Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

تحریر:لیاقت علی مرتضوی

کربلا ایک درسگاہ اور مکتب کا نام ہے کہ اس نے مرتی ہوئی انسانیت کو عزت کے ساتھ مرنے کا سلیقہ سکھایا۔ یہ تاریخِ انسانیت میں سب سے منفرد ہے۔ یہاں درس لینے والوں کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ زمان و مکان کی قید نہیں۔ رنگ و نسل کی قید نہیں۔ ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا انسان یہاں درس حاصل کرسکتا ہے۔ ہر قبیلہ اور قوم کا انسان یہاں سے استفادہ کرسکتا ہے۔

کربلا ایک عظیم درسگاہ اور مکتب ہے۔ اس نے بشریت کو زندگی کے ہر گوشے میں درس انسانیت دیا ہے۔اور ہر صاحب فکر کو اپنی عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایثار ، فداکاری، قربانی، صبر و تحمل وغیرہ یہ وہ اعلیٰ انسانی صفات و اقدار ہیں کہ اگر کسی معاشرے یا قوم میں  پیدا ہوجائیں تو وہ قوم یا معاشرہ تاریخ میں کبھی بھی فنا نہ ہوجائے اور یہی وہ صفات ہیں جنہیں امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں جامعہ عمل پہنایا۔

 

کربلا کی تعلیمات اور دروس ہر صاحب شعور انسان کے لیے ابدی زندگی کا سرمایہ ہیں کہ ان میں چند ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

 

۱۔حر  یت اور آزادی :

تحریک کربلا کا سب سے اہم درس آزادی، حریت اور ظلم و استبداد کے آگے نہ جھکنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام     نے غلامی کے خلاف جہاد کیا۔ اسے شکست سے دوچار کردیا اورحریت کی مفہوم کو دنیا کے لیے متعارف کروایا۔  امام عالی مقام نے اپنے خون اور شہادت کے ذریعے سے حریت کو دنیا والوں کے لیے پیش کیا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں :

«انی لا اری الموت الاّ سعادة والحیاة مع الظالمین الا برماً»[1]

میں موت کو راہ خدا میں سعادت سمجھتا ہوں ۔ ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا اپنے لئے ننگ و عار سمجھتا ہوں۔

تحریک عاشورا نے دنیا کے تمام مظلوموں کو ظالموں کا مقابلہ کرنے اور ثابت قدمی کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ  آج بحرین کے شیعہ مومنین کربلا سے درس لے کر غلامی کی زنجیروں کو توڑنا چاہتے ہیں۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام     نے بظاہر طوق اسارت پہن لیا۔ لیکن انسانیت کے گلے سے طوق غلامی نکا ل دیا اور انسانیت کو آزادی بیان کا درس دیا۔ حقیقت میں جو طوق امام سجاد علیہ السلام نے پہن لیا تںھا وہ آزادی کا طوق تھا کیونکہ بعض اوقات ایک انسان کے گلے میں طوق بھی نہیں ہوتا لیکن وہ دوسروں کا غلا م ہوتا ہے۔ آج اگر دنیائے اسلام کو دیکھا جائے تو ہمیں بخوبی یہ چیز نظر آئیگی کہ اسلامی ممالک کسطرح استعمار کے غلام اور اُنکے اشارے پر امور مملکت کو چلارہے ہیں۔  لیکن اسلامی ممالک کے سرابراہ اس بات سے غافل ہیں کہ انکے عوام کربلا سے  کادرس آزادی لے رہے ہیں اور انشاء اللہ ایک وقت ضرور آئیگا کہ تمام اسلامی ممالک دشمنان اسلام کی غلامی اور قید و بند سے نجات پا کر ہمیشہ کے لیے ایک مستقل اسلامی حکومت وجود میں لائے نگے۔

 

۲۔اللہ پر توکل :

مشکلات اور مصایب کے وقت ایک مضبوط اور مستحکم قدرت پر اعتماد تمام مشکلات اور مصایب کو آسان بنا دیتا ہے۔ اللہ پر توکل اور اسکی نصرت و کامیابی پربھروسہ کرنا ہی راز کامیابی ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی گفتار اور  کردار سے یہ بات نمایاں اور واضح ہو جاتا ہے کہ آپ علیہ السلام کس قدر خدا پر توکل کرتے تھے۔ آپ نے مدینہ سے جب سفر کاآغاز کیا تو خدا پر ہی توکل کر کے، اور جتنا بھی راستہ طے کیا خدا پر توکل کی وجہ سے طے کیا ۔امام ؑ مکہ سے نکلتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :

