Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 

تحریر:عیدعلی عابدی

          مقدمہ

عام و خاص زیادہ تر استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ثقافت ہے ۔ اس سے ہر کوئی بخوبی آشنا ہے ۔ یہ مشکل اور پیچیدہ مفاہیم اور معانی میں شمار ہوتا ہے ۔

اس کی اہمیت کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ؛ اس لئے کہ اب وہ پچھلے زمانے کی صدیاں نہیں ہے جس میں دشمن اپنی فوجی یلغار کے لئے کئی سرحدوں کو عبور کرکے اپنے مقصد تک پہنچے ۔ جس صدی میں ہم زندگی کررہے ہیں ، یہ ثقافتی یلغار اور تہذیبی تصادم کی صدی ہے ، مواصلاتی نظام یا جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو گلوبل ولیج یا بہتر کہوں ہوم ولیج میں تبدیل کردیا ہے ۔ اب دشمن اس کے ذریعے کسی شور و شرابے کے بغیر ممالک بلکہ گھروں تک کو پہنچ چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلم معاشرے میں خصوصا نسل جوان مغربی ثقافتی کے دلدل میں غرق ہوتے جارہے ہیں ، ہمارے جوانوں کی سوچ ، گفتار و کردار کو لوٹا جارہا ہے ۔ اب ان حالات میں اپنے جوانوں کو غرق ہونے سے بچانے کے لئے ، کیا اب بھی دینی و سیاسی لیڈروں اور دیگر ذمہ دار افراد سے لیکر گھر کے والدین تک خصوصا علماء و دانشمندوں کا وظیفہ سنگین نہیں ہوا ہے ؟

 

وہ کون سے اقدامات کئے جائیں اور کیا طریقہ کار استعمال کیا جائے کہ جس سے مغربی ثقافت کو ( کہ   جسے رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ نے شبیخون سے تعبیر کیا ہے ) روکا جائے ؟

کیا ہمارے پاس اس ثقافتی یلغار سے روکنے کے لئے کوئی واضح اور روشن راستے نہیں پائے جاتے ہیں ؟ کیوں نہیں ، ہمارے پاس الہی اور اسلامی ثقافت ہے کہ جسے صحیح انداز میں زندہ اور اجاگر کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کو عملا فروغ دینے کی ضرورت ہے اور نسل جوان کو مغربی ثقافت کی تہذیب و تمدن کو اپنانے سے اس کے نقصانات کو خود انہیں کے اپنے ہاتھ سے بنائے مختلف ذرائع اور وسائل سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ مغرب والے اپنے ثقافتی یلغار کا اصلی مقصد جوانوں کو کیوں ٹارگٹ قرار دیتے ہیں ؟

وہ اس لئے کہ کیونکہ دشمن نے یہ خوب جان لیا ہے کہ جوان طبقہ ہر معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، قوم و ملت کا بڑا سرمایہ شمار ہوتا ہے ، قدرت طلبوں کے راہ میں رکاوٹ بنتا ہے ۔

اس بناء پر ثقافتی یلغار کے موضوع سے متعلق جوانوں کے محور پر تحقیق کرنا ضروری سمجھا گیا ہے ۔ ہاں البتہ یہ بات قابل ذکرہے کہ ثقافتی یلغار کا موضوع بہت وسیع ہے ، تفصیل سے بیان کرنا اس مضمون کی گنجائش سے باہر ہے ؛ لذا کوشش کی گئی ہے کہ صرف جوانوں سے متعلق ثقافتی یلغار کے چند عوامل اور اسباب اور اس سے روکنے کے لئے پیشگی اقدامات کی بہت ہی مختصر وضاحت کی جائے ۔

ثقافتی یلغار کا مفہوم     :

    ثقافتی یلغار دو کلمے سے بنا ہے ، ۱۔ ثقافت  ، ۲۔ یلغار ۔ ہم پہلے یلغار کا معنی کرتے ہیں ۔

یلغار لغت میں حملہ کرنے کا معنی دیتا ہے   اور دفاع کے مقابل ہے  ۔  اگرچہ یہ کلمہ لغت کے اعتبار سے دونوں طرف سے حملہ کرنے کے معنی میں مشترک ہے لیکن یہ مراد نہیں ہے بلکہ عرف عام کے نزدیک ایک طرفہ حملہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے  ۔

