Thursday, 13 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 1

کل 10

اس هفته 30

اس ماه 128

ٹوٹل 21969

 

تحریر:     علی سردار

مقدمہ :

قتل حسین ؑ اصل میں مرگ یزید ہے

                اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حق اور باطل کی جنگ روز اول سے چلی رہی ہے اور اس وقت تک رہے گی جب حق کو پورا پورا غلبہ حاصل نہ ہوجائے،اہل حق ، خدا کے مطیع اور اہل باطل طاغوت کے پیروکار ہیں اور اصل طاغوت شیطان ہے۔اس دنیا میں خدا کے نمائند ے حق کی بالادستی کے لئے خدا کے بتائے ہوئے اصول پر عمل کرتے ہوئےجدوجہد کرتے ہیں اور انبیاءؑ الہی اس راہ کے رہبر ہیں۔ ہر آنے والے نبی پہلے والے نبی کی راہ کو آگے بڑھاتا ہے۔ امام حسینؑ تمام گذشتہ انبیاءؑ کے وارث ہیں، یعنی انہوں نے جس ہدف کے لئے جدوجہد کی وہ اسلام کا مکمل  نفاذ ہے اور امام حسین ؑ نے اپنے خون سے اس کی آبیاری کی اور وقت کے طاغوت کو سرنگون کیا، یزید مسلمانوں کا کوئی حکمران نہیں بلکہ وہ طاغوت کا نمائندہ ہے اور اس کی کوشش معاشرے سے اسلام کو مٹا کر طاغوت کی بالادستی ہے۔ یزید اپنے ان آباء و اجداد کا وارث ہے جنہوں نے طول تاریخ میں اسلام اور پیامبر ﷺ کے خلاف سازشیں کی اور جنگیں لڑیں،انہوں نے کبھی دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا،مسلم معاشرے نے ان کے نفاق کی وجہ سے انہیں اہل حق میں سے سمجھا۔ اور باطل کی بقاء ہی صرف اسی میں ہے کہ وہ حق کی چادر اوڑھ لے۔اس حقیقت کو امام علی ؑ یوں بیان کرتے ہیں:((فلو ان الباطل خلص من مزاج الحق  لم یخف علی المرتادین  ولو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنہ السن المعاندین ولکن یوخذ من ھذا ضغث ، فیمزجان  فھنالک یستولی الشیطان علی اولیائہ))


[1]۔

ترجمہ: اگر باطل حق سے مخلوط نہ ہوتا تو حق کے متلاشیوں سے پوشیدہ نہ رہتا اور اگر حق باطل سے جدا اور خالص ہوتا تو دشمنوں کی زبانیں بند ہوجاتیں،لیکن حق سے کچھ اور باطل سےکچھ لے کر ملا تے ہیں اور یہاں پر شیطان اپنے پیروکاروں پر غلبہ پاتا ہے

  لیکن اصل پیروزی حق کے نصیب میں ہے ؛کیونکہ حق واقعیت رکھتا ہےاور باطل سراب ہے۔جیسا کہ  قرآن مجید حق اور باطل کو پانی اور حباب سے تشبیہ دیتا ہے اور پانی جو کہ مایع حیات ہے باقی رہتا ہے اور حباب مٹ جاتا ہے[2]۔

 

حادثہ کربلا حق اور باطل کی جنگ:

  واقعہ کربلاء اس معرکے کا تسلسل ہے جو روز اول سے حق اور باطل کے درمیان شروع ہوا ، کبھی ابراہیم ؑ اور نمرود کے درمیان تو کبھی موسیٰ اور فرعون کے درمیان تو کبھی محمد مصطفی ﷺ اور قریش بالخصوص ابو سفیان کے درمیان اور کبھی امام علی ؑ اور معاویہ کے درمیان تو آج حسین ؑبن علی ؑ اور یزید بن معاویہ کے درمیان ۔ یہ جنگ انہی جنگوں کا تسلسل ہے، اور خود یہ  یزید کاکہنا ہے کے اس نے اپنے ان اجداد کا جو بدر میں پیامبر خدا ﷺ کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے مارے گئے کا انتقام لیا ہے(لیت اشیاخی ببدر شہدوا  جزرع الخروج من وقع الاصل )کاش میرے وہ آباء جو بد رمیں تھے حاضر ہوتے کہ کس طرح ان کے خون کا انتقام لیا [3]۔

