Wednesday, 21 November 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 8

اس هفته 20

اس ماه 154

ٹوٹل 21753

 تحریر : محمد نذیر اطلسی

 

        اسلامی سوسائٹی میں جب عورت کا نام سنائی دے تو چادر میں لپٹی ہوئی گھریلو کام کاج کرنے والی خاتون کا خاکہ ذہن میں آتا ہے جو اپنا اکثر وقت شوہر کی خدمت، اپنے بچوں کی تربیت اور گھر کے کام کاج میں صرف کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ ہمیشہ چاہتی ہے کہ اس کا گھرانہ خوشحال اور سکھا رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ انتھک محنت کرتی ہے اور اپنی دن بھر کی تھکاوٹ کو اپنے چہرے پر بھی نہیں لاتی ، وہ اپنے روزمرہ کے کاموں سے نہ فقط بوریت کا احساس نہیں کرتی بلکہ روحی طور پر خوشی کا اظہار بھی کرتی ہے۔ مذہبی گھرانے کی خاتون ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہے کہ کوئی   نا محرم اس کو نہ دیکھے اور وہ خود بھی حتی المقدور کوشش کرتی ہے کہ اس کی نگاہ کسی نامحرم مرد پر نہ پڑے ۔ لیکن یہی خاتون جب اسلام پر کوئی بُرا وقت آئے تو اپنا سب کچھ لٹا کر اسلامی تقدس کے دفاع پر   ڈٹ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ نہ فقط اپنے عزیزوں کو اسلام کی راہ  پر قربان کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے بلکہ خود بھی معاشرے کے اعضاء میں سے ایک عضو کی حیثیت سے اپنے نقوش چھوڑ جاتی ہے  عورت کبھی ماں کے عنوان سے اور کبھی بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے اپنا کردار پیش کرتی ہے۔

 

عورت نے طول تاریخ میں مختلف انقلابوں اور تحریکوں کی ابتد ا    اور ان کی حفاظت میں بھولے نہ جانے والے کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ جب تاریخ اسلام کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ایسے کارنامے انجام دینے والی خواتین کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے ۔ وہ خاتون کبھی حضرت خدیجہ(سلام اللہ علیہا) کی شکل میں اپنی ساری پونجی اسلام کی ترویج میں صرف کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور کبھی حضرت زہرا ء اطہر(سلام اللہ علیہا) کی شکل میں پیامبر اسلام ﷺکی وفات سے لے کر اپنی مختصر حیات عنصری تک ولایت اور امامت کی تبلیغ ، ترویج اور اس کی حفاظت کے لئے حتی خلفاء کے دربار میں جاکر خطبہ دیا کرتی ہیں ۔ آپ نے اپنے امام وقت کے دفاع میں نہ فقط دشمنوں کے چوٹ برداشت کئے بلکہ ستم یہ کہ ان کا محسن بھی شہید ہوا ۔        چنانچہ آپ کی زبان پر جاری ہونے والا یہ جملہ تاریخ کے سینے میں ہمیشہ کے لئے ثبت ہوا ۔    (بابا جان آپؑ کی وفات کے بعد آپ کی امت نے مجھ پر ایسے مصائب ڈھائے ، اگر یہ مصائب روشن دنوں پر پڑتے تو وہ تاریک راتوں میں تبدیل ہوجاتے)۔ اسی طرح انقلاب حسینی ؑ اور واقعہ عاشورا میں جس شخصیت نے سب سے زیادہ امام حسین ؑسے نورانیت حاصل کی وہ حضرت بی بی زینب(سلام اللہ علیہا) تھیں ۔

سانحہ کربلا کے بعد اگر زینب(سلام اللہ علیہا) نہ ہوتیں تو اس انقلاب کی شعائیں تمام دنیا کو اپنے لپیٹ میں نہ لیتیں ، کسی فارسی شاعر نے اس حقیقت کو بہت اچھے پیرایوں میں بیان کیا ہے۔


