Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

    تحریر:  بشیر احمد استوری

 

بچیوں کی تربیت کے حوالے سےقا رئین  کی خدمت میں چند عرائض پیش خدمت ہیں. خدا وند متعال نے جو بھی آپکو  اولاد  عطا کی هے خواہ و ہ بيٹا هو یا بیٹی ،آپکے پاس امانت ہے.  جیسے جسم آپ کے پاس امانت ہے ویسےہی اسکی روح بھی امانت ہے. جیسے والدین بچے کے جسمی سلامتی اور رشد کے لیے کوشاں رہتےہیں ویسے ہی روحانی رشد اور سلامتی کیلے بھی کوشش کرنی چاہیے.

 

جیسے ابتداء میں انسان کا جسم لطیف اور پاک ہوتا ہے ویسےہی اسکی روح بھی لطیف اور پاک ہوتی ہے . ولادت کے بعد ، پہلے سات سال  جیسے جسم کی پروان اور نشونما  کیلئے بہتاہم ہےاسی طرح  روح کی پرورش بھی اهم ہے تاکه اس کی بھی نشونما  صحیح اور  مذہبی هو .

 

 

     والدین کو چاهیےاپنے،گفتار ،کردار اور  صحیح عمل سے بچے کی صحیح تربیت کریں اور برے اخلاقی یعنی لڑائي اور جھگڑوں سے اجتناب کریں اور اپنی بچوں کو بری تربیت سےبچائیں اپنی غیر اخلاقی عادتوں کو ختم کرنا بڑ ا مشکل هے جیسا که امیرالمئومنین ؑنے فرمایا هے (أَصْعَبُ‏ السِّيَاسَاتِ‏ نَقْلُ الْعَادَات)[i] سب سےمشکل ترین چیز یہ هے کہ انسان اپنی عادات کو تغییر دےدیں.

 

 

واضح هے کہ اگر والدین میں سے دونوں یا ایک کی عادت مثال کے طور پر لڑائی اور جھگڑے کی هو تو اسکو ترک کرنا مشکل هے. ناممکن نہیں ،اگر ترک کردیں تو بچوں پر  تربیت کا ا ثر  صحیح هوگا وگرنہ بچے ذهنی طور پر اچھی تربیت حاصل نهیں کر سکتے.

 

 

امیر المومنینؑ اپنی ایک بچی کو مخاطب کر کے یو ں فرماتے هیں: بچی کا دل بھی زمین کی طرح هےزمین  ميں جو بھی کاشت کیا جائے اسکو قبول کرتی هے دل بھی اس طرح سےهے ميں نے بھی آپکے دل كو سخت هونے سے اور ذهن کے مشغول هونے سے پہلے آپ کی تربیت کیلے اقدام کیا.[ii]

 

 

تربیت کی لغوی تعریف:

  

   لغت میں تربیت مشتق هے "ربو" سے جسکا معنی هے نمو اور افزائش کرنا،قرآن میں (رب) نوسو سات اور (رب العالمین) چھیالیس مرتبہ ذکر هوا ہے اگر (رب )مطلق ذکرہو اس سے مراد خدا وندمتعال هے جیساکه سورہ سبا میں ارشاد هوتا ہے(بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَ رَبٌّ غَفُور)[iii]  اور سوره آل عمران  میں بھی ذکر ہے   (وَ لا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَ النَّبِيِّينَ أَرْبابا)[iv] ان دو آیتوں میں (رب )مطلق ذکر هواہے اس سےمراد یہ هے که تم ملائکہ اور انبیاء کو خدا قرار نہ دے دو  ا ور   اگر رب کسی چیز کی طرف اضافه هو تو (رب ) سے مراد غیر خدا هے جیسا که قرآن میں  ذکر هوا هے. (اذْكُرْني‏ عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْساهُ الشَّيْطانُ ذِكْرَ رَبِّه)[v] اس آیت میں   ربک سے مراد بادشاہ هے.

