Wednesday, 21 November 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 8

اس هفته 20

اس ماه 154

ٹوٹل 21753

تحریر : خدا  امان

مصائب و آلام :

ثانی زہراء (س)کواپنی زندگی کے دوران جیسے مصائب سے دوچار ہونا پڑا ، طول تاریخ میں ہمیں کم ہی ایسے افراد نظر آتے ہیں، بالخصوص خواتین ، جن کو اس قسم کے غم واندوہ کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جن مشکلات و گوناگون صدمات روزگار کو جس تحمل و بردباری سے آپ نے برداشت کیا۔ اس طرح کے حالات میں شجاع ترین افراد زمانہ بھی گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔کم از کم اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ انبوہ آلام قوت کلام کو سلب کر کے خموشی پر مجبور کردیا کرتا ہے۔لیکن سیدہ کی عظیم بیٹی جناب زینب کبریٰ کی کیفیت یہ ہے کہ کشمکش روزگار کے مقابلے میں اگر چہ آپ کا جسم کمزور ہوگیا۔اشھب عمر بطرف منزل آخر تیز رفتاری سے روانہ ہوگیا۔ تا ہم حالت نا سازگار و نامساعد کا پورے تحمل و وقار و قوت کے ساتھ اپنے مقدس ہدف زندگی کو سامنے رکھ کر مقابلہ کیا۔ یہ وہ ہستی ہے جس نے پورے 20 برس کا طویل عرصہ اپنے والد بزرگوار کی نہ صرف گوشہ نشینی کا مقابلہ کیا بلکہ ام المؤمنین ؑ کے مقامات صبر میں ، جو انتہا سے زیادہ تلخ اوردلخراش تھے،آپ کا اس طرح مکمل طور پر ساتھ دیا کہ کسی موقع  پر بھی بے قراری اور بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا[i]۔

 

دنیائے مصائب و آلام میں ورود:

ثانی زہراء (س)کی زندگی بعض خصوصیات اپنے دامن میں رکھتی ہے ۔ آپ نے تقریبا (56) سال عمر پائی۔ اس میں چھ سال معمول کے مطابق زمانہ طبیعی تھا۔ کہہ سکتے ہیں کہ آپ(س) کی زندگی کا یہ عرصہ خوشی و شادمانی کا زمانہ تھا۔ اگر چہ اس دور میں بھی امیرالمؤمنینؑ کی سادی زندگی تکالیف سے خالی نہ تھی ۔ تاہم بچپن کے اس عالم میں یہ حقیقت باعث اطمینان قلب تھی کہ قوی و شجاع والد بزرگوار کا سایہ ، مادر مہربان کی شفقت ، برادران ارجمند و عزیز کاساتھ جیسے حالات حاصل زندگی تھے۔ ان تمام کیفیات کے علاوہ جد بزرگوار جناب رسول خداﷺ کا شفیق سایہ نصیب تھا جن کی محبت و شفقت ، مادی و ظاہری کمی کو پر کر کے ہر قسم کی کمی و محرومی کو دور کر رہی تھی۔

  شہزادی کو اچانک طوفان حادث نے گھیر لیا۔ دست اجل آپ کے باغ حیات پر حملہ آور ہوا  اونخلہائے حیات اس کی زد میں آنے لگے۔ گلشن حیات پر یکے بعد دیگرے یلغار حوادث ہونے لگے اور مصائب و آلام عظیم خرمن ہستی پر یورش کرنے لگے جس کے نتیجے میں  زندگی کے باقی 50 سال میں زینب علیا ؑ کو رنج و مصائب، بلیات و حرماں نصیبی کے پہاڑوں کا سامنا کرنا پڑا۔

وفات رسول خداﷺ پر صبر:

  ثانی زہراء (س)کے بچپن کی یہ پہلی مصیبت تھی جس میں آپ کے سامنے دو رنج تھے جن کو برداشت کرنا تھا اور ان مصیبتوں پر صبر کرنا تھا۔ ان میں سے ایک تو وفات رسول اکرمﷺ کا غم تھا، وہ ہستی جو آپ (س)پر پدر مہربان کی طرح شفیق تھیں اور انہیں بھی ذات رسول اکرمﷺ یعنی اپنے عظیم نانا سے اس قدر محبت تھی جو عام طور پر بچوں میں نہیں پائی جاتی۔ دوسرا غم اپنی مادر مہربان کے جگر خراش آہ و بکا ءکو سن کر پیدا ہو رہا تھا کیونکہ کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں سیدہ طاہرہ کا قلب نازک اپنے پدر بزرگوار کے سلسلے میں تسکین پاتا ۔یہ دونوں غم 6 سال کی عمر یا بعض روایات کے مطابق چار سال کی عمر میں پیش آئے[ii]۔

