Monday, 22 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 10

کل 11

اس هفته 10

اس ماه 235

ٹوٹل 21531

تحریر:عید علی عابدی

     تمہید :

 چون خلافت رشته از قرآن گسیخت  

  حریت را زهر اندر کام ریخت

 تیغ بهر عزت دین است و بس    

  مقصد او حفظ آیین است و بس

 خون او تفسیر این اسرار کرد 

                                          ملت خوابیده را بیدار کرد[i]

امام حسین ؑ  کے قیام کی وجوہات کیا ہیں ۔یہ کیوں اور کس لئے رونما ہوئی ؟  علماء و محققین نے اس کی بہت سے وجوہات بیان کئے ہیں۔اب ان وجوہات کو اس زمانے کے حالات کے مطابق جانچ پڑتال کرنا پڑے گا کہ مسلمانوں کے خلیفہ یزید  کے خلاف یہ قیام کیوں کیا !؟ کیا یزید نے بیعت یا قتل کا مطالبہ کیا تھا ؟  جس کے جواب میں امام ؑ نے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت اپنایا ؟  یا کوفیوں کے خطوط  کی وجہ سے قیام کیا؟یہ دونوں   وجہ اپنی جگہ درست لیکن امام حسین ؑ  ان سے ہٹ کر کئی  اور وجوہات کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ اگر ہم یزید کے تین سالہ حکومت کی طرف نظر کریں تو اس کے برے  اور کفرانہ اعمال میں سے جیسے امام حسین ؑ  کو شہید کرنے، کعبہ کا گھیراؤ ، پھتراؤ ،  پھرانہدام کرکے آگ لگا نا  اور حرہ کا  مشہور واقعہ   ، یہ سب گواہی دے رہے ہیں  کہ اس کے خلاف قیام واجب تھا    اورجو  کچھ اس کے بارے نا سزا کہا گیا ہے ، مبالغہ یا جھوٹ نہیں ہے ؛ اس لئے کہ  یزید کا خلافت  کے لئے معیّن کرنا  قلب اسلام ، اسلام ناب محمدی ﷺ اور دین کے اہداف و مقاصد پر ایک ایسا ضربہ تھا کہ اس زمانے میں حکومت بنی امیہ کے نام سے خطرناک نقصانات کی آفت اسلامی روح پر آپڑی تھی ۔ اس عالیترین اسلامی اقدار کو منفور  اور ذلیل ترین  شکل میں تبدیل کیا تھا ۔ اگر اس وقت امام ؑ اپنے قیام کے ذریعے اسلام کی فریاد کو نہیں پہنچتے تو دامن اسلام  پرننگ و عار کا  ایسا سخت  دھبہ لگ جاتا  جو کبھی جبران ناپذیر تھا  اور خدا کا پیارا دین  نابود اور پایمال ہوجاتا تھا ! ۔ اب ہم بھی  انہیں کے دامن سے تمسک کرتے ہوئے اپنے موضوع کوبہت ہی مختصر وضاحت کے ساتھ تحلیل کرنے کی کوشش کرینگے  انشاء اللہ ۔

 

 

قیام امام حسین ؑ کے وجوہات: 

قیام امام حسین  ؑ اور اس کی تحریک کے بارے بہت سے وجوہات بیان کئے   گئے ہیں:

1۔ کوفیوں کے خطوط :

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ امام ؑ نے کوفیوں کے خطوط کی وجہ سے قیام کیا ، جن میں امام ؑ  کو دعوت دی گئی تھی کہ کوفہ میں آکر اسلامی حکومت قائم کریں ؛ اس لئے امام ؑ  کوفہ چلے گئے  اور راستے میں یہ واقعہ پیش آیا ۔

اس عقیدہ کے لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ کہ اگر کوفہ کے لوگ دعوت نہیں دیتے تو کیا یہ قیام امام ؑ وقوع  پذیر نہیں ہوتی ؟

قیام امام حسین ؑ کے بہت سے وجوہات میں سے ایک وجہ یہی دعوت بیان ہوئی ہے لیکن اصلی وجوہات کی زمرے میں شامل نہیں  ہوسکتی ؛ اس لئے کہ جب معاویہ ماہ رجب سنہ ۶۰ ھ کو مرگئے  ، یزید نے اپنے باپ کے وصیت کے برخلاف پہلی غلطی یہ کیا کہ سلطنت  پر قابض اور خلافت  کو غصب کرنے کے فوراًٍ  بعد مدینے کے حاکم ( ولید بن عتبہ بن ابی سفیان ) کو خط لکھا اور شدید الفاظ میں بیعت کا مطالبہ کیا اور بیعت نہیں کرنے کی صورت میں قتل کا  دستور  بھی دیا [ii]۔

مگر  امام حسین ؑ کا  موقف پہلے ہی سے معیّن تھا  ، کیا اب تک بنو امیہ کے حاکموں نے کسی ہاشمی کو اپنے قوت و زور  بازوسے ڈرایا تھا تاکہ آج حسین ؑ یزید کے قتل کی دھمکی سے ڈرجائے  ،یا ذلت کی زندگی کے لئے بیعت کرے ؟ ان دونوں کا جواب  امام حسین ؑ کے کلمات اور بیانات میں فراوان ملتا ہے ۔  بے شک اس راستے میں اپنے نانا ﷺکی دین کو بچانے  اور بابا علی مرتضی ؑ  کی سیرت زندہ کرنے کے لئے  صرف  اپنا سر ہی نہیں بلکہ بہتر سروں کا قربانی بلکہ اہل حرم کا اسیری  کو بھی پیش کرنے کے لئے  تیار ہے ؛  جن کی شجاعت زبان زد خاص و عام ہے، اس کے  چند نمونے پیش کرتے  ہیں :

(ان کان دین محمد لم یستقم  الا بقتلی  ، فیا سیوف قد خذینی ) یعنی اے  نانا ﷺ کی دین اگر میرے قتل کے بغیر زندہ نہیں ہوسکتی ہے تو اے تلوارو آیئے  مجھ حسین کو قطعہ قطعہ کردو !  

