Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 تین نوجوان ملک سے باہر سفر پر جاتے ہیںاور وہاں ایک ایسی عمارت میں ٹھرتے ہیں جو ۷۵منزلہ ہےانکو ۷۵ویں منزل پر روم ملتا ہےان کو عمارت کی انتظامیۃ باخبر کرتے ہوے کہتی ہےہمارے یہاں کا نظام آپ کے ملک کے نظام سے تھوڑا مختلف ہے یھاں کے نظام کے مطابق رات کے ۱۰بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیںلھذا ہر صورت آپ کوشش کیجیے کے دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ہوکیونکہ اگر دروازے بند ہوجاییں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوا نا ممکن نه ہوگاپہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ہیں مگر رات ۱۰بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ہیں مگردوسرے دن وہ لیٹ ہوجاتے ہیں اور ۱۰:۵پر عمارت میں داخل ہوتے ہیں اب لفٹ کے دروازے بند ہو چکے تھےاب ان تینوں کو کوئی  راہ نظر نه آیی کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جایےجبکہ کمرہ ۷۵منزل پر ہے؟؟؟؟؟؟

 

اب تینون نے فیصلہ کیا کہ سیڑیوں کے علاوہ کویی دوسرا راستہ نہیں ہےتو  یھاں سے ہی ابتداء کرنی پڑے گیان میں سے ایک نے کہا کہ میرے پاس ایک تجویز ہےانھوں نے پوچھا وہ کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟اس نے کہا کے یہ سیڑیاں ایسے چڑتے ہویے ہم سب تھک جاییں گیںتو ایسا کرتے ہیں کہاس طویل راستے میں ہم باری باری ایک دوسرے کو قصے سناتے ہویے چلتے ہیں ۲۵فلور تک میں کچھ قصے سناوں گااس کے بعد باقی ۲۵فلور دوسرا ساتھی قصے سنایے گااور پھر باقی ۲۵فلور تیسرا ساتھی ۔۔۔۔۔اس طرح ہمیں تھکاوٹ کا زیادہ احساس نہیں ہوگا اور راستہ بھی کٹ جایے گا

 

تہیہ  وتنظیم  : اجمل حسین قاسمی

 

واقعہ کربلاء بہت بڑا معرکہ تھا ۔ یہ جنگ اپنی نوعیت کی بے مثال جنگ تھی اس جنگ کے بہادروں کے نام تاریخ کے صفحوں پر ہمیشہ کے لئے نمایاں طور پر رقم ہونے والے تھے ۔ ایسا نہ تھا کہ دونوں طرف فوج ایک جیسی ہو بلکہ ایک طرف کا لشکر تعداد میں زیادہ تھا اور مقابلے میں گنتی کے چند افراد تھے لیکن ان میں سے ہر فرد بڑا انمول تھا  یہ چند افراد تھے لیکن تھے بڑے بڑے بہادر !!!     ایک طرف کیل کانٹے سے لیس یزید کا بہت بڑا لشکر تھا ۔ عمر سعد اور شمر اس کے کمانڈر تھے ، دوسری طرف نبی پاک ﷺ کے نواسے اور امام علی ؑ کے بیٹے امام حسین ؑ کے چند سپاہی تھے ۔ آپ ؑ کی فوج میں حبیب بن مظاہر  سفید ریش بوڑھے تھے ۔ ان کی سفید بھنویں آنکھوں پر جھکی ہوئی تھیں ۔ انہوں نے رومال سے انہیں باندھ کر اوپر کردیا تھا ، یہ بوڑھے تو تھے لیکن بڑے دلیر تھے ۔ اس مختصر سی جماعت کا پرچم امام علی ؑ کے جواں سال بیٹے عباس ؑ کے ہاتھ میں تھا ۔یہ خوبصورت ، دراز قد جوان غضب کے بہادر تھے ۔ اس چھوٹی سی فوج میں علی اکبر ؑ بھی تھے ۔ یہ امام حسین ؑ کے نوجوان فرزند تھے ۔ کہتے ہیں آپ ؑ کی شکل و صورت اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بہت ملتی تھی ، یہ بھی بڑے شجاع تھے ۔

 اىک شخص مولائے متقىان حضرت على عليه السلام کے گھرآىا اورگھر مىں انتهائى معمولى اورمختصرسا سازوسامان دىکھ کر بولا:ىا على عليه السلام! آپ مسلمانوں کے خلىفه هىں اورآپعليه السلام کاىه معمولى ساطرز زندگى؟

حضرت على عليه السلام نے جواب دىا:

عقل مند آدمى کرائے کے گھر مىں بهت زىاده سامان نهىں رکھتا۔همارے پاس جوکچھ بھى هوتاهے وه هم بعد کے لىے(ىعنى آخرت کى ابدى زندگى کےلىے) بھىج دىتے هىں!

وه جگه جوعارضى نوعىت کى هو اسے اهمىت دىناعقل کے خلاف هے.

  تىن آدمى باهرسے شهرمدىنه مىں داخل هوئے۔ رات کاوقت تھا۔ ىه تىنوں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم

کےخدمت مىں جاناچاهئتے تھے لىکن کچھ سوچ کر آپس مىں ىه کهنے لگے :

اگر هم تىنوں پىغمبراکرم صلى الله عليه وآله وسلم کى خدمت مىں چلے جائىں توممکن هے رات کے وقت انهىں زحمت هولهذا همىں مختلف مقامات پرجاکرٹھهرنا چاهئىے!

اىک نے کها:

مىں پىغمبراکرم صلى الله عليه وآله وسلم کے گھرجاؤں گا.

دوسرے نے کها:

مىں على مرتضىٰ عليه السلامکے گھر جاؤں گا.

تىسرے نے کها:

مىں مسجدمىں جاکر الله کا مهمان بنوں گا.

  اىک شخص کے پاس کھجوروں کاکافى بڑا ذخىره موجودتھا۔ اس نےمرتے وقت پىغمبراکرمصلى الله عليه وآله وسلم کو وصىت کى که کھجوروں کے اس ڈھىر کو مىرے مرنے کے بعد راه خدا مىن صدقه فرما دىجىے گا.

جب وه شخص مرگىاتو آنحضرت صلى الله عليه وآله وسلمنے کھجوروں کا وه ڈھىر اس کى جانب سے صدقه فرمادىا البته اىک کھجور پڑى ره گئى, آپصلى الله عليه وآله وسلم نے اُسے اپنے دست مبارک مىں لىنے کے بعد ارشادفرماىا:

اگرىه شخص اپنى زندگى مىں خوداپنے هاتھ سے کھجورکا ىه دانه راه خدا مىں دىتاتواس کا ىه عمل اس کے مرجانے کے بعد اتنا بڑا کھجوروں کا ڈھىر جومىں نے اپنے هاتھ اپنے هاتھ سےصدقه کىا هے زىاده بهترهوتا۔