Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 

(حصه اول )نجاسات کے احکام       تهیه و تنظیم :اجمل حسین قاسمی

 

س ۲۶۶: کيا خون پاک ہے؟

ج: جن جانداروں کا خون اچھل کر نکلتا ہو انکا خون نجس ہے۔

 

س ۲۶۷: وہ خون جو امام حسين عليہ السلام کى عزادارى ميں انسان کے اپنے سر کوديوار سے ٹکرانے کےبعد  جارى ہوتا ہے اور اس بہنے والے خون کى چھينٹيں مجلس عزا ميں شرکت کرنے والوں کے سروں اور چہروں پر پڑتى ہيں تو کيا وہ خون پاک ہے يا نہيں؟

ج: انسان کا خون ہر حال ميں نجس ہے۔

 

 

س ۲۶۸:کيا دھلنے کے بعد کپڑے پر موجود خون کا ہلکے رنگ کا دھبہ نجس ہے؟

ج: اگر خود خون زائل ہو جائے اور فقط رنگ باقى رہ جائے جو دھونے سے زائل نہ ہوتو وہ پاک ہے۔

 

س۲۶۹: اگر انڈے ميں خون کا ايک نقطہ ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟

ج: پاک ہے، ليکن اس کا کھانا حرام ہے۔

 

س ۲۷۰: فعل حرام کے ذريعہ مجنب ہونے والے شخص  اور نجاست خور حيوان کے پسينے کا کيا حکم ہے؟

ج: نجاست خور اونٹ کا پسينہ نجس ہے، ليکن اس کے علاوہ دوسرے نجاست خور حيوانات اور اسى طرح فعل حرام سے مجنب ہونے والے شخص کے پسينہ کے بارے ميں اقوى يہ ہے کہ وہ پاک ہے، ليکن احتياط واجب يہ ہے کہ فعل حرام سے مجنب ہونے پر جو پسينہ آئے اس ميں نماز نہ پڑھى جائے۔

 

س۲۷۱: ميت کو آب سدر اور آب کافور سے غسل دينے کے بعد اور خالص پانى سے غسل دينے سے پہلے جو قطرے ميت کے بدن سے ٹپکتے ہيں کيا وہ پاک ہيں يا نجس؟

ج: ميت کا بدن اسوقت تک نجس ہے جب تک تيسرا غسل کامل نہ ہو جائے۔

 

س ۲۷۲: ہاتھوں ، ہونٹوں يا پيروں سے بعض اوقات جو کھال جد اہوتى ہے، کيا وہ پاک ہے يا نجس؟

ج: ہاتھوں ، ہونٹوں يا بدن کے ديگر اعضاءسے کھال کے جو باريک چھلکے خود بخود جدا ہو جاتے ہيں، وہ پاک ہيں۔

 

س ۲۷۳: جنگى محاذ پر ايک شخص کو  ايسى حالت پيش آئى کہ وہ سؤر کو مارنے اور اسے کھانے پر مجبور ہوا، کيا اس کے بدن کى رطوبت اور لعاب دہن نجس ہيں؟

ج: حرام و نجس گوشت کھانے والے انسان کے بدن کى رطوبت اور لعاب دہن نجس نہيں ہيںليکن رطوبت والى جو چيز بھى سور کے گوشت سے مس ہو گى وہ نجس ہو جائے گي۔

 

س ۲۷۴: پينٹنگ اور تصويريں بنانے ميں بالوں والے برش سے استفادہ کيا جاتاہے۔ انکى بہترين قسم سور کے بالوں سے بنى ہوئى ہوتى ہے اور غير اسلامى ملکوں سے منگوائى جاتى ہے  ايسے برش ہر جگہ خاص طور سے ايڈورٹائزنگ کے لئے اور ثقافتى مراکز ميں استعمال کئے جاتے ہيں پس اس قسم کے برش کے استعمال کے سلسلے ميں شرعى حکم کيا ہے؟

 

 

