Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

تحریر :محمد اعجاز نگری

  تمہید:

امام حسینؑ نے مدینہ چھوڑنے سے پہلے فرمایا:میں خود خواہی ،سر کشی ،ہوسرانی ،فساد اور ستمگری کے لئے نہیں بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے مدینہ سے نکل رہا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے نانا رسول خدا ﷺ اور بابا علیؑ بن ابیطالبؑ کی سیرت کے مطابق  عمل کروں۔۔۔۔

 امام ؑ کے اس فرمان سے ہمیں چار اہم ہدف ملتے ہیں:1۔ امت کے امو ر کی اصلاح    2۔ نیکی کی ہدایت         3۔ برائی سے روکنا   ۴۔حضور اکرم ﷺ اور امام علی ؑ کی سیرت پر چلنا اور آپ حضرات علیہما السلام کی سیرت کو زندہ رکھنا ۔

 

 مندرجہ بالا اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے امام ؑ ، 28 رجب المرجب سنہ 60 ہجری قمری اتوار کی رات(شب اتوار) مدینہ سے نکل گئے اور 3شعبان المعظم سنہ60 ہجری قمری جمعہ کی رات(شب جمعہ)(4یا5دن بعد)مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور 8 ذیحجہ سنہ60 ہجری قمری تک یعنی (شعبان، رمضان، شوال، ذیقعدہ اور  ذیحجہ کے  آٹھویں دن تک) چار مہینے پانچ دن مکہ مکرمہ میں مقیم ہوئے اور اس دن حج  کے اعمال شروع ہونے سے پہلے ہی امام ؑ نے کوفہ کا رخ کیا اور 2 محرم الحرام کو سرزمین کربلا پہنچ گئے ۔ یہاں پر کچھ سوال ذہن میں آتے ہیں کہ جب امام ؑ نے چار اہم اہداف مد نظر رکھے تھے تو مدینۃ الرسولﷺ میں ہی ان چار اہداف پر کام  کیوں نہیں کیا؟ کس چیز نے امام عالی مقام ؑ کو مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا؟ امامؑ نے مدینہ سے مکہ مکرمہ کا رخ کیوں کیا؟اور جب چار مہینے تک مکہ میں رہے تھے تو ہمیشہ کے لئے حرم امن میں کیوں نہیں رہے؟یا اگر امامؑ کو مکہ مکرمہ چھوڑنا ہی تھا تو یمن کیوں نہیں گئے؟چونکہ وہاں پر آپؑ کے شیعہ اور محبین اہل بیت ؑ موجود تھے ۔ امام ؑ نے قیام کے لئے کوفہ کو کیوں انتخاب کیا؟جبکہ امام ؑ کو علم تھا کہ کوفیوں نےماضی میں  آپؑ کے بابا امیرالمومنین علیؑ بن ابیطالبؑ اور بھائی حسن مجتبیٰ  ؑ کے ساتھ صحیح سلوک نہیں کیا تھا ۔یہ سارے سوالات آپ کے ذہن میں آچکے ہیں اور ہر ایک کا مناسب جواب بھی ہے لیکن ہم آخری سوال اور اس کے جواب پر نظر ڈالیں گے کہ کیوں امام ؑ نے قیام کے لئے کوفہ کا انتخاب کیا؟

  طول تاریخ میں یہ سوال شیعہ ، سنی ،مستشرق محققین اور تاریخ دانوں سے کیا گیا ہے ،ہر کسی نے اپنی علمی بساط کے مطابق جواب بھی دیا ہے لیکن کچھ امور ایسے ہیں جو اس سوال کی اہمیت کو دوگنا کر دیتے ہیں جیسے: امام ؑ اپنی اس تحریک اور قیام میں بظاہر شکست سے دوچار ہوگئے چونکہ کربلا میں امام ؑ کے اصحاب ، سپاہی ، اولاد اور آپ ؑخود شہید ہوگئے ۔مخدرات عصمت و طہارت ؑ  اسیر ہو گئیں ۔ یہ شکست کو فہ کو قیام کے لئے اختیار کرنے کی وجہ سے ہوگئی یا اس وقت کی بڑی شخصیات : جیسے عبداللہ بن جعفر