  یزید اپنے آباء و اجداد کی اس دیرینہ خواہش کو عمل کرنا چاہتا تھا جس کو وہ عملی نہ کرسکے تھے، اور وہ خواہش پیامبر اسلام ﷺ اور آپ کے خاندان پاک کے ذکر کو مٹانا اور اسلام کو یا مکمل نابود کرنا یا اس کو اپنی خواہشات نفسانی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی اصلی شکل کو بگاڑ کر معاشرے میں پیش کرنا ، تایخی شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ابو سفیان اور معاویہ نے کبھی دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا تھا۔

 

ابوسفیان کا ایمان:

  پیامبر گرامی اسلام ﷺ کی بعثت کے بعد قریش نے پیامبرﷺ کو ان کے اہداف سے روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کازور لگایا ، کبھی کہا ،یہ جادوگر ہے ، تو کبھی مجنون اور کبھی جھوٹے ہونے کا نا روا الزام لگایا۔اور خدا نے اپنے رسولﷺ کی حمایت اوران کے تکذیب میں کئی آیاتیں نازل کی ، اور کبھی آپﷺ کو دبانے کے لئے سیاسی دباؤ،اجتماعی دباؤ ڈالتے ہیں تو کبھی اقتصادی اور سوشل بائیکاٹ کرتے ہیں ۔ یہ ابوطالبؑ کا وجود مبارک اور حضرت خدیجہ ؑ کی بے مثال قربانی ہےکہ ان کے ناپاک مقاصد خاک میں ملتے ہیں۔ابوطالبؑ کی وفات کے بعد ان کو یہ جرأت حاصل ہوتی ہے کہ وہ پیامبر اسلام ﷺکو قتل کرنے کے درپے ہوجائیں، حضرت علی ؑ کی فداکاری نے ان کے عزائم کو خاک میں ملایا اور پیامبر اسلام ﷺخدا کے حکم سے یثرب کی طرف ہجرت کرنے لگتے ہیں ،لیکن قریش نے وہاں بھی آپ ﷺ کو سکون کا سانس لینے نہیں دیا اور کئی جنگیں لڑیں،لیکن جب آٹھویں ہجری کو مکہ فتح ہوا تو قریش کے سامنے کوئی چارہ نہیں ہے سوای اس کے کہ وہ اسلام کو قبول کریں ، مشرکین کا سرکردہ ابو سفیان اپنے کفر کو نفاق میں بدل کر اپنی دشمنی کو آگے بڑھاتا ہے اور رحمۃ للعالمین یہ معروف جملہ فرماکر (انتم الطلقا)ان کو آزادی دیتے ہیں جو اُن کے لئے ایک عار تھی ،وہ اپنے اس باطنی کفر کا اظہار مختلف اوقات میں کرتے رہے۔ ذیل میں ان شواہد کو ذکر کرتے ہیں۔

۱۔فتح مکہ کے موقعے پر عباس پیامبرﷺ کے چچا سے مخاطب ہوکر کہتا ہے "تمہارے بھتیجے کی حکومت اور بادشاہی کو بہت اوج ملی ہے"[4] یعنی وہ اس کو نبوت نہیں بادشاہی مانتا ہے۔