"جو بھی اپنے خون کو ہماری راہ میں بہانا چاہتا ہے اور خدا سے ملاقات کا مشتاق ہے وہ میرے ساتھ چلے۔میں کل صبح سفر پر نکل رہا ہوں"[2]

مدینہ سے نکلتے ہوئے اپنے بھائی محمد حنفیہ سے فرمایا :« ما توفیقی الا باللّه علیه توکلت والیه انیب»[3]

 میری توفیق خدا سے ہے اور میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی میری پناہ گاہ ہے۔

 

۳۔ایثار :

سرزمین کربلا میں عاشورا کے دن اگرچہ تعداد کے لحاظ سے لشکر امام حسین علیہ السلام بہت ہی کم تھا ۔ کمیت کے اعتبار سے انگشت شمار تھا لیکن کیفیت کے اعتبار سے انسانی قدروں  اور انسانی خصائل کے لحاظ سے یہ لشکر ہزاروں انسانوں پر بھاری تھا اس لیے کہ ان میں جو صفات ، خصائل اور اوصاف پائے جاتے تھے ، ان میں سے ہر صفت ہزاروں صفت ہزاروں انسانوں پر بھاری تھی۔[4]

ان عالی اقدار میں ایثار و فداکاری ایسی صفت تھی جو امام حسین علیہ السلام    کے لشکر کے ہر فرد میں موجود تھی۔ حضرت امام علیہ السلام کا احسان انسانیت پر ہے، اس لیے کہ اگر امام حسین علیہ السلام ایثار نہ کرتے تو نہ دین ہوتا، نہ ایمان، نہ اسلام کیونکہ اس دور کے مستکبرین نہ فقط تشیع کی اقدار کو مٹانا چاہتے تھے، نہ فقط سنی اقدار کو ختم کرنا چاہتے تھے بلکہ انسانی اقدار کو مٹانے کے درپے تھے۔ [5]

روز عاشورا کی صبح جب سید الشہداء نے دشمن کی فوج کے سامنے اپنی فوج کو منظم کرنا چاہا تو حبیب ابن مظاہر یہ خواہش کی کہ چونکہ وہ سب سے بوڑھے ہیں ، انہیں سب   سے پہلے جہاد کا حکم ملے۔  دوسری طرف وہب کی دلیل یہ تھی کہ عمر میں سب سے چھوٹے ہیں لہذا

 انہیں میدان کی طرف دشمن اشقیاء کو جہنم واصل کرنے کے لیے بیجھا جائے۔[6]

گویا ہر صحابی کے دل میں یہ تمنا تھی کہ سب سے پہلے وہ جام شہادت نوش کرے اور  تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنے نام کو زندہ رکھے۔ جب سید الشہداء عاشورا کی رات کو اپنے اصحاب و اعوان سے فرمایا :

" رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے واپس چلے جاو ، اس قوم کو مجھ سے سرورکار ہے۔ لیکن امام عالی مقام کے خطبے کو سننے کے بعد اصحاب با وفا نے عاجزانہ انداز میں جواب دیا کہ  «قبح الله العیش بعدک»[7]آپ کے بعد  زندگی کو اللہ سیاہ کرے۔ ہم آپ کے بعد زندگی نہیں چاہتے۔  مسلم ابن عوسجہ نے کہا : کیا یہ ہوسکتا ہے  کہ ہم آپ کو تنہا چھوڑ دیں؟ اگر ہم ایسا کریں تو آپ کے حق کی ادائیگی میں اللہ کو کیا عذر پیش کریں گے۔ خدا کی قسم! ہرگز آپ سے جدا نہیں ہوں گا۔ [8]

ایثار و فداکاری میں نہ فقط اصحاب امام حسین علیہ السلام پیش پیش تھے بلکہ جوانان بنی ہاشم بھی اپنے مولا اور مقتداء کے لیے اپنی جانوں کی قربانی کے لیے آمادہ اور تیار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب حضرت قاسم علیہ السلام  سے امام حسین علیہ السلام     نے سوال کیا کہ مجھے بتاو موت آپ کو کیسی لگتی ہے؟  تو قاسم علیہ السلام نے جواب میں فرمایا :