ترویج دین اگرچہ بہ قتل حسین شد                        تکمیل آن بہ موی پریشان زینب است
یعنی اگرچہ دین کی ترویج امام حسین ؑکے شہادت اور ان کے خون مطہر سے ہوئی ہےتو اس کی تکمیل سیدہ زینب (سلام اللہ علیہا)کی لٹی ہوئی چادر اور بکھرے ہوئے بالوں نے کی ۔ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) جو علی و بتول(علیہماالسلام) کے دامن میں پروان چڑہیں ، جنہوں نے کبھی دن کی روشنی میں مدینے کے گلی کوچوں کو نہ دیکھا تھا ، اب وہ کربلا میں کیا کیا سہ رہی ہیں ۔  وہ ایک وقت کوفے میں شہزادی کی حیثیت سے آئی تھیں اور آج ہاتھ بندھے قیدی کی حالت میں کوفے کے گلی کوچوں میں پھرائی جاتی ہیں ۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ جناب سیدہ(سلام اللہ علیہا) کی شخصیت، کربلا کے بعد نکھر کر سامنے آئی اور اس کی عظمت اور وقار کو اچھی طرح سے دنیا والوں نے دیکھا ۔ سچی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اسلامی تحریک خواتین کے کردار کے بغیر ادھوری رہ جاتی ہے ۔ آپ مختلف ادوار میں مختلف اسلامی تحریکوں کو ملاحظہ فرمائیں تو بخوبی جان جائیں گے کہ ان تحریکوں میں کسی نہ کسی طریقے سے عورتوں کا کردار رہا ہے ۔ ذیل میں ہم ان میں سے چند ایک نمونوں کی طرف مختصر اشارہ کئے دیتے ہیں ۔

تحریک کربلا میں خواتین کا کردار :


1۔رباب دختر امرء القیس
کربلاء حسینی میں بہت ساری خواتین نے زینبی کردار ادا کیا ۔ ان میں سے ایک حضرت رباب(سلام اللہ علیہا) تھیں ۔ آپ معروف شخصیت امرء القیس کی بیٹی تھیں ۔ آپ امام حسین ؑ کی چہتی بیویوں میں سے ایک تھیں ، آپ اپنے دوجگر گوشوں سکینہ اور عبداللہ کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں ، عبداللہ شہید ہوئے لیکن سکینہ دوسری مخدرات عصمت و طہارت کے ساتھ اسیر ہوئیں ۔ حضرت رباب(سلام اللہ علیہا) نے جب مجلس ابن زیاد میں امام حسین ؑکے سر بریدہ کو دیکھا اور  اسیروں کی صف سے نکل کر آگے بڑھیں اور سر مقدس امام حسین ؑکو اپنے سینے سے لگاکر یہ شعر پڑھنے لگیں :


واحسینا فلا نسیت حسینا                  اقصدتہ اسنۃ الاعداء
غادروہ بکربلا صریعا                               لاسقی اللہ جانبی کربلاء
یعنی میں حسین ؑکو ہرگز بھول نہیں سکتی  ، وہ حسینؑ کہ جو دشمنوں کی نیزوں کا آماجگاہ بنا  ، اس کو جب وہ کربلا کی زمین میں گرگیا تھا ، پانی پلائے بغیر مار دیا گیا  ۔ حضرت رباب نے ان جیسے اشعار کے ذریعے سے ابن زیاد کی محفل میں اہداف امام حسین ؑکی تبلیغ کی اور لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہی دلائی اور دربار میں ایک کہرام سا مچا اس طرح آپ نے کردار زینبی انجام دیا ۔

2۔ ام وہب
   یہ خاتون اپنے شوہر عبداللہ بن عمیر کے ساتھ کوفہ سے اپنے امام وقت کی نصرت کے لئے کربلا پہنچی ، اپنے ولولہ انگیز اشعار کے ساتھ دشمنوں کے درمیان ہلچل مچائی جس پر شمر نے اپنے غلام رستم کو اسے قتل کرنے کیلئے بیھجا وہ اسی طرح اپنے شوہر کے ساتھ جام شہادت نوش کرگئیں اور  واقعہ کربلا کی وہ  پہلی خاتون شہید ہیں جو اپنی آرزو کو پہنچ گئیں ۔

 

3۔ حضرت فضّہ
آپ حضرت زہراء (سلام اللہ علیہا)کی کنیز تھیں ۔ کہا جاتا ہے وہ ہندوستان کی شہزادیوں میں سے ایک تھیں ، فضّہ حضرت فاطمہ زہراءسلام اللہ علیہاکے گھرانے کی ایک فرد کی طرح قابل احترام تھیں ۔ اور ان کے ساتھ کبھی ایک کنیز جیسا سلوک نہیں کیا گیا ۔ وہ حافظ قرآن تھیں اور قرآنی آیتوں سے مخاطب کو جواب دیا کرتی تھیں ۔ سانحہ کربلا میں حضرت زینب (سلام اللہ علیہا)کے شانہ بشانہ اہداف امام حسین ؑکو پھیلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

