Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 تحریر : سید وقار حسین رضوی

آج نوع انسانی دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا ۔ ایک دنیا ترقی یافتہ ہے اور ایک ترقی پذیر ایک دنیا جدید ہے اور ایک دنیا قدیم و جدید کے درواہے پر ۔ ایک معاشرے کو جدید کہا جاتا ہے اور ایک کو رجعت پسند ایک دنیا کو قابل تقلید سمجھا جاتا ہے اور ایک کو محتاج تقلید ایک معاشرے کو خوشحال متصود کیا جاتا ہے اور ایک کو مفلوک الحال ‘ ایک معاشرے کو آزاد خیال کیا جاتا ہے اور ایک کو مجبور ۔ ایک دنیا اخلاق و قدار کے معیار میں موضوعیت پسند ہے اور ایک معروضیت کی دعویدار لیکن ان ہر دو دنیاوں میں مذکورہ بلا تمام تر تفاوت و اختلافات کے باوجود بہت زیادہ مسلمہ اشتراکات ہیں ۔


ہر دو دنیاوٗں میں انسان انسان سے خوفزدہ ہے سکون غارت ہوچکا ہے ‘ حرص زندگی طمع بندگی ہے ، اطمینان رخصت ہوچکا ہے ، آبروئیں غیر محفوظ ہیں ، بے حیائی کلچر ہے ، اخلاقی باختگی ثقافت ہے ، فحاشی وجہ فضیلت ہے ، ظالم مسند قضاوت پر ہیں ، مظلوم کہٹرے میں ہیں ، مجرم منضف ہیں ، ڈاکو تخت حکومت پر ہیں ، رہزن رہبر ہیں ، ہوٹوں پر پہرے ہیں م زبانین گنگ ہیں ، چہرے ویران ہیں ، گھر روشن ہیں ، دل تاریک ہیں ، جسموں پر خلعتیں ہیں, روحیں برہنہ ہیں ، شور ہے مگر کان سماعت سے محروم ہیں ، آنکھیں کھلی ہیں مگر بصارت چھن چکی ہے ، تبلیغ تاثیرکھوچکی ہے ، لفظ معافی سے محروم ہیں ، رشتے تقدس کھوچکے ہیں ‘ قربتیں عفتوں سے محروم ہیں ‘ باپ بیٹی سے نالاں ہے ‘ بیٹی ماں سے شرمندہ ہے ‘ بھائی بہن سے بدظن ہے ‘ بہن بھائیوں سے باغی ہے ‘ شوہر بیوری سے بدگمان ہے ‘ بیوی کو شوہر پر اعتماد نہیں ‘ بڑے بے رحم ہیں ‘ چھوٹے بے ادب ہیں ‘ گھروں کے گلشن ویران ہیں ‘ قحبہ خانے آباد ہیں ‘ خواب گاہیں سربازار سجی ہوئی ہیں۔ غرض یہ کہ وہ کونسی برائی ہے ( عملاہو یا فکر و خیال میں ) ہر دو دنیاوں میں موجودنہیں ہے ۔ گویا انسانیت موت کے دروازے پر ہے ۔ اس خلفشار سے بچنے کے لیے ان مصائب سے نجات پانے کے لیے اور ان مسائل کے حل کیلئے ہمارے پاس واحد راہ پیروی کربلا میں ہے ۔ اس لیے کہ کربلا تاریخ انسانی کا وہ واحد اور بے مثال معجزہ ہے جہاں انسانیت کے تمام رشتے ، تمام اقدار، تمام زاویے، تمام نسبتیں اور تمام اور تمام جہات شعور و ادراک کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ اپنے امکانات کی معراج پرنظر آتے ہیں ، انسانیت کو جب جیسا اور جس طرح کا نمونہ عمل چاہئے ایک ہی میدان میں ایک ہی وقت میں اور ایک ہی نظر میں کربلا سے مل سکتا ہے ۔