کلمہ ثقافت  ( Culture) کی تعریف میں اتفاق رای نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے اور ان پیچیدہ الفاظ میں سے ہے ؛ اس لئے تو اب تک اس کی کوئی واضح اور جامع تعریف نہیں ہوئی ہے  ۔

 

ثقافتی یلغار کے مقاصد

حملہ آور اپنے مقاصد کو دیگرممالک میں پیادہ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل حربے یا ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے

:

 1۔ فوجی ، ۲۔ سیاسی ، ۳۔اقتصادی ، ۴۔ ثقافتی  ۔

البتہ یہ جان لینا چاہئے کہ مذکورہ مقاصد ہر زمانے کے اپنے شرائط کے مطابق کبھی ایک ، کبھی دو  تو کبھی سب ہی استعمال کئے جاتے ہیں ۔اب ان حربوں میں سے تجربے کے ذریعے جو سب سے زیادہ عامل مؤثر  واقع ہوا ہے وہ ثقافتی یلغار کا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج کے دنیا کے مستکبرین اپنے پورے تسلط کے لئے صرف ثقافتی یلغار کا استعمال زیادہ کررہے ہیں ؛ کیونکہ اس کو بغیر کسی شور مچائے انجام دیا جاتا ہے ۔             اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ عام طور پر اس کے بارے دنیا کے گوشہ و کنار سے سوالات اور اعتراضات نہیں اٹھتے ہیں اورعمومی کوئی مخالفت بھی نہیں ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے حملہ آور  اپنے اس مقصد میں خصوصا نسل جوان کو بگاڑنے یا یوں کہا جائے کہ بیگانہ ثقافت کو اپنانے اور اپنی طرف جذب کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوا ہے ۔

 

کسی بھی سماج یا معاشرہ کی اپنی ایک پہچان ہوا کرتی ہے جس کے ذریعے اُسے پہچانا جاتا ہے ۔ آج کل مغرب کی شناخت اور پہچان اس کی ٹیکنالوجی ہے ، لیکن اسلامی معاشرے کی پہچان ، دینداری ، اخلاق ، عقلانیت اور معنویت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کئی صدیوں سے اس کو ختم کرنے کے لئے مد مقابل صف آرائی    کئے ہوئے  ہیں اور کبھی پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے  ۔

حملہ آوروں کی ثقافت کا اصلی مقصد کہ جسے انہوں نے پہلے سے ترسیم کیا ہوا ہے ، آج دنیا بالکل اسی سمت حرکت کررہی ہے یعنی اسلامی معاشرے کی شناخت اور اس کے اثرات کو  تباہ و برباد کرنا ، دینی اعتقادات کو کمزور کرنا اور خصوصا نسل جوان کو بے دین بنانے کے درپے ہیں  ۔ یہ ثقافتی یلغار کا مقدمہ ہے تاکہ توحیدی فکر کو تمام دنیا سے ہٹاکر اس کے جگہ اپنی ثقافت کو مسلط کرے ؛ اس لئے اس کو دو اہم مقصد میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے : ۱۔ اسلام کو ہٹانا ، ۲۔      ( اسلامی ثقافت کی جگہ ) حملہ آور کی ثقافت کو لے آنا ۔

 

ثقافتی یلغار کے اسباب اور عوامل

ثقافتی یلغار کو شکل دینے میں جو عوامل اور اسباب مؤثر ہیں ، ان کو دو حصوں یعنی اندرونی اور بیرونی اسباب میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں البتہ جو پہلے ذکر کئے گئے وہ بھی انہی کا حصہ ہیں جو سب مل کر ایک دوسرے کو مکمل کررہے ہیں ، وہ عوامل یہ ہیں:

1۔ خود اعتمادی کی کمی :