۲۔جب خلافت بنی امیہ کی طرف منتقل ہوتی ہے اور عثمان بن عفان کے ہاتھ لگتی ہے تو ابو سفیان ان کی ایک خصوصی محفل میں ان سے یوں مخاطب ہوتا ہے ((تلقفوھا یا بنی عبدالشمس       تلقف الکرۃ فواللہ ما من جنۃ ولا نار  وما زلت ارجوھا لکم الی ابنائکم وراثۃ)) ای عبدشمس کی اولاد خلافت کی گیند کو ایک دوسروں کو پاس دو ،خدا کی قسم نہ کوئی جنت ہے اور نہ جہنم ،اور امید ہے کہ تم اس (خلافت) کواپنے بیٹوں میں بطور وراثت منتقل کروگے[5]۔

۳۔عثمان کے زمانے میں ابو سفیان حضرت حمزہ سیدالشہداء کی قبر پر پاؤں سے ٹھوکر مارکر کہتا ہے (( اب اٹھو اور دیکھو جس چیز کے لئے ہم آپس میں جنگ لڑتے رہے آج ہمارے بچے اس کے ساتھ کھیلتے ہیں[6]۔

 

معاویہ اپنے باپ کی راہ کا راہی:

   ابو سفیان اور ہند جگر خوار کا بیٹا معاویہ نفاق کی چادر اوڑھ کر اپنے باپ کی راہ کو آگے بڑھاتا ہے، اپنے باپ کے بر عکس آج اس کو زیادہ مواقعے میسّر ہیں،اسیلئے وہ اپنے شوم اہداف کو عملی کرنے کے لئے تمام امکانات کو بروئے کار لاتا ہے ، گذشتہ تین دہائیوں سے شام کام کا مطلق العنان حکمران رہا ہے اور اسلام اور اہل اسلام خصوصا خاندان عصمت و طہارت سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنی جڑیں مضبوط کرتا رہا ہے۔اور جب بلاد اسلامی کا مطلق العنان حکمران بنا تو منسجم انداز میں اپنے اہداف کو عملی کرنے کے لئے کوششیں کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اس کی حکومت کو اس صورت میں مشروعیت اور دوام مل سکتی ہے جب وہ اپنے آپ کو رسول خداﷺ کے ساتھ منسوب کرے اور پیامبر ﷺ کے خاندان سے جو آنحضرتﷺ کے حقیقی وارث ہیں سے بعض کو لوگوں کے دلوں میں بھر دے،لہذا وہ زر و زور اور فریب کی سیاست پر عمل کرتے ہوئے لالچی لوگوں کو مال کے ذریعے خریدتا ہے اور بزدل لوگوں کو زور کے ذریعے ڈراتا ہے اور سادہ لوگوں کو ریاکاری اور فریب سے دھوکہ دیتا ہے ، وہ اپنے مخالفین کو اگر مندرجہ بالا کسی حربے سے قابو نہ پاسکے تو قتل کرتا ہے جیسے حجر بن عدی اور ان کے اصحاب ۔اور عموم مسلمانوں کو جہالت کی تاریکی میں رکھ کر حق اور باطل کی شناخت ان سے چھین لیتا ہے، یہاں تک کہ نماز جمعہ بدھ کے دن پڑھاتا ہے تو کوئی پوچھتا نہیں [7]۔ اور اپنے آپ کو پیامبرﷺ کے خاندان کے طور پر متعارف کراتا ہے ۔