Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

تحریر: احمد سلطانی کشمیری

 

خداوندکریم نے بعض دنوں کو بعض دنوں پر، بعض جگہوں کو بعض جگہوں پر اور بعض مہینوں کو بعض مہینوں پر فضیلیت دی ہے ان سےمقدس قرار دیا ہے۔ جیسے ہفتے کے دنوں میں جمعہ کو زیادہ فضیلت حاصل ہے یہاں تک کہ جمعہ کو عید الاسبوع کا نام بھی دیاگیا ہے اور فقراء و مساکین کے لیے جمعہ کے دن نماز جمعہ کو حج الغرباء یا حجۃ المساکین کہا جاتا ہے۔شب قدر کو جمعہ پر فضیلت حاصل ہے۔ مساجد میں بیت الحرام کو افضلیت اور تقدس حاصل ہے۔ اس کے بعد مسجد نبوی،پھر کوفہ اور دوسرے ائمہؑ کے روضے۔ اسی طرح کعبہ اور کربلا کی زمینوں کو دوسرے زمینوں پر فضیلت حاصل ہے۔ بعینہ یہ بات مہینوں میں بھی ہے۔ ماہ مبارک مضان کو دوسرے مہینوں پرزیادہ برکت، فضیلت اور تقدس حاصل ہے۔ یہ مہینہ خدا کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس مہینے  میں باقی مہینے سے دس برابر اعمال کے ثواب ملتا ہے،ایک آیت کے تلاوت پر پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے۔ رحمت کے تمام دروازے خدا کے بندوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔

 

 

     اس مہینے میں باقی مہینوں کی طرح صدر اسلام سے لیکر قرن حاضر تک بہت سارے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں بعض خاص اہمیت کے قائل ہیں اور بعض دوسروے مہینوں کی مانند ہے۔ ان میں سے بعض کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔

 

قرآن مجید

 قرآن مجید تمام انسانوں کے لیے تمام زمانوں میں ہدایت کی کتاب ہے۔ جہاں تک بشریت کی حد ومرز ہے وہاں تک قرآن مجید کی ہدایت کا  نور ہے۔ یہ کتاب کسی مخصوص قوم، زمانے یا قبیلہ کے لیے نہیں اتری ہے وَ ما هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعالَمِين . قرآن مجید کی زبان فطرت ہے جو کہ تمام بشریت کی زبان ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے اس سے تمام افراد یکساں استفادہ کرسکتے ہیں بلکہ اس آسمانی کتاب کے کافی مراتب ہیں اور ہر مرتبے سے ایک خاص جماعت و گروہ بہرہ مند ہوتا ہے۔  “كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى أَرْبَعَةِ أَشْيَاءَ عَلَى الْعِبَارَةِ وَ الْإِشَارَةِ وَ اللَّطَائِفِ وَ الْحَقَائِقِ فَالْعِبَارَةُ لِلْعَوَامِ‏ وَ الْإِشَارَةُ لِلْخَوَاصِّ وَ اللَّطَائِفُ لِلْأَوْلِيَاءِ وَ الْحَقَائِقُ لِلْأَنْبِيَاءِ” خداوند کریم کی یہ مقدس کتاب چار چیزوں پر مشتمل ہے: ۱۔عبارات جس سے عوام الناس بہرہ مند ہوتے ہیں۔۲۔اشارہ جس سے خاص جماعت استفادہ کرتے ہیں۔ ۳۔لطائف جن سے اولیاء غوطہ زن ہوتے ہیں۔ ۴۔ حقائق جن تک صرف انبیاء ؑ کی رسائی ہے۔ہر کوئی اپنی استعداد کے لحاظ سے قرآن سے بہرہ مند ہوتا ہے یہاں تک کہ مقام مکنون جہاں محض پیغمبر اسلام ﷺاور اہل بیت اطہار ؑ کے علاوہ کسی کی پہنچ نہیں ہے۔

 