ج: سور کے بال نجس ہيں او ان سے ايسے امور ميں استفادہ کرنا جائز نہيں ہے جن ميں شرعاً طہارت شرط ہے، ليکن ان امور ميں ان کو استعمال کرنے ميں کوئى حرج نہيں جن ميں طہارت شرط نہيں ہے۔ اور اگر ان کے بارے ميں يہ معلوم نہ ہو کہ وہ سور کے بالوں سے بنے ہوئے ہيں يا نہيں تو ان کا استعمال ان امور ميں بھى بلا اشکال ہے جن ميں طہارت شرط ہے۔

 

س ۲۷۵:کيا غير اسلامى ممالک سے وارد ہونے والا گوشت حلال ہے ؟ نيز طہارت و نجاست کے لحاظ سے اس کا کيا حکم ہے ؟

ج: جب تک اس کا ذبح شرعى ثابت نہ ہوجائے وہ حرام ہے ليکن جب تک اس کے ذبح شرعى نہ ہونے کا يقين نہ ہو وہ پاک ہے۔

 

س ۲۷۶:چمڑے اور ديگر حيوانى اجزاءکے بارے ميں آپ کى رائے کيا ہےجو غير اسلامى ممالک سے آتے ہيں ۔

ج: اگر جانور کے ذبح شرعى ہونے کا احتمال ہو تو پاک ہيں ليکن اگر يقين ہو کہ شرعى طريقے سے ذبح نہيں ہوا تو نجس ہيں۔

 

س ۲۷۷: اگر مجنب کا لباس منى سے نجس ہو جائے تو اول: يہ کہ اگر ہاتھ يا اس کپڑے ميں سے کوئى ايک گيلا ہو تو ہاتھ سے اس لباس کو چھونے کا کيا حکم ہے؟ اور دوسرے:  کيا مجنب کے لئے جائز ہے کہ وہ کسى اور شخص کو وہ لباس پاک کرنے کے لئے دے؟ نيز کيا مجنب کے لئے ضرورى ہے کہ وہ دھونے والے شخص کو  بتائے کہ يہ  نجس ہے؟

ج: منى نجس ہے اور جب اس کى سرايت کرنے والى رطوبت کے ہوتے ہوئے اسے کوئى چيز لگے تو وہ بھى نجس ہو جائے گي، اور لباس دھونے والے کو يہ بتانا ضرورى نہيں ہے کہ وہ نجس ہے ليکن صاحب لباس کو جب تک اسکى طہارت کا يقين نہ ہو اس پر طہارت کے آثار جارى نہيں کرسکتا۔

 

س ۲۷۸: پيشاب کرنے کے بعد استبراءکرتا ہوں، ليکن اس کے ہمراہ ايک بہنے والى رطوبت نکلتى ہے جس سے منى کى بو آتى ہے کيا وہ نجس ہے ؟ نيز اس سلسلے ميں نماز کے لئے ميرا حکم بيان فرمائيں؟

ج: اگر اس کے منى ہونے کا يقين نہ ہو اور اس ميں منى نکلنے کے سلسلے ميں جو شرعى علامتيں بيان ہوئى ہيں وہ بھى نہ پائى جائيں تو وہ پاک ہے اور اس پر منى کا حکم نہيں لگے گا۔

 

س ۲۷۹: کيا حرام گوشت پرندوں جيسے عقاب، طوطا، کوا اور جنگلى کوا ۔ کا پاخانہ نجس ہے ؟

ج: حرام گوشت پرندوں کا پاخانہ نجس نہيں ہے ۔

 

س ۲۸۰: (مراجع عظام کي)  توضيح المسائل ميں لکھا ہے کہ ان حيوانات اور پرندوں کا پاخانہ نجس ہے جن کا گوشت حرام ہے تو جن حيوانات کا گوشت حلال ہے جيسے گائے، بکرى يا مرغى کيا ان کا پاخانہ نجس ہے يا نہيں؟

ج: حلال گوشت جانوروں خواہ وہ پرندے ہوں يا دوسرے جانور انکا پاخانہ پاک ہے اور حرام گوشت پرندوں کا پاخانہ بھى پاک ہے۔