4. ام لقمان بنت عقیل
سانحہ کربلا کے موقعے پر یہ خاتون مدینے میں تھیں ، جب امام حسین ؑکی شھادت کی خبر ملی تو یہ بہادر خاتون نے اپنے چچازاد بھائی حسین ؑکی حمایت میں اپنی کچھ بہنوں کے ساتھ باہر نکلیں اور مدینے والوں سےکہنے لگیں ۔ (اگر پیغمبر خدا اپنے نواسے کے بارے میں تم لوگوں سے گلہ شکوہ کریں تو کیا جواب دوگے؟! ۔ تم لوگ آخری امت ہو میرے بعد میرے خاندان کے ساتھ کیا سلوک روا  رکھا ؟ تو کیا جواب دوگے ؟ تم لوگوں نے میرے اہل بیتؑ کو سرزمین کربلا میں گھیر کر مار دیا اور کچھ کو اسیر بنایا ، کیا میری زحمتوں کا یہ صلہ تھا؟(1) آپ نے ایسے دلیرانہ انداز میں اشعار کہے کہ مدینے کے مردہ ضمیر لوگوں کے ضمیر جاگ گئے اور مدینے کے حالات یکسر بدل گئے اور بنو امیہ کے حکمرانوں کو پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اپنے کئے ہوئے کرتوتوں سے شرمندہ ہونے لگے ۔


5.فاطمہ کلابیہ (ام البنین) :
فاطمہ کلابیہ جو حضرت علی ؑکی بیوی اور چھار شھید بیٹوں کی ماں ہیں ، جنہوں نے کربلا میں اپنے مولا اور بھائی حسین ؑکے قدموں میں شربت شہادت نوش فرمایا ۔ جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ام البنین کو دی گئی تو چیخ کر بولیں یہ کیا بات ہوئی ، کوئی مجھے میرے بیٹے امام حسین ؑکا حال کیوں نہیں بتاتا ، میرے بیٹے اباعبداللہ الحسین پر فدا ہوں ۔ یہ وہی زینبی کردار ہے جو زینب (سلام اللہ علیہا)نے زندان شام میں جب شہیدوں کے سروں کو لوٹایا گیا تو اپنے بچوں کی فکر کئے بغیر سر اقدس اباعبداللہ الحسین ؑکو اپنے سینے سے چمٹاکر فریاد و فغان کرنے لگیں۔

 

قیام مختار میں خواتین کا زینبی کردار :


قیام مختار میں بھی جابجا زینبی کردار رکھنے والی خواتین کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ ان دلیر عورتوں میں سے ایک عمرہ دختر نعمان بن بشیر انصاری تھیں ۔ مختار نے ان کو اپنی تزویج میں لیا ، مختار کی شہادت کے بعد مصعب نے ان سے کہا کہ اپنے شوہر کے بارے میں اظہار نظر کریں ۔ آپ نے کہا کہ مختار خدا کے لائق اور نیک بندوں میں سے ایک تھے ، جب مصعب کی سازش ناکام ہوئی تو اس نے عمرہ کو زندان بھیج دیا اور اپنے بھائی عبداللہ کولکھا کہ وہ اپنے شوہر مختار کی نبوت کی قائل ہے ۔ عبداللہ نے حکم دیا کہ اس کو قتل کیا جائے ۔ انہیں حیرہ اور کوفہ کے درمیان لے جایا گیا ۔

مصعب کے مامورین نے ان کو تین ایسی ضربتیں لگائیں کہ وہ نیم جان ہوکر زمین پر گریں اور کراہتے ہوئے کہنے لگیں ، اے میرے ماں باپ اور بھائی میرے مدد کو آئیے ۔ اس پر ایک انصاری بنام ابن نعمان آگے بڑھے اور ان کی مدد کرنا چاہا، ابان کو پکڑ کر مصعب کے پاس لایا گیا  مصعب نے جب لوگوں کے درمیان چہ میگوئیاں کو سنیں تو حکم دیا کہ اس کو چھوڑ دیا جائے ۔ عمران بن ربیعہ نے اس خاتوں کے شان میں بہت سارے قصیدے پڑھے ہیں ۔ وہ کہتا ہے کہ فرزندان زبیر اس شیر زن کے ذریعے چاہتے تھے کہ مختار کے خلاف کچھ سنیں لیکن اس نے ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے نہ دیا اور اپنے فصیح اور بلیغ کلمات سے لوگوں کی آنکھوں میں پڑے ہوئے پردوں کو چاک کیا ۔

