Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں تمام تر مسائل کا حل موجود ہے بشرطیکہ اسلام کی تعلیمات کو صحیح انداز میں قرآن اور اہلبیت (ع) سے لیا جائے، لیکن اگر اسلام کی تعلیمات کو اسلام کے لبادے میں مسلط اس زمانے کے خوارج اور ڈکٹیٹرز بنی امیہ و بنی عباس کے ظالم و جابر سلاطین سے لیا جائے یا پھر دور حاضر کے ماڈرن خوارج القاعدہ و طالبان کے بدنما کرتوتوں سے اسلام کو جانچا جائے تو لوگ اسلام سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔ جس کی واضح مثالیں پشاور میں چرچ پر حملہ اور شام و دمشق میں عالمی صیہونیت و وہابیت امریکہ و آل سعود کی ایماء پر القاعدہ طالبان کے ہاتھوں عیسائیوں کو بے دردی سے ذبح کرنا ہے ۔


اس امر کا اقرار غیر مسلموں حتٰی کہ عیسائیوں نے بھی برملا طور پر کیا ہے، لبنان کے مشہور عیسائی محققق، دانشور اور لکھاری جارج جرداق جس نے حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر "ندائے عدالت انسانی" نامی مشہور کتاب لکھی ہے، جارج جرداق کے مطابق جب اس نے اس کتاب کو مکمل کیا تو کوئی بھی مسلمان پبلشر اس کتاب کو شائع کرنے پر راضی نہیں تھا، وہ کہتا ہے کہ اسلئے میں بےچین ہو کر لبنان کے ایک چرچ میں چلا گیا جہاں ایک عیسائی بشپ نے میری بےچینی کی وجہ پوچھ کر مجھے ایک تھیلی میں رقم دے کر کتاب چھاپنے کا کہا، جب یہ کتاب چھپ گئی اور لبنان سمیت دنیا بھر میں اس سے منافع حاصل ہوا تو میں نے بشپ کو رقم تھیلی میں بند کرکے شکریہ کے ساتھ واپس کرنا چاہی لیکن بشپ نے جواب میں کہا کہ اس میں شکریہ اور احسان کی کوئی بات نہیں میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے ان احسانوں کا ایک معمولی سا شکریہ ادا کیا ہے کہ جب حضرت علی امیرالمومنین و خلیفتہ المسلمین بن گئے تو آپ نے تمام اقلیتوں بشمول عیسائیوں کے نمائندوں کو طلب کیا اور فرمایا کہ مجھ علی کے دور میں تم اقلیتوں کو تمام تر اقلیتی حقوق اور تحفظ حاصل رہے گا، اسلئے حضرت محمد رسول اللہ (ص) کے بعد اس کے وصی امیر المومینن حضرت علی (ع) کا دور خلافت اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کے ساتھ مثالی ترین دور تھا ،جس میں اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کے خلاف کہیں بھی ظلم و جبر نہ ہوا اسلئے میں (بشپ) نے علی (ع) کے احسان کا معمولی شکریہ ادا کیا ہے جارج جرداق جا کر یہ رقم غریبوں میں بانٹ دو۔
جارج جرداق اور اس کے کتاب کے حوالے سے جاننے کے شوقین افراد اس لنک کو دیکھیں۔
https://ar-ar.facebook.com/permalink.php?story_fbid=435872939778430&id=163814663716248


"نجران" مکہ اور یمن کے درمیان ایک شہر تھا جس میں ۷۳ بستیاں تھیں، صدر اسلام میں وہاں عیسائی مذہب رائج تھا اور اس وقت وہاں بہت ہی پڑھے لکھے اور عظیم علماء رہتے تھے، خلاصہ کے طور پر یہ کہہ دینا بہتر ہوگا کہ اس وقت نجران، آج کا ”ویٹکان سٹی“ تھا۔ اس وقت شہر نجران کا بادشاہ ”عاقب“ نام کا ایک شخص تھا، جس کے ہاتھ میں مذہب کی باگ ڈور تھی اس کا نام ”ابو حارثہ“تھا، اور اس دور میں جو شخص ہر دلعزیز، محترم اور لوگوں کے نزدیک قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا اس کا نام ”ایہم“تھا۔ جب پورے عالم میں اسلام کی آواز گونجی تو عیسائی علماء جنہوں نے پیغمبر (ص) کے بارے میں جو بشارتیں توریت اور انجیل میں پڑھ رکھی تھیں اس کے سلسلہ میں ہمیشہ ہی بہت حساس رہتے تھے جب انہوں نے اسلام کی آواز سنی تو تحقیق کرنا شروع کر دیا۔