  وفات رسول اکرمﷺ پورے خانوادہ کے لئے شدید مصیبت تھی جس خانوادہ میں سیدہ زینب(س) کی کیفیت یہ تھی کہ اس قدر کم عمری میں ہی آپ حادثہ موت کو سمجھنے اور عظمت رسولﷺ مقبول کا ادراک کرنے لگی تھیں۔ اس مصیبت کا دردناک ترین پہلو یہ ہے کہ آپ گھر بھر کی پریشانی ، غم و اندوہ، تمام مردوں اور خواتین کے نالہ و شیون کو دیکھتیں اور محسوس کرتی تھیں۔

مادر گرامی کی وفات پر صبر:

وفات رسول اکرم ﷺ کے بعد سیدہ فاطمہ الزہرا (س)زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں ۔ علامہ مجلسیؒ  فرماتے ہیں کہ حضرت زہراء (س)وفات رسول اکرم ﷺ کے بعد ۴۰ دن زندہ رہیں [iii]۔ ( اور بعض نے ۷۵ دن  اور بعض نے ۹۵ دن کی زندگی بیان کی ہے )۔ اس مصیبت کے وقت جناب سیدہ (س)چھوٹی ہی نظر آتی ہیں ۔ اس حالت میں زینب (س)کو اپنے والد ہ  محترمہ کی وصیّتیں سننا ہیں ۔

حضرت زہراء(س)وصیت کرتے ہوئےحضرت  زینب (س) سے فرماتی ہیں:

  " زینب(س)!میری جان:میرے بعد تم میری جگہ لوگی۔زندگی کی ذمہ داریاں اور امور خانہ داری تمہیں برداشت کرنا ہوں گے۔اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑنا ۔ان کی دیکھ بھال اور باپ کی خدمت و محبت میں پوری کوشش کرنا "۔

  زینب عالیہ(س) پر اپنی والدہ گرامی(س) کی وفات اپنی جگہ ایک مصیبت عظمیٰ تھی لیکن ان کی وصیت کے مطابق اس عظیم مصیبت پر خموشی اختیار کرنا اور اسے مخفی رکھنا اس سے  بھی بڑی مصیبت ؛کیونکہ حکمرانوں کی اجازت نہ تھی کہ گھر میں شور نالہ و شیون بلند ہو ، مبادا کہ ہمسائیگان سن کر ہر طرف اس خبر مصیبت کو پہنچادیں اور لوگ سیدہ فاطمہ زہراء (س)کے جنازہ میں شرکت کرنے کیلئے آنے لگیں۔غرض خبر وفات دختر پیغمبرﷺ کی شہرت نہ ہونےپائے[iv]۔تا ہم زینب کبری(س)اپنی کم سنی کے باوجود گریہ کناں ہیں لیکن آہستہ آہستہ بے آواز رو رہی ہیں۔یہ کام بچوں کے لئے بہت زیادہ دشوار ہوتا ہے بلکہ مصیبت خیز بھی۔ بچوں کے لئے کیونکر ممکن ہے کہ چھپ کر اور آواز بلند کئے بغیر گریہ کریں ، نہ ہی یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے سوز دروں کو چھپائے رکھیں مگر یہ کہ کوئی صابرہ ہو۔

پدر بزرگوار کی شہادت پر صبر:

  جناب سیدہ زینب (س)اپنے عظیم باپؑ کے فراق مستقل سے دوچار ہوتی ہیں ۔ شہادت امیرالمؤمنین ؑ شہزادی کے احساس غم و اندوہ میں زیادتی کا باعث ہے ، وفات سیدالانبیاءﷺ اور مظلوم ماں(س) کی وفات و مظلومیت کی یاد تازہ ہوجاتی ہیں ۔ماضی کے جانگداز واقعات یعنی امیرالمومنین ؑ کے غصب حقوق اور حضرتؑ کا سکوت و صبر ، سب دوبارہ زندہ ہو کر از دیاد رنج و الم کا موجب بن جاتے ہیں[v]۔

برادر بزرگوارؑ کی شہادت پر صبر:

  حضرت علی مرتضیٰ ؑ کی شہادت کے بعد ثانی زہراءؑ کے برادر حسن مجتبیٰ ؑ کی امامت کا دور آیا لیکن جن لوگوں نے امیرالمؤمنین ؑ پر مظلومیت و تنہائی کے ابر کو محیط کیا تھا انہوں نے ہی امام حسن ؑ کو ایسا تنہا چھوڑا کہ معاویہ کی تاخت و تا راج کے لئے میدان مہیا کردیا اور انتہا یہ ہوئی کہ معاویہ کا اثر امام حسن ؑ کے اندرون خانہ آپؑ کی زوجہ تک پہنچ گیا۔  برادر معصوم ؑ کی بے وفاء زوجہ ان کو زہر دے دیتی ہے لیکن امام معصوم ؑ کی وصیت کی بناء پر آپ کے پس ماندگان نہیں چاہتے کہ اس زوجہ بے وفاء کو رسوا کریں ۔          یہ تمام مصائب و آلام اپنے  اپنے مقام پر ہجوم کر کے آئے، ان کے نتیجے میں شدت غم کی انتہا یہ ہے کہ یہ سب واقعات جانکاہ مقتضی ہیں کہ جن آلام کی برداشت کے لئے مجبور ہیں۔ ان کے لئے کسی طرح کی صدائے احتجاج بلند کرنے اور حق گوئی تک کی ہرگز جرأت نہ کی جائے ،صرف صبر و استقلال ہی شہزادی کے لئے چارہ ساز تھا۔