یہ عامل انسان کے فردی ، سیاسی اور اقتصادی پہلؤوں میں ظہور کرتا ہے ۔ اس کا معنی اور مطلب یہ ہے کہ عام مسلمان خصوصا جوان نسل ، اپنی قابلیتوں اور خدادادی استعدادوں کو کچھ نہ سمجھے بلکہ اس تفکر کو اپنے اندر باور کرائے کہ استعداد اور قابلیت تو صرف مغرب والوں کے اختیار میں ہے ۔ اسی طرح یہ سبب سیاسی اور اقتصادی عرصہ میں بھی یہی معنی رکھتا ہے جس کی وجہ سے بعض مسلمانوں کا تصور یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اس میدان میں مستقل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اس لئے جب تک خود کو دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے وابستہ نہ کرلیں تب تک مستقل نہیں ہوسکتے !جس کے   نتیجے میں   یہ عامل سبب بنا کہ اسلامی معاشرے کے جوانوں کے اندر خود اعتمادی میں کمزوری آجائے اور  ثقافتی حملہ آور ممالک کی طرف رغبت پیدا کریں  ۔ شاید اسلام اسی چیز کا مقابلہ کرنے کی طرف دعوت دے رہا ہے اور یہ پکار رہا ہے کہ اپنے اوپر یقین کرو ،   اپنے کو پہچانو  اور مستقل رہنے کی طلب و تڑپ میں رہو ۔ جیسا کہ امام خمینی (رہ) دعوت اسلام کے اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (( اگر  یہ جوان نسل اپنے آپ کو پہچان لے اور اپنے سے مایوسی کو دور کرے اور  دوسروں سے وابستہ ہونے کی طرف نظر نہ رکھے تو ایک طویل مدت کے بعد سب کچھ کرنے اور بنانے کی طاقت رکھتے ہیں )) ۔

 

2 ۔ کم تجربہ گی و نا پختگی :

ثقافتی یلغار کے اسباب میں سے ایک سبب ، جوانوں کی کم تجربہ گی اور علم کی کمی ہے ۔ یہ جوان طبقہ جو زمانے کا کافی تجربہ نہیں رکھتے ہیں ، اپنی پرنشیب و فراز زندگی کے آغاز میں ہیں ؛ لذا بہت ہی جلد منافع خوروں کی مذموم سیاستوں سے  متاثر ہوتے ہیں ۔ ان جوانوں کی کم تجربہ گی سبب بنتی ہے کہ وہ حق و باطل کی پہچان میں مشکل سے دوچار ہوجائیں ۔ جوانوں کا مغربی ثقافت اپنانا ، وہاں کی شخصیتوں کو اپنے لئے گفتار میں ماڈل قرار دینا اس معنی کی بہترین دلیل ہے ۔ ثقافتی حملہ آور بھی اسی خصوصیت سے بھرپور استفادہ کرکے جوانوں کو غفلت کے دام میں ڈال دیتے ہیں ۔ امام صادق ؑ فرماتے ہیں : (( اے جوانو ! تقوا اختیار کرو اور جھوٹے رہبروں کو اپنا ماڈل نہ بناؤ تاکہ ان کی پیروی نہ کرسکو )) ۔ امام صادق ؑ کے اس نورانی جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ؑ کے زمانے میں بھی جوان طبقہ اس ثقافتی یلغار کے جال میں شکار  ہورہے تھے ۔

 

3۔ دینی عقائد کی کمزوری :

دینی عقائد کی کمزوری بھی ، ثقافتی یلغار کے لئے ایک سبب ہے ۔ اگر دینی عقائد کمزور ہوجائیں تو جوان نسل اپنے بنیادی سوالوں کے جواب سے محروم ہوجاتی ہے ، درنتیجہ عمل کے میدان میں آہستہ آہستہ دوسروں کے افکار و خیالات میں جذب ہوکر ان کو اپنا ماڈل قرار دیتے ہیں ۔ دوسری طرف ثقافتی حملہ کرنے والے بھی ہمیشہ دین سے لڑنے اور اس سے جدا کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں اور اس طرح اپنی تبلیغ کررہے ہیں کہ دین ایک قسم کا دیا گیا خیالی افکار کے مجموعہ کا نام ہے جو کہ فردی زندگی سے مربوط ہے اور اس کا علم و دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ شاید اس قسم کی ثقافتی یلغار سے روکنے کے لئے ہماری دینی تعلیمات میں سب سے مخاطب ہوکر ، خصوصا جوانوں کو اپنی فکری بنیادوں کو مضبوط کرنے اور دینی معارف کو سیکھنے پر زور دیا گیا ہے ، یہاں تک کہ امام باقر ؑ  اور امام صادق ؑفرماتے ہیں :         (( اگر شیعوں میں سے کسی جوان کو اس طرح دیکھوں کہ وہ اپنے دین کو نہیں سمجھ رہا ہے اور اس وظیفے کے ادا کرنے میں سستی کرتا ہے اور خلاف ورزی کررہا ہے تو میں اس کو سخت سزا دوں گا )) ۔