کہتا ہے :نحن شجرۃ رسول اللہ یعنی ہم پیامبرﷺ کے خاندان سے ہیں[8]۔معاویہ کی جھوٹے تبلیغات کا اثر تھا کہ اہل شام اسے اہل بیت میں سے سمجھتے تھے (( انھم ما علموا لرسول اللہ قرابۃ والا اہلبیت یرثونہ غیر بنی امیۃ))کہ وہ بنی امیہ کے علاوہ جو رسولخداﷺ سے قرابت رکھتے ہوں اور آپ سے ارث پاتے ہوں، نہیں جانتے تھے[9]۔اور اسلام کا روشن ترین چہرہ علی ؑ جن کی محبتت ایمان اور ان سے عداوت نفاق کی علامت ہے[10]۔  صدر اسلام کے مسلمان منافقین کو اسی پیمانے میں تول کر پہچانتے تھے۔ابن مسعود کہتا ہے :((ماکنا نعرف المنافقین فی عہد رسول اللہ (ص) الاّ ببغضھم علی بن ابیطالب ))[11] یعنی ہم رسول خداﷺ کے زمانے میں منافقین کو علیؑ سے ان کی دشمنی کے ذریعے پہچانتے تھے ،سے دشمنی کی ثقافت کو پروان چڑھاتا ہے۔ آج مسلمانوں کے منبروں سے بطور رسمی حضرت علیؑ پر لعنت بھیجی جاتی ہے اور جو اس قبیح عمل کو انجام دینے سے گریزاں ہوں، ان کو توبیخ کرتا ہے ۔جیسا کہ صحیح مسلم میں سعد ابن ابی وقاص کا واقعہ نقل ہوا ہے، وہ سعد کو توبیخ کرتے ہوئے کہتا ہے :کونسی چیز تم کو ابو تراب کو لعن طعن کرنے سے روکتی ہے؟سعد جواب میں کہتا ہے کہ میں نے رسول خداﷺ سے تین ایسی فضیلتیں حضرت علیؑ کے بارے میں سنی ہیں، ان کے ہوتے ہوئے میں ہرگز علیؑ کو دشنام نہیں دونگا[12]،اور تین فضیلتوں کو ذکر کرتا ہے ۔شام کے لوگ علیؑ پر سب و شتم کوایک معاشرتی خوبی سمجھتے تھے اور ان کے اقوال کے مطابق فتویٰ دینے کو جائز نہیں سمجھتے تھے[13]۔معاویہ کی علی ؑ سے اصل دشمنی پیامبر اسلامﷺسے نسبت اور آپ کی اسلام کے لئے فداکاریوں کی وجہ سے ہے۔ وہ پیامبرﷺ کا دشمن ہے اور جو بھی آپﷺ سے نزدیک ہوں ،معاویہ اس کا دشمن ۔معاویہ یہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لوں گا جب تک پیامبر اسلام ﷺ کا نام صفحہ ہستی سے مٹا نہ دوں[14]۔ معاویہ اسلام کے لئے وہ خطر تھا جس سے رسول خداﷺ نے مسلمانوں کو آشنا کیا تھا اور وظیفہ بھی تعیین کیا تھا((اذا رایتم معاویۃ علیٰ منبری فاقتلوہ)[15]۔ جب تم معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اُسے قتل کرو۔معاویہ نے بہت سارے جرائم کا ارتکاب کیا اور ان میں سب سے بڑا جرم یزید کو اپنا جانشین بنادینا تھا۔

 

یزید کا ایمان:

   خلافت مسلمین ایک ایسے شخص کے ہاتھ لگتی ہے جو اسلام پر کوئی اعتقاد نہیں رکھتا ہے اور اپنے قبیح اور ناجائز اعمال کی کوئی شرعی توجیہ کرنے کی توجیہ ضرورت محسوس نہیں کرتا ہے ، وہ اس کفر کو جس کو اس کے باپ چھپاتے تھے ،اب چھپاتا نہیں اور ابوسفیان کی بات کا کھلے عام اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے " لعبت ہاشم بالملک فلا        خبر جاء ولا وحی نزل [16]۔یعنی بنی ہاشم نے حکومت کا ڈھونگ رچایا ، وگرنہ  نہ کوئی آسمانی خبر آئی  اور نہ وحی نازل ہوئی ہے  ۔اور وہ  شراب کی حرمت کو یہ کہتے ہوئے پایمال کرتا ہے " اگر  شراب دین احمد میں حرام ہو تو دین مسیح پر نوش کرو "[17] ، وہ اپنی بادشاہی اور حکومت کے  مقابلے  میں خدا کی حکومت کو کچھ نہیں سمجھتا ہے اور عبداللہ بن زبیر سے کہتا ہے : ادع الھک فالسماء  فاننی    ادعوا علیک رجال عل و اشعراء [18]۔ یعنی تم اپنے آسمانی خدا کو پکارو  اور میں تمہارے ساتھ مقابلے کے لئے  عل اور اشعر کے مردوں کو پکارتا ہوں۔ اور خلاصہ یہی کہ تمام برائیوں کا مرکز اور منبع ہے، جس کا تعارف خود امام حسین ؑ اس طرح کراتے ہیں : " یزید رجل شارب الخمر ، قاتل النفس المحترمۃ  ، معلن بالفسق " یعنی یزید شراب خوار ، نفس محترمہ کا قاتل اور فسق و فجور کا علنی ارتکاب کرنے والا شخص ہے ۔ ایسے شخص کو خلیفہ رسول کہلانا درواقع اسلام کی نابودی ہے " ۔۔۔ و علی الاسلام السلام اذ قد بلیت الامۃ براع مثل یزید " اسلام کا خدا حافظی جب امت کا سربراہ یزید جیسا شخص ہوجائے۔

 

تحریک کربلا اور بنی امیہ کے مقاصد کی نابودی :

وارث انبیاء ، نواسہ رسول اسلام ﷺ امام حسین ؑ جب دیکھتے ہیں کہ یزید کی خلافت سے اصل اسلام خطرے میں ہے تو اب اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے کہ حق کی بالا دستی اور ظلم کی نابودی کے لئے قیام کرے ، اور اس قیام کا آغاز خاندان رسالت کے تعارف اور یزید کے تعارف سے کرتا ہے چونکہ آپ جانتے ہیں کہ امت پر یہ وصیت خاندان عصمت و طہارت سے عدم تمسک کی وجہ سے آئی ہے ، آپ مدینے کے گورنر کے جواب میں جب وہ یزید کے حکم سے آپ ؑ سے بیعت لینا چاہتا ہے تو فرماتے ہیں :ایھا الامیر انا اہلبیت النبوۃ و معدن الرسالۃ و مختلف الملائکۃ و مھبط الوحی ، بنا فتح اللہ و بنا ختم اللہ۔۔۔ اے امیر ہم ہیں خاندان نبوت اور رسالت کے خزانے اور ملائکہ کا مقام نزول اور محل نزول رحمت ، خدا نے اسلام کو ہمارے ذریعے سے شروع کیا اور ہمارے ہی ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچائے گا ، ۔۔۔ " مثلی لا یبایع مثلہ " مجھ جیسا ، یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کرسکتا[19] ۔امام حسین ؑ اسلامی معاشرے کی شکل کو سمجھتے ہیں،   یزید ان پر مسلط اس وجہ سے ہوا ہے کہ عموم مسلمان بنو امیہ کی اصلیت کو نہیں سمجھتے ہیں اور دانشور اور اعلی طبقہ دنیا داری کی وجہ سے ایثار اور حریت کے جذبے سے عاری ہے ۔لہذا عموم مسلمانوں کو بیدار کرنے کے ساتھ ایثار اور قربانی کی ثقافت کو زندہ کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے ایک بے مثال قربانی کی ضرورت ہے ۔

 

ظلم کے مقابلے میں سکوت ظالم کی مدد :

امام حسین ؑ لوگوں کو تنبیہ کرتے  ہوئے فرماتے ہیں " اے لوگو ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے بھی حاکم ظالم کو دیکھا جو حرام خدا کو حلال ، عہد خدا کو پایمال ، سنت رسول کی مخالفت اور لوگوں کے درمیان گناہ اور ظلم کا برتاؤ کرتا ہو ، اور وہ اپنے قول یا عمل سے اسے نہ روکتا ہو تو خدا اس کو بھی اس ظالم کے مقام میں ڈالتا ہے " ۔ آگاہ رہو ان ظالمین نے شیطان کی اطاعت کو لازم قرار دیا اور رحمن کی اطاعت کو ترک کیا ۔۔۔[20]۔