 

 

اصطلاحی تعریف

 

 

علماء اور دانشمندوں نے تربیت کی مختلف تعریفیں کی هیں ان تمام  کی روشنی میں ایک جامع  تعریف کی جا سکتی هےتربیت  یہ هے که انسان کی خداداد پوشیده صلاحیتوں کو اجاگر کرنا کسی خاص هدف و مقصد کیلے عوامل کو فراهم کرنے کا نام تربیت هے.

 

اس تعریف  ميں چند نکات قابل ذکر هیں.

 

 

1۔ هر انسان کے پاس پوشیده صلاحیتیں هیں۔ جب تک صحیح تربیت نه هو تو ان صلاحیتوں  سےانسان بهره مند نهیں هو سکتا هے پیامبر اکرم کا ارشاد هے (النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ‏ الذَّهَبِ‏ وَالْفِضَّةِ)[vi] لوگ سونا اور چاندی کی طرح معادن هیں.

 

 

2۔ ان پوشیده صلاحیتوں کو نکھارنا  مربی کا کام هے مربی زمین ہموارکرے اور جس کی تربیت کی جا رہی ہے وہ  مطلوب کی طرف حرکت کرے جیساکه ایک باغ کا مالی درختوں کوصلاحیت نهیں دیتا  بلکہ انکے کمالات كی رشد اور نمو کی لیے زمین ہموار  کرتا ہے ۔

 

 

3۔موضوع تربیت اگرچہ عام هے لیکن یہاں پر انسان موضوع تربیت هے.

 

4۔غرض خاص سے مراد قرب الی الله هے.

 

 

 

والدین کے تربیتی چھار خصوصی وظیفے

 

 

علامہ مجلسی  آیہ(قُوا أَنْفُسَكُمْ‏ وَ أَهْليكُمْ‏ نارا)[vii]کے ذیل  میں فرماتے ہیں: بدعائهم إلى طاعة الله و تعليمهم الفرائض و نهيهم‏ عن‏ القبائح‏ و حثهم على أفعال الخير ۔[viii]

 

 

اس حدیث شریف کے ذیل میں یوں شرح بیان کیا گیا ہے:

 

 

۱ -بدعائهم إلى طاعة الله

 

 

والدین کو چاہے اپنے بچوں کو خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف دعوت دے دیں دعوت کا طریقہ اسطرح سے ہو کہ اس دعوت کوقبول کرنے کےلیے سختی اٹھانا نہ پڑے ،دعوت خوش طبعی اور مھرومحبت کے ساتھ ہو تاکہ بچے اگر عاشق اطاعت خداوند ہو تو اپنیتمام زندگی کے وظائف سے اطاعت خدا کو مقدم کرتے ہیں۔

 

جب بچہ خدا کی اطاعت کرے تو اسے کسی طرح سے تشویق کیا جائے جیسے انعام دیا جائے یا پیار کیا جائے وغیرہ وغیرہ

 

اس مقام پر ماں کو خاصتوجہ کرنا چاہیے جب بھی اس کے شوھر کی طرف سے خدا کی اطاعت کی دعوت ہو تو خوش اسلوبی کے ساتھ قبول کرے تاکہ اس کا اثر بچوں پر ظاہر ہو۔

 

 

جیسا کہ حضرت سیدہ کونین سلام اللہ علیھا ماہ رمضان کی تئیسویں رات کو یعنی شب قدر کو اپنے بچوں کو سونے کی اجازت نہیں دیتیں تھیں۔ رات کو تھوڑا کھانا کھلاتیں جب بھی بچے سوتے تو ان کے چہرے میں پانی چھڑکتی تھیں یہ سیدہ کونین سلام اللہ علیہا  کا عمل تمام ماؤں کے لیے نمونہ عمل ہےاسلامی تربیت کیلئے تھوڑی سختی جائز ہےبچوں کے سن و سال ،ظرفیت اور شعور کو دیکھتے ہوئے  بہت ساری روایات میں تاکید یاد دہانی  ہے کہ دودھ پینے والے بچے  کو حج کے لیے  لےجائیں ان کی طرف سے اعمال نیابتی بجالائیں  چونکہ حج کے اعمال سادہ نہیں ہیں  لیکن بچے پر لطف کرنا اہم ہے۔