    حضرت آیت اللہ جوادی آملی فرماتے ہیں:اگر چہ قرآن جہانی کتاب ہے اور کسی زمانے یا قوم سے مخصوص نہیں ہے پھر بھی دنیا کے تمام اافراد اس سے بہرہ مند نہیں ہوسکتے ۔ اس لیے کہ گناہ، شرک، کفر اور اہل باطل کی نقّالی  انسانوں کے دلوں پر تالا لگادیتی ہے اور انسان قرآن میں تعقل و تدبر سے دور ہوجاتا ہے۔ “أَ فَلا يَتَدَبَّرُونَ‏ الْقُرْآنَ‏ أَمْ عَلى‏ قُلُوبٍ أَقْفالُها”  قرآن مجید کے معارف ایسے دلوں پر کوئی اثر نہیں کرتے جن پر تالے لگے ہوئے ہوں لیکن جس انسان نے فطرت کو محفوظ رکھا ہو چاہے روم سے آئے ہوئے صُہیب ہوں یا ایران سے آئے ہوئے سلمان یا حبشہ کے بلال یا خود حجاز کے ابوذر و عمار ہوں سب اس کتاب سے یکسان بہرہ  مند ہوتے ہیں۔

 

یہ مسلمانوں کے لیے ایک بڑی سعادت ہے آسمانی کتابوں میں سے صرف قرآن کریم ہے جو تمام مسلمانوں کے لیے دستیاب ہے    جس تک تمام انسانوں کی دسترس ہے چونکہ خود نبی اکرمﷺکے دستور سے اس کتاب کے حافظ بنے جنہوں نے سینہ بہ سینہ یہ دوسرو ں تک منتقل کیا نیز رسول رحمتﷺ نے  قرآن کی کتابت اور تدوین کے لیے خاص اہتمام فرمایا تھا۔ برخلاف دوسری آسمانی کتابوں کے جیسے کہ توریت صرف یہودیوں کے علماء تک محدود تھی ، عام لوگ براہ راست  اسے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ انجیل کے بارے میں ملتا ہے جو آج کل مسیحوں کے ہاتھوں میں ہے وہ انجیل نہیں ہے جو جناب عیسیٰ ؑ پر نازل ہوئی تھی بلکہ کچھ افراد کے توسط سے مطالب جمع کیے گئے ہیں جو انجیل اربعہ کے نام سے معروف ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت علیؑ سے بیس سے بھی زیادہ خطبات ایسے نقل ہوئے ہیں جو قرآن کے فضائل پر مشتمل ہیں“کتاب اللہ بین اطہرکم” خدا کی کتاب آپ کے پاس ہے“ناطق لا یعسی لسانہ” ایسی بولنے والی ہےجو کبھی بھی کند اور لقنط نہیں جانتی ہے حق کہنے سے کبھی بھی تھکتی نہیں ، ایسی بنیاد جو کبھی بھی گرنے والی نہیں ہے اور ایسی کامیابی جو اپنے ماننے والوں کو کبھی بھی شکست نہیں دلاتی۔

 

قرآن شب قدر میں نازل ہوا

  نزول  یعنی بلندی سے نیچے کی طرف آنے کو کہتے ہیں۔ قرآن کی بعض آیات صراحتا اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن ماہ مبارک رمضان میں نازل ہوا“شَهْرُ رَمَضانَ‏ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ” ،یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے۔ دوسری آیت مدت نزول کو مقید کرکے شب تک محددو کرتی ہے:“ إِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةٍ مُبارَكَة ” ہم نے قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا، پھر سورہ قدر میں وہ رات بھی مشخص ہوتی ہے:“ إِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةِ الْقَدْر” ہم نے شب قدر میں قرآن کو نازل کیا ہے۔ لہذا دفعا قرآن کا نزول اسی شب قدر میں ہے اور تدریجا یہ قرآن ایک ایک آیت یا سورہ کی صورت میں ۲۳ سال میں نازل ہوا ہے۔

 

رحلت حضرت خدیجہ ؑ

دنیا کی عظیم ترین چار خواتین جو شروع سے آخر تک سچے بہادر اور فداکار رہی ہیں ان میں سے ایک حضرت خدیجہ الکبری ؑہیں۔ رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: خداوندکریم نے خواتین میں سے چار خواتین کو عظمت و برتری دی ہے،حضرت مریم،حضرت آسیہ،حضرت خدیجہ اور حضرت فاطمہ علیہن السلام