[1] (حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا شوہر) عبداللہ بن عباس[2]، عبداللہ بن مطیع[3] ، مسور بن مخرمہ[4] اور محمد حنفیہ[5] امام عالی مقام ؑ کو سرزمین عراق جانے سے منع کرتے تھے یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے کوفیوں کا پہلے سے دھوکہ باز ہونا اور امام علیؑ اور امام حسن ؑ کو اکیلے چھوڑنے کی یاد دہانی بھی کی تھی۔

 

اس کے با وجود  امام ؑ اپنے پختہ ارادے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کوفہ روانہ ہوگئے جس کو ابن خلدون جیسے بعض مورخین نے امام ؑ کی طرف ایک سیاسی غلطی کی نسبت دی [6](نعوذ باللہ)۔

 

  لیکن شیعہ بزرگان نے اپنے نظریاتی  مبانی (جیسے امام کا علم غیب رکھنا ، امام ؑ کا خطا سے معصوم ہونا و غیرہ) کو مد نظر رکھتے ہوئے امام ؑ کی کوفہ روانگی کا تجزیہ و تحلیل کیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف نظریات سامنے آگئے ہیں جن کا نچوڑ دو نظریوں میں ہوتا ہے۔

 

پہلا نظریہ: شہادت

 

  اس نظریہ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ہمارے امامؑ جب منصب امامت پر فائزہوتے ہیں تو ان کو ایک صحیفہ مل جاتا ہے جس میں ان کی شہادت تک کی ذمہ داریاں مکتوب ہوتی ہیں اوروہ  اس کے مطابق عمل کرتے ہیں[7]۔ چنانچہ امام حسین ؑ نےجب اپنا صحیفہ کھولاتو اس میں لکھا ہوا تھا ((قاتل فاقتل و تقتل واخرج باقوام للشہادۃ لا شہادۃ لھم الا معک))[8]۔ترجمہ:(( جنگ کرو قتل کرو  اور (جان لو کہ)قتل ہوجاؤگے اور کچھ ایسےگروہ کے ساتھ شہادت کے لئے نکلنا کہ آپ کے علاوہ ان کو شہادت نصیب نہیں ہوگی))۔ اس بناء پر مشیت الہی شروع ہی سے امام حسین ؑ کی شہادت پر تھی اس لئے امام حسینؑ کے لئے کوفہ کی طرف روانہ ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔چنانچہ عراق کی طرف روانہ ہوتے وقت  عالم خواب میں پیغمبر اسلام ﷺ نے یہ پیغام امام ؑ کو دیا تھا اس لئے جب محمد حنفیہ نے امام حسین ؑ سے عراق کی طرف جانے کی وجہ پوچھی تو آپ ؑ نے فرمایا: خواب میں رسول خدا ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا: (( یا حسین اخرج فان اللہ قد شاء ان یراک قتیلا))[9]۔ ترجمہ:((اے حسین  ؑ تم قیام کرو بیشک اللہ کی مشیت اس میں ہے کہ تم کو شہید پائے))۔

 

  اس نظریے کے مطابق، امام ؑ کا عراق کی طرف روانہ ہونا ، محض منصب شہادت پر فائز ہونے کے لئے تھا جس سے خود امام ؑ بھی بخوبی آگاہ تھے ، کوفیوں کے دھوکے ، آپ کو آخر میں اکیلا چھوڑنا ، آپ پر ظلم کرنا اور شہید کرنا سب کو جانتے تھے چونکہ آپ کو شہید ہونا ہی تھا اس لئے مقتل کی طرف خود ہی چلے گئے ۔ لیکن اس طرح کی شہادت کا ہدف اور مقصد کیا تھا ؟ بعض لوگ کہتے ہیں ، یہ شہادت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی راہ میں ہوگئی  اور خون کے ذریعے سے اسلام کی درخت کو آبیاری ہوگئی اور یہ خون اسلام کی پائداری اور یزید  و بنی امیہ کی رسوائی کا سبب بنا ۔

 