 

 

۲ -و تعليهم الفرائض

 

 

 والدین کو تا حد امکان چائیے بچے کو احکام و اخلاق کی تعلیم دیں ،اگر تعلیم نہیں دے سکتے  تو کم از کم مذہبی  محافل، مجالس اور مساجد جانے کی مواقعے فراہم کریں۔اگر یہ نہیں ہوسکتا تو عالم دین کو گھر بلا کر بچے کو واجبات کی تعلیم دلوائیں۔

 

 

۳۔و نهيهم‏ عن‏ القبائح

 

 

اوروالدین اپنے اولاد کو برے کاموں سے منع کریں، دین مبین اسلام کے احکام میں سے بھی (فروع دین میں سے)یک برائیوں سے روکنا ہے۔ چونکہ والدین  سب سے زیادہ بچوں کے قریب ہوتے ہیں ، اور ان  کا روکنا خاص اثر  رکھتا ہے، اسی لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے اولاد کو نیکی کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ براہوں سے بھی منع کریں۔

 

 

۴-و حثهم على أفعال الخير

 

 

 والدین پر واجب ہے کہ بچے کو کارخیر مانند صدقہ دینا ،اپنے بزرگوں کیلئے تواضع ، سچ بولنے اور ہمیشہ حق کی تلاش کیلئے تشویق اور ترغیب  دیں یہ چھار کام ایسے ہیں جن کا  قرآن مجیدنے قُوا أَنْفُسَكُمْ‏ وَ أَهْليكُمْ‏ نارا "کی صورت میں  حکم دیا  ہے۔[ix] کا مطلب یہ ہےکہ:"قُوا أَنْفُسَكُمْ‏ وَ أَهْليكُمْ‏ نارا "

 

اے ایما ن   وا لو!  اپنے آپ کو   اور اپنے            بیوی اور بچوں    کو    جهنم کی آگ   سے  بچالو. تم همیشه اپنی فکر میں رہتے هو  خود روز ے رکهتے هو   لیکن اپنے بچوں کے روزے کی طرف آپکی توجه نهیں هے. خود نماز پڑھتے هو لیکن بچوں کی نماز کے طرف توجه نهیں دیتے ،اپنے حجاب کی فکر میں تو رهتے هو لیکن بچیوں کے حجاب کی طرف توجه نہیں دیتے دو. اگر آپ متقی هیں تو آپکا وظیفه یه هے کہ اپنے کو اور اپنےبیوی اور بچوں       کو جهنم سے بچا لیں۔

 

 

اس آیت کی تایید میں ایک اور  ایک آیت کا ذکر  هے.((إِنَّ الْخاسِرينَ‏ الَّذينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَ أَهْليهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبين))[x] قیامت میں وه لوگ نقصان میں هیں جو اپنی اولاد کی وجه سے جهنم جاینگے  انکا نقصان  واضح اور مبین هے چونکه اپنے آپکو اور بیوی بچوں کو جهنم کی آگ سے نجات نهیں دلوا سکے.

 

 

 روایات میں آیا هے  که افسوس هو ان  والدین پر جو اپنے بچوں کی دنیوی فکر تو کی  لیکن انکی آخرت کی زندگی اور اخلاق اور آداب سنوارنے سے گریز کیا۔

 

 

بچوں کے ساتھ صحیح  زندگی     گزارنا  اور اس فکر میں رهنا که انکی بچی کا جهیز آماده هو ، اپنی جگه  صحیح ہےلیکن اولاد کی  دینی تربیت کے حوالے سے بھی بے فکر نہیں ہونا چاہیے ۔والدین کو نظر رکھنا چاہیے کہ  انکی بچی کب گھر سے نکلتی هے کون اس کے   دوست هیں اور کهاں جاتی هے؟[xi]

 

 

