Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

تحریر : محمد موسی

تمهید :

ماہ رمضان خود سازی اور اخلاص وبندگی کا بہترین مہینہ ہے۔اسکی عظمتوں اور فضائل سے متعلق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتےہیں "اے لوگو!   تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والامہینہ آرہا ہے ،جس میں گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ یہ مہینہ خدا کے تمام مہینوں سے افضل ہے جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے بهتر اور جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے افضل ہیں اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں

 

 

یہی وہ مہینہ ہے جس میں حق تعالیٰ نے اپنی مہمان نوازی میں بلایا ہے اور اس مہینے میں خدا نے تہیںف بزرگی والے لوگوں میں قرار دیا ہے ۔کہ اس میں سانس لینا تمھاری تسبیح اور تمھارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے ۔اس میں تمہارے اعمال قبول کئے جاتے ہیں اور دعائیں منظور کی جاتی ہیں ،پس اچھی نیت اور بری باتوں سے پاک دلوں کے ساتھ اس ماہ میں خدائے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ تم کو اس ماہ کے اندرر وزہ ر کھنے اور اس میں تلاوت قرآن کرنے کی توفیق عطا کرے کیونکہ جو شخص اس بڑائی والے مہینہ میں خداکی طرف سے بخشش سے محروم رہ گیا وہ بد بخت اور بد انجام ہوگا ۔ "

 

اب جبکہ ہم اس مہینہ میں خدا کے مہمان ہیں ہمیں چاہئے کہ هم اپنے نیک اعمال کے ذریعہ اپنے گذشتہ گناہوں کو بخشوالیں اور اپنی آئندہ اعمال صالح کے ذریعہ خدا کو خود سے راضی کریں۔ یہ مہینہ ہمارے لئے زمینہ ہموار کرتا ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ حقیقی معنوں میں معاملہ کرکے خدا کے سپاہیوں کی صف میں شامل ہوجائیں اور اسی مہینہ میں بندگی کا صحیح معنىٰ و مفہوم تلاش کریں۔ خود بھی اچھے انسان بن جائیں اور دوسروں کو بھی انسانیت کی طرف دعوت دیں تا کہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی آئیڈیل معاشرہ بن جائے اور اسلامی اصولوں کی پاسداری ہوجائے

 

 

راه تجارت:

* إِنَّ اللَّهَ اشْترََى‏ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالهَُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَتِلُونَ فی سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَ يُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فیِ التَّوْرَئةِ وَ الْانجِيلِ وَ الْقُرْءَانِ وَ مَنْ أَوْفىَ ‏بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُم بِهِ وَذَالِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (توبه111) بیشک اللہ نے صاحبانِ ایمان سے ان کے جان و مال کو جنّت کے عوض خریدلیا ہے کہ یہ لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر خود بھی قتل ہوجاتے ہیں یہ وعدہ برحق توریت ,انجیل اور قرآن ہر جگہ ذکر ہوا ہے اور خدا سے زیادہ اپنی عہد کا پورا کرنے والا کون ہوگا تو اب تم لوگ اپنی اس تجارت پر خوشیاں مناؤ جو تم نے خدا سے کی ہے کہ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے

 

انسانى جانوں کى قىمت:

مذکوره بالا آیت  میں تمام انسانوں کیلئےراسته معین اور راه روشن هے, جس میں الله کے ساتھ تجارت کرنے کا فارمولا بیان کیاگیاہے اورمؤمنین کو بطورخاص دعوت دى هےکه آکر خداکے ساتھ مفیدمعامله کریں اورجان ومال کے بدله قرب الٰهى حاصل کرکے بهشت برین کاحقدار بن جائیں اور یه وصال انسان مؤمن کیلئے بهت بڑى کامیابى هے.

