Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

تحریر: غلام حسین میر

خداوند متعال نےاس کائنات کو بنانے کے بعد اس کی نشوونما اور حیات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ذرا زمین پیاسی ہوئی، پتے زرد ہوئے، نباتات و جمادات بارانِ رحمت کے طلبگار ہوئے، انسان و حیوان پانی کو ترسےتو اللہ کی رحمت کو جوش آجاتا ہےاور اس کے حکم سے زمین سیراب ہونے لگین ہے اور تمام موجودات خوشی سے باگ باگ  ہوجاتے ہیں لیکن انسان  ان موجودات میں ایک منفرد حیثیت  رکھتا ہے   اور مادہ و روح دو چیزوں سےمرکب ہے۔ یہ بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا عجب نظام ہے۔ اگر اس کا جسم مٹی سےبنا ہے تو اس کی خوراک تمام تر اسی مٹی سے پیدا ہوتی ہے او راس کی روح آسمانوں سے آئی ہے تو اس روح کی خوراک و حیات کا بندوبست بھی آسمانوں سے ہوتا ہے۔ وحی الٰہی اُترتی ہےجو انسان کی ہدایت کاباعث ہے ۔اللہ رب العزّت جو مادی حیات کا انتظام کرنے والے ہے، وہی انسان کی روحانی حیات کا بھی بندوبست فرماتا ہے۔

 

 

اتا نسانیت جب اپنی ہی کوتاہیوں غلطیوں او رناعاقبت اندیشیوں کی بنا پر سسکنے لگتی ہے ۔ گیارہ ماہ انسان دنیا داریاں کرکے اللہ سے دور بہت دورنکل جاہے۔ گناہوں کی دلدل میں پھنس کر گویا روحانی طور پر قریب المرگ ہوجاتا ہے تو باری تعالیٰ نے اسکے لیے  ایک روحانی اور معنوی  مدرسہ مہیا  کیا ہے  جس میں وہ مرگ روحانی سے نجات پائے  دوسرے الفاظوں  یہ کہا جاسکتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک  وقتی طور پر ایک ایسا تربیتی مدرسہ ہے جس کا ہر سال تکرار هوتا رهتا هے یه ایک ایسا مدرسه هے جس مین هر بنی نوع انسان اپنے عروج کو پهنچ سکتا هے سال کےدوسری مهینوں میں انسان غفلت کے پردوں میں ایسا لپٹ جاتا هے که اپنی انسانیت کو کوےدیتاهے ماه رمضان المبارک ایک ایسا مهینه هے که جس میں انسان غفلت کے ان  پردوں کو چاک دیکر اس ماه عظیم کے بے کراں سمندر مین غوطه لگا کے اپنی روح  کو دوباره نشاط فطری مین تبدیل کرسکتا هے البته اسکے لئے ایک معلم اور مربی هونا چاهیے جو اس میں غوطه لگانا سکامیے اور نبی پاک سے بڈکر  اس جهان میں کوئی بڈا  معلم اور مربی نظر نهیں آتا هے ماه رمضان کا مهینه ایک ایسا مدرسه هے که جس کا معلم و مربی خود نبی پاک  هے آیئے دیکھتے ہیں کہ  ان کی سیرت  اس مهینے میں کیسی تھی   اگرچہ  فی ذاتہ یه ایک ایسا مهینه هے جو  اپنی تمام برکتوں کے ساتھ سعادتمندی کا پیغام لیکر آپہنچاوہے ۔

 

یہ مبارک مہینہ ہمارے لئے ضیافت آسمانی کی سوغات لیکر آتا ہے،اس مبارک مہینےمیں بہشت کے دروازے کھل جاتےہیں اور شیاطین کو قید کردیاجاتاہے ۔ ہماری رحمت خدا دعوت دے رہی ہےکہ اپنی توانائي بھر اس مبارک مہینے سے فائدہ اٹھائيں اور اپنے لئے توشہ آخرت مہیا کرلیں ۔ اس چشمہ رحمت ابدی سے جتنا چاہتےہیں سیراب ہولیں تاکہ دل میں حسرت نہ رہ جائے کہ اے کاش ہم نے اس مبارک مہینے کے سہنری موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیاہوتا۔ انسان کس قدر محتاج ہے ایسے موقعوں کا تاکہ اپنے خدا کے ساتھ رازونیاز کرسکے اور اپنی بندگي جلا دے سکے کیونکہ اس کا سب سے بڑا ہنرہی بندہ اور عبد ہونا ہے ۔لیکن جب ہم  اس مہینے میں نبی پاک کی سیرت  کا مطالہ کرتے ہیں  تو  ہمیں   عروج پر جانے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے

 