  ان تمام روح فرسا حالات میں ثانی زہراء(س) کا صبر و تحمل و استقلال و احساس ذمہ داری کی مثال تاریخ انسانیت پیش کرنے سے قاصر  ہے ۔زیارت ناحیہ میں امام زمانہ ؑ نے آپ (س)کے صبر و تحمل کو اس جملے سے خراج تحسین پیش کیا ہے:

  آپ (س)کے صبر کو دیکھ کر ملائکہ عرش بریں انگشت بدندان رہ گئے [vi]۔

شہادت امام حسین ؑ پر صبر :

  ثانی زہراء(س) تمام واقعہ کربلا کی نہ صرف شاہد ہیں بلکہ اپنے برادر عالیقدر کے مصائب میں برابر کی شریک ہیں ،کسی حال و کیفیت میں آپ سیدالشہداء سے جدا نہیں ہوئیں ،حضرت امام حسین ؑ کی دردناک شہادت اور تمام عزیزان و ہمراہیان کی شہادتوں کے بعد مستقبل میں پیش آنے والے تمام تلخ و جان سوز واقعات کو بنظر حقیقت ملاحظہ کرتے ہوئے آپ قافلہ اسیران کے ہمراہ روانہ ہوگئیں ۔مصائب آلام کا شہزادی پر ہجوم تھا۔دوستوں اور غمخواروں کی قلت ، دشمنوں کی کثرت ، لشکر امام اور خود امام ؑ کی پیاس و شہادت خواتین اور خوردسال بچوں کی بے بسی، ان سب حوادث میں ثانی زہراء ؑ اب سالار قافلہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی متحمل ہونے کےبغیر چارہ کار نہ رکھتی تھی؛ اس لئے حقیقت یہ ہے کہ آپ صحیح معنی میں ام المصائب کہلائے جانے کی کی حق دار [vii] بن گئیں اور آپ کی شخصیت ان المناک واقعات سے اس طرح آمیختہ ہوئی کہ رسولﷺزادی نے اپنے آپ کو ایک نہایت دردناک مصیبت کے لئے پہلے سے آمادہ کر لیا تھا یعنی کربلا میں عاشور کی خوفناک گھڑیوں اور اس کے بعد کے مصائب کی شدت کا مقابلہ کرنے کی خاطر زینبؑ کا حوصلہ بلند ہوگیا تھا اور آپ صبر و استقامت کی کوہ بن گئیں تھیں[viii]۔

  شہادت امام حسین ؑ کے بعدآپ (س)قتلگاہ میں دشمن کے گھیرے میں سیدالشہداء ؑ کے جسد مبارک تک پہنچیں ، آپؑ کا پاک بدن زخموں سے لہولہان تھا،  دختر علی ؑ ثانی زہراء (س)نے تلواروں، نیزوں اور تیروں کو بدن مبارک سے ہٹایا اور جسد مبارک کو بلند کرتے ہوئے انتہائی صبر و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:اللہم تقبل منا ھذالقربان[ix] یعنی اے پروردگارا  ہماری اس قلیل قربانی کو اپنے بارگاہ میں قبول فرما۔

  یہاں عقل حیران اور آپ کے اس عمل کی گہرائیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔یہ وہ ایمان ثابت ہے جوآپ ؑ کے نفس، حو اس  اور شعور کی گہرائیوں میں اتر گیا تھا۔



[i]۔ علی کی بیٹی ، ص 107

[ii]۔ بحارالانوار

[iii]۔ بحارالانوار ، ج ۴۳ ، ص ۱۸۸

[iv]۔ زندگانی فاطمہ زہراء  ،  شہیدی  ،  ص ۲۴۴

[v]۔ زینب زینب ہے ، ص 101

[vi]۔ زیارت ناحیہ

[vii]۔ کربلا کی شیردل خاتون ، ص 79 ، مقدمہ از علامہ مجتبیٰ حسن کا نپوری، امامیہ مشن لاہور

[viii]۔ زینب زینب ہے ، ص 63 سے 66

[ix]۔ زینب کبریٰ ، ص 75