بعض لوگ جو بے شعور معاشرے سے تعلق رکھتے ہوئے جذبات سے کام لیتے ہیں وہ کسی دلیل اور استدلال کو پیش کئے بغیر ، امام حسین ؑ کی شہادت کو ، امامؑ کے پیروکاروں کے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہیں ۔ جیسا کہ مسیحی لوگ حضرت عیسی ؑ کے بارے  میں ایسا  نظریہ رکھتے ہیں [10] اور کہتے ہیں حضرت عیسیؑ قتل ہوگئے ہیں تاکہ مسیحیوں کے گناہوں کا کفارہ ادا ہو ۔ جو بالکل غلط ہے نہ عقل و منطق اس بات کو مانتی ہے اور نہ کوئی محکم دلیل بلکہ ایسے افکار ہمارے اماموںؑ کی شخصیت کو مجروح کرتے ہیں ۔ بے شک ہمارے  امامؑ شفاعت کریں گے لیکن اس کا مطلب  ہرگز یہ نہیں کہ وہ شہید کئے جائیں تاکہ لوگوں کی گناہیں معاف ہوجائیں ۔ کیا اللہ تعالی نے ان ہستیوں کو اس لئے خلق کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو گناہکاروں اور اللہ کے نافرمان بندوں پر قربان کردیں ؟ !!!

 

شہادت کی نظریے پر اشکال :

 

 سندکے اشکال سےقطع نظر اس نظریے پر کچھ اعتراضات ہوئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

 

1۔ اگر اللہ تعالیٰ اور رسول خداﷺ کی جانب سے امام حسین ؑ کو راہ شہادت اور کوفہ کو اختیار کرنے میں خصوصی طور پر کوئی حکم ملا ہو تو آنحضرت ؑ اور دوسرے اماموںؑ کی سیرت دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ عمل نہیں بن سکتی ۔ جبکہ آپ حضرات ؑ  کا نمونہ عمل ہونا اور ہر دور میں شیعوں کا ان کے نقش قدم پر چلنا ، شیعوں کے نزدیک مسلّم اصول میں سے شمار ہوتا ہے ۔ یعنی اگر معصوم ؑ اس حکم پر عمل کرنے پر مجبور ہوتو ایک مجبور شخص ، دوسروں کے لئے نمونہ عمل کیسے بن سکتا ہے ۔

 

۲۔ یہ نظریہ امام حسین ؑ کے کلام کےخلاف ہے کیونکہ امام ؑ نے فرمایا : (( لکم فیّ اسوۃ ))[11] (( میں آپ لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہوں )) ۔ اگر امام ؑ خود مختار نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو نمونہ عمل کیسے کہہ سکتے ہیں؟

 

۳۔ اگرچہ  گذشتہ انبیاء ؑ ، نبی اکرم ﷺ ، امام علی ؑ اور امام حسن ؑ نے امام حسین ؑ کے بارے خبر دی ہے اور خود امام ؑ بھی اپنی شہادت کے بارے میں علم رکھتے تھے لیکن کسی بھی کلام سے یہ استفادہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ امام ؑ کے قیام کا مقصد اور ہدف شہادت ہے بلکہ امام ؑ کا ہدف اور مقصد جیسا کہ خود امام ؑ نے فرمایا : (( ۔۔۔ و انما خرجت لطلب الاصلا ح فی امۃ جدی ، ارید ان آمر بالمعروف و انہی عن المنکر  و اسیر بسیرۃ جدی و ابی  علیؑ بن ابیطالب ؑ ))[12] ، خروج کا مقصد امت جد میں اصلاح ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور سیرت نبویﷺ اور علویؑ پر عمل پیرا ہونا ہے ۔ جبکہ امام ؑ کے اس کلام میں شہادت کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا ہے البتہ یہ کہہ سکتے ہیں  کہ اگرچہ مذکورہ اہداف کو حاصل کرنے میں شہادت نصیب ہی کیوں نہ ہو چونکہ  شہادت ایک عظیم مقام ہے جس پر ہر انسان فخر کرتا ہے اگر یہ عظیم مقام امام حسین ؑ جیسے عظیم انسان کو نصیب ہوجائے تو ہدف تک پہنچنے میں اور بھی مدد مل سکتی ہے ۔

