Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 تفسىر نىشاپورى مىں لکھاهے:

اىک بچه صحىح وسالم اسکول سے گھر گىاجب واپس آىاتو اسے بخارتھا اور آخرکار وه بستر پر گرپڑا , جب اس سے وجه پوچھى گئى تو اس نے بتاىا:

آج مىرے استاد نے مجھے ىه آىت ىاد کرائى هے:

"يوما يجعل الولدَان شيبا" (سوره مزمل آىت ١٧)

ىعنى:"...جس دن(قىامت کا خوف) بچوں بوڑھا کردے." مىں اسى دن کے خوف کى وجه سے پرىشان هوں.

بچے نے ىه بات اپنے والد کوبتائى اور آخرکار وه مرگىا.باپ نےاپنے بىٹے کى قبر پر روتے هوئے کها:

مىرے پىارے بىٹے! تىرى پاکىزه فطرت , نرم اورصاف ستھرا دل قرآن کى اس آىت سے اس قدر متاثر هوا,حالانکه سىاه دل رکھنے والے تمهارے باپ کو اس دن کے خوف سے مرنا چاهئىے تھا.

 

  اىک عقلمند آدمى کا اىک ملاقاتى کسى دن اس سے ملنے آىا اور ادھراُدھر کى باتىں کرنے کے بعد اس نے اس دوست کو بتاىا کهہ اس کا فلاں دوست اسے بُرابھلا که رها تھا.

اس عقل مند آدمى نے اپنے ملاقاتى سے کها:

تم اتنے عرصے بعد مجھ سے ملنے آئے هو لىکن تم نےتىن خىانتىں بھى اپنے ساتھ لے کر آئے هو!!!

*____ تم نے مىرے اور اس شخص کےدرمىان دشمنى کى بنىاد رکھ دى هے.

*____ تم نے مجھے اس کى ىه باتىں بتا کر مىرے دل کو رنج پهنچاىاهے.

*____ اور ىه که تم نے مجھ پر ثابت کردىا هے که تم اىک خىانت کرنے والے آدمى هو.

ايک دفعہ کا ذکر ہے کہ ايک گاۆں ميں ايک غريب لکڑہارا رہتا تھا - وہ روزانہ جنگل سے لکڑياں کاٹ کر لاتا اور انھيں بيچ کر اپنا اور اپنے خاندان کا پيٹ پالتا تھا- لکڑہارا بہت غريب ليکن ايمان دار، رحم دل اور اچھے اَخلاق والا آدمي تھا- وہ ہميشہ دوسروں کے کام آتا اور بے زبان جانوروں ، پرندوں وغيرہ کا بھي خيال رکھتا تھا-

ايک دن جنگل ميں لکڑياں اکٹھّي کرنے کے بعد وہ کافي تھک گيا اور ايک سايا دار درخت کے نيچے سُستانے کے ليے ليٹ گيا- ليکن جيسے ہي اس کي نظر اوپر پڑي اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے - اس نے کيا ديکھا کہ ايک سانپ درخت پر بنے ہوئے گھونسلے کي طرف بڑھ رہا تھا- اس گھونسلے ميں کوّے کے بچّے تھے جو سانپ کے ڈر سے چيں چيں کر رہے تھے- بچّوں کے ماں باپ دونوں دانہ چگنے کہيں دور گئے ہوئے تھے- رحم دل لکڑہارا اپني تھکان بھول کر فوراً اُٹھ بيٹھا اور کوّے کے بچّوں کو سانپ سے بچانے کے ليے درخت پر چڑھنے لگا - سانپ نے خطرہ بھانپ ليا اور گھونسلے سے دور بھاگنے لگا- اسي دوران کوّے بھي لوٹ آئے - لکڑہارے کو پيڑ پر چڑھا ديکھا تو وہ سمجھے کہ اس نے ضرور بچّوں کو مار ديا ہوگا- وہ غصّے ميں کائيں کائيں چِلّا نے لگے اور لکڑہارے کو چونچيں مارمار کر اَدھ مَرا کر ديا - بے چارہ لکڑہارا کسي طرح جان بچا کر نيچے اُترا اور چين کي سانس لي-