 

س ۲۸۱: اگر بيت الخلاءکى سيٹ کے اطراف يا اس کے اندر نجاست لگى ہو اور اس کو کر بھر پانى يا قليل پانى سے دھويا جائے ليکن  عين نجاست باقى رہ جائے تو کيا وہ جگہ جہاں عين نجاست نہ لگى ہو بلکہ صرف دھونے والا پانى اس تک پہنچا ہو، نجس ہے يا پاک ؟

ج: جس جگہ تک نجس پانى نہيں پہنچا، وہ پاک ہے۔

 

س ۲۸۲: اگر مہمان، ميزبان کے گھر کى کسى چيز کو نجس کر دے تو کيا اس پر اس کے بارے ميں ميزبان کو مطلع کرنا واجب ہے؟

ج: کھانے پينے والى چيزوں اور کھانے کے برتنوں کے علاوہ دوسرى چيزوں کے سلسلے ميں مطلع کرنا ضرورى نہيں ہے۔

 

س ۲۸۳: کيا پاک چيز متنجس سے ملنے کے بعدنجس ہو جاتى ہے يا نہيں؟ اور اگر نجس ہو جاتى ہے تو يہ حکم کتنے واسطوں تک جارى ہو گا؟

ج: عين نجاست سے لگنے والى چيز نجس ہو جاتى ہے اگر پھر پاک چيز سے مل جائے اور ان ميں سے ايک مرطوب ہو تو وہ پاک چيز نجس ہوجائے گى اور اگر پھر يہ پاک چيز جو متنجس سے ملاقات کے بعد نجس ہوگئى ہے اگر پاک چيز کے ساتھ مل جائے تو بنا بر احتياط اس سے لگنے والى تيسرى چيزبھى نجس ہو جاتى ہے، ليکن يہ تيسرى متنجس چيز کسى اورچيز کو نجس نہيں کرے گي۔

 

س ۲۸۴: کيا جس جانور کو شرعى طريقے سے ذبح نہيں کيا گيا اس کى کھال کے جوتے استعمال کرنے کى صورت ميں وضو سے قبل ہميشہ پيروں کا دھونا واجب ہے؟ بعض کہتے ہيں اگر جوتے کے اندر پيروں کو پسينہ آجائے تو واجب ہے، اور ميں نے ديکھا ہے کہ ہر قسم کے جوتوں ميں پيروں سے تھوڑا بہت پسينہ ضرور نکلتا ہے، اس مسئلہ ميں آپ کى کيا رائے ہے؟

ج: اگر يقين ہو کہ جوتا ايسے جانور کى کھال کا بنا ہوا ہے جسے شرعى طريقے سے ذبح نہيں کياگيا تھا اور يقين ہو کہ مذکورہ جوتے ميں پير سے پسينہ نکلا ہے تو نماز کے لئے پيروں کا دھونا واجب ہے ليکن اگر شک ہوکہ پسينہ نکلاہے يا نہيں يا شک ہو کہ جس جانور کى کھال سے اسے بنايا گيا ہے اسے شرعى طريقے سے ذبح کيا گياتھا يا نہيں تو پاک ہے۔

 

س۲۸۵: اس بچے کے گيلے ہاتھ، اس کى ناک کے پانى اور اس کى جوٹھى غذا کا کيا حکم ہے، جو ہميشہ خود کو نجس کرتا رہتا ہے اور ان بچوں کا کيا حکم ہے جو اپنے گيلے ہاتھوں سے اپنے پير چھوتے ہيں؟

ج: جب تک ان کے نجس ہونے کا يقين حاصل نہ ہو اس وقت تک يہ پاک ہيں۔

 