جس گھر میں اسلام کا ظہور ہوا صرف تین افراد پر مشتمل تھا رسول اکرم ﷺ حضرت خدیجہؑ اور حضرت علیؑ، ما قام الاسلام الّا بسیف علیّ و مال خدیجہ  اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ثابت و محکم ہے حضرت علیؑ کی تلوار اور حضرت خدیجہ ؑکی ثروت۔ اس شان و شوکت کے باوجود آپ کی رحلت مظلومانہ تھی جن سے رسول اسلام ﷺ کو کافی صدمہ پہنچا۔

 

فتح مکہ

ہجری کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوا۔ تیرہ سال تک پیغمبر اسلام ﷺ مکہ میں قریش کو توحید اور وحدانیت کی دعوت دیتے رہے نہ صرف ان پر اس کا اثر نہیں ہو بلکہ بدلے میں رسول اکرم ﷺ کو طرح طرح کے آزار و اذیت دینے لگے، حکم خدا سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، مدینے میں مسلمان ہر لحاظ سے ترقی کی طرف گامزن رہے۔ جب فتح مکہ کی باری آئی تو پیغمبر اسلام ﷺ کا ہدف یہ تھا کہ بڑے احترام سے مکہ فتح ہوجائے کیونکہ وہاں خدا کا گھر(بیت اللہ الحرام)ہے خون ریزی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ  مدینہ سے مکے کی طرف جانے کا وقت مسلمین سے پوشیدہ رکھا کہیں قریش مطلع نہ ہوجائیں فقط اپنے راز دار حضرت علیؑ سے اس بارے میں مشورت فرمایاکرتے تھے۔ کچھ مدت کے بعد بعض اصحاب کو بھی اس خبر سے آگاہ کیا۔مہاجرین میں سے حاجب نامی شخص تھا جس کے رشتے دار مکے میں ہی رہتے تھے۔ وہ  اس خبر سے آگاہ ہوا  خط تحریر کرکے ایک عورت کے ذریعہ قریش کو اس رونما ہونے والے حادثہ سے باخبر کرنا چاہا تھا۔ خداوندکریم نے اپنے رسول کو اس ماجرا سے آگاہ فرمایا، انہوں نے بلافاصلہ حضرت علی ؑ اور زبیر سے حکم دیا کہ مکے سے پہلے اس عورت سے وہ خط لیا جائے۔ مسلمانوں کے رعب و حشمت سے ابو سفیان اور دوسرے قریش خاموش بیٹھ گئے۔۱۲ ہزار کے تعداد میں مسلمان جناب رسول اکرمﷺ کے ہمراہ مکے آئے اور بڑے احترام کے ساتھ بغیر کسی خون و لڑائی کے مکہ فتح ہوا۔

 

    ضربت اور شہادت حضرت علیؑ

پوری کائنات کے مسلمان بلکہ دوسرے ادیان کے اغلب افرادحضرت علیؑ کی زندگی سے آشنا ہیں اگرچہ مختصر طور ہی کیوں نہ صحیح، آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ محض رضای الٰہی کے لئے گزرا ہے۔ اس کے باوجود ان کے شہادت کے  علل و اسباب کی طرف توجہ کی جائے  تو اسلام کے دشمنوں میں اسلام کے آغاز سے ہی ان کا کینہ،بغض اور عداوت پائی جاتی تھی۔  جب سرکار رسالت حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو حضرت علیؑ نے اس پر دل و جان سے لبیک کہا ساتھ ساتھ اس کو عام کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ حق کے راستے میں رکاوٹ سے بہت ہی سخت رفتار سے پیش آئے۔  عرب کے بڑے بڑے سرداروں کو ذوالفقار کا مزہ چکھنا پڑا۔

 