 

 ۴۔ ثقافتی خلاء :

یہ عامل بھی ثقافتی یلغار کا ایک سبب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح طور پر جوان نسل کو ثقافتی غذا نہیں دی گئی ہے اور وہ عملی طور پر اپنے ثقافتی آثار سے بے خبر ہیں ؛ جس طرح  تازہ نونہال پودے کی مانند جب سخت ہوائیں چلتی ہیں تو اکھڑ جاتے ہیں اسی طرح اس دور کے تند ثقافتی حملوں نے ہمارے جوانوں کو بھی اپنی قومی ثقافتی پہچان سے دور کردیا ہے ۔

ثقافتی خلاء ہونے کی صورت میں دشمن کی ثقافت کو قبول کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے ؛ کیونکہ ہمیشہ جوان طبقہ اپنے ثقافتی آئی ڈی کو حاصل کرنے کے پیچھے لگے ہوتے ہیں ؛ اس لئے جوانوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک بے نیاز ثقافت رکھتا ہے اور یہ بھی ان کو یاد دلایا جائے کہ بہت سے علمی میدانوں میں تمغات کو حاصل کرنے والے اور جیتنے والے بہادر ، اسلامی معاشرے سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اسلامی معاشرہ ، اہلبیت ؑ کے علوم و معارف سے بہرہ مند ہے ، ان کی تعلیمات  کو اسلامی معاشرے میں اگر صحیح طریقے سے فروغ دیا جائے تو لوگ خصوصا جوان نسل کبھی بھی بیگانہ ثقافت کو نہیں اپنائیں گے ؛ اسی لئے تو معصوم ؑ نے فرمایا ہے : (( اگر ہمارے کلام کو صحیح طور پر بیان کردیا جائے تو لوگ ہماری طرف مائل ہوجائیں گے )) ۔

 

5۔ دین کی غلط تفسیر کرنا :

دین اور اس کی تعلیمات کی غلط تفسیر کرنا بھی ثقافتی یلغار کا باعث ہے ۔ دین کے تمام احکام ، اخلاق اور الہی حدود کی اس طرح تفسیر کی جائے کہ کسی دشمن کو تحریف کرنے کا موقع نہ ملے ۔ شاید اسی وجہ سے دین اسلام میں  اس کی صحیح تفسیر کے لئے اجتہاد کا باب کھول دیا گیا ہے ، تاکہ  ہر کس و ناکس دین کی غلط تفسیر نہ کرسکیں ۔

یہ مجتہدین و علماءربانیین کا کام ہے کہ وہ الہی احکام کا صحیح استنباط کرکے لوگوں تک پہنچائیں ۔ ا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض نے دین کو دنیا سے جدا تفسیر کیا ہے ، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ دین صرف آخرت کے مسائل کا جوابگو ہے ۔ اسی طرح بعض مسلّٖم عقائد اور دینی تعلیمات کے مفاہیم میں مشکل کے روبرو ہوگئے ہیں ۔ مثلا انتظار کا اس طرح معنی کیا ہے کہ امام زمان (عج) کے غیبت میں ظلم کے خلاف قیام نہیں کرنا چاہئے ؛ کیونکہ یہ امام (عج) کے ظہور میں تاخیر کا سبب ہے ! جبکہ اس دور میں دیگر مذاہب کے لوگ ظلم کے خلاف قیام کی دعوت دے رہے ہیں ۔ خلاصہ اس قسم کی غلط تفسیر سے جونوں کو مشکل میں ڈال رہے ہیں بلکہ دیگر مکاتب کی طرف جانے کی فکر دے رہے ہیں اور رغبت دلا رہے ہیں ۔

 