(و مثلی لا یبایع مثلہ) یعنی مجھ جیسا حسین ؑ اس جیسے کی کبھی بھی  بیعت نہیں کرسکتا ؛

«لَيْسَ الْمَوْتُ فی سَبيلِ الْعِزِّ إِلاّ حَياةً خالِدَةً وَ لَيْسَتِ الْحَياةُ مَعَ الذُّلِّ إِلاَّ الْمَوْتُ الَّذی  لا حَياةَ مَعَهُ»یعنی عزت کی راہ میں مرنا ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے ، اور ذلت کے ساتھ زندہ رہنا ایسی موت ہے کہ جس کے ساتھ کوئی زندگی نہیں ہے ۔

« موتٌ فی عزِّ خیرٌ من حیاةٍ فی ذلٍّ»[iii]یعنی عزت و آزادی کے ساتھ مرنا بہتر ہے، ذلت و پستی کے ساتھ زندگی کرنے سے ۔

«الموتُ اولی من رکوبِ العار»[iv]  یعنی ننگ و عار اور ذلت کو قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے.

«انّی لا اَری الموتَ الّا سعادةً و لا الحیاة مع الظالمین الّا برماً »[v] یعنی عزت کے ساتھ مرنا سعادت ہے اور ظالمین کی سائے میں ذلت کے ساتھ زندگی کرنا موت کے سوا کچھ نہیں ہے.

اس وجہ  سے  امام حسین ؑ نے  اپنے قیام کا باقاعدہ آغاز کیا  اور جدا مجد ، مادر گرامی ، بھائی  امام حسن علیہم السلام کے قبور سے ہمیشہ کے لئے خدا حافظی کیا اور ۲۸ رجب  سنہ ۶۰ کی رات مدینہ منورہ کو خیر باد کہا اور ۳ شعبان کو  وارد مکہ ہوئے ۔          امام حسین ؑ کا مکہ میں ۴۰ دن  مقیم رہنے کے بعد تازہ کوفیوں کا پہلا نامہ  ملا ہے ۔ یہی بات اس مسئلہ کی گواہی دے رہی ہے کہ حتی اگر کوفہ کے لوگ خطوط کے ذریعے دعوت نہ بھی دیتے  ، پھر بھی امام ؑ نے اپنے قیام کا آغاز کیا تھا ۔  ہاں اگر مدینہ  میں ملتےتو  کہہ سکتے تھے کہ شاید ایک وجہ بن سکتی تھی ۔ لیکن پھر بھی  یہ قابل قبول نہیں ہے؛  اس لئے کہ  امام حسین ؑ   دس سال تک معاویہ کے ہمعصر  تھے اس دوران  کوفے کے لوگ کیوں خاموش رہے اور اتنے خطوط لکھ کے دعوت کیوں نہیں دیا ؟ اس وقت ان  کا امام کون تھا ؟  معاویہ یا حسین ؑ ؟ ہاں تاریخ میں اتنا ضرور ملتا ہے کہ بہت کم لوگوں نے یہ خواہش ظاہر کی تھی مگر امام ؑ نے معاویہ کے مرنے تک  کچھ اسباب و عوامل کی وجہ سے خاموش رہنے کی تاکید کی ۔ 

 2۔ بیعت کا مطالبہ :

بعض لوگوں کا عقیدہ  یہ ہے  کہ امام حسین ؑ نے اس لئے قیام کیا کہ یزید نے بیعت پر مجبور کیا تھا  ؛ لہذا  امام  ؑ قیام کرنے پر مجبور ہوئے ، جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا ۔

یہاں پر بھی ایک سوال کرتے ہیں کہ اگر یزید ، امام حسین ؑ سے بیعت طلب نہیں کرتے تو کیا پھر بھی امام حسین ؑ ، یزید کی حکومت کے خلاف قیام کرتے یا نہیں ؟

یہی وہ اصلی سوال ہے جس کے جواب میں   امام حسین ؑ  کے خطبات  اور خصوصا ً    محمد بن حنفیہ کی وصیت میں موجود  وجوہات ، امام ؑ  کی  اس قیام پر دلالت کرتی  ہیں ۔ انہیں کے ذیل میں اس مقالہ کے  موضوع  کو مختصر بیان کرینگے  انشاء اللہ۔ 

اگر ظاہر کو دیکھا جائے تو  امام حسین ؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کے بعد مدینہ سے نکلے ہیں لیکن  درواقع  امام حسین ؑ  اپنے  غصب شدہ حق  (خلافت)کو  واپس اصلی جگہ  لانے کے لئے کہ جسے معاویہ کے ساتھ  صلح نامہ کے پہلے بند میں یہ  قید لگایا گیا تھا  کہ معاویہ کے مرنے کے بعد  اصل خلافت کا حقدار امام حسین ؑ ہونگے  نہ کوئی  اور ۔  مگر آج  دیکھا کہ یزید   آپ ؑ    کا حق غصب کررہا ہے تو  امامؑ  نے قیام کیا ہے ۔حتی معاویہ کے دور میں بھی جس وقت یزید کو اپنا ولی عہد بناکر بیعت لینے کی کوشش کررہا تھا ، خاموشی اختیار نہیں کی ہے  بلکہ معاویہ کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے؛ اس لئے کہ امام ؑ شروع ہی سے یزید کو خوب جانتے تھے ۔جیسا کہ ایک دن کسی جلسے میں آنحضرت ؑ نے معاویہ کے اس جواب میں جہاں یزید کی تعریف   اور بیعت لینے کی بات کررہا تھا ، کھڑے ہوگئے اور یزید کی پلیدی   و مفاسد کو گن لیا  اور یزید کے لئے بیعت لینے کا سخت احتجاج اور اعتراض کیا ۔

امام حسین ؑ   فرصت کے انتظار میں تھے ،جب ولید نے دربار  میں بلاکر یزید کا پیغام  سنایا   تو تاریخ کی یہ گھڑی اور لمحہ ، قیام کی علت  اور آنحضرت ؑ  کا بیعت سے انکار ، ہدف کو معیّن  اور تحریک کاآغاز  کو سمجھنے کے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ؛ کیونکہ امام  ؑ نے بعض ایسے موارد کو اپنے سرنامہ کلام  میں بیان کیا ہے کہ ہر ایک بیعت سے انکار  اور قیام کا ضروری  ہونے کے لئے کافی ہے ۔وہ موارد کہ جنہیں امام حسین ؑ  نے بیعت سے انکار اور مخالفت پر مصمم ہونے کے لئے مستند  اور دلیل کے طور پر قرار دیا ہے ، ان کے صحیح ہونے کا کسی کو شک و  تردید نہیں ہے  اور سب کا  اتفاق ہے  ، حتی ولید بن ابی سفیان ( یزید کے چچا زاد) نے بھی امام ؑ کے ان باتوں کے صحیح ہونے کا نہ صرف انکار نہیں کیا بلکہ امام ؑ کے اس منطق  اور استدلال  اور احتجاج کے مقابلے میں کوئی اعتراض اور اشکال نہیں کیا ۔