 

یہاں پر ایک اہم نکتے کی طرف توجہ کرنا نہایت ضروری ہے وہ یہ کہ نظریہ شہادت پر اشکال کرنے والوں نے امام ؑ کا کوفہ کا رخ کرنے کو ایک خصوصی حکم کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے امام ؑ سے فرمایا کہ اللہ کی مشیت اس میں ہے کہ آپ کو شہید پائے یا امام ؑ کے اس صحیفے میں یہ پانا کہ تم جنگ کرو ، قتل کرو اور جان لو کہ قتل ہوجاؤگے اور شہادت کے منصب پر فائز ہونے کے لئے کچھ گروہوں کے ساتھ نکل جانا ورنہ آپ کے بغیر ان لوگوں کو شہادت نصیب نہیں ہوگی ۔

 

ان فرامین کو مد نظر رکھتے ہوئے اشکال کرنے والو ں نے امام ؑ کو ایک مجبور انسان کے طور پر پیش کیا  جبکہ ان فرامین سے علم الہی اور علم امام ؑ کا تصور کرسکتے ہیں یعنی مشیت الہی سے مراد علم الہی ہو یعنی یہ حسین ؑ علم رکھتا ہے کہ اپنے مقصد کو حاصل کرتے کرتے شہید ہوجائیں گے  اور اللہ بھی یہ چاہتا ہے کہ حسین ؑ جیسا عظیم انسان شہادت جیسی عظیم منزلت پر فائز ہوجائے تو اس میں کیا قباحت ہے کہ امام عالی مقام ؑ اپنے اختیار اور ارادے سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ، اصلاح امت جدﷺ ، سیرت نبویﷺ اور علوی ؑ پر عمل پیرا ہونے کو اپنا ئے اور اسی راستے میں شہید بھی ہو جائے۔

 

 جہاں تک صحیفہ کا پیغام ہے جنگ کرو قتل کرو، جان لو کہ قتل ہو جاؤگے۔۔۔اس میں بھی امام ؑ کو اس حکم پر عمل کرنے پر مجبور تصور نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ امام ؑ نے اپنا ہدف (مندرجہ بالا موارد) معین کیا ہے اور صحیفہ میں یہ ملتا ہے کہ ہدف تک پہنچنے کے لئے جنگ بھی کرنی ہوگی، قتل بھی کرنا ہو گا ، خود بھی قتل ہو جاؤگے۔۔۔اگر یہ سب کردوگے تو مقصد میں کامیاب ہو جاؤگے اب امام ؑ کو یہ اختیار ہے کہ یا اپنے اہداف سے دستبردار ہو جائیں تو اس میں کوئی جنگ اور قتل کی ضرورت ہی نہیں بلکہ امام ؑ کو امن ہی امن ہونا تھا لیکن شریعت محمدیﷺ کی کوئی بات ہرگز نہ تھی یا یہ کہ شریعت کو زندہ رکھ کے اپنے اہداف تک پہنچنا تھا پھر جنگ و قتال  اور شہادت ضرور تھی تو امام ؑ نے دوسرا راستہ (دین کو بچاتے ہوئےشہادت) اختیار کی۔ چونکہ امام ؑ کا ہدف شریعت محمدیﷺ کا تحفظ بہت بلند تھا اور اس ہدف تک شہادت ہی کے ذریعہ پہنچ سکتے تھے اس لئے امام ؑ کو کوفہ اور کربلا کے حوادث کے بارے علم رکھتے ہوئے کوفہ کی طرف سفر کا آغاز کرنا پڑا جس سے امامؑ کی شجاعت ، عظمت ، استقامت ، ہمت و غیرہ کو اعلیٰ پیمانے میں دیکھ سکتے ہیں۔

 

 دوسرا نظریہ: اسلامی حکومت کو تشکیل دینا

 