دین اور اس کی تعلیمات کی صحیح تفسیر کرنے کی اشد ضرورت کو شہید مطہری ؓ  نے دوسرے مکاتب کی طرف مائل ہونے کی علتوں میں سے ایک علت کو دین کی غلط تفسیر کرنا قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : (( آج کل کم و زیاد جوانوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یا تو خدا پرست ہوکر ، صلح طلب ، عافیت طلب اور کسی شور وشرابا کے خاموش بیٹھنا ہے ،  یا تو ماتریالیست بن کر جوش و خروش ، جذبہ والا ۔۔۔ کیوں اس طرح کی فکر اس جوان کے ذہن میں پائی جاتی ہے ؟ کیوں ماتریالیسم ( Matarialism) کو اس طرح کی خصوصیت سے شناخت کروایا گیا اور الہی مکتب کو اس خاصیت کے ساتھ ؟ ۔۔۔ ان سوالوں کا جواب واضح ہے ( کیونکہ ) جوان دیکھ رہا ہے کہ ہر قسم کے قیام و تحرکات ، انقلابات ، جنگوں اور میدانوں میں ہر جگہ ماتریالیسم کے حواری اور طرفداروں کے ہاتھوں لگام ہے ، دوسری طرف الہی لوگ ، عمومی طور پر یا اکثر جن میں کوئی حرکت نہیں ہے ، بے پروا بیٹھے ہوئے ہیں ، تو نسل جوان کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے بارے فیصلہ کرنے میں الہی مکتب کو ٹھکرائے اور مادی مکتب کو اپنائے یا اس کی تائید کرے )) ۔

 

6 ۔ بہت سے دیگر عوامل :

یہاں اور بہت سارے عوامل و اسباب ہیں  جن کو طولانی ہونے کی وجہ سے ذکر نہیں کیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں : گھریلوے اختلافات ، بے روزگاری ، غریبی و ناداری ، تعلیم سے محرومیت ، میڈیا و اخبارات کی طرف سے فحش تصاویر اور فلموں کی نمائش و۔۔۔ یہ سب ثقافتی حملہ آوروں کے طریقے شمار ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرہ میں بعض اسلامی لیڈر و حکام اور ذمہ دار افراد بھی باعث بنتے ہیں کہ جوان نسل اپنی ثقافتی شناخت اور دینی تعلیمات سے دور ہوجائے اور بیگانہ ثقافت کی طرف مائل ہوجائے۔

 

مغربی ثقافتی یلغار سے نسل جوان کو روکنے اور بچانے کے طریقے:

اب یہاں پر گذشتہ ثقافتی یلغار کے عوامل اور اسباب کے مد مقابل ، اسلامی لیڈروں اور حکام سے لے کر گھر کے والدین تک کے ہر فرد کی اس ثقافتی یلغار کو روکنے اور بچانے میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟ یہاں پر بہت زیادہ طور طریقے بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے بعض کی طرف بطور مختصر اشارہ کرتے ہیں

 

 

   ۱۔ اسلامی ثقافت کو عملی فروغ دینا:

      اس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، اگر ہم اسلامی ثقافت کو عملی فروغ دینے میں صحیح طریقے سے اپنا وظیفہ ادا کرے تو کافی حد تک روکا جاسکتا ہے ؛ اس لئے کہ جس صدی میں ہم زندگی گزار رہے ہیں ، ثقافتی یلغار اور تہذیبوں کے تصادم کی صدی ہے ۔ اسلامی معاشروں میں مغربی ثقافت کے طرف سے خصوصا جوان نسل کو جہاں فحاشی ، غیر اخلاقی ، بے دینی بنانے میں بہت سی کوششیں ہورہی ہیں وہاں پر ان کو اخلاق ،  تعلیم ، آداب و سنن سے دور کیا جارہا ہے ، جس کی وجہ سے ہمارے جوانوں کی سوچ ، گفتار وکردار ،مغربی ثقافت کی ترجمانی کررہی ہے اور ہر کوئی دیکھنے والا بھی یہی کہتا ہے کہ یہ تو مغربی ثقافت کا ترجمان ہے ؛ کیونکہ تمام حرکات و سکنات سر سے پاؤں تک اسلامی ثقافت سے زیادہ دوسروں کے ثقافت سے ملتی جلتی ہے۔

اس ثقافتی یلغار کو روکنے کا واضح اور واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اسلامی ثقافت کو زندہ کریں ، اپنے اور معاشرے کے اندر اسلامی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کو عملا فروغ دیں ۔ مغربی تہذیب و تمدن کو اپنانے کے نقصانات ان کے اپنے ہی بنائے ہوئے مختلف ذرائع اور وسائل سے آگاہ کریں اور یہ باور کرایا جائے کہ مغربی تہذیب و ثقافت نے خود مغربی معاشرہ کو تباہی کے دہانے پہ پہنچادیا ہے ، مغربی معاشرہ تمام اخلاقی اقدار اور انسانی سعادتمندی کے آثار کھوچکا ہے ،  دنیا پرستی نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ اب یہ معلوم ہونے کے باوجود ہماری نوجوان نسل پر افسوس کی بات ہوگی کہ اس جیسی ذلت بار تہذیب و ثقافت کو روشن خیالی ، پیشرفتہ ، عظمت و۔۔۔ سمجھ کر اندھی تقلید میں ان کو اپنا ماڈل قرار دیں ۔