(( و مثلی لا یبایع مثلہ )) کی یہ عبارت  ، انکار اور مخالفت کے دلائل میں سے اس دلیل کا نتیجہ ہے جو اپنی بے نظیر صلاحیت ، ممتاز شخصیت  اور یزید کے ننگین جرائم کے اوپر دلالت کرتی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ جیسا  ان خصلتوں اور صفات کا مالک جو معاشرہ کے رہبری کا زیادہ حق رکھتا ہے  وہ  یزید جیسوں کی ان بد صفات اور بد خصلتوں والے کی بیعت نہیں کرسکتا ؛ کیونکہ مسلمانوں کی اصطلاح میں خلیفہ کی بیعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کی اطاعت کا تعہد کررہا ہے  جو اسلامی اقدار کے اعلی اہداف کے تحقق کا مرکز ، عزت کا سرچشمہ  ، مسلمانوں  اور کلمہ اسلام کے سربلندی کا منبع ، قرآن کا حامی اور محافظ ، امر بالمعروف  و نہی از منکر کرنے والا  و۔۔۔ یعنی پیغمبر  ﷺ کا جانشین کہاجاتا ہے بیعت کرنے کا حقیقی  اور صحیح معنی یہ بنتا ہے کہ خلیفہ کے دستور کی اطاعت کرنے کا اظہار  اور اس کے فرامین کو انجام دینے میں فداکاری کا نام ہے  جو آیہ(( اطیعوا اللہ  و اطیعوا الرسول  و اولی الامر منکم )) کے حکم  کے مطابق ہر مسلمان کے اوپر واجب ہے ۔

اس بناء پر یزید جیسے کی بیعت کرنا ( اگرچہ ظاہری ضرر  ونقصان کو دفع کرنے کی غرض سے ہی کیوں نہ ہو ) فسق  وفجور کا قانونی بننے ، منکرات اور گناہوں کا مرتکب ہونے ، حقوق کا پایمال ہونے ، ظالموں،  فاسقوں  اور فاجروں کی پشت پناہی کرنے کا مترادف تھا ۔ اور یہ بیعت گویا بے گناہ لوگوں کے قتل میں شریک ہونے  اور اسلام و مسلمین  کی عزت کو بے آبرو کرنے کا نام ہے جو کبھی بھی امام حسین ؑ  اس قسم کی ننگین بیعت سے اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرسکتا  تھا۔

آنحضرت ؑ نے ((و مثلی لا یبایع مثلہ )) کے اس جملے کو ایک بدیہی حکم  اور متفق علیہ بات کو  ذکر کیا ہے ؛ چونکہ کوئی بھی مسلمان اپنی وجدان سے یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ حسین ؑ جیسا یزید جیسے کی بیعت کرسکتا ہے ! آپؑ  نے دوسرے بہتر الفاظ میں یزید کی سرپرستی میں معاشرہ کے افسوسناک حالت  اور ساتھ ہی اپنی بیعت کے انکار کے حوالے سے اس طرح ارشاد فرماتے ہیں: (( انا للہ و انا الیہ راجعون  و علی الاسلام السلام  اذ قد بلیت الامۃ براع مثل یزید )) یعنی ہم سب خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف ہی سب کا بازگشت ہے ،  جب یزید جیسامسلمانوں کا حاکم بنےتو اے اسلام تمہارا خدا حافظ ( یعنی ہمیں یزیدی اسلام نہیں چاہیئے جیسے آج کے زمانے میں  امریکی اسلام )۔

پھر فرماتے ہیں : دعی کے بیٹے دعی نے مجھے دو راستوں میں سے یا ذلت ( بیعت) یا قتل کے اختیار پر چھوڑا ہے۔( اے یزید تو یاد رکھ ) ذلت کے تلے جانا ہم اہلبیت ؑسے بہت کوسوں دور کی بات ہے کیونکہ خدا ، پیامبر ﷺ اور مؤمنین اس ذلت کو قبول کرنے سے منع کررہے ہیں ، اس کے علاوہ دامن کوپاک و صاف رکھنے والی مائیں ، غیرت و شرافت سے بھرے فکر رکھنے والے باپ بھی جائز نہیں سمجھتے ہیں کہ پست و ذلیل لوگوں کی اطاعت اختیار کرکے اپنے کریم ہستیوں کی قتلگاہ پر مقدم کریں[vi] ۔      

پس جب مرحلہ یہاں تک  پہنچ گیاکہ یزید جیسوں نے  پیغمبر اسلام ﷺکے منصب پر قبضہ جمایا ہے اور اپنے آپ کو عالم اسلام  اور مسلمانوں کے دینی و سیاسی  رہبر  قرار دے رہا ہے  تو امام ؑ کے لئے یزید کے خلاف قیام کرکے اس کی حکومت کا غیر شرعی ہونے کا اعلان کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا ؛ اس لئے کہ لوگوں کی نظر میں اس کی بیعت کرنے سے بزرگ  صحابی اور تابعین   میں سے ہر ایک  کا  اس جیسے ناپاک ملعون کی حکومت کو قبول کرنے ، حقیقی خلافت کو باطل سمجھنے ، اسلامی رہبر  اور پیغمبر اسلام  ﷺ کے جانشینی کے تمام شرائط سے عدول کرنے  اور معاشرہ کو گمراہی کی طرف دھکیل دینے کے برابر تھا ۔

اس بناء پر امام حسین ؑ  کا قیام وجود میں آیا  اور آخری دم تک اپنے موقف پر  ڈٹے رہے حتی   عاشور کے دن جبکہ مصیبت کے پہاڑ آپ ؑ  پر  ٹوٹ رہے تھے ، پھر بھی اپنے موقف کودہراتے ہوئے اس طرح بیان فرماتے ہیں :نہیں  ایسا نہیں ہے ، خدا کی قسم ! نہ ذلیلوں کی طرح ذلت کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دوں گا اور نہ ہی غلاموں کی طرح جنگ کے میدان سے فرار کروں گا[vii] ۔

 پھر فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! لوگوں کے ناپاک عزائم کا ہاں میں جواب نہیں دوں گا یہاں تک کہ چہرے  کو خون سے رنگین  اور خضاب کی حالت میں  اپنے پروردگار سے جاملوں گا [viii]۔