 

بیداری کا آغاز :

امام حسین ؑ کی تحریک کے ثمرات روز عاشورا سے پہلے ہی شروع ہوتے ہیں ۔ بعض وہ افراد جنہوں نے حق اور باطل میں مردد ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو اس جنگ سے دور رکھا ہوا تھا وہ امام ؑ سے ملحق ہوتے ہیں جیسے زہیر بن قین ۔اور بعض وہ افراد جو امام حسین ؑ کو باطل اور یزید کو حق سمجھ کر لشکر یزید میں ماموریت انجام دیتے تھے ،وہ بھی امام عالیمقام ؑ سے ملحق ہوتے ہیں جیسے حر بن یزید ریاحی ، سعید بن حارث اور تیس دوسرے افراد [21]۔ اور کچھ لوگ لشکر یزید سے جدا ہوکر اما حسین ؑ کی نصرت کے لئے روتے ہوئے دعا کرتے ہیں [22]۔اور اسی طرح ایک شخص بنام مسروق بن وائل سر مبارک امام حسین ؑ کو تن سے جدا کرکے انعام لینا چاہتا تھا ، امام ؑ کی معنویت سے متاثر ہوکر عقیدہ بدل کر کوفہ واپس ہوجا تا ہے [23]۔

 

کوفہ میں بیداری اور حریت کا آغاز:

حکمران جماعت کی سوچ کے برعکس زینب کبری (س) اپنے قافلے کے ساتھ ایک فاتح کے طور پر کوفے میں داخل ہوتی ہیں اور عبیداللہ بن زیاد کو اس پہلے جلسے میں جس کو اپنی پیروزی کے جشن منانے کے لئے منعقد کیا تھا ، رسوا کرتی ہیں ۔ عبیداللہ بن زیاد کمال بے شرمی کے ساتھ زینب کبری (س) سے مخاطب ہوکر کہتا ہے " خدا کا شکر کہ جس نے تمہیں قتل کیا اور رسوا کیا  اور ثابت کیا تمہاری باتیں جھوٹی تھیں " علی ؑ کی شیر دل بیٹی نے عبید اللہ بن زیاد کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے فرماتی ہیں " اس خدا کا شکر جس نے اپنے پیامبر محمد ﷺ کے ذریعے ہمیں کرامت دی اور ہر طرح کے رجس سے ہمیں دور رکھا ، ہاں فاسق رسوا ہوا اور فاجر جھوٹ بولتا ہے جو ہم نہیں ہیں"[24]۔کوفہ کے لوگ متوجہ ہوئے کہ انہوں نے کسی باغی کے خلاف نہیں بلکہ فرزند پیامبر ﷺ کے خلاف قیام کیا ہے ۔اور وہ زار زار رورہے ہیں [25]۔ کوفے کا حاکم لوگوں کو آرام کرنے کے لئے مسجد کوفہ میں ایک دفعہ پھر اپنے جھوٹ کو دھراتے ہوئے کہتا ہے : اس خدا کا شکر جس نے حق اور اہل حق کو فتح اور جھوٹے اور جھوٹے کے فرزند کو قتل کیا ۔ عبداللہ بن عفیف ازدی عامری جو نابینا تھے کھڑے ہوکر یوں جواب دیتا ہے : "وہ جھوٹا تم اور تمہارا باپ ، یزید اور اس کا باپ ہیں کہ تم کو اس منصب میں بھٹایا "[26]۔ کوفے کے بعض لوگ امام سجاد ؑ سے اجازت چاہتے ہیں کہ وہ ہیئت حاکم کے خلاف قیام کرکے امام حسین ؑ کے خون کا انتقام لیں گے [27]۔