چوتھی صدی ہجری میں سید مرتضی علی الہدی(436-355)جیسے بعض شیعہ علما٫ معتقد تھے کہ امام حسینؑ جب تک قوم کے عہد و پیمان اور کامیابی سے مطمئن نہیں ہوئے اس وقت تک حکومت حاصل کرنے کے لئے کوفہ روانہ نہیں ہوئے[13] اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ؑ حکومت کرنے کے لئے ہی عراق روانہ ہوگئے ۔ مرحوم سید کے بعد اس نظریہ کو ماننے والا نہ صرف کوئی سامنے نہیں آیا بلکہ شیخ طوسی ، سید بن طاؤوس اور علامہ مجلسی و غیرہ جیسے علما٫ نے اس نظریہ کے مخالفت بھی کی [14]۔

 

لیکن دورہ معاصر کے بعض محققین نے اسی نظریے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور معتقد ہیں کہ اس نظریے کے تناظر میں قیام امام حسین ؑ کو تحلیل کرنے سے مخالفین کو مناسب جواب دیا جاسکتا ہے  اور اس نظریے کو امام خمینی ؓ جیسی بڑی شخصیات کی حمایت حاصل ہے ۔چنانچہ انہوں نے مختلف مقامات پر دینی حکومت قائم کرنے کی کوششوں کو قیام عاشورا کے اہداف میں سے شمار کیا ہے جیسے : ۱۔ امام حسین ؑ نے مسلم بن عقیل کو کوفہ اسیلئے بھیجا تھا کہ فاسد حکومت کا تختہ الٹ کر اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے لوگو ں  سے بیعت طلب کریں [15]۔

 

۲۔ حضرت سید الشہداء ؑ کا مکہ آنا اور وہاں سے ایک خاص انداز میں نکلنا یہ ایک عظیم سیاسی تحریک تھی ۔ آنحضرت ؑ کے سارے تحرکات اسلامی سیاسی تھے تب ہی تو بنی امیہ نابود ہوگئے ۔ اگر امام حسین ؑ کی یہ تحریک نہ ہوتی تو اسلام پایمال ہوچکا ہوتا [16]۔

 

۳ ۔ سید الشہداء ؑ حکومت ہاتھ میں لینے کے لئے ہی ( کوفہ) گئے تھے اور یہ باعث فخر ہے جو  لوگ خیال کرتے ہیں کہ حضرت سید الشہداء حکومت کے لئے نہیں آئے تھے ، نہیں ایسا نہیں ہے ۔ حکومت سیدالشہداء ؑ  او ر سیدالشہداء ؑ کے شیعوں کے ہاتھ میں ہی ہونی چاہئے ۔

 

اس نظریے کے دلائل :

 

۱۔ سب سے اہم دلیل امام حسین ؑ کی وہ تقریر ہے جس میں قیام کے اہداف کو بیان فرمایا جو اصلاح امت جد ، امر بالمعروف ، نہی از منکر ، سیرت نبویﷺ اور علویؑ پر عمل پیرا ہونے پر مشتمل ہے [17]۔

 

واضح رہے کہ وسیع پیمانے پر اصلاح کرنا حکومت کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں ۔ اسی طرح اعلی پیمانے پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کے لئے اسلامی حکومت کا ہونا بہت ہی ضروری ہے جس میں حاکم شرع قدرتمند ہوا کرتا ہے۔ اور سب سے اہم نکتہ یہ کہ امام ؑ نے نبی اکرم ﷺ اور امام علی ؑ کی سیرت پر عمل کرنے کو اپنے اہداف میں سے شمار کیا ہے جو امامؑ کی تقریر کے سیاق و سباق کے مطابق حکومتی سیر ت ہی ہوسکتی ہے اور امام ؑ ان دو حضرات ؑ کی حکومتی سیرت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔

 

۲۔ کوفیوں کی خط و کتابت کی نوعیت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک تیار لشکر اور صرف امام ؑ کے موجود نہ ہونے پر شکوہ کیا ہے ۔ مثا ل کے طور پر جناب سلیمان بن صرد خزاعی ، مسیب بن نجبہ اور حبیب بن مظاہر جیسے بڑی شخصیات کے خط میں یوں آیا ہے : (( انہ لیس علینا امام ، فاقبل لعل  اللہ ان یجمعنا بک علی الحق ۔۔۔))[18]۔ ( اس وقت ہمارے اوپر کوئی امام نہیں ہے  (آپ ) ہماری طرف بڑھیں امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کے ذریعہ ہم کو حق پر اکھٹا کرے)۔