اب امام ؑ کے وہ تمام گوہر بار بیانات اور ارشادات جو بیعت  طلبی سے لے کر عصر عاشورا تک ارشاد فرمایا ہے ، بہت ہی زیادہ ہیں ، ان پر علماء ، محققین و مصنفین  نے تفصیل سےکتابیں لکھی ہیں  اور تحقیقات انجام دی ہیں، سب کو یہاں تفصیل سے بیان  کرنے کی  گنجائش نہیں ہے ؛ اس لئے اپنے موضوع سے متعلق  چند فراز کو بہت ہی مختصر وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کرینگے ۔

3۔ محمد بن حنفیہ کی وصیت میں قیام امام حسین ؑ  کی وجوہات :

جب محمد بن حنفیہ کو پتہ چلا کہ بھائی  حسین ؑ عراق کی طرف جارہے ہیں تو امام ؑ سے اس کی وجہ دریافت کی ، جس کے جواب میں  امام ؑ نے اپنے قیام کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں  ، جس کو ذیل کے عناوین میں  اس طرح تقسیم کیا ہے :

الف ) : توحید ، نبوت، معاد، بہشت و جہنم (اصول دین ) پر ایمان ؛

ب) : امت مسلمہ کے امور کی اصلاح  ؛

ج ) : امر بالمعروف و نہی عن المنکر ؛

د ) : اپنے نانا ﷺ  اور بابا ؑ کی سیرت کو زندہ کرنا  ؛

ھ ): خلافت  اور حکومت  کےلائق صرف آل رسول ﷺ ہیں [ix]۔

الف ) اصول دین پر اعتقاد کی مختصر وضاحت:

امام حسین ؑ نے اس وصیت میں سب سے پہلے اصول دین پر اعتقاد و ایمان کی طرف اشارہ کیا ہے جو ہر مسلمان پر بھی واجب ہے ۔ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اگر  کوئی ان میں سے کسی ایک پر بھی اعتقاد نہ رکھےتو وہ کافر ہے ۔ امام حسین ؑ    گویا ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یزید جبکہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا خلیفہ قرار دے رہا ہے لیکن ان کی سیرت  اور گفتار ( خصوصا اشعار) کی طرف غور کیا جائے تو  اس کا  نہ خدا   ، نہ نبوت ، نہ معاد ، نہ بہشت  و جہنم (یعنی فروع دین تو کجا  اصول دین )   پر کوئی اعتقاد و ایمان نہیں رکھتا ہے۔ہم  اس بات کی ثبوت کے لئے یزید کے چند اشعار کی طرف اشارہ کرتے ہیں  کہ جنہیں

ابوالفرج ابن جوزی نے  اپنی کتاب بنام ( الرد علی المتعصب العنید المانع عن لعن یزید لعنہ اللہ) میں ان تمام اشعار کو ذکر کیا ہے ،اور کافر ہونے کا فتوا بھی دیا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر کتابوں میں بھی مرقوم ہیں ،  صرف اسی ایک ہی کتاب کے  چند منتخب    اشعار کےذکر پر اکتفاء کرتے ہیں ، جن کاترجمہ یہ ہے :

1۔ جو کچھ ہے صرف یہی دنیا ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور دنیا ( آخرت)نہیں ہے ۔ لہذا  اس دنیا کے نعمتوں کی لذتوں سے ہاتھ نہ اٹھائے !

2۔ اٹھو  اور پیالوں کو  لیئے ہوئے گانوں کو سنیں ۔ خالص شراب سے بھرپور استفادہ کرے  اور دین کے ان تمام خرافات کو چھوڑیئے !

3۔ گانے کی آواز نے مجھے اتنا لطف  اندوز اور بے خود کردیا ہے کہ جسے آذان کی آواز کے ساتھ نہیں بدل سکتا ہوں ۔  اور گانے بجانے والی بوڑھی عورتوں( اداکاروں ) کو بہشتی حوروں کے ساتھ  سودا نہیں کرسکتا !

جو کچھ پیغمبر اسلام ﷺنے انجام دیا ہے ، اگر ان کا بدلہ نہ لوں تو میں خندف سے نہیں ہوں [x] !

  ۔۔۔۔بنی ہاشم نے سلطنت اور بادشاہی کے ساتھ ایک کھیل کھیلا ہے وگرنہ ، نہ کوئی خبر آئی ہے اور نہ ہی کوئی وحی نازل ہوئی ہے[xi]

اب یہاں پر یزید کے متعلق  ان کافرانہ اشعار اور دیگر برے اعمال ( جیسے حسین ؑ  کو شہید کرنے ، خانہ کعبہ کا گھیراؤ ، پھتراؤ ، پھر آگ جلانے، حرہ کا واقعہ  و۔۔۔) کی وجہ سےمسلمانوں  کے درمیان اختلاف پایا  جاتا ہے  اور کلی طور پر دو گروہ میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔  ایک گروہ  کا عقیدہ ہے کہ وہ کافر  ہوگیا ہے اس لئےخلافت کا لائق نہیں  اور  لعنت  کا مستحق ہے[xii] ۔دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف لعنت کا مستحق ہے ۔ اسی بابت ہم بعد میں وضاحت کرینگے انشاء اللہ۔

 

 

ب) :امت مسلمہ کے امور کی اصلاح کی مختصر وضاحت :

امام حسینؑ نے  اس وصیت میں خدا کی توحید ، نبوت ، معاد ( اصول دین )  پر شہادت دینے کے بعد  چونکہ اپنے نانا ﷺکی امت کی بہت فکر تھی اس لئے سب سے پہلےاپنے قیام کی وجوہات میں سے ایک وجہ کوامت مسلمہ کے امور میں اصلاح کا  لفظ استعمال کیا ہے ۔ یہ لفظ  دو طرح سے مشتق ہو ا ہے ایک صلح  سے ، جس کا معنی بنتا ہے ،  دو آدمی کے درمیان صلح کرانا  ، یقینا امام ؑ  کا مراد یہ نہیں ہے بلکہ یہ صلاح سے مشتق ہے جس کا معنی ہے سزاوار  و لائق کام ۔ اس بناء پر مصلح آدمی  اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سزاوار اور لائق کام کو انجام دینے میں کوشش کرے ۔ یہ لفظ  یہاں پر فساد کے مقابلے میں ہے ۔ امام ؑ    یہ فرماکر ہمیں بتارہے ہیں کہ کہ امت مسلمہ کا معاشرہ فاسد ہوگیا ہے ، یعنی ایک ظالم حاکم اس معاشرے کے لوگوں پر مسلط ہوا ہے ، اپنی زور قدرت کے نشے میں خدا کے عہدکو توڑ رہا ہے ، خدا کی معصیت  اور اس کے رسول کی سنت کا مخالفت کررہا ہے  اور  بدعتیں دین میں وارد کررہاہے  اور لوگوں کو اہلبیت رسول ﷺ سے دور کیا جارہا ہے و۔۔۔! امامؑ ان جیسے بد صفات  وکردار ظالم و جابر حاکم کے روبرو ہوا تھا ۔ ایسی حالت میں اگر کوئی  سکوت اختیار کرےیا بیعت کرےتو خدا کو حق حاصل ہے کہ اس شخص  کا حشر بھی اسی ظالم کے ساتھ کردے ، جبکہ امام ؑ  کو اب سکوت کرنا یا بیعت کرنا محال تھا ۔ لہذا   امام ؑ یہ فرماکر ( خرجت لطب الاصلاح فی امۃ جدی) چاہ رہے تھے کہ اس کے مقابلے میں حدود الہی کا صحیح اجراء ہوجائے ،  سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہوجائے ، بیت المال  قانونی طور پر  مسلمانوں کے درمیان مساوی تقسیم ہوجائے  نہ اقرباء پروری  و۔۔۔ ہو  ۔ ان تمام مفاسد کے مصادیق یزید کی حکومت میں پائے جاتے تھے ۔ ان کے علاوہ بہت سے امور کے اصلاح کی ضرور ت تھی جن کو ہم دوسرے عناوین کے ذیل میں بیان کرینگے  ۔

