Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 

تحریر:     علی سردار

مقدمہ :

قتل حسین ؑ اصل میں مرگ یزید ہے

                اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حق اور باطل کی جنگ روز اول سے چلی رہی ہے اور اس وقت تک رہے گی جب حق کو پورا پورا غلبہ حاصل نہ ہوجائے،اہل حق ، خدا کے مطیع اور اہل باطل طاغوت کے پیروکار ہیں اور اصل طاغوت شیطان ہے۔اس دنیا میں خدا کے نمائند ے حق کی بالادستی کے لئے خدا کے بتائے ہوئے اصول پر عمل کرتے ہوئےجدوجہد کرتے ہیں اور انبیاءؑ الہی اس راہ کے رہبر ہیں۔ ہر آنے والے نبی پہلے والے نبی کی راہ کو آگے بڑھاتا ہے۔ امام حسینؑ تمام گذشتہ انبیاءؑ کے وارث ہیں، یعنی انہوں نے جس ہدف کے لئے جدوجہد کی وہ اسلام کا مکمل  نفاذ ہے اور امام حسین ؑ نے اپنے خون سے اس کی آبیاری کی اور وقت کے طاغوت کو سرنگون کیا، یزید مسلمانوں کا کوئی حکمران نہیں بلکہ وہ طاغوت کا نمائندہ ہے اور اس کی کوشش معاشرے سے اسلام کو مٹا کر طاغوت کی بالادستی ہے۔ یزید اپنے ان آباء و اجداد کا وارث ہے جنہوں نے طول تاریخ میں اسلام اور پیامبر ﷺ کے خلاف سازشیں کی اور جنگیں لڑیں،انہوں نے کبھی دل سے اسلام کو قبول نہیں کیا،مسلم معاشرے نے ان کے نفاق کی وجہ سے انہیں اہل حق میں سے سمجھا۔ اور باطل کی بقاء ہی صرف اسی میں ہے کہ وہ حق کی چادر اوڑھ لے۔اس حقیقت کو امام علی ؑ یوں بیان کرتے ہیں:((فلو ان الباطل خلص من مزاج الحق  لم یخف علی المرتادین  ولو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنہ السن المعاندین ولکن یوخذ من ھذا ضغث ، فیمزجان  فھنالک یستولی الشیطان علی اولیائہ))

تحریر:لیاقت علی مرتضوی

کربلا ایک درسگاہ اور مکتب کا نام ہے کہ اس نے مرتی ہوئی انسانیت کو عزت کے ساتھ مرنے کا سلیقہ سکھایا۔ یہ تاریخِ انسانیت میں سب سے منفرد ہے۔ یہاں درس لینے والوں کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ زمان و مکان کی قید نہیں۔ رنگ و نسل کی قید نہیں۔ ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا انسان یہاں درس حاصل کرسکتا ہے۔ ہر قبیلہ اور قوم کا انسان یہاں سے استفادہ کرسکتا ہے۔

کربلا ایک عظیم درسگاہ اور مکتب ہے۔ اس نے بشریت کو زندگی کے ہر گوشے میں درس انسانیت دیا ہے۔اور ہر صاحب فکر کو اپنی عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایثار ، فداکاری، قربانی، صبر و تحمل وغیرہ یہ وہ اعلیٰ انسانی صفات و اقدار ہیں کہ اگر کسی معاشرے یا قوم میں  پیدا ہوجائیں تو وہ قوم یا معاشرہ تاریخ میں کبھی بھی فنا نہ ہوجائے اور یہی وہ صفات ہیں جنہیں امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں جامعہ عمل پہنایا۔

 تحریر: ایم ۔ این۔ اطلسی

کربلا کی مٹی بڑی عظمت والی ہے ، جو فضیلت اور برکت کربلا کی خاک شفاء کو حاصل ہے وہ زمین کے کسی حصے کےمٹی کو حاصل نہیں۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو چونکہ امام حسینؑ نے اس جگہ پر دین اسلام کی راہ میں اپنی تمام تر ہستی کو خدا کے لئے قربان کردیا۔ اس مقالے میں خاک کربلا کی عظمت اجاگر کرنے کے لئے چند حقایق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

1۔تربت امام حسینؑ کی آٹھ خاصیتیں:

  اگر چہ سنی، شیعہ بہت ساری موثق روایتوں میں خاک شفاءکے لئے بہت سارے آثار نقل ہوئے ہیں، ان میں سے آٹھ خاصیتوں کی طرف مختصراشارہ کرتے ہیں:1۔نماز کی قبولیت کا سبب : امام صادق   ؑ اس بارے میں فرماتے ہیں:" السجود علی تربۃ الحسین ؑ یخرق الحجب السبعۃ))[i]۔یعنی امام حسین ؑ کی تربت پر سجدہ کرنے سے (نماز کی قبولیت سے روکنے والے) سات پردے ہٹ جاتے ہیں ۔