 

اس عبارت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کی اہم شخصیات یزید کی حکومت کو مشروع نہیں سمجھتی تھیں؛ اس لئے امام ؑ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ؑ کوفہ آکر حکومت کو سنبھالیں۔

 

۳۔ دہم رمضان المبارک سنہ ۶۰ ھ ق بروز بدھ کوفیوں کے سب سے پہلے خطوط امام ؑ کو ملے اور ۱۵ رمضان المبارک بروز پیر مسلم بن عقیل کو جواب کے ساتھ کوفہ روانہ کردیا اور امام ؑ نے فرمایا : (( جو کچھ آپ لوگوں نے کہا تھا اس کا مجھے علم ہو گیا ہے۔ آپ لوگوں کی بات یہ تھی کہ اس وقت ہمارے اوپر کوئی امام نہیں ہے ۔۔۔))۔[19]

 

4۔ امام ؑ نے کوفیوں کے خطوط کے جواب میں ایسے شرائط پیش کئے ہیں جو صرف امام حسینؑ میں پائے جاتے ہیں اور آپ ؑ نے امامت کے حکومتی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی ہے جیسا کہ امام ؑ نے فرمایا:((میری جان کی قسم !صرف وہی شخص امام بن سکتا ہے جو کتاب خدا پر عمل کرتا ہے اور عدل و انصاف کو قائم کرتا ہے، حق پر عمل کرتا ہے اور اپنی تمام تر جدوجہد کو اللہ کی راہ میں انجام دیتا ہے))[20]۔

 

5۔ جناب مسلم بن عقیل کی سرگرمیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام حسین ؑ کی طرف سے کوفہ میں حکومت تشکیل دینا چاہتے تھے چونکہ حضرت مسلم بن عقیل ، امام حسینؑ کی نصرت کے لئے لوگوں سے بیعت طلب کرتے تھے جیسا کہ بارہ سے اٹھارہ ہزار تک بیعت کرنے والوں کے نام دیوان میں ثبت ہو چکے ہیں [21] اور امام حسینؑ نے حضرت مسلم کو کوفہ بھیجتے وقت فرمایا:اگر آپ نے دیکھا کہ لوگ میری بیعت پر اکھٹے ہوگئے ہیں تو جلد از جلد مجھے اطلاع دیجیئے تا کہ اس کے مطابق قدم اٹھاؤں[22]۔

 

6۔ جب کوفہ میں مسلم ؑکےساتھ بیعت کرنے والے افراد کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی تو بنی امیہ کے طرف داروں نے یزید کو خط لکھا کہ اگر تم کو کوفہ کی ضرورت ہے تو ایک طاقتور شخص کو بھیج دو تا کہ وہ تمہارےحکم کو نافذ کرے اور تمہارےدشمنوں کے ساتھ تمہاری طرح ہی سلوک کرے گا[23]۔اس خط و کتابت کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں تھا بلکہ کوفہ پر حکومت کا تھا۔

 

7۔ حضرت مسلم بن عقیلؑ نے کوفہ کے حالات کا جائزہ لے کر امام حسین ؑ کو رپورٹ بھیجی جس میں فرمایا:اٹھارہ ہزار کوفیوں نے میرے ساتھ بیعت کی ہے میرا خط آپ تک پہنچتے ہی کوفہ کی طرف روانہ ہوجایئے گا؛ کیونکہ سارے لوگ آپ کے ساتھ ہیں اور آل معاویہ کے ساتھ کوئی بھی رغبت نہیں رکھتا ہے[24] امام ؑ فورا کوفہ روانہ ہوگئے اور راستے سے جناب قیس بن مسہر صیداوی کے ساتھ کوئی ایک خط بھیج دیا جس میں جناب مسلم بن عقیلؑ کی رپورٹ کی تائید کرتے ہوئے کوفہ کی طرف اپنی روانگی کی اطلاع دی اور فرمایا:میں آٹھ ذیحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا ہوں مجھے مسلم ؑ کے ذریعے آپ کی حسن نیت کی اطلاع ملی ہے اور آپ ہماری نصرت اور ہمارے دشمنوں سے ہمارے حق کو چھیننے کو تیار ہیں میرے ایلچی ،قیس بن مسہر کے وہاں پہنچتے ہی اپنے آپ کو آمادہ کرو اور اپنے کاموں میں محتاط و سنجیدہ  بن کر رہو۔ میں بہت ہی جلد آپ لوگوں تک پہنچ جاؤں گا۔