نجران کے عیسائی عوام نے اپنے نمائندوں کے ساتھ ایک خصوصی گروہ بنا کر تین مرتبہ پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ اچھی طرح اور قریب سے ان کی نبوت کی تحقیق کرسکیں۔ ایک دفعہ یہ گروہ ہجرت سے پہلے مکہ روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مناظرہ کیا اور دو دفعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں آکر اس گروہ نے آپ سے مناظرہ کیا۔ ہم ان کے تینوں مناظروں کا خلاصہ پیش کررہے ہیں۔

۱۔علمائے نجران سے پہلا مناظرہ:
نجران کے عیسائی علماء کا ایک گروہ مکہ کی طرف اس قصد سے روانہ ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قریب سے دیکھے اور ان کی نبوت کے بارے میں تحقیق کرے، یہ لوگ کعبہ کے نزدیک پہنچ کر پیغمبر کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور وہیں مناظرہ اور گفتگو شروع کر دی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بڑی خوش اخلاقی سے ان کے سوالات سنے اور جواب دیئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کریم کی چند آیتیں تلاوت فرمائیں جنہیں سن کر ان لوگوں کے دل بھر آئے، اور فرط جذبات سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اپنی تحقیقات میں انہیں ایسی چیزیں معلوم ہوئیں جو توریت اور انجیل سے بالکل مطابقت رکھتی تھیں جب انہوں نے یہ تمام چیزیں پیغمبر کی ذات میں دیکھیں تو مسلمان ہو گئے۔ مشرکین بالخصوص ابوجہل اس مناظرہ سے بہت زیادہ ناراض ہوا اور جب نمائندہ نجران مناظرہ ختم کر کے واپس جانے لگے تو ابوجہل چند لوگوں کے ساتھ آیا اور راستے میں انھیں گالیاں دینے لگا اور کہنے لگا کہ ہم نے تم لوگوں جیسا پاگل اور دیوانہ آج تک نہیں دیکھا تم لوگوں نے اپنی قوم و ملت کے ساتھ خیانت کی اور اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام کے گرویدہ ہو گئے ان لوگوں نے بڑے ہی نرم لہجہ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ہم نے جو بھی کیا ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔

۲۔عیسائیوں کے اکابر علماء سے مناظرہ:
دوسرا مناظرہ نجران کے عظیم سیاسی مذہبی راہنماوٴں سے مدینہ میں ہجرت کے نویں سال واقع ہوا جس کی نوبت مباہلہ تک پہنچ گئی اور وہ اس طرح ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو خطوط سربراہان مملکت کو روانہ کئے تھے ان کے ضمن میں ایک خط آپ نے نجران کے پوپ ابو حارثہ کو بھی لکھا تھا جس میں آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔ چار افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس خط کو لے کر نجران کے لئے روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خط کو پوپ کی خدمت میں پیش کیا، پوپ خط پڑھ کر بہت ناراض ہوا اور غصہ میں آکر اسے پھاڑ ڈالا اور آپ کے ان نامہ بروں کا کوئی احترام نہیں کیا اور یہ ارادہ کیا کہ اس خط کے سلسلہ میں نجران کے پڑھے لکھے لوگ غور و فکر کریں، نجران کے پڑھے لکھے اور مقدس لوگ جیسے شرحبیل، عبداللہ بن جبّار بن فیض غور و فکر اور مشورہ کے لئے بلائے گئے۔ ان تینوں افراد نے کہا: ”چونکہ یہ بات نبوت سے متعلق ہے اس لئے ہم اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کا کوئی نظریہ نہیں دے سکتے ہیں“۔پوپ نے اس مسئلہ کو نجران کے عوام کے سامنے پیش کیا،ان کی رائے لینے پر بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ہماری قوم کی طرف سے کچھ ہوشمند اور علم و عقل کے لحاظ سے زبردست افراد مدینہ میں محمد بن عبد اللہ کے پاس جائیں اور ان سے اس سلسلہ میں بحث و مناظرہ کریں تاکہ حقیقت واضح ہو جائے۔