 

۲۔ گھر کا ماحول :

اپنی ثقافتی میراث کو جوان نسل تک منتقل کرنے میں سب سے پہلے گھر کا جو اہم کردار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ نسل جوان کا بنیادی کام اس کے اپنے چاردیواری گھر میں ہی ہوتی ہے ۔ اگر اس گھر میں اسلامی ثقافت کی تربیت نہ کی جائے تو یہ گھر خرابا کی طرح ہے ( کہ جو بیگانہ ثقافت کا ہر لمحہ حملے کا باعث بن سکتا ہے ) جیسا کہ اس مطلب کی طرف پیغمبر اسلام ﷺنے ارشادفرمایاہے : ((  ما من بیت لیس فیه شیئ من الحکمة الا کان خرابا))  یعنی وہ گھر جس میں حکمت نہ ہو ( اسلامی ثقافت کی تعلیم نہ دی جائے تو ) وہ گھر نہیں کھنڈر ہے ۔

 

3 ۔ تعلیم و تربیتی مراکز :

البتہ تعلیم و تربیتی مراکز کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے اور بہت سے مصادیق کا حامل ہے ۔ ان میں سے صرف دو کا ذکر کرتے ہیں

 

 

    الف ) ۔ اسکولز سے یونیورسٹی تک :

یہ وہ مقام ہے جہاں انسان واقعا انسان بن کر دوسروں کو بھی انسانیت کی تعلیم دینے کے قابل بنتا ہے ۔ ابتدائی اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کے مراحل میں علم و ادب ، ہنر و مھارت و۔۔۔ سیکھتا ہے یعنی درواقع یہ انسانی شخصیت کا وہ حساس مرکز ہے جہاں ایک معیاری اور اچھے تربیتی نظام تعلیم کے ذریعے ، تعلیمی ، فکری اور اعتقادی ، گویا ایک ثقافتی میراث جوانوں تک منتقل ہوتی ہے ۔

اب یہ بات واضح ہے کہ جب سے مغربی استکبار نے اپنا ثقافتی یلغار کا آغاز کیا ہے وہ اس بات کو بخوبی جان لیا تھا کہ اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر قبضہ کرکے نئی نسل کو اس کی اپنی ثقافتی میراث سے دور کردیں گے تو وہ خود بخود بآسانی مغربی ثقافت اپنالیں گے ۔ اس کام کے لئے انہوں نے بہت سے اسکول اور یونیورسٹیز بنائیں اور اب تک یہ کام جاری و ساری ہے ۔جس کا پہلا مقصد نئی نسل کو عیسائی بنانا نہیں بلکہ ایک طرف اپنا کلچر پھیلانا اور دوسری طرف جوانوں کو اسلام سے دور کردینا تھا ؛ اس لئے انہوں نے اسکولوں میں کورسز  د ینے کے علاوہ دیگر ثقافتی پروگراموں تک ہر چیز کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا اور کیا جارہا ہے ۔

 

   ب ) :  دینی مدارس :

تعلیم و تربیتی مراکز میں سے ایک دینی مدرسہ بھی ہے جہاں صرف اسلامی ثقافت کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ یہ ادارہ میرے نزدیک بہت ہی حساس ہے چونکہ یہاں الہی تعلیم دی جاتی ہے اور انبیاء ؑ کا وارث بننے کی تربیت کی جارہی ہے ، یہاں سے علماء اور طلاب منبر و محراب کے ذریعے   لوگوں تک احکام الہی کو پہنچاتے ہیں ؛ اس لئے تو دشمن اس جگہ سے ہمیشہ ہراساں رہا ہے اور اپنے تمامتر ذرائع کے ساتھ علماء کے خاتمہ کے لئےکوشاں ہے ،مخصوصا شیعوں کے درمیان ولایت فقیہ کےخلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے ۔اس اعتبار سے دینی طالبعلم اورعالم کی قدر ومنزلت بہت ہی عظیم ہے ۔ ہاں یہ بات صد البتہ یہاں قابل ذکر ہے کہ طول تاریخ میں ایسے بعض عالم نما بھی گزرے ہیں جو خود کو عالم سمجھ رہے تھے لیکن ظالم و جابر و طاغوتی بادشاؤں کے درباری کہلائے جاتے تھے ( درباری ملّا )۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہان جیسے درباری علماءکے فتوؤں سے کتنے بے گناہ انسان لقمہ اجل بن گئے ہیں!۔دوسرے الفاظ میں اگرعالم فاسد ہوجائے تو پوری دنیا کو فاسد کردیتا ہے جیسا کہ اس مطلب کی طرف روایت میں اشارہ ہوئی ہے   (( اذا فسدالعالم فسد العالم )) ۔

