محمود چغتائی محمد طارق ، سنت نبوی اور جدید سائنس ) ، ج۱ ، ص ۱۶۵