اس سلسلہ میں بحث و گفتگو بہت زیادہ ہوئی لیکن آخر میں یہ طے پایا کہ نجران کے ساٹھ افراد جن میں سے چودہ عظیم علماء منجملہ عاقب ابو حارثہ اور ایہم بھی تھے مناظرے کے لئے مدینہ جائیں۔ ساٹھ آدمیوں پر مشتمل یہ قافلہ پیغمبر (ص) سے مناظرہ کے لئے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ بیشک کسی بھی مذہب کے بارے میں بحث و مناظرہ جو بغیر دھوکا دہی اور فریب کے ہو اور اس میں منطقی بحث ہو تو بہت اچھی چیز ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ بحث و مناظرہ کو سازش اور فریب کا رنگ دے کر عوام کو دھوکا دے تو یقینا ایسے بحث و مناظرہ کو شدت سے روکنا چاہیئے۔ نجران کے نمائندوں نے جان بوجھ کر بہت ہی زرق و برق لباس زیب تن کیے اور بہت سے زیور پہنے تاکہ مدینہ پہنچ کر اہل مدینہ کو اپنی طرف جذب کرلیں اور کمزور عقیدہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی ہوشیاری سے ان کے اس فعل کی طرف توجہ کی اور ان کے اس فریب کو ناکارہ بنانے کے لئے ایک طریقہ اپنایا کہ جب علمائے نجران پیغمبر کی خدمت میں اس زرق و برق لباس میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کی طرف بالکل توجہ نہیں دی اور نہ ہی ان سے کوئی بات کی، پیغمبر (ص) کی اتباع میں وہاں بیٹھے ہوئے مسلمانوں نے بھی ان سے کسی طرح کی کوئی بات نہیں کی۔ علمائے نجران تین دن تک مدینہ میں سرگرداں رہے اور بے توجہی کا سبب معلوم کیا تو یہ لوگ انھیں حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے گئے اور تمام حالات سے انھیں آگاہ کیا حضرت علی علیہ السلام نے علمائے نجران سے فرمایا: ”تم اپنے زرق و برق لباس اتار کر پیغمبر (ص) کی خدمت میں عام لوگوں کی طرح جاوٴ انشاءاللہ ضرور تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گے۔
علمائے نجران نے مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اس حکم کا اتباع کیا اور کامیاب ہوئے۔

مناظرہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ بحث و گفتگو میں ہر طرح کی آزادی ہو اور مناظرہ کی فضا بھی ہموار ہو، پیغمبر مسجد میں پنجگانہ نماز کو باجماعت ادا کرتے تھے اور تمام مسلمان آپ کے گرد جمع ہو جاتے تھے، عیسائی گروہ مسلمانوں کے اس طرح کے اجتماع سے بہت ہی حیران تھا لیکن تمام عیسائی اپنے عقیدے کے مطابق ایک گوشے میں مشرق(بیت المقدس ) کی طرف رخ کر کے نماز ادا کیا کرنے لگے، بعض مسلمانوں نے چاہا کہ ان کی اس آزادی میں مانع ہوں لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو روک دیا۔ ہمیں اس مختصر سی بات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی علماء مدینہ میں بالکل آزاد تھے اور ان پر کسی بھی طرح کی قید و بندش نہیں تھی اور نہ ہی وہ کسی کے تحت تھے۔ نتیجہ میں تین روز گزر جانے پر نماز جماعت کے بعد مسجد ہی میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔

علمائے نجران کے ۶۰/ افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اور بحث و مناظرہ کو سننے کے لئے تھوڑے فاصلہ پر مسلمان بھی بیٹھ گئے، قابل توجہ بات یہ تھی کہ چند یہودیوں نے بھی مسیحیوں اور مسلمانوں سے بحث کرنے کے لئے اس جلسہ میں شرکت کی تھی۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محبت اور خلوص سے ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنی بات شروع کی اور آئے ہوئے علمائے نجران کو توحید و اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: ”آوٴ ہم سب مل کر وحدہ لا شریک کی عبادت کریں تاکہ ہم سب کے سب ایک زمرہ میں آ جائیں اور خدا کے پرچم تلے اپنی زندگی گزاریں اس کے بعد آپ نے قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرمائیں۔
پوپ: ”اگر اسلام کا مطلب خدا پر ایمان رکھنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے تو ہم تم سے پہلے ہی مسلمان ہیں“۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: ”حقیقی اسلام کی چند علامتیں ہیں اور تین چیزیں ہمارے درمیان ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تم لوگ اہل اسلام نہیں ہو، پہلی یہ کہ تم صلیب کی پوجا کرتے ہو، دوسری یہ کہ تم سور کے گوشت کو حلال جانتے ہو، تیسری یہ کہ تم اس بات کے معتقد ہو کہ خدا صاحب اولاد ہے۔
علمائے نجران: ”ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح خدا ہیں کیونکہ انہوں نے مردوں کو زندہ کیا ہے اور لاعلاج بیماروں کو شفا بخشی ہے حضرت مسیح نے مٹی سے پرندہ بنایا اس میں روح پھونکی اور وہ اڑ گیا وغیرہ وغیرہ اس طرح کے ان کے تمام کام ان کی خدائی پر دلالت کرتے ہیں“۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم : ”نہیں ایسا نہیں ہے کوئی بھی ایسا کام خدائی پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ وہ خدا کے ایک بندہ ہی ہیں، جنھیں خداوند متعال نے جناب مریم علیہ السلام کے رحم میں رکھا اور اس طرح کے تمام معجزات انہیں عنایت فرمائے۔ وہ کھانا کھاتے تھے پانی پیتے تھے ان کے بدن پر گوشت، ہڈی اور کھال تھی اور اس طرح جو بھی ہو گا وہ خدا نہیں ہو سکتا ہے“۔
ایک نمائندہ: ”حضرت مسیح خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ ان کی ماں جناب مریم علیہ السلام نے بغیر کسی سے شادی کئے انھیں جنم دیا، یہی ہماری دلیل ہے کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خدا ان کا باپ ہے“۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وحی الٰہی سورہٴ آل عمران آیت ۶۱ کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم جیسی ہے جس طرح خداوند متعال نے جناب آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے خاک سے پیدا کیا اسی طرح جناب عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور اگر باپ کا نہ ہونا خدا کے بیٹے ہونے پر دلیل بن سکتا ہے تو جناب آدم کے لئے یہ زیادہ مناسب ہے کہ کیونکہ ان کے باپ اور ماں دونوں نہیں تھے“۔
علمائے نجران نے جب یہ دیکھا کہ جو بھی بات کہی جاتی ہے اس کا دندان شکن جواب ملتا ہے تو وہ حضرات جو ریاست دنیا کے چکر میں اسلام لانا نہیں چاہتے تھے انہوں نے مناظرہ کو ختم کر دیا اور کہنے لگے اس طرح کے جوابات ہمیں مطمئن نہیں کر رہے ہیں لہٰذا ہم آپ سے مباہلہ کرنے پر تیار ہیں یعنی دونوں طرف کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر خداوند عالم سے دعا اور راز و نیاز کریں اور جھوٹوں پر لعنت کریں تاکہ خدا جھوٹوں کو ہلاک کردے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورہ آل عمران کی ۶۱ آیت کے نازل ہونے پر انکی اس بات کو قبول کر لیا۔