 

نتیجہ :

ظاہر ہے اگر ہمیں اپنی جوان نسل کو دشمنوں کی ثقافتی یلغار سے بچانا مقصود ہے اور اسلامی ثقافت کو زندہ رکھنا ہے اور اسلامی تعلیمات کو عملا فروغ دینا ہے تو یہ کام صرف دینی لیڈروں کا وظیفہ نہیں ہے بلکہ سیاسی لیڈروں اور حکام سے لے کر گھر کے والدین تک ہر ایک اپنی ذمہ داری کو سمجھ کے اپنی بساط کے مطابق اس ثقافت کو اپنے مابعد کے نسل تک صحیح انداز میں منتقل کرے ۔

علامہ اقبال ؓ نے اپنی اعلیٰ تعلیم تو مغرب ہی میں حاصل کی لیکن وہ ان کی ثقافتی تہذیب و تمدن کے غلام نہیں بنے بلکہ اس کھوکھلی تہذیب پر زبردست تنقید بھی کی ۔ ہاں علامہ اقبال ؓ کو ہمیشہ یہ حسرت رہی کہ علم و حکمت میں مسلمان قوم نے مغرب کو اپنے علمی خزانے تو پیش کئے لیکن خود اس عظیم خزانے سے استفادہ نہیں کیا

!!

آخر میں اس حکیم کا ایک شعر جوانوں کا حوالہ کرتا ہوں ، خودی کو دیکھنا ہوگا کہ کہیں ان کی ترجمانی تو نہیں کررہا ہوں :

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود               یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کےشرمائے یہود۔

................................................................

منابع

[1]۔ غلام حسین صدر افشار و دیگران ، فرھنگ زبان فارسی ، ص 331

[2]۔ لغت نامہ دھخدا ، ج۵ ، ص ۶۲۸۰

[3]۔ محمد تقی مصباح یزدی ، تھاجم فرھنگی ، ص ۲۲

[4]۔ علی آقا بخشی و مینو افشاری راد ، فرھنگ علوم سیاسی ، ص ۸۱

[5]۔ محمد تقی مصباح یزدی ، تھاجم فرھنگی ، ص 39۔ 42

[6]۔ سید علی خامنہ ای ( حفظہ اللہ ) ، فرھنگ تھاجم فرھنگی ، ص ۳

[7]۔ محمد تقی مصباح یزدی ، تھاجم فرھنگی ، ص ۲0

[8]۔ سید علی خامنہ ای ( حفظہ اللہ ) ، فرھنگ تھاجم فرھنگی ، ص 4

[9]۔ وصیت نامہ سیاسی الہی ، امام خمینی (رہ) ، ص ۲۹

[10]۔ وسائل الشیعۃ ، شیخ حر عاملی ، ج۱۸ ، ص ۹۶ ، حدیث ۲۶

[11]۔ (( قال ابوجعفر ؑو ابوعبداللہ  ؑ: لو اتیت شاب من شباب الشیعۃ لا یتفقہ لادبتہ)) بحارالانوار، ج۱ ،ص ۲۱۴ ، باب العلوم التی امرالناس بتحصیلھا ، مؤسسۃ الوفا ، بحوالہ کتاب المحاسن ، ج۱ ، ص 228

[12]۔ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ، ج۲ ، ص ۳۱

[13]۔ مطہری,علل گرایش بہ مادیگری ، ، ص ۵۰ ۔ ۵۱

[14]۔ مجمع البیان ، طبرسی ، ج2۱ ، ص 194 ؛ تفسیر آصفی ، فیض کاشانی ، ج۱، ص ۱۲۹ ؛ تفسیر صافی ، فیض کاشانی ، ، ج۱ ، ص ۲۹۹ ۔