Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 

                              تحریر:عین  الحیات

ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورتوں کے سماجی ملنے جلنے یا ملازمت یا تجارت کی راہ میں پردہ حائل ہے؟

اس کا جواب منفی میں ہے یعنی ہر گز ایسا نہیں ہے کہ پردہ عورتوں کے سماجی مسائل یا ملازمت یا تجارت  میں حائل ہو۔ بلکہ ایک عورت پردہ کرکے ہر جگہ جا سکتی ہے اور تقریبا ہر کام کر سکتی ہے۔ عورت اپنے پردے کا خیال رکھتے ہوئے پولیس ، ڈاکٹر یا پائلٹ کے فرائض بھی انجام دے سکتی ہے۔ جو عورتیں برقع کو بطور پردہ استعمال کرتی ہیں وہ اپنے برقعوں بلکہ صرف نقاب کے ڈیزائینوں میں مناسب فرق کر کے بہت سے کام انجام دے سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ با پردہ عورت کو چلنے پھرنے اور کام کرنے کی جو سہولت ہے وہ بے پردہ عورت  کو نہیں ، پردے کی بدولت نادار خواتین بھی معمولی لباس کے باوجود عزت سے رہ سکتی ہیں۔یہ غریب، نادار اور مفلس عورتوں کا وفادار محافظ بھی ہے۔

 

    تحریر:  بشیر احمد استوری

 

بچیوں کی تربیت کے حوالے سےقا رئین  کی خدمت میں چند عرائض پیش خدمت ہیں. خدا وند متعال نے جو بھی آپکو  اولاد  عطا کی هے خواہ و ہ بيٹا هو یا بیٹی ،آپکے پاس امانت ہے.  جیسے جسم آپ کے پاس امانت ہے ویسےہی اسکی روح بھی امانت ہے. جیسے والدین بچے کے جسمی سلامتی اور رشد کے لیے کوشاں رہتےہیں ویسے ہی روحانی رشد اور سلامتی کیلے بھی کوشش کرنی چاہیے.

 

جیسے ابتداء میں انسان کا جسم لطیف اور پاک ہوتا ہے ویسےہی اسکی روح بھی لطیف اور پاک ہوتی ہے . ولادت کے بعد ، پہلے سات سال  جیسے جسم کی پروان اور نشونما  کیلئے بہتاہم ہےاسی طرح  روح کی پرورش بھی اهم ہے تاکه اس کی بھی نشونما  صحیح اور  مذہبی هو .

 

مغربي دنيا اکثر تحريک آزادي نسواں کے کھوکھلے نعرے لگاتي رہتي ہے -  يورپ ان نعروں سے عورت کو معاشرتي  اور سماجي مسائل سے آزاد کروانے کي باتيں کرتا ہے - ان کے خيال ميں عورت کي آزادي مرد کي طرح دفتروں ، کارخانوں ،  تفريحي مقامات اور صنعتي و تجارتي سرگرميوں ميں ملوّث رہنے ميں ہے -  ان  کے خيال ميں  مغرب کي اس جديد تہذيب نے عورت کو اس کے حقوق ديۓ ہيں  مگر حقيقت اس کے برعکس ہے - آج يورپ ميں عورت کي عزت و آبرو ذرا بھي محفوظ نہيں ہے - آج وہاں کي عورت حقيقي احساس تحفظ سے محروم ہونے کے ساتھ احترام ، وقار اور پائيدار مسرتوں سے محروم نظر آتي ہے -

تحریر : خدا  امان

مصائب و آلام :

ثانی زہراء (س)کواپنی زندگی کے دوران جیسے مصائب سے دوچار ہونا پڑا ، طول تاریخ میں ہمیں کم ہی ایسے افراد نظر آتے ہیں، بالخصوص خواتین ، جن کو اس قسم کے غم واندوہ کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جن مشکلات و گوناگون صدمات روزگار کو جس تحمل و بردباری سے آپ نے برداشت کیا۔ اس طرح کے حالات میں شجاع ترین افراد زمانہ بھی گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔کم از کم اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ انبوہ آلام قوت کلام کو سلب کر کے خموشی پر مجبور کردیا کرتا ہے۔لیکن سیدہ کی عظیم بیٹی جناب زینب کبریٰ کی کیفیت یہ ہے کہ کشمکش روزگار کے مقابلے میں اگر چہ آپ کا جسم کمزور ہوگیا۔اشھب عمر بطرف منزل آخر تیز رفتاری سے روانہ ہوگیا۔ تا ہم حالت نا سازگار و نامساعد کا پورے تحمل و وقار و قوت کے ساتھ اپنے مقدس ہدف زندگی کو سامنے رکھ کر مقابلہ کیا۔ یہ وہ ہستی ہے جس نے پورے 20 برس کا طویل عرصہ اپنے والد بزرگوار کی نہ صرف گوشہ نشینی کا مقابلہ کیا بلکہ ام المؤمنین ؑ کے مقامات صبر میں ، جو انتہا سے زیادہ تلخ اوردلخراش تھے،آپ کا اس طرح مکمل طور پر ساتھ دیا کہ کسی موقع  پر بھی بے قراری اور بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا[i]۔

 تحریر : محمد نذیر اطلسی

 

        اسلامی سوسائٹی میں جب عورت کا نام سنائی دے تو چادر میں لپٹی ہوئی گھریلو کام کاج کرنے والی خاتون کا خاکہ ذہن میں آتا ہے جو اپنا اکثر وقت شوہر کی خدمت، اپنے بچوں کی تربیت اور گھر کے کام کاج میں صرف کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ ہمیشہ چاہتی ہے کہ اس کا گھرانہ خوشحال اور سکھا رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ انتھک محنت کرتی ہے اور اپنی دن بھر کی تھکاوٹ کو اپنے چہرے پر بھی نہیں لاتی ، وہ اپنے روزمرہ کے کاموں سے نہ فقط بوریت کا احساس نہیں کرتی بلکہ روحی طور پر خوشی کا اظہار بھی کرتی ہے۔ مذہبی گھرانے کی خاتون ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہے کہ کوئی   نا محرم اس کو نہ دیکھے اور وہ خود بھی حتی المقدور کوشش کرتی ہے کہ اس کی نگاہ کسی نامحرم مرد پر نہ پڑے ۔ لیکن یہی خاتون جب اسلام پر کوئی بُرا وقت آئے تو اپنا سب کچھ لٹا کر اسلامی تقدس کے دفاع پر   ڈٹ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ نہ فقط اپنے عزیزوں کو اسلام کی راہ  پر قربان کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے بلکہ خود بھی معاشرے کے اعضاء میں سے ایک عضو کی حیثیت سے اپنے نقوش چھوڑ جاتی ہے  عورت کبھی ماں کے عنوان سے اور کبھی بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے اپنا کردار پیش کرتی ہے۔