«یا عمّ احلی من العسل»[9]موت تو مجھے شہد سے زیادہ میٹھی لگتی ہے۔

آیا یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنے آپ کو حسینی کہے لیکن اس کی زندگی میں نہ ایثار ہو اور نہ فداکاری۔ امام حسین علیہ السلام      نے کربلامیں ایثار کو زندہ کیا اور دنیائے اسلام کو یہ بتایا کہ اگر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو اور اپنے آپ کو یا اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانا چاہتے ہو تو آو کربلا سے درس لو۔ جب تک ایک ملت اور قوم میں ایثار کی صفت  پیدا نہیں ہوگی اور مشکلات اور امتحانات کے وقت ایثار و فداکاری کا مظاہرہ نہیں کرینگے کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔

شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

کربلا میں چند چیزیں ایسی تھی جو اباعبداللہ علیہ السلام کی مصیبتوں میں اضافہ کا سبب ہوئیں ان میں کوفہ والوں کی پست فطرت اور ناروا باتیں، بے ادبی اور وحشیانہ حرکتیں تھی۔ لیکن جو چیزیں ایسی تھیں جن سے آپ کی آنکھیں روشن اور دل خوش و خرم رہا وہ آپ کے اصحاب اور اہل بیت علیہم السلام تھے۔ ان کی وفاداری ، جان نثاری اور بے لوث خدمت دیکھ کر آپ کا دل شاد اور خرم ہوجاتا تھا.[10]

 

وفاداری :

معرکہ کربلا وفاداری سے بھرا ہوا نظر آتاہے ۔ہر مقام پر وفا کی ایک تصویر دکھائی دیتی ہے۔ اسی وفا داری کو دیکھ کر اباعبداللہ ؑ ارشاد فرماتے ہیں : «فانی لا اعلم اصحاباً اوفی ولا خیراً من اصحابی»[11] میں نے اپنے اصحاب سے زیادہ باوفا اور اچھے اصحاب نہیں د یکھے۔

خصوصاً حضرت عباس علیہ السلام کی وفا مشہور ہے ۔ وفا کا نام سنتے ہی حضرت عباس کا نام گرامی ذہن میں آتاہے۔  شیخ مفید کتاب ارشاد میں لکھتے ہیں کہ جب شمر ملعون آیا اور کہا کہ : انتم یا بنی اختی آمنون لعنک اللّه ولعن امانک اتؤمننا وابن رسول اللّه لا امان له تبت یداک ولعن ما جئتنا به من امانک یا عدواللّه اتأمرنا ان نترک اخانا  وسیدنا الحسین بن فاظمه وندخل فی طاعة اللعناء[12] اے میری بہن کے فرزندو! تم امان میں ہو۔توحضرت عباس علیہ السلام اور آپ کے بھائیوں نے جواب میں فرمایا :۔تم اور تمہارے امان نامے پر خدا کی لعنت ہو۔ کیا تو ہمیں امان دیتا ہے جبکہ رسول خدا ؐ کے فرزند کیلئے امان نہیں ہے۔

کتاب اعیان الشیعہ میں حضرت عباسعلیہ السلام کا جواب اس طرح سے موجود ہے ۔ ہے۔ اے دشمن خدا وای ہو تجھ پر ، لعنت ہو تمہارے امان پر ۔کیا تم یہ کہتے ہو کہ ہم اپنے بھائی وآقا حسین ؑابن فاطمہؑ کو چھوڑ دیں اور لعینوں کی اطاعت کریں۔

دریائے فرات پر جب آپ کا قبضہ ہوا اس وقت آپ تین دن سے پیاسے تھے اور پانی آپ کی دسترس میں تھا۔ لیکن آپ فرماتے ہیں والله لا اذق الماء وسیدی الحسین عطاشاناً [13]خدا کی قسم میں پانی کو نہیں چکھوں گا کیونکہ میرا آقا حسین علیہ السلام   پیاسا ہے۔

عباس کی وفا ایسی تھی کہ دشمن بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔جب وہ علم جسے حضرت عباس نے اٹھایا ہوا تھا یزید کے دربار میں پیش کیا جاتا ہے تو یزید دیکھتا ہے کہ اس پرچم میں کوئی جگہ سالم نہیں ہے اور پوچھتا ہے کہ اس علم کوکس نے اٹھارکھاتھا؟