ایک اور روایت میں پیامبر اکرم فرماتے هیں.  خدا ان والدین پر لعنت کریں جو اپنی  اولاد کےعاق هونے کا باعث بنتےهیں.[xii]

 

اس حدیث کا یہ مطلب هے اگر والدین اپنے بچوں کی صحیح دینی اور اخلاقی  تربیت نہ کریں تو اکثر اولاد  سرکش اور بے ادب هوتے هیں. ماں باپ کے مقابلےمیں اکڑ جاتے هیں  پیامبر اکرم       ایسے والدین پر لعنت  کرتے هیں جو اپنی اولاد کے عاق هونے کا باعث بن جاتے هیں . کیوں کہ ماں اور باپ کو چاهیےکہ اولاد کی تربیت کر یں  انکو با ادب اور با اخلاق بناہیں اگر ماں، باپ نے تربیت میں کمی کی هو تو وهی ذمہ دار  هیں.

 

 

بعض والدین بچیوں پر عدم توجه کی وجه سے جهنم جا  ئیں گے  ؛روایات میں آیا هے که قیامت کا دن هو وه ماں جو همیشہ پردے میں رهتی تھی اور پاک دامن تھی اسکو حکم هو گا تم بھی جهنم چلی جاو  کیو نکه اپنی بچی کو با پرده بنا سکتی تھی لیکن تربیت  کا حق ادا نهیں کیا  اسی لیے وه بے حجاب رهی اسکی ماں کو کها جائیگا اسکی بد حجابی اور لا ابالی میں آپ شریک هیں. قیامت کے دن جو بچی نماز نهیں پڑھتی تھی اور روزہ نهیں رکھتی تھی جهنم جائے گیاور اس کا باپ جو نمازی تھا اسکو بھی کہا جايگا تم بھی جهنم چلے جاو کیوں که تم بچی کو نمازی بنا سکتے تھے لیکن نهیں بنا یا۔[xiii]

 

 

الغرض والدین کی ذمہ داری ہے کہ سن بلوغ سے پہلے بچوں کییوں تربیت کریں ،کہ جب اولاد  پر واجبات ادا کرنے کا وقت آئے تو اولاد شوق اور ذمہ داری سے واجبات ادا کرے۔ روایات میں هے که  قیامت کا دن خدا کے حضور بعض بچے  اس ماں، باپ کے خلاف شکایت کرینگے جو اپنے بچوں کو لقمہ حرام دیتے تھے ایک تاجر جو اپنےکار وبار میں حرام کماتا تھا اور بچوں کو حرام کھلاتا تھا کی شکایت ہو گی.

 

 

کیونکہ لقمہ حرام کا اتنا اثر هے کہ قرآن میں اسکا یوں تذکرہ هوا هے(فَوَيْلٌ‏ لِلْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّه)[xiv]لقمه حرام کے آثار میں سے ایک انسان کے دل کو سیاه کرنا هے۔ روایت میں پیامبر اکرمﷺ فرماتے هیں لَرَدُّ الْمُؤْمِنِ‏ حَرَاماً يَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ سَبْعِينَ حِجَّةً مَبْرُورَة)[xv]

 

 

مومن کو حرام مال کا واپس کرنا خدا کے نزدیک ستر حج مقبول کے ثواب سے زیاده هے۔کیو نکه لقمه حرام باعث بنتا هےکه شیطان اسکا شریک هو جسکا شیطان شریک هو  کیسے ممکن هے کہگناهوں میں آلود  ہ   نہ هو . ماں  باپ  توجہ کریںاگر اولاد قرآن کی تلاوت نهیں کرتا، عبادت گزار نهیں هےیا عبادت سے کتراتا  هے اسکی وجه لقمہ حرام کا اثر هے.[xvi]

 

 