 

شام میں بیداری:

تحریک کربلا کے اثرات بنی امیہ کے مرکز شام تک پہنچتے ہیں ، اہلبیت ؑ اپنا تعارف کراتے ہیں اور لوگوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ معاویہ اور یزید نے ان کو اندھیرے میں رکھا ہے ۔ یزید اب بھی اپنے آپ کو فاتح معرکہ سمجھ کر سرمبارک امام حسین ؑ کی توہین کرتا ہے ۔ ابوبرزہ سلمی صحابی رسولخدا ﷺ، یزید کو ٹوکتے ہوئے فرماتا ہے " اے یزید لعین ! واے ہو تم پر کسے خیزران کی چھڑی ان دانتوں پر مارتے ہو ، خدا کی قسم میں نے رسولخدا ﷺ کو دیکھا کہ ان دانتوں کا اور ان کے برادر حسن ؑ کا بوسہ لیتے تھے اور فرماتے تھے :تم دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہو ، خدا تمہارے قاتل کو مار دے اور لعنت کرے تمہارے قاتل پر "[28]۔

عمومی لوگ یزید سے نفرت کرتے ہیں،  یزید خود بیان کرتا ہے " حسینؑ کے میرے ہاتھوں سے مارے جانے سے لوگ میرے دشمن ہوگئے ہیں ، میرے کہنے کو اپنے دلوں میں لئے ہوئے ہیں اور حسین کے قتل کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ، نیک ہوں یا بد سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں "[29]۔ اور یہ نفرت صرف عمومی لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ خود یزید کے گھر والے بھی اس اظہار بیزاری اور نفرت کرتے ہیں ۔ یزید کی بیوی ھند یزید کی توبیخ کرتی ہے ۔ اوریزید کا فرزند معاویہ اپنے دادا اور اپنے باپ کو مجرم ٹھہراتے ہوئے  یزید کی موت کے بعد خلافت سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے ، اور یہ اعلان کرتا ہے کہ میرے دادا معاویہ نے علی ؑ سے جو رشتہ داری میں پیامبر ﷺسے نزدیکتر اور مسلمانوں کا رہبر اور پیامبر ﷺ کے فرزندوں کا باپ ۔۔۔ سے نزاع کرکے گناہ کا مرتکب ہوا ہے ۔۔۔ اور اس کے بعد میرے باپ کو جس سے کوئی خیر کی امید نہیں تھی حکومت کا سربراہ بنایا پھر وہ حوس کی سواری میں سوار ہوا اپنے گناہوں کو نیک جانا ۔۔۔ اس نے پیامبر ﷺکے خاندان کو شہید کرکے آپ کی حرمت کو پایمال کیا [30]۔

یزید جب اس عمومی نفرت اور بیزاری کا روبرو ہوتا ہے تو اپنے موقف کو تبدیل کرکے عبیداللہ بن زیاد کو اس جرم کا مجرم ٹھہراتے ہوئے اس پر لعنت کرتا ہے [31]۔

اور یزید سے نفرت اسلامی دنیا کے علاوہ وہ افراد جو یزید کے مہمان تھے ان تک سرایت کرتی ہے ، وہ اس کی مذمت کرتے ہیں [32]۔ اور بہت ہی مختصر عرصے میں یزید خود امام سجاد ؑ کو آبرومندانہ اور فاتحانہ مدینہ پلٹنے کی تجویز دیتا ہے  اور اس کے مقدمات فراہم کرتا ہے [33]۔