جواب ملا عباس ابن علی ؑ،تو کہنے لگا : هکذا یکون وفا الاخ لاخیه[14]۔بھائی کی وفاداری بھائی سے اس طرح ہونی چاہیے۔
امام ؑ کے عزیزوں کے علاوہ آپ ؑ کے اصحاب بھی وفا کے پیکر تھے ۔ عمرو بن قرظہ روز عاشور دشمنوں کے تیروں کے سامنے امام ؑ کے لئے سپر بنتے ہیں تاکہ امامؑ پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ اس قدر زخمی ہو گئے کہ زخموں کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور حضرت سے پوچھنے لگے :

اے فرزند رسول !   کیا میں نے وفا کی ہے ۔ حضرت نے جواب دیا :ہاں! تم مجھ سے پہلے بہشت میں جا رہے ہو ،رسول خداؐ کو میرا سلام کہنا۔[15]

حضرت مسلم ابن عوسجہ فرماتے ہیں کہ : واللّه لو علمت انی اقتل ثم احیا ثم احرق ثم احیا ثم اذری یفعل بی ذالک سبعین مرۃ ما فارقتک[16]۔ خدا کی قسم ! اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ مجھے قتل کیا جائے گا پھر زندہ کیا جائے گا اور جلاکر راکھ کیا جائے پھر اسے ہوا میں اڑایا جائے گا، اسی طرح ستر بار یہ عمل دہرایا جائے تب بھی میں آپ کوچھوڑو کر نہیں جاؤں گا۔

خلاصہ کلام ان مندرجہ بالا دروس کے علاوہ صبر، امربالمعروف  و نہی عن منکر،  رضا و تسلیم، اخلاص، شجاعت ادب، عفت و حجاب یہ وہ اعلی انسانی صفات ہیں کہ اگر کسی معامشرہ یا قوم میں پیدا ہوجائیں تو وہ قوم یا معاشرہ کبھی بھی تاریخ کی اندھیری کوٹھریوں میں دفن نہیں ہوسکتا۔ اور یہی وہ صفات ہیں جن کو امام حسین علیہ السلام نے بشریت کے لیے سرزمین کربلا میں ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔

یہی کربلا ہے اور یہی اس کے وہ آفاقی دروس ہیں جو تمام تلخیوں کو آب حیات اور دنیا کی ہر تلخی کو شیریں بنا رہے ہیں۔ اس سے ملنے والے دروس ہمیں ایسی درسگاہ کا پتہ دیتے ہیں جہاں حلاوت ہے زندگی کی شیرینی ہے زندگی کے معنی ہیں، زندگی کا احساس ہے، عشق ہے، محبت ہے، اور حتی اس معرکہ حق و باطل میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں تھیں ۔ عمررسیدہ افراد اور کم سن بچوں کے علاوہ خواتین نے بھی لشکر اعداء کی تعداد اور قوت سے بے پرواہ ہو کر دشمن کے نیزوں اور پتھروں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت کو آب کوثر کی مانند نوش کیں۔

 

 



[1]۔ موسوعۃ کلمات امام حسین ، ص ۳۵۶۔

[2].مجلسی  ،  باقر ،  بحار الانوار ،  جلد ٤٤ ، ص ٣٦٧،  شہید مطہری، مرتضی،  حماسہ حسینی ج١ ص٢٥٦

[3].وہی،  جلد ۴۴، ص ۳۲۹.

[4]۔نقوی،  سید جواد ،  ا قدار عاشورا، ص ۳۱۷، ۔

[5]۔وہی، ص ۳۳۶۔

[6]۔وہی، ص ۳۳۷۔

[7]۔موسوعۃ کلمات امام حسین ، ص ۳۹۷۔

[8]۔وہی، ص ۴۰۱۔

[9].وہی، ص ۴۰۲.

[10]۔شہیدمطہری، مرتضی، ج ۲، ص ۹۶۔

[11]۔مفید،الارشاد ج٢ص٩١

[12]اعیان الشیعہ ج١١ص٤٧٧

[13]محمدی اشتہاری ، محمد ، سوگنامہ آل محمد ص٣٠٤

[14].وہی،  ص٣٠٠

[15].بحارالانوار ،  جلد  ٤٥ ، ص٢٢

[16].الارشاد،  جلد ٢، ض٩٢