تمام مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہو گئی اور وہیں لوگ بیٹھ کر چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ دیکھئے مباہلہ میں کیا ہوتا ہے؟ لوگ بڑی بےصبری سے مباہلہ کا انتظار کر رہے تھے کہ بڑے انتظار کے بعد ۲۴ ذی الحجة کا دن آ ہی گیا، علمائے نجران اپنے خاص جلسہ میں نفسیاتی طور پر یہ طے کر چکے تھے کہ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کثیر تعداد میں لوگ آئیں تو بغیر کسی خوف اور جھجھک کے ان کے ساتھ مباہلہ کے لئے تیار ہو جانا، کیونکہ اس صورت میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کو جمع کرکے دنیاوی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ دیکھو کہ پیغمبر اپنے چند خاص افراد کے ساتھ مباہلہ کے لئے آئے ہوئے ہیں تو ہر گز مباہلہ نہ کرنا کیونکہ نتیجہ بہت ہی خطرناک نکلے گا۔
علمائے نجران مباہلہ کی مخصوص جگہ پر پہنچے اور انجیل و توریت پڑھ کر خدا کی بارگاہ میں راز و نیاز کرکے مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتظار کرنے لگے۔

اچانک لوگوں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بشمول خود پانچ افراد (پنجتن پاک یا اہلبیت) یعنی اپنی بیٹی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور اپنے داماد علی علیہ السلام اور اپنے دونوں بیٹوں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں، اور یہ بھی قرآن کی آیہ مباہلہ میں دیئے ہوئے حکم الہی سے۔ شرحبیل (عیسائیوں کا ایک عظیم اور بڑا عالم ) نے اپنے دوستوں سے کہا کہ خدا کی قسم !میں وہ صورتیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے چاہیں کہ پہاڑ اپنی جگہ ہٹ جائے تو یقینا وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا ان سے ڈرو اور مباہلہ نہ کرو، اگر آج محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مباہلہ کرو گے تو نجران کا ایک بھی عیسائی اس روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا خدا کے لئے میری بات ضرور مان لو چاہے بعد میں کچھ ماننا یا نہ ماننا۔ شرحبیل کے اصرار نے نجران کے علماء کے دلوں میں عجیب اضطرابی کیفیت پیدا کر دی اور انہوں نے اپنے ایک آدمی کو پیغمبر (ص) کی خدمت میں بھیج کر ترک مباہلہ کی درخواست کی اور صلح کیلئے التماس کیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کرم اور رحمت خداوند سے ان کی اس گزارش کو قبول کیا اور صلح نامہ لکھا گیا جو چار نکات پر مشتمل تھا:
1۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نمائندہ نجران میں ایک ماہ یا ایک ماہ سے زیادہ مہمان کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔

2۔ اہل نجران کی یہ ذمہ داری ہے (تمام اسلامی ممالک کی امنیت کے سلسلہ میں) کہ وہ ہر سال دو ہزار جوڑے کپڑے دو قسط میں مسلمانوں کو دیں۔

3۔ جب بھی کبھی یمن میں اسلام کے خلاف کوئی سازش بلند ہو تو اہل نجران کے لئے واجب ہے کہ وہ ۳۰ ڈھال، ۳۰ گھوڑے اور ۱۳۰ اونٹ عاریہ کے طور پر حکومت اسلامی کی حفاظت کے لئے دیں۔

4۔اس صلح نامہ کے بعد اہل نجران کے لئے سود کھانا حرام ہے۔

علماء نجران کی اس کمیٹی نے صلح نامہ کی تمام شرائط کو قبول کر لیا اور وہ لوگ شکست خوردہ حالت میں مدینہ سے نجران کی طرف روانہ ہوئے، ضمناً یہ بھی بتاتے چلیں کہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی عظمت و منزلت کے لئے آیہ مباہلہ زندہ ثبوت ہے۔