جاہلیت کا قانون یہ تھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قبیلے سے کسی کو قتل کردیتا تو وہ قبیلہ وہ اس وقت تک آرام نہیں بیٹھتا تھے جب تک نہ اس کا بدلہ اس آدمی یا اس قبیلے سے نہ لے لیتا۔ جنگ بدر،احد اور دوسری جنگوں میں حضرت علیؑ نے انتہائی انداز میں اسلام کے مخالفین کو واصل نار کیا تھا۔ ان کے وارث اور قبیلے والےخود رسول اکرمﷺ سے ان کا انتقام نہیں لے سکے۔ چونکہ حضرت علیؑ حسب،نسب اور علم و عمل کے لحاظ سےرسول اسلامؑ کے نزدیک ترین افراد میں شامل تھے۔ حالات کی کروٹ پر انہوں نے حضرت علیؑ اور ان کے اولادوں سے انتقام لینا شروع کیا۔ حضرت علیؑ کی شہادت میں اور بھی مختلف اسباب ہیں جیسے جاہلیت کا تعصب، تاریخی حوادث جو دشمنوں کے ضرر و نقصان میں اختتام کو پہنچے، سیاسی اور معاشرتی  اسباب  خاص کر عدل و انصاف میں سختی سے پیش آنا۔ جب یہ تمام اسباب  آپس میں مل گئے تو نتیجے میں عدل و فضیلت کے پیکر کو اپنے معبود کے وصال میں ہی شہید کرڈالا۔

 

حضرت علیؑ  کی تمام سعی و تلاش اس میں تھی کہ اسلام کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں اورخفیہ سرطان کو اس سے جدا کرے لیکن اس کے مد مقابل اسی پر تلے ہوئے تھے کہ دین کے اس ستون کو منہدم کرڈالیں۔  جہاں اس مہینے میں مومنوں کے لیے معنوی تحفے ہیں وہاں خوارج کے توسط سے برپا کیا ہوا ایک المناک سانحہ بھی ہے۔جنگ نہروان میں خوارج کی نابودی کے بعد بعض فراری خارجی خانہ کعبہ کے پاس یہ قسم کھاتے ہیں کہ حضرت علیؑ  کو قتل کریں اس کام لیے لیے ابن ملجم مرادی کو چنا گیا۔ ان کج فکر اور خشک مقدسوں کے لحاظ سے کسی کو شہید کرنا ایک عظیم کامیابی ہے اسی وجہ سے اس کام کے لیے اسلام کے مقدس مہینے ماہ رمضان کو معین کرتے ہیں اس لیے کہ اسی مہینے میں قرآن مجید بھی نازل ہوا ہے۔ یہ ملعون اسی نیت سے کوفہ آتا ہے جہاں اس کی آشنانی قطامہ سے ہوئی جو عرصہ درازحضرت علی ؑ  کے خون کی پیاسی تھی، اس کا شیفتہ بن جاتا ہے جس وجہ سے حضرت علیؑ کو شہید کرنے کا مصمم ارادہ بن جاتا ہے۔ ۱۹ ویں ماہ رمضان جب علی مرتضیؑ محراب میں تھے، سجدہ میں اس طرح سے تلوار کا وار کیا کہ زہر پورے جسم میں پھیل گیا مگر حضرت علیؑ کی زبان مبارک سے فزت و رب الکعنہ کی صدا بلند ہوئی۔

 

ولادت امام حسنؑ

پیغمبر اسلامﷺکے نواسہ حضرت علی ؑ اور جناب سیدہؑ کےپہلا فرزند تیسری ہجری میں ۱۵ رمضان المبارک کے دن پیدا ہوئے۔ زہد، تقوی اور علم  اپنی مثال آپ تھے  یہ صفات و اپنے والد بزرگوار حضرت علی ابن ابی طالبؑ سے ارث میں لیں تھیں۔ معاویہ اور اس جیسے افراد کے لئے حضرت امام حسنؑ کا وجود اقدس ایک بہت بڑی رکاوٹ تھا۔ابھی تک صفین کا معرکہ امام حسنؑ کے سامنے تھا کہ معاویہ اور عمرو عاص نے کس فریب سے ان کے والد کے لشکر میں پھوٹ ڈال کر جیتی ہوئی جنگ کو اپنے فائدے میں بدل دیا۔ معاویہ کے اعمال و کردار سے بخوبی آگاہ تھے۔ لہذا وہی کیا جو زمانے کا تقاضاتھا۔