مشهور واقعہ هےجب حضرت زهراء کا نور صلب پیامبرﷺ سے حضرت خدیجه کی رحم میں  منتقل هو رها تھا حکم هوا پیامبر اکرم ﷺلوگوں سے کنار گیری کریں اور  چالیس دن رات غار حرا میں رهیں اور حضرت خدیجه کو بھی حکم هوا  کہ لوگوں سے کنار  گیری کریں اپنے گھر  میں عبادت میں مصروف رهیں۔ جب چالیس دن   اور رات گذر گئے توپھر  حضرت جبرئیل  کے ذریعے  سے حکم هوا  اپنے گھر تشریف لے جاہیں  حضرتﷺ نےگھر     کے  دروازے پے دستک دی۔ حضرت  خدیجه   نے آواز دی سوائے آنحضرت ﷺکے کسی کو  گھر میں داخل هونے کی اجازت نهیں هے .آنحضرتﷺنے فرمایا میں هوں۔  پیامبر اکرمﷺ گھر میں داخل هوئے  حضرت جبرئیل نےجنت کا کھانا حاضر  کیا  حکم  دیاآپ دونوں کے  علاوه کسی کو کھانے  کا حق نهیں   اور نور زهرا   حضرت خدیجه    کو    منتقل هوا.      [xvii]

 

 

 اس واقعه سے یہ  درس ملتا   هےکه لقمه حرام سےبچ جائے وگرنہ جو بھی اولاد پیدا ہو  بے چاره هوگا.  عصر عاشور جب حضرت  امام حسینؑ کی پیشانی مبارک  کو  دشمنوں نے زخمی  کیا ،تو  حضرت زینب سلام اللہ علیہا  نے فرمایا : کیا آپ نے اپنی معرفی نهیں کروایا؟تو  حضرت  امام حسینؑ نے فرمایا : انکے پیٹوں میں حرام بھرا هوا هے حق  کی بات کا اثر نهیں هوتا هے.

 

روایات میں ملتا هے:اولاد جهنمی هو   ینگے برے کام کی وجه سے اور ماں باپ جهنمی هو نگے  بری تربیت کی وجه سے یا اولاد کی تربیت میں کوتاہی کی وجه سے.[xviii]

 

 

پس بچیوں کی تربیت کے حوالے سے یهی کافی هے کہ آج کی بچی کل کےمعاشرے کا عضو هےایک بچی کی تربیت ایک  معاشرے کی اصلاح هےکیو نکه آجکی بچی کل کی ماں هے اگر خواتین کی اصلاح هو جائے اور وہ صراط مستقیم پر گامزن هوں تو مرد خود بخود  صراط مستقیم پر  آجائیں گے. اپنے بچوں اور شوهر کو سکون فراهم کرنا آسان کام نهیں هے اور یہ سکون فراهم کرنا تربیت شدہ ماں کا کام هے

 

چناچہ فرزند صالح کی تربیت والدین کی کامیابی کے  باعث ہوتی هے۔

 

 ..............................................................

 

۔۔اقتباس از محسن شکوهی نیا، تعلیم وتربیت اسلامی  [i]

 

[ii]غرر الحکم ، ص283 شرح آقای جماالدین خوانساری۔

 

۔سوره سبا ،آیه 15:[iii]

 

سوره آ ل عمران ،آ یه 80:[iv]

 

سوره  یوسف ،آ یه ،42:[v]

 

۔محسن شکوهی یکتا،  تعلیم و تربیت اسلامی ،ص5: [vi]

 

 

 

۔تحریم آیه 6[vii]

 

[viii]۔ مجلسی، بحار الانوار ،ج71، ص86۔

 

۔مجلسی، بحار الانوار ،ج71، ص 86[ix]

 

۔سوره ، زمر ،آیه 15:[x]

 

تربیت فرزند از نظر اسلام، انتشارات روحانی، ص 16،،مظاهری۔[xi]

 

12   مجلسی، بحار الانوار ، ج77،ص58

 

۔ ایضا،ص 18، مظاهری[xiii]

 

،سوره زمر، آیه 22،[xiv]

 

نوری، مستدرک الوسایل، ج2، ص302:[xv]

 

۔۔ایضا ، ص71[xvi]

 

[xvii]۔۔ایضا، ص19

 

[xviii]۔۔ایضا ،ص:19