Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 تاريخ اسلام و مسلمين کا ايک اہم واقعہ، کربلا کا دردناک حادثہ ہے جس نے مسلمانوں کي تاريخ پر گہرے اثرات چھوڑے ہيں اور اسلامي معارف کا ايک نيا باب رقم کيا ہے

61 ھ ميں يہ واقعہ رونما ہو نے کے بعد سے اب تک مسلمانوں کي ايک بڑي تعداد اس واقعہ عظميٰ کي ياد منا رہي ہے اور اسے مسلمانوں کي آئندہ سياسي و اجتماعي حکمت عملي اور ظلم و ستم کے خلاف قيام کے لئے نمونہ عمل قرار ديتي ہے - يہاں تک کہ اسي واقعہ کے اثرات کے نتيجے ميں مسلمانوں کي سياسي و اجتماعي زندگي ميں عظيم تحولات رونما ہوئے ہيں اور مسلمانوں نے شہدائے کربلا کي سيرت و روش پر عمل کرتے اور ظلم و استبداد کے خلاف عَلَم بلند کرتے ہوئے عدل و انصاف کے حصول کي کامياب تحريکيں چلائي ہيں - جس کي تازہ مثال ہمارا معاصر تاريخي واقعہ ہے کہ جسے ہم انقلاب اسلامي ايران کے نام سے ياد کرتے ہيں - جس کو گذرے ہوئے 3٥ سال ہو چکے ہيں اور اس انقلاب کے نتيجے ميں ايک مضبوط اسلامي حکومت وجود ميں آچکي ہے -



اگر اس انقلاب کي اجتماعي و سياسي بنيادوں کا گہرا مطالعہ کيا جائے تو اس کي بازگشت واقعہ کربلا ہي کي طرف ہوتي ہے اور واضح ہو جاتا ہے کہ اگر تاريخ اسلام ميں واقعہ کربلا اور روز عاشور امام حسين (ع) اور اُن کے فدا کار اصحاب کي جان نثاري نہ ہوتي اور مسلمانوں کي تاريخ ميں ظلم واستبداد کے خلاف نواسہ رسول (ص) کا يہ قيام نہ ہوتا تو نہ تو کوئي اور اسلامي تحريک چلتي اور نہ ايران کا اسلامي انقلاب برپا ہوتا - اسي طرح اگر ايرانيوں کا واقعہ کربلا کے ساتھ گہرا اعتقادي اور جذباتي لگاۆ نہ ہوتا اور امام حسين [ع] کي سيرت اُن کے سامنے نہ ہوتي تو يہ انقلاب کسي بھي صورت رونما نہ ہوتا اور عالمي سياسي و طاغوتي قوتوں کے خلاف ايراني مسلمانوں کي يہ تحريک کبھي بھي کامياب نہ ہوتي - اگر دوسرے عوامل کي وجہ سے کامياب ہو بھي جاتي تو لمبے عرصے تک قائم نہ رہ سکتي -آج انقلاب اسلامي ايران کے دوام کي سب سے بڑا سبب کربلا کا يہي عظيم واقعہ ہے اور اس واقعہ کے بارے ميں ايرانيوں کا درست ادراک ہے -


ان حقائق کي روشني ميں ديکھا جائے تو اگر ايرانيوں کے لئے يہ تاريخي واقعہ تعريف شدہ صورت ميں پيش کيا جاتا اور اس کے حقائق بيان کئے جانے کے بجائے اس واقعہ کے حوالے سے خرافات و خيالات پر مبني چيزيں عوام تک پہنچائي جاتيں تو ايراني قوم پر بھي اس کے اثرات مرتب نہ ہوتے اور وہ شاہي استبداد اور يزيد وقت کے خلاف کبھي بھي قيام کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوتي -يہ کارنامہ ہے اُن اہل قلم و محققين اور اہل منبر و خطباء کا کہ جنہوں نے اپني قوم کے سامنے اس واقعہ عظميٰ کو تحقيقي انداز ميں پيش کيا اور اس واقعہ کے تربيتي پہلوئوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے قو م کو ظلم و استبداد کے خلاف قيام کرنے اور شہدائے کربلا کي طرح اپنا شرعي فريضہ ادا کر نے کے لئے آمادہ کيا -