 

ان دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے امام حسین ؑ کا کوفہ کو قیام کے لئے انتخاب کرنے کو جانچ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امام ؑ کے سارے اقدامات اسلامی حکومت کو تشکیل دینے کے لئے ہی تھے۔

 

اس نظریے کے آخر میں بھی ایک نکتہ پر توجہ کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ امام ؑ کی کوفہ روانگی کے بعد کوفہ کے حالات بہت ہی تبدیل ہوچکے تھے مثال کے طور پر راستے میں امام ؑ نے فرزدق (جوان شاعر) سے کوفہ کے حالات پوچھے تو اس نے کہا:((قلوب الناس معک وسیو فھم علیک)) یعنی کوفیوں کے دل آپؑ کے ساتھ اور ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں ۔ امام ؑ جب سرزمین ((ذات عرق))پہنچے تو ہانی اور مسلم ؑکے شہادت کی خبر ملی[25]۔کچھ آگے ہی بڑھے تھے جناب قیس بن مسہر کی شہادت کی خبربھی ملی[26]،لیکن پھر بھی امام ؑ کوفہ کی طرف ہی چل پڑے یہاں تک کہ سپاہ ((حرّ)) نے امامؑ کا راستہ روک دیا ۔ ((حرّ)) ابن زیاد کی طرف سے امام ؑ کو واپس نہ جانے دینا اور کوفہ لے جانے پر مأمور تھا۔اس مقام پر امام ؑ نے نمازیوں سے خطاب فرمایا:(اے لوگو) میں اس مقام تک آنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا یہاں تک کہ آپ کے بہت سارے خطوط اور قاصد میرے پاس آگئے (تب میں نے کوفہ کا رخ کیا ہے)اگر میری مزاحمت نہ کرنے پر میرے ساتھ عہد کرتے ہو تو  تمہارے اس شہر میں داخل ہوتا ہوں ورنہ جہاں سے آیا ہوں وہیں پلٹ کر چلےجاؤں گا[27] لیکن امام ؑ کو واپس جانے نہیں دیا گیا۔

 

 یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوفہ کے بگڑتے حالات کو جانتے ہوئے اور علم غیب رکھتے ہوئے امام ؑ نے کوفہ کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ جبکہ ان حالات میں دینی حکومت کا تشکیل پانا آسان نہیں تھا۔

 

