Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 12ربیع الاول سے لے کر 17ربیع الاول تک دنیا بھر میں ”ہفتہ وحدت“ کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد اسلام کے بطل جلیل امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے رکھی تھی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مختلف روایات کی بنیاد پر تقریبات مختلف ایام میں منعقد ہوتی چلی آرہی ہیں۔ مسلمانوں کا ایک گروہ اگر 12ربیع الاول کو میلاد مصطفیٰ کے دن کے طور پر مناتا ہے تو دوسرا 17ربیع الاول کو آنحضرت کی ولادت باسعادت کے یوم کے عنوان سے تقریبات اور پروگرام منعقد کرتا ہے۔ اس کی بنیاد چونکہ باہمی رقابت اور آویزش پر نہیں ہے بلکہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آنے والی روایات کے پیش نظر مختلف دنوں کو ایک ہی عنوان سے منایا جاتا رہا ہے، تاہم سب مسلمان پیغمبر اسلام کی محبت سے سرشار ہو کر آپ کے میلاد مبارک کی خوشی مناتے ہیں۔

1رجب المرجب

ولادت با سعادت حضرت امام محمد بن علی باقر العلوم علیہ السلام. پہلی رجب،بروز جمعۃ المبارک ۵۷ھ،مدینہ منورہ

اسم مبارک:محمد،کنیت:ابوجعفر،القاب:باقر العلوم،الشاکر للہ،ھادی،امین اور شبیہ۔

لقب مبارک شبیہ کی وجہ

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی اپنے جد بزرگوار حرعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شباہت کی وجہ سے امام علیہ السلام کو شبیہ یعنی شبیہ رسول خدا کا لقب دیا گیا(دلائل الامامہ ص ۲۱۶، مناقب آل ابی طالب ج ۴ ص ۲۲، بحار ج ۴۶ ص ۲۲۲،۲۹۵)۔

 تاريخ اسلام و مسلمين کا ايک اہم واقعہ، کربلا کا دردناک حادثہ ہے جس نے مسلمانوں کي تاريخ پر گہرے اثرات چھوڑے ہيں اور اسلامي معارف کا ايک نيا باب رقم کيا ہے

61 ھ ميں يہ واقعہ رونما ہو نے کے بعد سے اب تک مسلمانوں کي ايک بڑي تعداد اس واقعہ عظميٰ کي ياد منا رہي ہے اور اسے مسلمانوں کي آئندہ سياسي و اجتماعي حکمت عملي اور ظلم و ستم کے خلاف قيام کے لئے نمونہ عمل قرار ديتي ہے - يہاں تک کہ اسي واقعہ کے اثرات کے نتيجے ميں مسلمانوں کي سياسي و اجتماعي زندگي ميں عظيم تحولات رونما ہوئے ہيں اور مسلمانوں نے شہدائے کربلا کي سيرت و روش پر عمل کرتے اور ظلم و استبداد کے خلاف عَلَم بلند کرتے ہوئے عدل و انصاف کے حصول کي کامياب تحريکيں چلائي ہيں - جس کي تازہ مثال ہمارا معاصر تاريخي واقعہ ہے کہ جسے ہم انقلاب اسلامي ايران کے نام سے ياد کرتے ہيں - جس کو گذرے ہوئے 3٥ سال ہو چکے ہيں اور اس انقلاب کے نتيجے ميں ايک مضبوط اسلامي حکومت وجود ميں آچکي ہے -

تحریر: احمد سلطانی کشمیری

 

خداوندکریم نے بعض دنوں کو بعض دنوں پر، بعض جگہوں کو بعض جگہوں پر اور بعض مہینوں کو بعض مہینوں پر فضیلیت دی ہے ان سےمقدس قرار دیا ہے۔ جیسے ہفتے کے دنوں میں جمعہ کو زیادہ فضیلت حاصل ہے یہاں تک کہ جمعہ کو عید الاسبوع کا نام بھی دیاگیا ہے اور فقراء و مساکین کے لیے جمعہ کے دن نماز جمعہ کو حج الغرباء یا حجۃ المساکین کہا جاتا ہے۔شب قدر کو جمعہ پر فضیلت حاصل ہے۔ مساجد میں بیت الحرام کو افضلیت اور تقدس حاصل ہے۔ اس کے بعد مسجد نبوی،پھر کوفہ اور دوسرے ائمہؑ کے روضے۔ اسی طرح کعبہ اور کربلا کی زمینوں کو دوسرے زمینوں پر فضیلت حاصل ہے۔ بعینہ یہ بات مہینوں میں بھی ہے۔ ماہ مبارک مضان کو دوسرے مہینوں پرزیادہ برکت، فضیلت اور تقدس حاصل ہے۔ یہ مہینہ خدا کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس مہینے  میں باقی مہینے سے دس برابر اعمال کے ثواب ملتا ہے،ایک آیت کے تلاوت پر پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے۔ رحمت کے تمام دروازے خدا کے بندوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔

 

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں تمام تر مسائل کا حل موجود ہے بشرطیکہ اسلام کی تعلیمات کو صحیح انداز میں قرآن اور اہلبیت (ع) سے لیا جائے، لیکن اگر اسلام کی تعلیمات کو اسلام کے لبادے میں مسلط اس زمانے کے خوارج اور ڈکٹیٹرز بنی امیہ و بنی عباس کے ظالم و جابر سلاطین سے لیا جائے یا پھر دور حاضر کے ماڈرن خوارج القاعدہ و طالبان کے بدنما کرتوتوں سے اسلام کو جانچا جائے تو لوگ اسلام سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔ جس کی واضح مثالیں پشاور میں چرچ پر حملہ اور شام و دمشق میں عالمی صیہونیت و وہابیت امریکہ و آل سعود کی ایماء پر القاعدہ طالبان کے ہاتھوں عیسائیوں کو بے دردی سے ذبح کرنا ہے ۔