ہاں امام ؑ نے یہ ادعا نہیں فرمایا : ( خرجت للاصلاح ) یعنی میں ان تمام مفاسد کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دوں گا بلکہ اصلاح کرنے کی نہایت کوشش کروں گا  ( خرجت لطلب الاصلاح)۔ اگر دوسرے لوگ بھی اس شرعی وظیفہ میں میرا ساتھ دے تو ان کی گردنوں سے ساقط ہوگی  اور ساتھ ہی مفاسد کی اصلاح میں مدد کار ثابت ہوگی   وگرنہ میں تنہا ہی عمل کر کے رہوں گا ۔

اگرچہ اس کام کی مدد کے لئے کوفیوں نے بہت سے خطوط میں وعدہ بھی  دیا مگر اپنے وعدے پر  پورا وفاء نہیں کیا ۔ کاش  اگر مدد کرتے تو بہت سارے مفاسد اسی وقت  ہی اصلاح ہوجاتے ! لیکن کیا ان کے عہد شکنی کے بعد  امام ؑ کا مقصدپورا نہیں ہوا ؟  کیوں نہیں  ، اس کے اثرات بہت جلد ہی دنیا میں پھیل گئے ، اس قلیل گروہ نے ایک ایسا تحوّل اور تغیّر  (انقلاب )ایجاد کیا  کہ سب سے پہلے بہت ہی کم عرصہ کے اندر بنی امیہ کی حکومت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا اور  چودہ سو سال کے اس مدت میں ہزاروں انقلابات کا وجود میں آنا   اسی قیام کربلا کانتیجہ ہے ۔

آج  بھی ان  تمام کوششوں کے باوجود  دوبارہ یزیدیوں یعنی مفاسدوں نے جنم لیا ہے  جن کی  حقیقی اصلاح کے لئے ہم  مصلح جہانی کے سخت انتظار میں  ہیں ، گرچہ وہ لوگ بعید سمجھ رہیں مگر ہم قریب سے قریب تر ۔ 

یہاں یہ بات بھی ضرور عرض کروں کہ امام حسین ؑ کے قیام کے وجوہات میں سے  خصوسا  اس وجہ ( امت مسلمہ کے امور کی اصلاح )   پر  دشمنوں نے شکوک و شبہات ایجاد کئے ہیں ، جن کو ہم نے الگ مقالہ کی شکل میں چند ایک کو جمع  آوری کرکے جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔

ج)  امر بالمعروف  و نہی عن المنکر کی مختصر وضاحت :

امام حسین ؑ نے اپنے قیام کی دوسری وجہ کو امر بالمعروف  و نہی عن المنکر کا عنوان قرار دیا ہے[xiii] ۔              یہاں  پر پہلے یہ  وضاحت کرنا ضروری ہے  کہ فقہ کے اندر اس عنوان کے لئے  کچھ شرائط  بیان کیا گیا ہے ۔ منجملہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مقابل  میں اثر کرنے کا احتمال ہو ۔ دوسرا  یہ کہ اس کی وجہ سے آمر  کے لئے کوئی ضرر  و نقصان نہ پہنچے  و۔۔۔  اگر ان عناصر میں سے کوئی ایک نہ ہو تو یہ واجب نہیں ہے ۔ لیکن امام حسین ؑ کے قیام میں خاص کر یہ مذکورہ دو عنصر ضرور پائے جاتے ہیں ( مقابل یزید و یزیدیوں میں اثر ہونے کا کوئی احتمال نہیں پایا جاتا ہے  اور دوسرا ضرر  اورنقصان بھی یعنی  طلب بیعت پر اس طرح ڈٹے تھے کہ یا بیعت یا قتل )۔

یہاں  پر یہ سوال  پیدا ہوتا ہے کہ کیا  امام حسین ؑ    کا امر بالمعروف  و نہی عن المنکر ،  اس مشہور فقہی عنوان سے الگ تھلگ  اور صرف آپ ؑ کے ساتھ مخصوص تھا ؟! اس  سوال کے جواب میں چند نظریہ پایا جاتا ہے ۔بعض کہتے ہیں کہ اس قسم کا امر بالمعروف  ، آنحضرت ؑ کے ساتھ مخصوص تھا ۔          اور بعض کہتے ہیں  کہ خداوند متعال نے بعض مخصوص احکام  کو ائمہ ؑ کے ساتھ مختص  اور معیّن   کیا تھا  جو دوسرے لوگوں کے لئے ان میں کوئی  ملاک نہیں پایا جاتا ہے  اور ان کی نسبت نمونہ عمل نہیں بن سکتے ہیں ۔

 کیا یہ جواب قانع کرنے والی  اور کافی ہے  کہ صرف ایک یا کسی خاص گروہ کے ساتھ  خاص ہو ؟ یا سب لوگوں کے لئے واجب ہے کہ ان جیسے حالات میں امام حسین ؑ یا دیگر ائمہ ؑ   کی طرح عمل کریں ؟۔