ہمیشہ یاد رہے کہ انبیاؑ٫ اور ائمہ معصومینؑ کے ظاہر اور باطن کو ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہیے چونکہ جہاں پر نبوت اور امامت کے اثبات کا مسئلہ ہو وہاں علم غیب استعمال کرتے ہیں ورنہ اجتماعی مسائل میں آپ حضرات ؑ عام انسانوں کی طرح، ظاہری صورتحال کے مطابق ، ذمہ داریوں کو انجام دیتے ہیں جیسا کہ حضور اکرم ﷺ اور امام علیؑ کے بعض فیصلوں میں ایسے نمونے ملتے ہیں ۔ اس مقام پر بھی اگر امام حسینؑ بنو  امیہ کی حکومت کو سرنگوں کرکے اپنی رہبری میں جدید اسلامی حکومت تشکیل دینے کے درپے تھے تو موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ ؑ کا اقدام معقول تھا چونکہ کوفہ کی بڑی شخصیات جیسے سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن نجبہ، حبیب بن مظاہر، رفاعۃ بن شداد اور دوسروں نے نہ صرف امام ؑ کی جان کی حفاظت کا وعدہ دیا تھا بلکہ دشمنوں کے خلاف جنگ کرکے پوری حکومت کو امام ؑ کے حوالے کرنے کی پیشکش کی تھی اور دوسری طرف سے آنحضرتؑ کے سفیر جناب مسلم بن عقیلؑ کے ہاتھوں بیس ہزار سے زیادہ افراد کا بیعت کرنا[28]، جناب مسلم ؑ کا امامؑ کو بہت جلد کوفہ کا رخ کرنے پرخط لکھنا بالآخر کوفیوں کاا مام ؑ کی طرف دست دراز کرنا، امام ؑ کے مندرجہ بالا اہداف تک پہنچنے کے لئے ایک بہترین فرصت تھی جس کے ذریعے امام ؑ اعلیٰ اور وسیع پیمانے پر امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور امت کے امور کی اصلاح کرکے نبویﷺ اور علویؑ سیرت پر چل سکتے تھے جس کے نتیجے میں دین محمدیﷺ بدعتوں سے پاک ہو کر اپنی اصلی حالت کی طرف پلٹ سکتا تھا ؛ اگر امام ؑ کوفیوں کومثبت جواب نہ دیتے تو کوفیوں کی طرف سے حجّت تمام تو ہوگئی لیکن الہیٰ حجت ان پر تمام نہ ہوچکی ہوتی اور یہی لوگ کہتے کہ ہم نے امام ؑ کو اپنی ہدایت کے لئے بلایا لیکن امام ؑنے انکار کیا جو امام حسین ؑ جیسی شخصیت کے لئے مناسب نہیں تھا لیکن امام ؑ نے کوفیوں کی درخواست کا مثبت جواب دیا اور دنیا جان گئی کہ وفا کس نے کی اور بے وفا کون نکلا!؟


 



[1]۔ ابن اعثم کوفی ج5، ص ۶۷

[2]۔ ایضا

[3]۔ البدایہ والنہایہ ، ج8 ، ص162

[4]۔ ایضا

[5]۔ بحارالانوار ج 44، ص364

[6]۔ مقدمہ ابن خلدون ، ص 211

[7]۔ الکافی ج 2، ص28سے 36تک

[8]۔ ایضا

[9]۔ لہوف ، ص 84

[10]۔ شہید فاتح ، ص ۲۳۹

[11]۔ تاریخ طبری ، ج ۵ ، ص ۴۰۳

[12]۔ بحار الانوار ، ج ۴۴ ، ص ۳۲۹

[13]۔ شہید فاتح، ص169

[14]۔ ایضا ، ص ۱۹۰ ۔ ۱۸۴

[15]۔ صحیفہ نور ، ج ۱، ص ۱۷۴

[16]۔ ایضا ، ج ۱۸ ، ص ۱۳۰

[17]۔ بحار الانوار ، ج ۴۴ ، ص ۳۲۹

[18]۔ وقعۃ الطف ، ابی مخنف ، ص ۹۲

[19]۔ وقعۃ الطف ، ابی مخنف ، ص ۹1 ( و قد فہمت کل الذی اقتصصتم و ذکرتم و مقالۃ جلکم انہ لیس علینا امام فاقبل لعل اللہ ان یجمعنا بک علی الھدی والحق)۔

[20]۔ ایضا ((فلعمری ماالامام الا العامل بالکتاب والآخذ بالقسط والدائن بالحق والحابس نفسہ علی ذات اللہ))

[21]۔ الارشاد ، شیخ مفید ، ص383

[22]۔ الفتوح ، ج 5 ، ص53

[23]۔ وقعۃ الطف ، ص101 (( فان لک بالکوفہ حاجۃ فابعث الیھا رجلا قویا ینفذ امرک و یعمل مثل عملک فی عدوک))

[24]۔ وقعۃ الطف ، ص112

[25]۔ الفتوح ، ج5 ، ص120

[26]۔ اخبار الطوال ، ص247

[27]۔ الفتوح ، ج5 ، ص135

[28]۔ حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ ، ص305-247