س ۲۸۶: ميں مسوڑھوں کے مرض ميں مبتلا ہوں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق انکى مالش کرناضرورى ہے، اس عمل سے مسوڑھوں کے بعض حصے سياہ ہو جاتے ہيں گويا ان کے اندر خون جمع ہو اور جب ان پر ٹشو پيپر رکھتا ہوں تو اس کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے، اس لئے ميں اپنا منہ آب کر سے پاک کرتا ہوں، اس کے با وجود وہ جما ہوا خون کافى دير تک باقى رہتا ہے اور دھونے سے ختم نہيں ہوتا پس آب کر سے ہٹنے کے بعد جو پانى ميرے منہ کے اندر داخل ہواہے اور ان حصوں پر لگا ہے اور پھر منہ سے خارج ہوتاہے کيا وہ نجس ہے يا اسے لعاب دہن کا جزءشمار کيا جائے گا اور وہ پاک ہو گا؟

ج: پاک ہے اگرچہ احتياط يہ ہے کہ اس سے پرہيز کيا جائے۔

 

س ۲۸۷: يہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ميں جو کھانا کھاتا ہوں اور وہ مسوڑھوں ميں جمع شدہ خون کے اجزاءسے مس ہوتا ہے کيا وہ نجس ہے يا پاک؟ اور اگر نجس ہے تو کيا اس کھانے کو نگلنے کے بعد منہ کا اندرونى حصہ نجس رہتا ہے؟

ج: مذکورہ فرض ميں کھانا نجس نہيں ہے اور اس کے نگلنے ميں کوئى اشکال نہيں ہے اور منہ کے اندر کى فضا بھى پاک ہے۔

 

س ۲۸۸: مدت سے مشہور ہے کہ ميک اپ کا سامان بچے کى اس ناف سے تيار کيا جاتا ہے جسے اسکى پيدائش کے بعد اس سے جدا کرتے ہيں يا خود جنين کى ميت سے تيار کيا جاتا ہے ہم کبھى کبھى ميک اپ کى چيزيں استعمال کرتے ہيں، بلکہ بعض اوقات تو لپ اسٹک حلق کے نيچے بھى اتر جاتى ہے تو کيا يہ نجس ہے؟

ج: ميک اپ کى چيزوں کے نجس ہونے کى افواہيں کوئى شرعى دليل نہيں ہيں اور جب تک شريعت کے معتبر طريقوں سے ان کى نجاست ثابت نہيں ہوتى اس وقت تک ان کو استعمال کرنے ميں کوئى حرج نہيں ہے۔

 

س ۲۸۹: ہر لباس يا کپڑے کو دھوتے وقت اس سے بہت ہى باريک روئيں گرتى رہتى ہيں اور جب ہم کپڑے دھونے والے ٹب کے پانى کو ديکھتے ہيں تو اس ميں يہ باريک روئيں نظر آتى ہيں، پس اگرٹب پانى سے بھرا ہوا ہو اور اس کا اتصال نل کے پانى سے ہو تو جب ميں ٹب ميں لباس کو غوطہ ديتا ہوں اورٹب سے پانى باہر گرنے لگتا ہے تو ٹب سے گرنے والے پانى ميں ان روؤں کى موجودگى کى وجہ سے ميں احتياطاً ہر جگہ کو پاک کرتا ہوں يا جب ميں بچوں کے نجس کپڑے اتارتا ہوں تو اس جگہ کو بھى پاک کرتا ہوں جہاں لباس اتارا گيا تھا، خواہ وہ جگہ خشک ہى ہو اس لئے کہ ميں کہتا ہوں وہ روئيں اس جگہ گرى ہيں پس کيا يہ احتياط ضرورى ہے؟

ج: جو لباس دھونے کيلئے ٹب ميں رکھا جاتا ہے اور پھر اس پر نل سے پانى ڈالا جاتا ہے جو اسے پورى طرح گھيرليتا ہے تو يہ لباس ، ٹب ،پانى اور وہ روئيں جو لباس سے جدا يا اس کے اندر جابجا ہوتى ہيں اور پانى پرنظر آتى ہيں اور پانى کے ہمراہ ٹب سے باہر گرتى ہيں سب پاک ہيں اور وہ روئيں يا غبار جو نجس لباس سے جدا ہوتےہيں وہ بھى پاک ہيں مگر جب يقين ہو کہ يہ نجس حصے سے جدا ہوئے ہيں اور جب شک ہو کہ يہ نجس لباس سے جدا ہوئے ہيں يا نہيں يا شک ہو کہ انکى جگہ نجس ہے يا نہيں تو احتياط کرنا ضرورى نہيں ہے ۔