انہوں نے کہا میں کیسے ایسے مرد کی مذمت کروں کہ جس نے راتیں خدا کی عبادت میں اور دن روزوں میں گزارے ہوں؟ ۔ اس نے پیامبر  اور اس کے نواسے کی پیروی میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی اور شربت شہادت سے سیرآب ہوئے ۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ وہ پیغمبراکرم  اور ان کے نواسے حسین ؑکے پیروکار ، بابصیرت اور شیعیان اہل بیت میں سے تھے ۔ (2) اس شجاع عورت کی گفتگو نے بنو زبیر کی حکومت کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ۔

تحریم تنباکو میں خواتین کا کردار:


عورتیں طول تاریخ میں مختلف تحریکوں میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنے زمانے کے طاغتوں کے خلاف زینبی کردار کو اپناتے ہوئے اپنے ان گنت نقوش تاریخ کے اوراق میں ثبت کرچکی ہیں ۔ایران میں تحریک تحریم تنباکو میں خواتین نے زینبی کردار اپناتے ہوئے اپنے مردوں کے  دوش بدوش ظلم اور استبداد کے خلاف انمول نقوش چھوڑے ہیں ، جب فقیہ زمان شناس شیرازی عظیم نے تنباکو کے خلاف فتوا دیا تو خود شاہ کے دربار میں موجود خواتین نے شاہ کے خصوصی قلیان(حقہ)کو بھی توڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور اس تحریک کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔

انقلاب اسلامی ایران میں خواتین کا کردار :


انقلاب اسلامی ایران کےدوران  تو خواتین کا زینبی کردار اپنے عروج کو پہنچا ۔ اس دیار کی اسلامی خواتین نےانقلاب اسلامی ایران کے آغاز سے لیکر آٹھ سالہ دفاع مقدس تک مختلف مرحلوں میں مختلف پہلوؤں سے قربانیاں دیں ۔ اپنے شوھروں اور بھائی بیٹوں کو دفاع اسلام اور ولایت فقیہ کی حمایت کے لئے آمادہ اور تیار کیا۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران محاذوں کے پیچھے رہ کر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا ، ان قربانیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ دشمن کی نیتیں خاک میں ملیں۔ تحریک انقلاب اسلامی کے بانی حضرت امام خمینی ؒعورتوں کے زینبی کردار کے بارے میں یوں فرماتے ہیں :
 ( اس تحریک میں مردوں سے عورتوں کا کردار زیادہ رہا ہے کیونکہ عورتیں بہادر مردوں کو اپنی گودوں میں پروان چڑھاتی ہیں۔

قرآن کریم انسان ساز ہے اسی طرح عورتیں بھی انسان ساز ہیں۔ اگر کسی قوم اور ملت سے بہادر اور شجاع عورتوں کو نکال دیا جائے تو وہ قومیں شکست اور انحطاط کی طرف چلی جائیں گی  ۔(3) امام خمینی (رہ) مزید فرماتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا افتخار ہو سکتا ہے کہ ہماری خواتین شاہ خائن کی ستمکار حکومت کے خلاف اور اس کے بعد سپرپاور طاقتوں کے مقابلے میں اولین صفوف میں کھڑی ہوئیں کہ اس سے پہلے کسی بھی معاشرے کے مردوں سے ان کا کردار بڑھکر ہے، امام(رہ)ایک بھول نہ جانے والے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ میرے ذہن سے یہ واقعہ کبھی بھلایا نہیں جائے گا جب ایک جوان لڑکی نے ایک پاسدار جس نے اپنے دونوں ہاتھ جنگ میں کٹا دئیے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا تھا سے شادی کرلی اور یہ جملے اپنی زبان پر جاری کئے میں محاذ جنگ میں جاکر جھاد کے ثواب میں شریک نہ ہوسکی اس شادی کے ساتھ اپنے دین اور انقلاب کا قرضہ چکا سکوں  ۔(4)

اسی طرح کے اقدام کے لئے شجاعت اور سرشار روح کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح کا کردار زینبی کردار رکھنے والی عورتیں ہی نبھاسکتی ہیں ۔ یہی عورتیں ہیں جو اپنے مردوں کو انقلابی اقدامات کی طرف ہدایت کرتی ہیں  ۔ (5) اسی طرح" شہید ہمت" کی ماں اپنے بیٹے کی خون آلود لاش پر آکر بوسہ دیتے ہوئے کہتی ہیں بیٹا! میرا سلام امام حسین ؑکو پہنچاؤ اور کہو  جو امانت خدا نے مجھے دی تھی واپس کررہی ہوں ۔ یہ وہی زینبی کردار ہے  ۔(6)