اس لیے کہ رسول اکرم ؐنے فرمایا ہے :
’’حسین ؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کا سفینہ ہیں ‘‘
نیکی حق ہے اور بدی باطل ‘ نیکی معروف ہے اور بدی منکر ‘ کربلا سجی ہی اس لیے تھی کہ حق اور باطل میں ‘ نیکہ اور بدی اور معروف اور منکر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خط فاصل کھنچ دیا جائے تاکہ پھر کبھی باطل حق کے پردے میں چھپ کر دھوکہ نہ دے سکے ‘ اس سے قبل امام حسین ؑ کے نانا نے بھی خندق میں حق اور باطل کے درمیان ایک خلیچ قائم کی تھی لیکن امام حسین ؑ کے نانا کی قائم کردہ خلیچ کو نفاق کے پردوں میں چھپے کرداروں نے اس طرح پاٹا کی رسول اکرمؐکے صرف 47سال بعد رسولؐ کے منبر پر بیٹھ کر یہ کہا جانے لگا :

’’ نہ تو کوئی نبی آیا اور نہ ہی وحی ‘ بنی ہاشم نے محض سلطنت کے حصول کے لیے ایک کھیل کھیلا تھا ‘‘
لیکن اب رسول اکرم ؐکے نواسے نے حق اور باطل ‘ نیکی اور بدی ‘ اچھائی اور برائی ‘ سچ اور جھوٹ اور معروف اور منکر میں اپنے اور اپنے عزیز و اقارب اور اصحاب با صفاکے خون کے ساتھ ایسی خلیچ قائم کی جو تاقیامت پاٹی نہ جاسکے گی ۔ اب دو ہی راستے ہیں یا کردار حسین ؑ یا کردار یزید اب دو ہی منزلیں ہیں یا حسینیت ؑ ہے یا یزدیت ، اب دوہی نظام ہیں یا حسینی ؑ ہے یا یزیدی ۔ اب نفاق نہیں چل سکتا ‘ اب منافقت ‘ دھوکہ نہیں دے سکتی ‘ اب تیسری کوئی راہ موجودنہیں‘ جیسا کہ حفیظ تائب نے کہا ہے :

ہر اک برائی کو ارے سمجھو یزیدیت
ترویج نییکوں کی نظام حسین ؑ ہے

اگر کردار میں فرق نہیں تو مشرق اور مغرب ‘ قدیم اور جدید ‘ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر حتیٰ کہ اسلامی اور غیر اسلامی دنیا کی تفریق ایک دھوکہ ہے اس لیے کردار صرف دو ہیں۔ ایک ظلم سے نفرت کرنے والا اور ایک ظلم کی حمایت کرنے والا‘ ایک ظلم کے خلاف آوازبلند کرنے والا اور ایک ظلم کا ساتھ دینے والا‘ ایک ظلم کو لکارنے والا اور ایک ظلم کرنے والا ۔


لہذاہم نے دونوں میں سے صرف ایک کردار کو اپنانا ہے ‘کردار حسینی ؑ یا یزیدی ! بصورت دیگر اسلامی اور غیر اسلامی دنیا کی لفظی تفریق ہمیں عاقبت یزید سے نہیں بچا سکتی جو آخرت میں بھی ہمارا مقدر ہوگی اور دنیا میں بھی ہر طرح کے مصائب و آلام ‘ بے چینیوں اور عدم تحفظ کی صورت میں ہم اس سے دوچار ہیں ۔ امام حسین ؑ جیسی عاقبت کے لیے کردار حسینی ؑ اپنانا ہوگا ۔


اُٹھیے ! معرکہ حق وباطل جاری ہے ‘ کربلا سجی ہے ‘ شہیدوں کے قافلے جاری ہیں‘ ’’ ھل من ناصر ‘‘ کی صدا آرہی ہے ۔ کل ارض کربلا ہے کل یوم عاشورہ ہے ، کربلا کا ادراک چاہئے ۔ فقط کربلا کا دراک ، شعور کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ ادراک ! جو یہ ادراک نہ کرے گا و ہ یزیدی ہے‘
حسینی ؑ قافلہ رواں ہے جو اس قافلہ سے نہ ملے گا وہ یزیدی ہے ‘ ہم میدان عمل میں ہیں جو عمل نہ کرئے گا وہ یزیدی ہے

آئیے! سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کی آوازآرہی ہے ’’کربلا تیار تقدم ولدی ‘‘ اے میرے ’’ روحانی بیٹو ‘‘ آوٗ کربلا تیار ہے ۔