 

س۲۹۰: اس رطوبت کى مقدار کيا ہے جو ايک چيز سے دوسرى چيز ميں سرايت کرتى ہے؟

ج: سرايت کرنے والى رطوبت کا معيار يہ ہے کہ کوئى گيلى چيز جب دوسرى چيز کو لگے تو اس کى رطوبت اس دوسرى چيز کى طرف سرايت کرجائے ۔

 

س ۲۹۱: ان کپڑوں کے پاک ہونے کا کيا حکم ہے جو ڈرائى کليننگ پر ديے جاتے ہيں؟ اس بات کى وضاحت کر دينا ضرورى ہے کہ دينى اقليتيں (مثلاً يہودى اور عيسائى و غيرہ) بھى اپنے کپڑے دھونے اور استرى کرنے کے لئے انہيں جگہوں پر ديتے ہيں اور يہ بھى معلوم ہے کہ ڈرائى کلين کرنے والے، کپڑے دھونے ميں کيميکل مواد استعمال کرتے ہيں۔

ج: جو کپڑے ڈرائى کليننگ ميں ديے جاتے ہيں، اگر وہ پہلے سے نجس نہ ہوں تو پاک ہيں اور (اہل کتاب) دينى اقليتوں کے کپڑوں کے ساتھ لگنا ان کے نجس ہونے کا باعث نہيں بنتا۔

 

س ۲۹۲: جو کپڑے گھر کى آٹوميٹک کپڑے دھونے والى مشين ميں دھوئے جاتے ہيں، کيا وہ پاک ہوجاتے ہيں يا نہيں؟ مذکورہ مشين اس طرح کام کرتى ہے کہ پہلے مرحلے ميں مشين کپڑوں کو کپڑے دھونے والے پاؤڈر سے دھوتى ہے جس کى وجہ سے کچھ پانى اور کپڑوں کا جھاگ مشين کے دروازے کے شيشے اور اسکے اطراف ميں لگے ہوئے ربڑ کے خول پر پھيل جاتا ہے دوسرے مرحلے ميں دھوون (غسالہ ) کو نکال ديا جاتا ہے ليکن جھاگ اس کے دروازے اور ربڑ کے خول کو پورى طرح گھير ليتا ہے اور اگلے مراحل ميں مشين کپڑوں کو تين مرتبہ آب قليل سے دھوتى ہے پھر اس کے بعد دھوون کو باہر نکالتى ہے، تو کيا اس طرح دھوئے جانے والے کپڑے پاک ہوتے ہيں يا نہيں؟

ج: عين نجاست زائل ہو جانے کے بعد جب پائپ کے ساتھ متصل پانى مشين ميں داخل ہو کر کپڑوں اور مشين کے اندراسکے تمام اطراف تک پہنچ جائے اور پھر اس سے جدا ہو کر نکل جائے تو ان کپڑوں پر طہارت کا حکم جارى ہوگا۔

 

س۲۹۳: اگر ايسى زمين پر يا حوض يا حمام ميں کہ جس ميں کپڑے دھوئے جاتے ہيں، پانى بہايا جائے اور اس پانى کے چھينٹے لباس پر پڑ جائيں تو کيا وہ نجس ہوجائے گا يا نہيں؟

ج: اگر پانى پاک جگہ يا پاک زمين پر بہايا جائے تو اس سے پڑنے والے چھينٹے بھى پاک ہيں اورگر شک ہوکہ وہ جگہ پاک ہے يا نجس تو بھى اس سے پڑنے والے چھينٹے پاک ہيں۔

 