 

لبنانی اور فلسطینی خواتین کا زینبی کردار :


لبنانی اور فلسطینی خواتین بھی اپنے مردوں کے شانہ بشانہ اپنی سرزمین کے دفاع اور بیت المقدس کی رہائی کے لئے کوشاں ہیں ۔ اس جہاد میں عورتوں کا کردار مردوں سے کسی طرح سے کم نہیں ہے ۔ اس وقت فلسطینی اور لبنانی خواتین  اپنے بچوں کی دینی اور شجاعانہ تربیت سے مجاہدین اسلام کو تیار کررہی ہیں ۔ اسرائیل غاصب کے خلاف یہ بہت بڑا  اور یاد رکھنے والا اقدام ہے وہ اپنے بھائیوں بیٹوں اور شوہروں کو اسرائیل غاصب سے جنگ کے لئے آمادہ کررہی ہیں ۔ چونکہ انسان کی تربیت کا آغاز ماں کی گود سے ہوتا ہے جیسا کہ حدیث نبوی میں ہے : (اطلبوا العلم من المھد الی اللحد) یعنی گود سے گور تک علم حاصل کرو ۔ اس حدیث کا مطلب ہے کہ ماں کی گود انسان کی سب سے پہلی درسگاہ ہے لہذا دلیر عورتیں ہی دلیر بیٹوں کی پرورش کرتی ہیں ۔

عراق کی اسلامی تحریک میں بنت الھدی کا کردار :


شہیدہ بنت الہدی صدر بنت علامہ سید حیدر صدر جو آیۃ اللہ شہید محمد باقر صدر کی بہن تھی ۔ آپ نے پڑھنا لکھنا اپنی ماں سے گھر میں سیکھا ۔ آپ کی ماں ان کی تعریف میں یوں کہتی ہیں :(میں جو بھی نیا مطلب اس کو پڑھاتی کبھی نہیں بھولتی) آپ نے اپنے بھائیوں سید اسماعیل اور محمد باقر صدر سے درس فقہ و اصول کو درجہ اجتھاد تک پڑھا اور دوسری خواتین کی ہدایت کے لئے علم و قلم کا اسلحہ سنبھالا ۔ آپ عراقی مسلمان خواتین کے لئے پرچمدار کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ان کے مقالات ، مجلہ ( الاضواء )(7) میں چھاپے جاتے تھے ۔

بنت الہدی کے بارے میں ایک عراقی خواہر کا کہنا ہے (( بنت الہدی نے عراقی خواتین کی معلومات کو بڑھایا ، حجاب اور پردے کو رواج دیا ۔ ان کی کاوشیں باعث بنیں کہ عراقی معاشرے کی نگاہیں عورت کے بارے میں اور عورتوں کی نظر اسلام کے متعلق تغییر پیدا کرے ۔) بنت الہدی اپنے بھائی آیۃ اللہ باقر الصدر کے ساتھ مل کر عراقی عوام میں مردہ ضمیر لوگوں کو جگانے کی انتھک کوشش کی ۔ آپ نے اپنی کتابوں اور مقالوں کے ذریعے اسلامی عورتوں کے احساسات کو ابھارا اور انہیں اسلامی تعلیمات اور حجاب اسلامی کی طرف دعوت دی اور صدام پلید کی بعثی حکومت کے اسلام دشمن عزائم سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہی وجہ تھی کہ صدام حکومت نے آپ اور آپ کے بھائی کو زندان بھیجا ، جہاں آپ نے کڑی سے کڑی صعوبتیں برداشت کیں  لیکن اپنے زینبی کردار سے ایک لحظے کے لئے بھی پیچھے نہیں ہٹیں ۔ جس کی وجہ سے صدام لعین نے یزید سے بھی آگے بڑھکر فقط بھائی کے شہادت پر اکتفاء نہ کیا بلکہ بنت الہدی کو بھی شہید کر ڈالا ۔  ان شہیدوں کے خون رنگ لائے کہ آج عراقی عوام صدام لعین اور اس کے کارندوں سے ہٹ کر ایک مستقل جمہوری حکومت بناچکے ہیں ۔