یہاں پر  مناسب  جواب اس طرح ہے کہ یہ حکم  عوام و خواص سب کے لئے ہے ، ہاں یہ ہمیں قبول ہے کہ ان احکامات  و دستورات کو اجراء کرنے والے بھی  ،  حافظ و نگہبان بھی  اور ان کے اوپر سب سے پہلے عمل کرنے والے بھی  یہیں حضرات معصومین ؑ ہیں ۔ لھذا   امام حسین ؑ کے زمانے میں اس امر پر عمل کرنا  اتنا  اہم ہوگیا تھا کہ حتی قتل کے مرحلے تک پہنچ کیوں نہیں جائے ، معاشرے سے  منکرات کا خاتمہ  اور معروف کو جایگزین کرنا ضروری ہوگیا تھا  ۔ اگر صرف امام حسین ؑ کے ساتھ مخصوص ہوتا تو پھر اہل حرم  اور دیگر اصحاب و انصار کو ساتھ لے کر کیوں گئے تھے ؟۔  

اب ہم یہاں پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ان چند مصادیق کا ذکر کرتے ہیں  جن کی امر و نہی کے لئے امام حسین ؑ  نےاپنے قیام کی وجوہات میں سے قرار دیا ہے ؛ چونکہ  بنی امیہ کی حکومت نے معروف کو منکر  اور منکر کو معروف بناکر پیش کیا تھا :

معروف کے چندمصادیق :

۱۔  قرآن  و سنت پیامبر ﷺکے مطابق عمل  ؛ ۲۔ عدالت   ؛ ۳ ۔امنیت  ؛ ۴ ۔ بیت المال کا مساوی تقسیم  ؛و۔۔۔

  منکر ات کے چندمصادیق :

 ۱۔ قرآن کی  مخالفت ؛ ۲۔سنت پیامبر ﷺ کی مخالفت ؛ ۳۔  فساد ؛ ۴، بدعتوں کا رواج ؛ ۵ ظلم و جور ؛ ۶ بے عدالتی ؛ ۷۔ نا امنیت ؛  و ۔۔۔

یہ وہ مصادیق ہیں جہاں  معروف پر عمل نہیں ہورہا تھابلکہ منکرات  پر عمل کررہے تھے ۔ جیسا کہ خود امام ؑ نے بیضہ کے مقام پر حر بن ریاحی کے لشکر سے مخاطب ہوکراس وجہ کو صراحت کے ساتھ اس طرح بیان فرماتےہیں:ہاں اے لوگو ! پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا ہے : جو بھی شخص کسی ایسے ظالم حکمران کو دیکھے جو خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے رہا ہے ، عہد خدا کو توڑ رہا ہو (قرآن کی مخالفت) ، سنت پیامبر ﷺ کی مخالفت کررہا ہو ، اور بندگان خدا کے درمیان گناہ اور تجاوز سے کام لیتا ہو ، ایسی حالت میں اگر اس کےمقابلے میں اپنے عمل اور گفتار کے ذریعے مخالفت نہ کرے تو خدا کو حق حاصل ہے کہ اس شخص کو بھی اسی ظالم کے ساتھ جہنم میں ڈال دے [xiv]۔       

یہاں پر ضمنی  ایک سوال کا جواب بھی ذکر  کرتا ہوں ، کیا یہ منکرات  اور فسادات ،یزید کا خلافت پر آنے کے  فوراً بعد وجود میں آئے تھے یا اس کا ریشہ معاویہ سے جاملتا ہے !؟  تو اس کا جواب واضح ہے۔ یقینا ان تمام  کی شجرہ خبیثہ کا بیج  معاویہ کی  بیس سالہ حکومت کے دوران بویا گیا، جڑیں مضبوط  ہوگئی تھی  اور یزید کا حاکم بننے تک اس جیسا تناور  اور جوان ہوگیا تھا؛ وگرنہ   یزید کے لئے  اتنی   جلدی جرأت  کہاں سے پیدا ہوگئی  کہ امام حسین ؑ سے بیعت طلب کرے یا قتل کرنے   کی دھمکی دے  اور آپ ؑ   کو  شہید  کرکے اہلبیت رسول ﷺ کو قیدی بنانے کی جسارت کرے، خانہ کعبہ کو آگ لگائے ،  مکہ و مدینہ  پر حملہ کا  دستور دیکرتین دن تک اپنے سپاہیوں کو جان و مال ، ناموس حلال قرار دے !(حرہ کامشہور واقعہ)۔

     بالا مذکورہ باتوں کو سمجھنے کے لئے  اس مقام پر نہایت ضروری ہےکہ معاویہ کے  مشہور چند نمونہ  کارناموں کابھی  ذکرکیا جائے جو مندرجہ ذیل ہیں :         1۔ امام علی اور امام حسن علیہما السلامکے خلافت  کا غاصب؛  2۔ امام علی اور امام حسن علیہما السلام پرخروج  ؛ 3۔منبروں سے امام علی ؑ پر سب ّ و لعن  ؛ 4۔   سنت رسول ﷺ کو پایمال کرنے  کی ناکام  کوششیں  ؛ 5۔ اہلبیت  ؑ کے فضائل کے مقابلے میں جعلی روایات ؛6۔ اصحاب رسول اللہ ﷺ کا  قاتل  ؛ 7۔ شیعوں  کا ظالم ؛ 8۔شرابی ؛ 9۔امام حسن ؑ  کو بیوی کے ذریعے زہر دے کر  قتل کا سبب؛ 10۔عہد شکن ؛ 11۔یزید کو خلیفہ بناکر قتل حسین ؑ میں شریک[xv] و۔۔۔

 

د ) : اپنے نانا ﷺ اور بابا ؑ  کی سیرت کو زندہ کرنے کا مختصر وضاحت :

امام حسین ؑ اپنے اس قیام کے ذریعے یہ اعلان فرمارہے ہیں کہ میرے نانا ﷺ اور بابا علی مرتضی ؑ کی سیرت اب یزید کے ہاتھوں مکمل نابود ہونے والی ہے ؛ اس لئے کہ اس سے پہلے والوں نے دہانے  پہ پہنچادیا تھا ۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ رسولخدا ﷺ کے ان تمام اذیتوں[xvi]، تکالیف اور موانع کے باوجود   جس اسلام کو پہنچایا   ہے ؛  اسی کو آگے بڑھانے کے لئے  امام علی ؑ نے وہ کونسے مصائب ہیں  جنہیں برداشت نہ کیا ہو ،  کیا اسی راستے میں ولایت پر سب سے پہلے  قربان ہونے والی  حضرت فاطمہ زہراء نہیں ہیں ؟ کیا آپ ﷺ کا لخت جگر، نواسہ  امام حسن ؑ نہیں ہیں ؟ اب اسی راہ  پرچلنے کے لئے امام حسین ؑ  نکلے ہیں   تاکہ اسلام حقیقی کا تعارف کرائے اور یزید کے چنگال سے نجات دے ۔