س ۲۹۴: بلديہ کى کوڑا ڈھونے والى گاڑيوں سے جو پانى سڑکوں پر بہتا جاتا ہے اور بعض اوقات تند ہوا کى وجہ سے لوگوں کے اوپر بھى پڑ جاتا ہے، کيا وہ پانى پاک ہے يا نجس؟

ج: پاک ہے مگر يہ کہ نجاست سے لگنے کى وجہ سے اس پانى کے نجس ہونے کا کسى شخص کو يقين ہو جائے۔

 

س ۲۹۵: سڑکوں پر موجود گڑھوں ميں جمع ہوجانے والا پاني، پاک ہے يا نجس؟

ج: پاک ہے۔

 

س۲۹۶: ان لوگوں کے ساتھ گھريلو رفت و آمد رکھنے کا کيا حکم ہے جو کھانے پينے وغيرہ ميں طہارت و نجاست کے مسائل کا خيال نہيں کرتے؟

ج: طہارت و نجاست کے بارے ميں کلى طور پر شريعت اسلامى کا حکم يہ ہے کہ ہر وہ چيز جس کے نجس ہونے کا يقين نہ ہو پاک ہے۔

 

س ۲۹۷: برائے مہربانى مندرجہ ذيل صورتوں ميں قے کى طہارت اور نجاست کے بارے ميں شرعى حکم بيان فرمائيں۔

الف۔ شير خوار بچے کى قے۔

ب۔ اس بچے کى قے جو دودھ پيتا ہے اور کھانا بھى کھاتا ہے۔

ج۔ بالغ انسان کى قے۔

ج: تمام صورتوں ميں پاک ہے۔

 

س ۲۹۸: شبہہ محصورہ ( چند ايسى چيزيں جن ميں سے ايک نجس ہے) سے لگنے والى چيز کے بارے ميں کيا حکم ہے؟

ج: اگر ان ميں سے بعض چيزوں سے لگے تو نجس نہيں ہے۔

 

س۲۹۹: ايک شخص کھا نا بيچتا ہے اور سرايت کرنے والى ترى کے ساتھ کھا نے کو اپنے جسم سے چھوتا ہے، ليکن اس کے دين کا پتہ نہيں ہے اور وہ کسى دوسرے ملک سے اسلامى ملک ميں کام کرنے کيلئے آيا ہے کيا اس سے اس کے دين کے بارے ميں سوال کرنا واجب ہے؟ يا اس پر اصالت طہارت کا حکم جارى ہوگا؟

ج: اس سے اس کا دين پوچھنا واجب نہيں ہے اور اس شخص کے بارے ميں اور رطوبت کے ساتھ اس کے جسم سے لگنے والى چيز کے بارے ميں اصالت طہارت جارى کريں گے۔

 

س ۳۰۰: اگر گھر کا کوئى فرد يا ايسا شخص جس کى گھر ميں رفت و آمد ہے طہارت و نجاست کا خيال نہ رکھتا ہو جس سے گھر اور اس ميں موجود چيزيں وسيع پيمانہ پر نجس ہو جائيں کہ جن کا دھونا اور پاک کرنا ممکن نہ ہوتواس صورت ميں گھر والوں کا فريضہ کيا ہے؟ ايسى صورت ميں انسان کيسے پاک رہ سکتا ہے خصوصاً نماز ميں کہ جس کے صحيح ہونے ميں طہارت شرط ہے؟ اور اس سلسلہ ميں حکم کيا ہے؟

ج: تمام گھر کو پاک کرنا ضرورى نہيں ہے اور نماز صحيح ہونے کے لئے نماز گزار کا لباس اور سجدہ گاہ کے مقام کا پاک ہونا کافى ہے۔ گھر اور اس کے سامان کى نجاست کى وجہ سے، نماز اور کھانے پينے ميں طہارت کا لحاظ رکھنے کے علاوہ انسان پر کوئى مزيد ذمہ دارى عائد نہيں ہوتي۔

 

.........................................................

 ماخذ

www.leader.ir