رمضان المبارک کے ماہ سعید میں  نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت و ریاضت میں عام دنوں کی نسبت کافی اضافہ ہو جاتا۔ اس مہینے میں اللہ تعالی کی خشیت اور محبت اپنے عروج پر ہوتی۔ اسی شوق اور محبت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راتوں کے قیام کو بھی بڑھا دیتے۔  نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ماہ رمضان  ہمارے لئے باعث رحمت ونجات ہے۔ انہی کی سیرت کی روشنی میں ہم اس مہینے کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ یاب ہو سکتے ہیں۔

 

ماه رمضان میں سیرت  نبوی ﷺ

 نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے کہ اس کے پانے کی دعا اکثر کیا کرتے تھے۔ اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔

 

روزے میں سحر ی و افطاری کا معمول

رمضان المبارک میں پابندی کے ساتھ سحری و افطاری بے شمار فوائد اور فیوض و برکات کی حامل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالالتزام روزے کا آغاز سحری کے کھانے سے فرمایا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ السَّحُورَ بَرَكَة. سحری کھایا کرو‘ کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ روزے میں سحری کو بلاشبہ بہت اہم مقام حاصل ہے۔ روحانی فیوض و برکات سے قطع نظر سحری دن میں روزے کی تقویت کا باعث بنتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو تلقین فرمائی ہے کہ سحری ضرور کھایا کرو‘ خواہ وہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ سحری آخری وقت میں تناول فرمایا کرتے تھے۔ گویا سحری کا آخری لمحات میں کھانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔

 

کثرت عبادت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اور ایک سیرت رمضان کی راتوں میں تواتر و کثرت کے ساتھ کھڑے رہنے اور نماز‘ تسبیح و تہلیل اور ذکر الہی میں محو رہنا ہے۔ اور رمضان المبارک میں قیام کرنے کی فضیلت کے بارے میں ارشاد فرمایا: فَمَنْ صَامَهُ وَ قَامَهُ‏ إِيمَاناً وَ احْتِسَاباً خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے‘ جس دن وہ بطنِ مادر سے پیدا ہوتے وقت بے گناہ تھا۔‘‘ اس ارشاد گرامی کی رو سے روزے کے آداب کی بجا آوری اور اس میں عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے کھڑے رہنے سے انسان کے گناہ بارگاہ ایزدی کے عفو و کرم سے اس طرح مٹا دیئے جاتے ہیں‘ گویا وہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو ا ہو۔

 

 اعتکاف

رمضان المبارک میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی باقاعدگی کے ساتھ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے‘ کبھی کبھار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اور دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف فرمایا۔ لیکن جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومطلع کر دیا گیا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ آخری عشرے میں ہی اعتکاف فرمایا۔ اعتکاف میں انسان دنیاوی معاملات سے علیحدگی اختیار کر کے خدا کی رضا کی تلاش میں گوشہ تنہائی اختیار کرتا ہے۔ علماء  اور دانشمند حضرات حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی میں اس عمل  اعتکاف کو انجام دیتے ہیں

 

کثرت انفاق و خیرات

 نبی پاک ﷺ کی عادت  یہ تھی کہ وہ صدقہ و خیرات کثرت کے ساتھ دیا کرتے تھے۔ کوئی سوالی ان کے در سے خالی نہیں لوٹتا تھا۔ لیکن رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات کی مقدار باقی مہینوں کی نسبت اور زیادہ بڑھ جاتی۔ اس ماہ صدقہ و خیرات میں اتنی کثرت ہو جاتی کہ شمار کرنا مشکل تھا۔

 

نبی ﷺ کا دعا فرمانا

 نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رجب کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دعا اکثر فرمایا کرتے تھےاللهم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان. اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔

 

رمضان کا چاند دیکھنے پر خصوصی دعا

نبی پاک ﷺ رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے:  ((كَانَ إِذَا رَأَى هِلَالَ رَمَضان قَالَ‏ هِلَالُ‏ رُشْد وَ خَيْر  ، هِلَالُ‏ رُشْد وَ خَيْر َ امنت بِالَّذِي‏ خَلَقَك)) یعنی یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے۔ میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔

 

رمضان المبارک کو خوش آمدید کہنا

 نبی پاک ﷺ اس مبارک مہینے کا خوش آمدید کہہ کر اس کا استقبال کرتے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوالیہ انداز کے ذریعے اصحاب سے رمضان المبارک کے استقبال کے بارے میں پوچھ کر اس مہینے کی برکت کو مزید واضح کیا۔اور فرمایا مَا ذَا يَسْتَقْبِلُكُمْ وَ مَا ذَا تَسْتَقْبِلُون ؟ تم کس کا استقبال کر رہے ہو اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے۔