تربت سیدالشہداء کی بنائی ہوئی تسبیح پر ذکر پڑھنے سے چالیس نیکیاں پڑھنے والے کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں۔ اگر ذکر کے بغیر خالی تسبیح گھمائی جائے تو بھی بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

 

تحریر:اقبال کشمیری

 

 جب طبیعی طور پرکوئی حادثه روئے زمین پر رونما هوتا هے تولازمی طور پراس کے کچھ جبری نتائج بھی هوتے هیں اور یه نتائج بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے عبرت بن جاتے هیں خواه کوئی اس سےعبرت حاصل کرے یا نه یه ایک دوسرا پهلو هے بهر صورت اس دار دنیا میں عبریتں تو بهت زیاده هوتیں هیں لیکن عبرت حاصل کرنےوالے بهت کم پائے جاتے هے .

 

لیکن اگر کوئی عاقل اور با فهم آدمی اپنے اختیار کے ساتھ کوئی کام انجام دیتا هے تو  اس کام کے پیچھے کوئی هدف بھی مد نظر رکھتا هےکیونکه عاقل اور با فهم آدمی سے هدف کے بغیر کوئی کام نهیں هوا کرتا .هاں یه بات مسلم هے که عقل و شعور کے مختلف مراتب هونے کے وجه سے هدف بھی کمیت اور کیفیت میں مختلف هوتے هیں صاف ظاهرهےکہ جوآدمی زیاده عاقل اور با فهم هو تو اس کی سوچ بھی وسیع اور بلند هوگی که جس کا نتیجه یه نکلے گا که اس آدمی کا هدف بھی بلند و بالا هوگا جو آنے والے نسل کے لئے سبق آموز اور مفید بھی ثابت هوسکتا هے.

 

تحریر:عید علی عابدی

     تمہید :

 چون خلافت رشته از قرآن گسیخت  

  حریت را زهر اندر کام ریخت

 تیغ بهر عزت دین است و بس    

  مقصد او حفظ آیین است و بس

 خون او تفسیر این اسرار کرد 

                                          ملت خوابیده را بیدار کرد[i]

امام حسین ؑ  کے قیام کی وجوہات کیا ہیں ۔یہ کیوں اور کس لئے رونما ہوئی ؟  علماء و محققین نے اس کی بہت سے وجوہات بیان کئے ہیں۔اب ان وجوہات کو اس زمانے کے حالات کے مطابق جانچ پڑتال کرنا پڑے گا کہ مسلمانوں کے خلیفہ یزید  کے خلاف یہ قیام کیوں کیا !؟ کیا یزید نے بیعت یا قتل کا مطالبہ کیا تھا ؟  جس کے جواب میں امام ؑ نے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت اپنایا ؟  یا کوفیوں کے خطوط  کی وجہ سے قیام کیا؟یہ دونوں   وجہ اپنی جگہ درست لیکن امام حسین ؑ  ان سے ہٹ کر کئی  اور وجوہات کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ اگر ہم یزید کے تین سالہ حکومت کی طرف نظر کریں تو اس کے برے  اور کفرانہ اعمال میں سے جیسے امام حسین ؑ  کو شہید کرنے، کعبہ کا گھیراؤ ، پھتراؤ ،  پھرانہدام کرکے آگ لگا نا  اور حرہ کا  مشہور واقعہ   ، یہ سب گواہی دے رہے ہیں  کہ اس کے خلاف قیام واجب تھا    اورجو  کچھ اس کے بارے نا سزا کہا گیا ہے ، مبالغہ یا جھوٹ نہیں ہے ؛ اس لئے کہ  یزید کا خلافت  کے لئے معیّن کرنا  قلب اسلام ، اسلام ناب محمدی ﷺ اور دین کے اہداف و مقاصد پر ایک ایسا ضربہ تھا کہ اس زمانے میں حکومت بنی امیہ کے نام سے خطرناک نقصانات کی آفت اسلامی روح پر آپڑی تھی ۔ اس عالیترین اسلامی اقدار کو منفور  اور ذلیل ترین  شکل میں تبدیل کیا تھا ۔ اگر اس وقت امام ؑ اپنے قیام کے ذریعے اسلام کی فریاد کو نہیں پہنچتے تو دامن اسلام  پرننگ و عار کا  ایسا سخت  دھبہ لگ جاتا  جو کبھی جبران ناپذیر تھا  اور خدا کا پیارا دین  نابود اور پایمال ہوجاتا تھا ! ۔ اب ہم بھی  انہیں کے دامن سے تمسک کرتے ہوئے اپنے موضوع کوبہت ہی مختصر وضاحت کے ساتھ تحلیل کرنے کی کوشش کرینگے  انشاء اللہ ۔