Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

                             

                                                                                                                                            تحریر:محمد نذیر اطلسی

تمهید

معاشرے اور دین  نے  انسان کواس کی زندگی کےبہت سارےمعاملات  میں انتخاب کا حق دیاہے ان میں سےایک حق جوبہت  ہی زیاده اہمیت کا حامل ہے، وه شریک حیات کاانتخاب ہے انسان کویه حق حاصل ہے که وه اپنی مرضی سے کسی کو اپناشریک حیات منتخب کرے.لیکن اسلام  نےاسےآزاد رکھنے کے با وجود اس پیوند کی پایداری اور استحکام کی خاطر شریک حیات کے انتخاب میں کچھ معیاروں کو بیان فرمایا ہے اگر کوئی شخص اسلام کے بتلاۓ ہوۓ ان معیاروں کے مطابق اپنی  شریک حیات کا انتخاب کرے تو ایک متعادل اور پایدار خاندان کے تشکیل کی امید کی جا سکتی هے.ایک خاندان کی استحکام اور پائداری میں مادی رفاه عامه کا رول ضرور هے ،لیکن ان مادی امکانات اور سهولیات کو  ازدواجی زندگی کےلیے بنیاد قرار نهیں دیا جا سکتا هے بلکه خاندان کے  تحفظ اور پایداری کےلیےکچھ اور ضروری عوامل کار فرما هیں ان عوامل کی پاسداری هی سے خاندانو ں کےاندر محبت ،دوستی اور اپنائیت کی فضا ء پیدا هوجاتی هے اسلام نے انسانی خوش بختی اور بد بختی کے جمله عوامل کو– هر چند مختصر هی صحیح -  بیان کر دیا هے.

 

 

  اسلام نے ایک طرف بهت سارے ازدواجی مسائل مانند : مهر ، آداب و رسوم ، مال و دولت و ...میں آسانی برتنے کی تلقین کی  هے ،(خیر النکاح  ایسره) یعنی بهترین شادی و ازدواج وه هے جس میں آسانی هو لیکن دوسری طرف شریک حیات کے انتخاب میں بهت زیاده دقت اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی تاکید کی هے مانند (إِيَّاكُمْ‏ وَ خَضْرَاءَ الدِّمَنِ)

  گندے جوهڑ پر اگے هوے سبزه سے بچو،( إِنَّمَا الْمَرْأَةُ قِلَادَةٌ فَانْظُرْ مَا تَتَقَلَّد )  عورت ایک گلو بند هے اچھی طرح دیکھ لو که تم اپنی گردن میں کیا ڈال رهے هو، اسلام کا اس طرح کےدسیوں هوشیار باش  کوبیان کرنے کا مقصد یه هے که تشکیل خانواده دینے سے پهلے لڑکا اور لڑکی دونوں کی طرف سے لازمی چھان بین نهایت ضروری هے .مکمل پوچھ گچھ اور گہری تحقیق کے بغیر ازدواجی زندگی میں منسلک نه هو ں بلکه منطقی ، عقلی اور دینی معیاروں کے سانچے میں اپنی شریک حیات کو ڈھونڈیں اگر بغیر دقت اورجانچ پڑتال  کے مشترک زندگی کوشروع کر ےاور کم وقت هی میں جدایی اور طلاق کی صورت حال پیدا هوجاے تو اس کےگناه اور تقصیر کو قسمت کے گردن نه ڈالا جایے البته یه بات یاد رهے که رفیقه حیات کےانتحاب کا معیار فقط چهره کی خوبصورتی ،مال و ثروت ،معاشرتی مقام(Status)اور شهوات حیوانی کا حصول نه هو اسلام صرف  مادی معیارو ں کومدنظر رکھنے کو پسندیده اور ممدوح نهیں سمجھتا ، لیکن اس کا مطلب یه  هرگز نهیں که اسلام ان کا مخالف هو بلکه ناپسند ی کا مطلب یه هے که شریک حیات کے انتخاب میں تنهامعیار مادی و سائل کو قرار دیکر معنوی معیاروں کو یکسربھلا نه دیا جائے.احادیث معصومین ؑمیں آیا هے :(جس نے اپنی شریک حیات کا انتخاب اس کے ظاهری حسن و جمال ،ظاهری مال و دولت کی بنا پر کیا هو اس کی سعادت اور خوشبختی فقط انهی چیزو ں پر موقوف هوگی لیکن اگر کسی نے اپنی  شریک حیات کے انتخاب کا معیار اس کی  دینداری  اور تقوا  و پرہیزگاری کو قرار دیا هو تو خداوند ظاهری حسن و جمال اور مال ودولت سے بھی بهره مند بنا دیتا هے) .اسلام کی نورانی تعلیمات میاں بیوی کےدر میان هم شانی اور هم کفو هونے کی تلقین کرتی هیں اسلام هم شانی اور کفویت کو دین ،ایمان اور اسلام کے ساتھ تفسیر کرتا هے نه ان معیاروں کے ساتھ جو آج کے معاشرے میں اخباروں کے ضرورت رشته کے اشتهاروں میں بتلائے جاتے هیں.