 

معامله اس طرح سے هے خدا خریدارهے۔انسان بیچنے والا اورمعامله کى چیز انسان کى جان ومال هے۔اس معامله کى سند بھى آسمانى کتاب یعنى قرآن مجید,تورات اور انجیل میں درج هے اهل فکر انسان وه هے جواپنے پاکیزه ایمان کے ساتھ اس معامله کوانجام دے تو یه کتناسودمندمعامله هے که انسان کے پاس کم قیمت اوربے ارزش چیزاسکى جان ومال ہےاوراسکے مقابله میں خداکےپاس بهت هى باارزش اورقیمتى سامان بهشت کى شکل میں  هےجوفوزعظیم هےاورفناء فى الله هے پس عقل سلیم یه حکم کرتى هے اے انسان اس مفید معامله کوانجام دوکه تمهارےفائده میں هے ۔یہ بے شک الله تعالىٰ تمهارى بھلائى چاهتاهیں درحالیکه همارى یه جان ومال بھى خداکى دى هوئى  هے. پس همیں چاهئیے که اپنى قدروقیمت کوپهچان لیں اور اپنى جانوں کومفت اوربے ارزش چیزوں کے بدلے نه گنوادىں تفسیرمجمع البیان میں اسى آیت کے ذیل میں نقل هوئى هےکه امام صادق علىه السلام فرماتےهیں "تمهارى جانوں کى قیمت بهشت هى هے لهٰذا اس کو بهشت سے کم قیمت پر فروخت نه کرو.

 

تجارت کےاصول:

    اب یه سؤال ذهن میں آتاهے که کیاهر انسان یه معامله کرسکتاہے؟ اوراپنى جان ومال دےکربهشت حاصل کرسکتاہے؟ جواب بهت ساده اورآسان ہے!جى نهیں٬ بلکه انسان مؤمن هو اور وه بھى معامله کےاصولوں کى پاسدارى کرے اوران کے اندر کچھ شرط وشروط پائى جائیں.

 

    مذکوره آیت کے ذیل میں بیان هے که ایک دن امام سجّادعلیه السلام حج کے اعمال میں مشغول تھےکه عبّادمصرى آپ کے پاس حاضر هوئے اورامام پراعتراض کرتے هوئے کها اے امام آپ یه فرمایئے که حج افضل هے یاجهاد!توامام علیه السلام نے جواب میں فرمایا که جهادافضل هے توعباد نے اسى آیت کى تلاوت کى که"إِنَّ اللَّهَ اشْترََى‏ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالهَُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَتِلُونَ فی سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَ يُقْتَلُونَ..." اوراسى ضمن میں عرض کى یا  امام آپ هرسال حج توکرتے هیں لیکن جهاد کیوں نهیں کرتے ؟توامام عالى مقام نے جواب میں فرمایا اے عبّاد تم نےاس آیت کوپڑھا هے لیکن اس کى بعد والى آیت پربھى ذراغور کرو که جس میں جهاد اورمعامله کے نو اصول وضع کیے گئے هیں جواس طرح سے هیں:

 

﴿(التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدونَ الآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ)) (توبه/112)

((یہ لوگ توبہ کرنےوالے, عبادت کرنےوالے, حمد پروردگار کرنےوالے, راه خدا میں سفرکرنے والے, رکوع کرنے والے, سجدہ کرنےوالے , نیکیوں کا حکم دینے والے , برائیوں سے روکنے والے اور حدود الٰہیہ کی حفاظت کرنےوالے ہیں اور اےپیغمبر آپ انہیں جنّت کی بشارت دیدیں)).

 

اگر میرے ساتھ چند ایسے ساتھى هوں توجن میں یہ صفات ہو میں  ضرورجهاد کروں گا۔ یه سن کر عبادنے خاموشى سے اپناراسته لیا.اب اگر کوئى یه چاهتا هو که امام علیه السلام کے سپاهیوں میں شامل هوجائے اوراس کاحج مقبول هو, اس کاخمس وصدقه  الٰهى شکل اختیار کریں اوراس کامرنا اورماراجانا شاهدت کى موت میں شمارهو,اسے چاهئیے که ان نو شرطوں کواپنالے اور ان شرطوں حاصل کرنے کیلئے بهترین موقع رمضان المبارک کا مهینه هے.

 

پس هوشیاراور بیدار شخص وه  انسان هےجواس مهینه میں کوشش کرتاہے تاکه ان شرائط کو اپنالے اورخداکے ساتھ تجارت کرے ورنه تمام کے تمام انسان خسارے مىں هے سوائے اُنکے جو مؤمن حقیقى ہیں اور اعمال صالح انجام دیتے هیں۔ حق بات کرتے هیں ۔حق کى تلقین کرتے هیں