    امام حسنؑ نے اپنی زندگی میں وہ تمام یہی قدم اٹھائے جو اسلام کے لئے ضروری تھے۔ اگر اس دور کے حالات امام حسینؑ کے دور میں ہوتے وہ بھی ہوبہو یہ اقدام انجام دیتے اسی طرح اگر امام حسینؑ کے دور کے حالات امام حسنؑ کے دور میں رونما ہوتے تو امام حسنؑ بھی کربلا اور عاشور کے ذریعہ دین کی حفاظت فرماتے۔

 

روز قدس

حضرت امام خمینی (رح)ہمیشہ مستضعفین و مظلومین کے حامی تھے بلکہ اسلامی جمہوریہ اسلام ایران کے اہم نعروں میں ایک نعرہ مستضعف لوگوں کی حمایت کرنا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی امام خامنہ ای فرماتے ہیں:اسلامی انقلاب کے اہداف میں اہم ترین ہدف فقر سے مقابلہ اور مستضعفوں کی حمایت کرنا ہے۔ امام خمینی(رح)نے بھی اس دن(روز قدس) کو اسلامی مہینوں کے فضلیت ترین مہینے میں قرار دیا ہے۔ چونکہ یہ روش انبیاء اور اولیاء کی ہے اور اس دن سے کئی پہلو کو مدنظر رکھا تھا جن میں سب سے اہم مسلمانوں میں وحدت اور قبلہ اول کی آزادی ہے۔ ایرانی تاریخ کے لحاظ سے ۲۵ مرداد ۱۳۵۸ کے مصادف ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو روز قدس کا نام دیا اور سبوں کو اس بات کی تاکید فرمائی کہ تمام استکبار، استعمار کی نابودی اور قدس کی آزادی تک ہر سال یہ دن بڑے اہتمام سے منایا جانا چاہیے۔ امام خمینی(رح) روز قدس کے بارے میں فرماتے ہیں:“تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ بیت المقدس کو آزاد کریں اور اسرائیل کے شر سے اسلامی بلاد کو نجات دیں  رکھیں۔ قدس کا دن عالمی دن ہے۔ صرف قدس سے مخصوص نہیں بلکہ مستضعف لوگوں کا مستکبر لوگوں سے مقابلہ کا دن ہے۔ قدس کا دن وہ دن ہے جس میں دنیا کے تمام طاقتور ممالک کو یہ وارننگ دی جائے کہ اسلام تمہارے تحت چلنے والا نہیں ہے۔ میں قدس کے دن کو اسلام اور رسول اکرم ﷺکا دن جانتا ہوں۔ اگر قدس کے دن تمام گھروں سے باہر آجائیں اور مردہ باد امریکہ اور مردہ باد اسرائیل کے نعرے لگائیں یہ فریادیں ان کی موت ہوگی۔”  قدس کا دن صرف فلسطین کا دن نہیں ہے،اسلام اور اسلامی حکومت کا دن بھی ہے۔ قدس کا دن، شب قدر کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس دن کو زندہ اور احیاء کریں۔

ان کے علاوہ جنگ بدراوررحلت حضرت ابوطالبؑ اس مہینے کے اہم دنوں میں سے ہیں۔

 

........................................................................................................................

 

منابع:

 

[1]۔ سورہ قلم،آیت ۵۳

 

[2]۔ بحار الانوار ج۷۵،ص ۲۷۸

 

[3]۔ سورہ محمد،آیت۲۴

 

[4]۔تفسیر تسنیم،ج۱،ص۳۷

 

[5]۔ سورہ بقرہ،آیات ۱۸۵

 

[6]۔ قاموس الرجال، شوشتری،ج۱،ص۴۳۰

 

[7]۔بانوان نمونہ،ص۳۳۱

 

[8]۔ تاریخ ابن ہشام،ج۲،ص۳۹۸

 

[9]۔صحیفہ نور،ج۸۔ص۲۳۳ –