اسي واقعہ کي ياد سالہا سال سے ہماري قوم ميں بھي منائي جارہي ہے اور ہر سال اس کے اوپر جاني و مالي سرمايہ کاري جاتي ہے ليکن کربلا کي ياد ہمارے ہاں وہ اثرات نہيں دکھاتي جو دوسري قوموں خصوصاً ايراني قوم ميں ديکھے جارہے ہيں - اس کي وجہ يہي ہے کہ ہمارے ہاں کربلا کے بارے ميں تحقيقي مواد پيش نہيں کيا جاتا ہے جس کي وجہ سے ہمارے عوام واقعہ عاشورا کے متعلق تاريخي ادراک پيدا نہيں رکھتے اور نہ ہم اس واقعہ عظميٰ کے سياسي واجتماعي اور تربيتي پہلوئوں کو سمجھ رہے ہيں - لہذا ہم نہ فقط ظلم و استبداد کے خلاف قيام کي سکت نہيں رکھتے بلکہ اسي ظلم و استبداد کے تعاون سے واقعہ کربلا کي ياد منانے ميں بھي عار محسوس نہيں کرتے - لہذ اہم امام حسين (ع) اور شہدائے کربلا جيسا عظيم سرمايہ رکھنے کے باوجود ظلم وستم کو کھلے دل سے قبول کر ليتے ہيں - يہ اس بات کي دليل ہے کہ ہم ابھي تک واقعہ کربلا کے حقائق کا ادراک نہيں کر سکے چونکہ ہمارے سامنے اس واقعہ کي تاريخ ، تحقيقي انداز ميں پيش نہيں کي جاتي - ہم اسے فقط ايک اسطورے (روايتي اور افسانوي واقعہ) کے طور پر مناتے ہيں اور اس کے تربيتي و سياسي پہلوئوں سے بالکل غافل ہيں - لہذا ہم اس واقعہ کے تربيتي اثرات سے محروم ہيں اور شہدائے کربلا کي سيرت و طريقے سے ناآشنا ہيں -


اس سلسلے ميں ہمارے اہل قلم ، محققين اور خصوصاً ديني وعلمي مدارس و مراکز کي سنگين ذمہ داري بنتي ہے کہ وہ اس واقعہ کے بارے ميں تحقيقي مواد فراہم کريں تاکہ اس کے افسانوي رنگ کو ختم کرنے کے لئے اس کے نمونہ عمل پہلوئوں کو روشن کيا جاسکے اور قوم کو ظلم و استبداد کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے اس واقعہ سے بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے ''امام حسين (ع) کے سفينہ نجات ہونے'' کا صحيح مفہوم اُجاگر ہو سکے - اس وقت ہماري مجالس عزا ء ميں اور ہمارے منبر سے کربلا اور عاشورا کے حوالے سے جو کچھ پيش کيا جا رہا ہے اُس ميں تربيتي اور تحقيقي پہلو بہت ہي کمزور ہے چونکہ خرافاتي اور خيالاتي چيزوں سے تربيت نہيں ہو سکتي؛ تربيت کے لئے حقائق بيان ہو نے ضروري ہيں - لہذا ہميں سيرت معصومين کي روشني ميں لوگوں کو اس واقعہ کي ياد منانے کي اہميت بتاني چاہيے اور عزاداري امام حسين کے اہداف و مقاصد سے آگاہ کرنا چاہيے تاکہ دين اور اوليائے دين کے بارے ميں عوام کا شعور بلند ہو سکے اور وہ حقيقي معنوں ميں ان ذوات مقدسہ کي پيروي کر سکيں -