ھ ): خلافت  اور حکومت  کےلائق صرف آل رسول ﷺ ہونے کی مختصر وضاحت :

امام حسین ؑ نے اپنے بھائی کی اس وصیت میں  اور  دیگرمختلف مقامات پر خلافت اور امامت کو صرف اہلبیت ؑ   کا حق سمجھتے ہیں  و بس ۔  اس لئے ہم یہاں پر   پہلے خلافت و امامت  کی  تعریف کو ، امام ؑ  کی زبان مبارک سے بیان کرتے ہیں  کہ کس قسم کے شخص کو خلیفہ یا امام کہا جاتا ہے :

امام  یا خلیفہ کی تعریف : 

 « فَلَعَمْری مَا الاِْمامُ إِلاَّ الْعامِلُ بِالْكِتابِ والاْخِذُ بِالْقِسْطِ وَ الدّائِنُ بِالْحَقِّ وَ الْحابِسُ نَفْسَهُ عَلی ذاتِ اللّهِ»یعنی میری جان کی قسم !امام اور خلیفہ وہ ہے جو قرآن کے مطابق عمل کرے اور عدالت قائم کرے اور حق کا تابع ہو اور خدا کی رضا کے لئے اپنے آپ کو  وقف کرے ۔

حکومت کا مستحق صرف اہلبیت ؑ:

پھر امامؑ اس امامت کو صرف اہلبیتؑ کا حق سمجھتا ہے کہ جسے دوسروں نے کبھی ظلم و جور کا سہارا لے کر تو کبھی مکر و حیلہ وغیرہ کے ذریعے نا حق غصب کیا ہے ،فرماتے ہیں :«أَيـُّهَا النّاسُ فَإِنَّكُمْ إِنْ تَتَّقُوا اللّهَ وَ تَعْرِفُوا الْحَقَّ لاَِهْلِهِ يَكُنْ أَرْضی  لِلّهِ وَ نَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ مُحَمَّدﷺ أَوْلی  بِوِلايَةِ هذَا الاَْمرِ مِنْ هؤُلاءِ المُدَّعينَ ما لَيْسَ لَهُمْ وَ السّائِرينَ بِالْجَوْرِ وَ العُدْوانِ» یعنی اے لوگو ! خدا سے ڈرو اور حق کو اپنے اہل کے لئے پہچانو ، تاکہ اس کام  سے خداخوشنود ہوگا  اور ہم اہلبیت پیامبر ﷺ ، حکومت اور رہبری کے لئے دوسروں سے جو ادعا کرنے والے نالائق اور ظالم و جابر حاکموں سے ، زیادہ حقدار ہیں ۔   

ایک اور جگہ فرماتے ہیں :«إِنّا أَحَقُّ بِذلِكَ الْحَقِّ المُسْتَحَقِّ عَلَيْنا مِمَّنْ تَوَلاّهُ »یعنی ہم اہلبیت ہی اس حکومت اور رہبری کے لئے دوسروں کی نسبت کہ جنہوں نے اس کو نا حق تصرف کیا ہے، زیادہ حقدار ہیں ۔

یہاں  پر اس موضوع  کو ثابت کرنے کے لئے ہمارے پاس بہت سے نقلی اور عقلی دلائل موجود ہیں کہ جسے الگ بحث کی ضرورت ہے ، لہذا اختصار کی خاطر انہیں بیان کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں ۔ 

نتیجہ :

جب معاویہ مرگیا  اور جونہی یزید  خلیفہ بن کے برسر اقتدا ر آئے ، سب سے پہلی غلطی یہ کیا کہ مدینہ کے حاکم کو  شدید  اور دھمکی آمیز الفاظ میں  خط لکھا کہ حسین سے یا بیعت لے یا قتل کرے ! جب یہ خبر مدینہ پہنچی کہ یزید یا بیعت طلب کررہے ہیں  یا قتل کی دھمکی دے رہیں! تو کیا ایسی صورت میں جبکہ  معاویہ کے ساتھ صلح نامہ کے پہلے بند کے مطابق اس کے مرنے کے بعد  ظاہری خلافت کا اصلی حقدار امام حسین ؑ تھے ، اپنے حق کے غصب کرنے  پر، یا اس کے قتل کی  دھمکی سے ڈر کر خاموش رہے یا ذلت کی زندگی کے لئے بیعت  اختیار کرے ! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا تھا کہ حسین ؑ جیسے یزید جیسوں کی بیعت کرے  یا  اس کی دھمکی سے ڈر جائیں ! اب امام حسین ؑ کو موقع ملا ؛ اس لئے  قیام کی خاطر نکلے تاکہ ایک طرف اپنے غصب شدہ حق کو واپس لاسکے  اور دوسری طرف صرف یزید ہی نہیں بلکہ بنی امیہ کی بنیاد  کو جڑسے ہی اکھاڑ پھینکے  اور ایسا کرکے دکھایا  ، یعنی بہت ہی کم مدت کے اندر امام حسین ؑ کا مقصد پورا ہوا  اور بنی امیہ کی حکومت ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی ۔

 

 



[i]۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال لاہوری

[ii]۔ اس مقام پر متعصب  دشمن حضرات کہتے ہیں کہ  یزید نے قتل حسین ؑ        کا دستور نہیں دیا ہے ! لیکن خود اہلسنت  کے ہی علماء نے اپنے کتابوں میں ذکر کیا ہے   بلکہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے  کہ یزید  ہی  امام حسین ؑ  کا قاتل ہے  نہ کوئی اور ۔

[iii]۔ نفس المهموم،ص562 ؛ بحار الانوار ج 44 ص 192

[iv]۔ نفس المهموم،ص 562 ؛ مثیر الاحزان ص 85

[v]۔ لهوف ص 138 ؛ مثیر الاحزان ص 44

[vi]۔ «أَلا إِنَّ الدَّعِی  بْنَ الدَّعِی  قَدْ رَكَزَ بَيْنَ اثْنَتَيْنِ بَيْنَ السِّلَّةِ وَ الذِّلَّةِ وَ هَيْهاتَ مِنَّا الذِّلَّةُ يَأْبَی  اللّهُ لَنا ذلِكَ وَ رَسُولُهُ وَ الْمُؤمِنُونَ وَ حُجُورٌ طابَتْ وَ طَهُرَتْ وَ أُنـُوفٌ حَمِيَّةٌ وَ نُفُوسٌ آبِيَـةٌ مِنْ أَنْ نُؤْثِرَ طاعَةَ اللِّئامِ عَلی  مَصارِعِ الْكِرام »

