Wednesday, 21 November 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 8

اس هفته 20

اس ماه 154

ٹوٹل 21753

مغربي دنيا اکثر تحريک آزادي نسواں کے کھوکھلے نعرے لگاتي رہتي ہے -  يورپ ان نعروں سے عورت کو معاشرتي  اور سماجي مسائل سے آزاد کروانے کي باتيں کرتا ہے - ان کے خيال ميں عورت کي آزادي مرد کي طرح دفتروں ، کارخانوں ،  تفريحي مقامات اور صنعتي و تجارتي سرگرميوں ميں ملوّث رہنے ميں ہے -  ان  کے خيال ميں  مغرب کي اس جديد تہذيب نے عورت کو اس کے حقوق ديۓ ہيں  مگر حقيقت اس کے برعکس ہے - آج يورپ ميں عورت کي عزت و آبرو ذرا بھي محفوظ نہيں ہے - آج وہاں کي عورت حقيقي احساس تحفظ سے محروم ہونے کے ساتھ احترام ، وقار اور پائيدار مسرتوں سے محروم نظر آتي ہے -



مغرب ميں خواتين کي آزادي و بے باکي اس حد تک پہنچ چکي ہے کہ شرم و حيا اور عفت و پاکيزگي اس کے نزديک بے معني الفاظ کي حيثيت رکھتے ہيں- مغربي معاشرے کي اخلاقي ساکھ تباہي کے دہانے پر ہے اور خود صحيح الفکر مغربي مفکرين اور دانشور برملا اپني تحريروں ميں اس مادر پدر، آزادي پر کڑي تنقيد کر رہے ہيں- درحقيقت ہر شعبہ زندگي ميں خواتين کو مردوں سے مسابقت کا موقع دے کر مغرب کي سرمايہ دارانہ ذہنيت نے اپنے ليے معاشي فوائد اور مادي ترقي کي راہيں ڈھونڈے کي کوشش کي- ايک طرف تو اس ذہنيت نے عورت کو گھر کي چارديواري کے امن و سکون سے باہر نکال کر فيکٹريوں اور کارخانوں ميں لا کھڑا کيا اور يوں افرادي قوت ميں اضافے کے ذريعے بے مثال معاشي فوائد حاصل کيے- دوسري طرف ميڈيا کي دنيا ميں عورت کے حسن و جمال کو اپنے ليے ”‌کميوڈيٹي “ کے طور پر استعمال کيا- دونوں راستوں کے ذريعے مغرب کے سرمايہ دار طبقے نے اپني مادي ترقي کو بام عروج تک پہنچا ديا- اس تحيرخيز ترقي اور چکاند نے ديگر ممالک کو بھي اپني جانب راغب کيا-



بےشک يورپ کي تاريخ ميں ايسي عورتيں بھي موجود ہيں جو کہ بادشاہت کے عہدےتک فائز رہيں - ايسي خواتين بھي تھيں جن کا شمار عزت دار  لوگوں ميں ہوتا تھا مگر عورت کا مسئلہ ان خاص اور اعلي  خاندانوں سے آنے والي عورتوں تک محدود نہيں ہے - معاشرے ميں يہ امتياز ہميشہ سے موجود رہا ہے - وہاں پر کچھ عورتيں تھيں جو اعلي مقام حاصل کر سکتي تھيں ، مثال کے طور پر انہوں نے  برطانيہ پر راج کيا  اور اپني يہ شناخت اپني آنے والي نسلوں کو منتقل کي مگر معاشرے ميں عام عورتوں کو  ان کے حقوق حاصل نہيں تھے  جو کہ آسماني مذاھب  بشمول اسلام  کے نظريات کے خلاف ہے -



عورت کے بنيادي حقوق سے محرومي

بيسويں صدي کے ابتدائي سالوں ميں عورت کي آزادي کے  تمام دعوğ   ، حجاب کي بڑھتي ہوئي مخالفت  ، مرد اور عورت کے عام جنسي تعلقات (جو کہ عورت کي عزت کے خلاف ہيں) کے باوجود عورت کو اپني دولت  آزادي سے استعمال کرنے کا حق حاصل نہيں تھا - ان کے شوہر کو ان کي تمام دولت پر اختيار حاصل تھا - يہ کہا جاتا ہے کہ شادي کے بعد عورت کو وراثت ميں ملنے والي تمام دولت اس کے شوہر کو منتقل ہو جاتي تھي اور وہ اپنے تمام حقوق سے دستبردار ہو جاتي تھي - بيسويں صدي کے آخري سالوں ميں عورت کو اس کے کچھ حقوق حاصل ہونا شروع ہوۓ - اس سے پہلے تک تو وہ اپنے بنيادي حقوق سے بھي محروم سمجھي جاتي تھي -