اور اسلامی دنیا اب بیدار ہوچکی ہے  اور بنی امیہ کے خلاف تحریکوں کا آغاز کیا ہوا ہے ، اور بنی امیہ کی حکومت کا زوال شروع ہوجاتا ہے ۔ ایک عیسائی مصنف انتوان یارا لکھتا ہے : " بنی امیہ کی حکومت کے زوال کے تمام دلائل واقعہ کربلا سے تعلق رکھتا ہے ، یہ سطحی نگری ہوگی کہ ہم بنوامیہ کی حکومت کے سکوت کو ماجرائے کربلا کے علاوہ کچھ دوسرے عوامل جو اس واقعہ سے نزدیک ہو یا دور کی طرف نسبت دیں "[34]۔ اور علامہ مجلسی کے اعتقاد کے مطابق بھی واقعہ کربلا بنی امیہ کی سقوط کا باعث بنا [35]۔

خلاصہ یہ کہ  امام حسین ؑ نے اپنے قیام کے ذریعے سے نہ صرف بنو امیہ کے قبیح چہرے کو متعارف کرایا بلکہ اسلام کو حیات نو بخش دی جس کو سید جمال الدین افغانی یوں لکھتے ہیں : " الاسلام المحمدی الحدوث  وحسینی البقاء والاستمرار " اسلام محمد ﷺ کے ذریعے وجود میں آیا  اور حسین ؑ کے ذریعے اسلام نے بقاء اور دوام پایا [36]۔

 



[1]۔ نھج البلاغہ ، خطبہ ۵۰

[2]۔ سورہ رعد ، آیہ ۱۷ سے اخذ

[3]۔ تاریخ طبرح ، ج 8 ، ص 188

[4]۔ فروغ ابدیت ، آیۃ اللہ جعفر سبحانی ، ص 330

[5]۔ سقیفہ ، علامہ مرتضیٰ عسکری ، ص 176

[6]۔ وہی مببع

[7]۔ مروج الذہب ، مسعودی ، ص72

[8]۔ تاریخ خلفا ، رسول جعفریان ، ج 2 ، ص 395

[9]۔ شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ، ج 13 ، ص 219-220

[10]۔ صحیح مسلم ، ج 1، ص 61

[11]۔ الدررالمنثور ، ج 5، ص 443

[12]۔ صحیح مسلم ، ج 5، ص23 کتاب فضائل صحابہ

[13]۔ تاریخ الامم و الملوک ، ج۱،ص57

[14]۔ مروج الذہب ، ج 3،ص 454

[15]۔ مناقب ابو حنفیہ ، ج1،ص 117

[16]۔ تاریخ طبری ، ج ۸، ص ۱۸۸

[17]۔ مقاتل الطالبین ، ص ۸۰

[18]۔ وہی منبع

[19]۔ لھوف ، ص ۱۹

[20]۔ سخنان حسین بن علی ، ص ۱۶۱، محمد صادق نجمی

[21]۔ بر کدام مصیبت باید گریست ۔ سید محمد تقی قادری

[22]۔ انساب الاشراف ، ج ۳، ص ۲۲۵

[23]۔ کامل ابن اثیر ، ج۴ ، ص ۶۶

[24]۔ وہی منبع ، ج ۳، ص ۲۹۷

[25] حیاۃ الحسین ، ج۳ ، ص ۳۳

[26]۔ تاریخ طبری ، ج ۵ ، ص ۳۳

[27]۔ حیاۃ الامام الحسین ، ج۳ ، ص 341

[28]۔ کامل ابن اثیر ، ج۴ ، ص 83

[29]۔ تاریخ طبری ، ج ۵ ، ص 506

[30] تاریخ یعقوبی ، ج۲ ، ص ۱۹۶

[31]۔ تاریخ طبری ، ج ۵ ، ص 506

[32]۔ بحارالانوار ، ج۴۵ ، ص ۱۵۴۔ ۱۵۵

[33]۔ مقتل ابی مخنف ، ص ۱۹۹۔ ۲۰۰

[34] امام حسین ؑ از دیدگاہ یک مسیحی ، ص ۲۸۷

[35]۔ بحارالانوار ، ج۴۵ ، ص 99

[36]۔