حالیہ اسلامی بیداری تحریکوں میں خواتین کا زینبی کردار :


آج دنیا ئےعرب میں بیداری اسلامی کی جو لہر دوڑی ہے اس میں بھی خواتین کا زینبی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ طاغوتی حکمرانوں کو گرانے کے لئے جو مظاہرے ہوئے عورتوں کا کردار نمایاں رہا ہے بالخصوص بحرینی خواتین نے جو زینبی کردار آج کے یزیدی حکمرانوں آل خلیفہ اور آل سعود کے سامنے پیش کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ شاعر خاتون آیات القرمزی کی شہادت، مختلف لیڈی ڈاکٹروں اور نرسوں کو زینبی کردار اپنانے پر جیل کی سخت ترین صعوبتوں کو جھیلنا پڑ رہا ہے ۔ بعض خواتین نے تو شربت شہادت بھی نوش کیا ۔ یہی خواتین ہیں جو مختلف مصیبتوں کو دل و جان سے قبول کرتی ہوئی ہر موڑ پر یزیدی حکمرانوں کا مقابلہ کر رہی ہیں ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات،قوی سے قوی تر ہوتے جاتے ہیں ۔ انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں کہ ان کی زحمات رنگ لائیں گی اور انہیں فتح و نصرت حاصل ہوکر رہے گی انشاء اللہ ۔

تحریک پاکستان میں خواتین کا زینبی کردار :


تحریک پاکستان میں بھی خواتین نے انمٹ کارنامے انجام دیئے ہیں انہوں نے مختلف مرحلوں میں مردوں کے شانہ بشانہ برصغیر میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ حکومت کی تشکیل کے لئے کردار ادا کیا ۔ انگریزوں کے مکار چہرے کے پیچھے موجود واقعیت کو روشناس کرانے کے علاوہ ، ہندؤں کے ناپاک عزائم سےبھی لوگوں کو مطلع کیا ۔ اس سلسلے میں کئی مقالات پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ فی الحال صرف  ایک خاتون کے کردار پر اکتفاء کرتے ہیں ۔


فاطمہ جناح ، مادر ملت ان ہی خواتین میں سے ایک ہیں آپ نے اپنے بھائی قائد اعظم محمد علی جناح کے ہمراہ آزادی پاکستان کے لئے بے انتہا کارنامے پیش کیے ۔ انہی کارناموں میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی محمد علی جناح مختلف موقعوں پر تھک ہار کر گھر پر آتے تو آپ بہن ہونے کے ناطے ان کی خدمت میں مگن ہوجاتیں ، آپ کو انقلابی اہداف کی طرف ابھارتیں اور ایسی پیاری پیاری باتیں کرتیں کہ قائد اعظم اپنی تھکاوٹوں اور مشقتوں کو بھول جاتے ۔ اور ایک نئے جوش اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ۔ فاطمہ جناح نے   برصغیر کی مظلوم خواتین کی رہبری فرمائی اور انہیں اس حد تک بیدار کیا کہ خواتین نے مردوں کے ساتھ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیں ۔ انہوں نے آزادی پاکستان کیلئے برصغیر کی مسلمان خواتین کی قربانیوں سے بھی دریغ نہیں کیا ۔ سلام ہو ان خواتین پر کہ جنہوں نے آزادی پاکستان کیلئے ہر قسم کی قربانی پیش کیں جس کی بدولت آج ہم ایک اسلامی ملک کے اندر چین کی زندگی گذار رہے ہیں ۔

.......................................................................................................

منابع :

(1)  ۔ جایگاہ بانوان در اسلام ، ص ۱۰۶۔

(2)  ۔ بہشتی ، دکتر احمد ، زنان نامدار ، ج۲ ، ص ۸۹ ۔

(3)  ۔ صحیفہ نور ، ج ۵ ، ص 153 تا ۱۵۴ ۔ یہ کلمات امام روز زن کے مناسبت سے بیان کئے ہیں۔

(4)  ۔ صحیفہ نور ، ج 16 ، ص 125 تا ۱27 ۔ تاریخ 25/1/1361 ھ ش ۔

(5)  ۔ بیشتر اطلاع کے لئے رجوع کریں ، صحیفہ نور ، ج 16 اور ۱۳ ۔

(6)  ۔ ستارہ ہای بی نشان۔

(7)  ۔ یہ مجلہ نجف میں علماء کا ایک گروہ منتشر کررہا تھا ۔