Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 

تہیہ  وتنظیم  : اجمل حسین قاسمی

 

واقعہ کربلاء بہت بڑا معرکہ تھا ۔ یہ جنگ اپنی نوعیت کی بے مثال جنگ تھی اس جنگ کے بہادروں کے نام تاریخ کے صفحوں پر ہمیشہ کے لئے نمایاں طور پر رقم ہونے والے تھے ۔ ایسا نہ تھا کہ دونوں طرف فوج ایک جیسی ہو بلکہ ایک طرف کا لشکر تعداد میں زیادہ تھا اور مقابلے میں گنتی کے چند افراد تھے لیکن ان میں سے ہر فرد بڑا انمول تھا  یہ چند افراد تھے لیکن تھے بڑے بڑے بہادر !!!     ایک طرف کیل کانٹے سے لیس یزید کا بہت بڑا لشکر تھا ۔ عمر سعد اور شمر اس کے کمانڈر تھے ، دوسری طرف نبی پاک ﷺ کے نواسے اور امام علی ؑ کے بیٹے امام حسین ؑ کے چند سپاہی تھے ۔ آپ ؑ کی فوج میں حبیب بن مظاہر  سفید ریش بوڑھے تھے ۔ ان کی سفید بھنویں آنکھوں پر جھکی ہوئی تھیں ۔ انہوں نے رومال سے انہیں باندھ کر اوپر کردیا تھا ، یہ بوڑھے تو تھے لیکن بڑے دلیر تھے ۔ اس مختصر سی جماعت کا پرچم امام علی ؑ کے جواں سال بیٹے عباس ؑ کے ہاتھ میں تھا ۔یہ خوبصورت ، دراز قد جوان غضب کے بہادر تھے ۔ اس چھوٹی سی فوج میں علی اکبر ؑ بھی تھے ۔ یہ امام حسین ؑ کے نوجوان فرزند تھے ۔ کہتے ہیں آپ ؑ کی شکل و صورت اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بہت ملتی تھی ، یہ بھی بڑے شجاع تھے ۔

 

جنگ شروع ہوئی تو اس چھوٹی سی فوج کے ہر مجاہد نے خوب جنگ کی ۔ ہر بہادر نے دشمن کے بہت سے افراد کو مارا اور آخر کار خود بھی شہید ہوگئے ۔ان میں سے ہر ایک کی جنگ یادگار ہے ، لوگ صدیوں سے ان کی بہادری اور سچائی کو یاد کرکے ان کی خدمت میں عقیدت کے پھول اور محبت کے آنسو پیش کرتے چلے آرہے ہیں ۔ لیکن ۔۔۔

 

پیارے بچو ! بہادروں کی صف میں ایک بہادر بڑا عجیب تھا ۔ آپ نے اس کا ذکر ضرور سنا ہوگا ، اس کی عمر بہت کم تھی ۔ اس عمر کے لوگ فوج میں شامل نہیں ہوا کرتے ، اس عمر کے بچوں کو تو کیا ! اس سے بڑی عمر کے بچوں کو بھی مہذب فوج والے نہیں مارا کرتے ! ۔

 

بچو ! کیا آپ جانتے ہیں وہ کم سن سپاہی کون تھا ؟ اس نے بہادری کے کیا جوہر دکھائے ؟ اس کی جنگ اور شجاعت نے کیا نتیجہ پیدا کیا ؟ جنگ میں اس کی شرکت کیوں ضروری تھی ؟ ۔

ہاں ! یہ سارے سوال اس عجیب مجاہد کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں وہ ننھا منّا مجاہد " علی اصغر ؑ" تھا امام حسین ؑ کا چھوٹا سا بیٹا ۔ علی اکبر کا پیارا سا معصوم بھائی ۔ یہ چھوٹا پھول پیاس سے مرجھاگیا تھا ۔ کربلاء کے میدان میں اس پار دریائے  فرات بہہ رہا تھا ۔ اس فرات سے دشمن کے سپاہی اپنی اور اپنے جانوروں کی پیاس بجھا رہے تھے ۔لیکن امام حسین ؑ اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند تھا ، وہ سب پیاسے  تھے ، پیاس سب کے لئے شدید تھی ۔معصوم علی اصغر ؑ بھی چھ ماہ کا تھا ، ابھی ماں کا دودھ پیتا تھا لیکن کھانے پینے کو کچھ ملے  تب ہی ماں دودھ پلاسکتی ہے ورنہ ماں کا دودھ بھی خشک ہوجاتا ہے ۔

 

