Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

  آیت اللہ جوادی آملی                                                                                                            ترجمہ : محمد حسن حیدری                       

              

پیٹ بھرکر کھانے کی مذمت

     ماہ مبارک رمضان  اسرار عالم کو جاننے کا بہترین موقع ہے، اس مہینے میں اتنی مقدار میں کھانا چاہئے جتنا بدن کے لئے ضروری ہو کیونکہ زیادہ کھانے کے ذریعے کوئی بھی کسی مقام تک نہیں پہنچتا ہے ۔         اخلاقی روایات میں پیغمبر اکرم ﷺ سے نقل ہوا ہے: ((کسی بھی چیز کا بھرنا اتنا برا نہیں ہے جتنا پیٹ کا بھرنا برا ہے ))   ؛ کیونکہ جب انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے تو سمجھنے کا راستہ بند ہوجاتا ہے ۔ پیٹ بھر کر کھانے والا کسی بھی مطلب کو نہیں سمجھ پاتا ہے اور کبھی بھی اسرار عالم کی اطلاع حاصل نہیں کرسکتا ہے ۔ پیٹ بھرکر کھانا سستی کا باعث ہے جبکہ کھانے میں اعتدال کی رعایت کرنا سلامتی ، طول عمر اور دل کی روشنی کا باعث بنتا ہے ۔حد سے زیادہ کھانا روح اور بدن دونوں پر بوجھ کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں انسان اس دنیا سے جلدی چلا جاتا ہے ۔ معمولا کھانے میں زیادہ روی کرنے والے کی عمر کم ہوا کرتی ہے ۔ نیز کھانے میں زیادہ روی کرناسستی اور نیند کا باعث بنتا ہے ۔

                                                                                تحریر:   خدا امان

 

مقدمہ 

)( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ، أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ  ))[i]

 

ترجمہ:اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کردئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کردئے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوی کی صفت پیدا ہوگی چند مقر ر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے  دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے۔جو لوگ روزے  رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں(پھر نہ رکھیں)تو و ہ  فدیہ دیں ۔ایک روزے کا فدیہ مسکین کو کھانا کھلانا اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی  کے لیے بہتر ہے ۔اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں ہے یعنی اگر تم سچ کو سمجھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے کہ تم روزے رکھو۔

تحریر : محمد موسی

تمهید :

ماہ رمضان خود سازی اور اخلاص وبندگی کا بہترین مہینہ ہے۔اسکی عظمتوں اور فضائل سے متعلق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتےہیں "اے لوگو!   تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والامہینہ آرہا ہے ،جس میں گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ یہ مہینہ خدا کے تمام مہینوں سے افضل ہے جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے بهتر اور جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے افضل ہیں اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں

 

تحریر: غلام حسین میر

خداوند متعال نےاس کائنات کو بنانے کے بعد اس کی نشوونما اور حیات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ذرا زمین پیاسی ہوئی، پتے زرد ہوئے، نباتات و جمادات بارانِ رحمت کے طلبگار ہوئے، انسان و حیوان پانی کو ترسےتو اللہ کی رحمت کو جوش آجاتا ہےاور اس کے حکم سے زمین سیراب ہونے لگین ہے اور تمام موجودات خوشی سے باگ باگ  ہوجاتے ہیں لیکن انسان  ان موجودات میں ایک منفرد حیثیت  رکھتا ہے   اور مادہ و روح دو چیزوں سےمرکب ہے۔ یہ بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا عجب نظام ہے۔ اگر اس کا جسم مٹی سےبنا ہے تو اس کی خوراک تمام تر اسی مٹی سے پیدا ہوتی ہے او راس کی روح آسمانوں سے آئی ہے تو اس روح کی خوراک و حیات کا بندوبست بھی آسمانوں سے ہوتا ہے۔ وحی الٰہی اُترتی ہےجو انسان کی ہدایت کاباعث ہے ۔اللہ رب العزّت جو مادی حیات کا انتظام کرنے والے ہے، وہی انسان کی روحانی حیات کا بھی بندوبست فرماتا ہے۔