[vii]۔ «لا وَاللّهِ لاأَعْطيهِمْ بِيَدی إِعْطاءَالذَّليلِ وَ لا أَفِرُّ مِنْهُمْ فِرارَ الْعَبيدِ »

[viii]۔ (( اما والله لا اجیبهم الی شئی مما یریدون حتی القی الله و انا مخضب بدمی))

[ix]۔ بسم اللّه الرحمن الرحيم ـ هذا ما اوصى به الحسين بن علي بن ابي طالب الى اخيه محمد المعروف بـابن الحنفية ان الحسين يشهد ان لا اله الا اللّه وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله , جاء بـالـحـق من عند الحق , وان الجنة والنار حق , وان الساعة آتية لا ريب فيها, وان اللّه يبعث من فى القبور, واني لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما, وانما خرجت لطلب الاصلاح في امة جدي (ص ), اريد ان آمر بالمعروف وانهى عن المنكر, واسير بسيرة جدي وابي علي بن ابي طالب فـمـن قبلني بقبول الحق فاللّه اولى بالحق ومن رد علي هذا اصبر حتى يقضي اللّه بيني وبين القوم بالحق وهو خير الحاكمين , وهذه وصيتى يا اخي اليك وما توفيقي الا باللّه عليه توكلت واليه انيب .ثـم طـوى الـحـسـين الكتاب , وختمه بخاتمه , ودفعه الى اخيه محمد, ثم ودعه وخرج في جوف الليل    ـتـوح ابن اعثم کوفی ، 5 / 34, ومقتل الخوارزمي 1 / 188)۔

 

[x]۔ جواهر المطالب فى مناقب الامام على(علیه السلام)، ج 2، ص301 ; لواعج الاشجان، ص218 ; معالم المدرستین، ص155 ; وفیات الائمه (من علماء البحرین والقطیف)، ص455 ; شبهاى پیشاور، ص260

[xi] ۔ اللهوف ص : 181، حیاه الحسین جلد3، صفحه 377 ـ سیره ابن هشام جلد 3، صفحه 143 تاریخ طبری جلد 7، صفحه 383، بحار الأنوار، جلد 45، صفحه 132.

[xii]۔ بہت سے علماء منجملہ ابولفرج ابن جوزی نے  اس موضوع پر مستقل کتاب بنام ( الرد علی المتعصب العنید المانع عن لعن یزید لعنہ اللہ) لکھی ہے ؛ سیوطی نے بھی صراحت کے ساتھ کہا ہے :  ( ۔۔۔ ھذا  کفّر صریح ) یعنی یہ واضح کفر ہے  (آلوسی ، تفسیر روح المعانی  ج۲۶ ، ص ۷۳ میں آیہ  : فھل عسیتم ان تولیتم کے ذیل میں ) ؛ جاحظ نے بھی اپنے رسالے میں کہا ہے : ۔۔۔ یعنی ان تمام کاموں کی وجہ سے یزید فاسق بن گیا ہے ، اس لئے لکھتا ہے : (فالفاسق ملعون  ومن نہی عن شتم الملعون  فملعون )یعنی پس فاسق ملعون ہے اور جو شخص اس ملعون کو گالی دینے سے روکے ، وہ خود  بھی ملعون ہے  ( رسالہ جاحظ ، ص ۲۹۸ ،  الرسالۃ الحادیۃ عشرۃ فی بنی امیۃ )؛ اسی طرح تفتازانی نے بھی کفر  کا فتوا  دیا ہے اور اس پر لعنت کو جائز قرار دیاہے ( دیکھئے :  شرح العقائد النسفیہ  ، ص ۱۸۱ ، سال 1313) ؛ و۔۔۔

[xiii]۔ بلاغت الحسین ، ص ۶۴ ، حیات الحسین ، ج۲ ، ص ۲۶۴

[xiv]۔ «أَيُّهَا النّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللّهِ(صلی  الله عليه وآله وسلم) قالَ: مَنْ رَای  سُلْطانًا جائِرًا مُسْتَحِلاًّ لِحُرَمِ اللّهِ ناكِثًا لِعَهْدِاللهِ مُخالِفًا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللّهِ يَعْمَلُ فی  عِبادِ اللّهِ بِالاِْثْمِ وَ الْعُدْوانِ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيْهِ بِفِعْل وَ لا قَوْل كانَ حَقًّا عَلَی  اللّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مُدْخَلَهُ»(وقعة الطف لابي مخنف، تحقيق الشيخ محمدهادي اليوسفي الغروي، ص 17، مؤسسه النشر الاسلامي، 1367)

[xv]۔ امام علی کا بلا فاصلہ خلیفہ ہونے کی نقلی دلائل بہت زیادہ ہیں ؛ انہیں قبول نہیں کرنے کی صورت میں عمومی بیعت کے ذریعے جسے تمہارا ہی ایجاد کردہ اصطلاح کے مطابق بھی مسلمانوں کا چوتھا مسلّم خیلیفہ ہے؛ جس کی معاویہ نے پہلے تو بیعت سے انکار کیا اور پھر اپنے زمانے کے خلیفہ اور امام پر جنگ صفین کی شکل میں خروج کیا اورہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا سبب بنا ہے۔ دوسری طرف معاویہ کا خلیفہ ہونے کے لئے نہ کوئی نقلی دلیل ہے اور نہ ہی عمومی بیعت بلکہ جنگ صفین اور حکمین میں عمروبن عاص کا حیلہ و فریب سے جیتنے والا خلیفہ ہے! اس بناء پر تم نہ ہی نقلی دلائل کو مانتے ہو اور نہ ہی عمومی مسلمانوں کے بیعت کا قائل ہو! لہذا امام علی کے خلافت کا غاصب بھی ہے اورآپ پر خروج کا بھی صدق آتا ہے؛ اسی طرح نہ صرف امام علی بلکہ امام حسن کے ساتھ بھی یہی صورتحال ہوا ہے! بقیہ موارد کی وضاحت کے نمونے فریقین کی کتابوں میں بھرے ہیں ، اطالہ کلام کی وجہ سے صرف نظر کرتے ہیں ۔

[xvi]۔ رسول اکرم ﷺ نے دین اسلام کو پہنچانے میں جو اذیتیں اور تکالیف برداشت کی ہیں ،ان کے بارے خود آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں : اوذیت ما اوذی النبی ) یعنی جو اذیتیں میں نے برداشت کی ہیں اتنا کسی اور نبی نے نہیں کیا ہے۔