علی اصغر ؑ کی ماں " رباب" تھیں ، انہیں امام حسین ؑ سے اور امام حسین ؑ کو ان سے بہت پیار تھا ، علی اصغر ؑ انہی پیارے  ماں باپ کا پیارا بیٹا تھا لیکن اب بھوک اور پیاس کی شدت سے بلک رہا تھا ۔کربلا ء میں پانی کی بندش تھی ، دھوپ تھی ، گرمی تھی ، ریگستان تھا ، سب دوست و عزیز شہید ہوچکے تھے۔     امام حسین ؑ کو ننھے معصوم کے رونے کی آواز ستارہی تھی ۔خیمے میں گئے اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر اسے اٹھایا ۔ سوچا ان وحشیوں سے کہتا ہوں کہ اس بچے کو تو پانی پلادو !شاید کسی کے دل میں رحم آجائے !

 

علی اصغر ؑ کو لے کر خیمے سے نکلے تو دشمنوں نے سمجھا کہ کپڑے میں لپٹا ہوا قرآن ہے ، امام حسین ؑ اسے اٹھا لائے ہیں تاکہ اس کا واسطہ دیں لیکن جب قریب لاکر چہرے سے کپڑا ہٹایا تو یزیدی سپاہیوں نے دیکھا ننھا سا پھول ہے ۔رنگ پیلا پڑ چکا ہے !ہاں ! پیاس اور بھوک کی شدت نے اسے نڈھال کررکھا ہے ، ہونٹ خشک ہوچکے ہیں ۔ امام حسین ؑ گویا ہوئے " تمہاری نظر میں اس کا کیا قصور ہے ؟ اسے تو پانی پلادو !کسی ظالم نے کہا : امام حسین ؑ اس کے بہانے خود پانی پینا چاہتے ہیں ۔ امام حسین ؑ نے علی اصغر ؑ کو زمین پر لٹا دیا اور بولے : " تم خود اسے پانی پلادو !" لیکن ان درندوں نے رحم نہیں کھایا ۔ کہتے ہیں امام حسین ؑ کی گود میں علی اصغر ؑ نے اپنے خشک ہونٹوں پر اپنی خشک زبان پھرا کر اپنے بابا کی تائید بھی کی تھی ۔

 

پیارے بچو !آپ جانتے ہیں اس سارے واقعے نے کیا اثر کیا ؟  امام حسین ؑ کی سچائی اور مظلومیت کا تیر سینوں کے پار اتر گیا ۔وہ واقعہ ہوا جو صبح سے عصر تک جاری رہنے والی اس جنگ میں نہیں ہوا     تھا ۔ یزیدی فوج کے سپاہیوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔ وہ منہ پھرا پھرا کر رورہے تھے ، انہیں امام حسین ؑ کی صداقت دکھائی دے رہی تھی ۔ان کی سچائی کا گواہ ننھا علی اصغر ؑ تھا ، علی اصغر ؑ نے اپنی مظلومیت کے وار سے دشمنوں کو نڈھال کردیا ۔قریب تھا کہ دشمن میں کوئی بڑا واقعہ رونما ہوجاتا ، عمر سعد نے ایک ماہر تیر انداز سے کہا : " اقطع کلام الحسین ؑ " حسین ؑ کو مزید بولنے کا موقع نہ دو ۔ علی اصغر ؑ اپنی مظلومیت ثابت کررہے تھے اور اپنے بابا کی سچائی بھی ۔۔۔ مراد یہ تھی کہ اس علی اصغر ؑ ہی کو ختم کردو تاکہ بات کرنے کا یہ حوالہ ہی نہ رہے ۔اس نے تو فوج یزیدی میں کھلبلی پیدا کردی تھی ۔    حرملہ نے تیر کمان میں چڑھایا ۔۔۔ کہتے ہیں : سہ شاعہ تیر تھا ۔ ایسا بڑا تیر تو بچوں کے لئے نہیں ہوتا ! ، بچہ بھی ننھا سا ۔۔۔ !!! اور وہ بھی بھوک و پیاس سے نڈھال !!! تیر علی اصغر ؑ کے چھوٹے سے خشک گلو سے گزرتا ہوا امام حسین ؑ کے بازو میں پیوست ہوگیا ۔ علی اصغر ؑ بہت چھوٹے تھے لیکن اس نے سب سپاہیوں سے مختلف کام کیا ، ایسا کام جو تأثیر میں شاید سب سے زیادہ تھا ۔

 

بشکریہ نوائے اسلام

 

 

انکار آسمان کو ہے راضی زمین نہیں

اصغر ؑ تمہارے خون کا ٹھکانہ کہیں نہیں