Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 

  اىک عقلمند آدمى کا اىک ملاقاتى کسى دن اس سے ملنے آىا اور ادھراُدھر کى باتىں کرنے کے بعد اس نے اس دوست کو بتاىا کهہ اس کا فلاں دوست اسے بُرابھلا که رها تھا.

اس عقل مند آدمى نے اپنے ملاقاتى سے کها:

تم اتنے عرصے بعد مجھ سے ملنے آئے هو لىکن تم نےتىن خىانتىں بھى اپنے ساتھ لے کر آئے هو!!!

*____ تم نے مىرے اور اس شخص کےدرمىان دشمنى کى بنىاد رکھ دى هے.

*____ تم نے مجھے اس کى ىه باتىں بتا کر مىرے دل کو رنج پهنچاىاهے.

*____ اور ىه که تم نے مجھ پر ثابت کردىا هے که تم اىک خىانت کرنے والے آدمى هو.

 

اس عقل مند اور زىرک شخص نے مزىد کها که جو شخص تمهارے پاس کسى کى چغلى کرتا هے وه ىقىنا تمهارى چغلى اور بُرائی بھى دوسروں کے سامنے بىان کرنے سے درىغ نهىں کرے گا, لهذا اىسے آدمى پر اعتماد نهىں کىا جاسکتا, کسى شاعر کىا خوب کها هے.

هر که عىب دگران نزد تو آورد وشمرد

بى گمان عىب تُرا نزد کسى خواهد بُرد

اىسے چغل  خور سے بچنا چاهئىے, پھر اس دانشور نے ىه حکاىت بھى بىان کى.

اىک آدمى اپنے غلام کو بىچتے هوئے کهہ رها تھا:

اس مىں کوئى عىب نهىں هے, هاں البته ىه چغل خور ضرور هے!

خرىدار نے کها کوئى حرج نهىں! اور پھر اس نے وه غلام خرىدلىا,کچھ عرصه بعدوه غلام اپنے مالک کى بىوى سے کهنے لگا:

اب صاحب آپ کو نهىں چاهتے! وه تو کوئى کنىز خرىدنا چاهتے هىں! اور اب اسکا اىک هى حل هے جب ىه سو جائىں توآپ انکى داڑھى کے نچلے حصه سے چند بال کاٹ کرمجھے دے دىں تاکه مىں کوئى اىسا جادو کردوں که ىه صرف آپ کے هى عاشق هوکرره جائے.

پھر وه غلام اپنے صاحب کے پاس گىا اور کهنے لگا:

ىه عورت تو کسى اور کےعشق مىں مبتلا هوگئى هے اورآپ کو قتل کرکے هى دم لے گى ىقىن نه آئے تو سوتے بن جائىے پھرآپ خود جان لىں گے که ىه آپ کےساتھ کىا کرتى هے!!

غلام کى ىه بات سن کر مالک اپنى آنکھىں بندکرکے لىٹ گىا۔ بىوى هاتھ مىں چھرالىے هوئے آئى داڑھى پکڑلى۔ ىه صورت حال دىکھ کر مردکو ىقىن هوگىاکه اس کى بىوى اسے جان سے مارڈالے گى.

فورا هى اُچھل کراس نے بىوى کے هاتھ سے چھُرا چھىن لىا اوراسے قابو کرکے ته تىغ کردىا۔بىوى کے رشته داروں کو جب معلوم هواتو انهوں نے اس شخص کومارڈالا.

اس کےبعد مرد کے رشته دار بھى آگئے اور ان دونوں خاندانوں کے درمىان مسلسل لڑائى جھگڑے کى بنىاد پڑگئى اور کافى خون رىزى هوئى.