۳۔ علمائے نجران کے تیسرے گروہ سے مناظرہ:
نجران کے عیسائیوں کا تیسرا گروہ جو قبیلہ بنی الحارث سے تعلق رکھتا تھا اس نے نجران میں تحقیق کر کے اسلام قبول کر لیا تھا بعض ان کی نمائندگی کرنے کے لئے ساتھ مدینہ آئے اور پیغمبر کی خدمت میں مشرف ہو کر اظہار اسلام کیا اور کہا کہ ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ خداوند متعال نے آپ کے ذریعہ ہم لوگوں کو ہدایت کی۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم لوگ کیسے اپنے دشمنوں پر غالب ہوئے؟“ انہوں نے کہا: ”اول یہ کہ ہم لوگوں میں کسی طرح کا کوئی تفرقہ و اختلاف نہیں تھا دوسرے یہ کہ ہم نے کسی پر ظلم کی ابتداء نہیں کی“۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا: ”صدقتم “تم نے سچ کہا“۔
نتیجہ یہ ہے:
جیسا کہ پہلے بھی ہم نے ذکر کیا ہے کہ نجران کے پہلے اور تیسرے گروہوں نے اسلام کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کی اور اس کے بعد اسلام کو قبول کر لیا لیکن دوسرا گروہ وہ تھا جس کیساتھ مباہلہ کی نوبت پہنچ گئی اور آخر کار انہوں نے مباہلہ ترک کرنے کی خواہش کی انہوں نے بھی اسلام کے قوانین کے سلسلہ میں تحقیق کی اور اس کی حقانیت کو سمجھ گئے لیکن انہوں نے اپنے پہلے گروہ کی روش اختیار نہ کی اور مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ظاہر ًاسلام قبول نہیں کیا۔

۱۔پوپ نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کا خط پھاڑ ڈالا یہ اس کی ریاست طلبی اور تعصب کی دلیل تھی جو حق قبول کرنے میں مانع ہوا۔
۲۔وہ مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوئے کیونکہ اگر وہ اسلام اور محمد (ص) کی حقانیت کے سلسلے میں تحقیق نہ کی ہوتی تو مباہلہ کے ترک کرنے کی درخواست ہرگز نہ کرتے۔ یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسلام اور محمد (ص) کے مکتب کے بارے میں اچھی خاصی تحقیق رکھتے تھے اور اس کی حقانیت کو سمجھ چکے تھے۔
۳۔تاریخ میں یہ ملتا ہے کہ نجران کے نمائندے جب مدینہ سے واپس جا رہے تھے تو ایک نمائندہ نے راستہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہا تو ابو حارثہ (پوپ) نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ پیغمبر کو کہیں بُرا بھلا کہتے ہیں؟ یہی بات اس کا باعث ہوئی کہ اس شخص نے مدینہ واپس آکر اسلام قبول کر لیا۔ تاریخ کا یہ رخ بھی اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ علمائے نجران پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت کو سمجھ گئے تھے۔
۴۔نجران کے علماء جب واپس پہنچے تو لوگوں کو اپنی روداد سنائی، ان کی روداد سن کر نجران کا ایک راہب اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے عبادت خانہ سے چیخ کر کہا: ”اے لوگو! جلدی آوٴ اور مجھے نیچے لے چلو ورنہ میں ابھی اپنے آپ کو نیچے گرا کر اپنی زندگی تمام کر لوں گا“۔

لوگ اسے سہار ا دے کر عبادت خانہ سے نیچے لے آئے وہ دوڑا ہوا مدینہ کی طرف آیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں رہ کر اس نے کچھ مدت تک علمی استفادہ کیا اور قرآنی آیتیں سنیں، کچھ دنوں بعد وہ نجران واپس گیا، واپس جاتے وقت وہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم سے یہ وعدہ کر کے گیا تھا کہ جب مدینہ دوبارہ آئے گا تو اسلام قبول کر لے گا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔ غرض تمام چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان کے نزدیک حقیقت اسلام ثابت ہو چکی تھی اور وہ اچھی خاصی تحقیق بھی کر چکے تھے لیکن چند چیزیں جیسے ریاست طلبی، دنیا داری خنزیر جیسے حرام جانور کا گوشت کھانے اور اہل نجران سے خوف وغیرہ ان کے اسلام قبول کرنے میں رکاوٹ بن رہیں تھیں۔ اس واقعہ مباہلہ سے جہاں اہلبیت پنجتن پاک و اسلام کی فتح و کامیابی کا اشارہ ملتا ہے ساتھ ہی اقلیتوں کے ساتھ قرآنی روش و سلوک کا بھی سبق ملتا ہے۔