 

       اسلام ایک مسلمان اور مومن شخص کو هرگز یه اجازت نهیں دیتا که وه ایسی ویسی هر طرح کی شریک حیات کوانتخاب کرے.کیونکه اسلامی نقطه نگاه سے ازدواج کامقصدتنها غریزه حیوانی کی تکمیل نهیں بلکه الله تعالی اس سے انسان مومن کے خیر و صلاح چاهتاهے ،ازدواج کے ذریعے اسکا دین محفوظ رهے اور ایک الهی گھر تشکیل پا ۓجس کے نتیجے میں پاک اور مہذٖب نسل وجودمیں آۓجو الهی اقدار کو آگے بڑھا سکے.

 

   شریک حیات  کے انتخاب میں اسلامی معیار:

        اسلام کا اصرار هےکه زن و مرد بعنوان میاں بیوی ایک دوسر ےکے هم کفو، ہم پلہ اورهم سنخ هوں.رسول گرامی اسلام ﷺفرماتے هیں: أَنْكِحُوا الْأَكْفَاءَ ، وَ انْكِحُوا فِيهِم یعنی هم  کفو کو ازدواج کے لیے پیدا کریں اور ان میں ازواج کریں .کفویت  کا معنا یه  هے که لڑکی اور لڑکا ایک دوسر ےکے  ساتھ ظاهری اور باطنی هر اعتبار سے در حدامکان مشابهت رکھتے هوں . کفویت کے بهت سارےجلوے هیں اس مقالے میں ،ان میں سے کچھ اهم معیاروں کی طرف اشاره کیا جاتا هے.

 
۔ دین اور ایمان میں کفویت:

         خاندانوں کی خوشبختی  کے عوامل میں سے ایک عامل آئین اسلام کے اصولوں اور قوانین کی پیروی میں مضمر هے دین ایک باطنی عنصر هے جو همیشه انسان کے همراه هے  اور انهیں  برے اعمال اور گناهوں کے ارتکاب سے روکتا هےجو لوگ دیندار اور مومن نهیں ،کوئی ضمانت نهیں که وه اپنی شریک حیات کے مشترک حقوق کی پاسبانی اور پاسداری کریں ،اس سے پهلے هم بیان کر چکے هیں که ازدواج اور گھریلو زندگی کی تشکیل میں اسلام میاں بیوی کی سعادت اور خوشبختی کو ملحوظ  نظر رکھتا  هے .سعادت ،دین اور ایمان کے بغیر محال اور نا ممکن هے.

 

قرآن اور دینداری:

قرآن مجیدنے شادی کے صحیح  اورپائدار گھرانےکےلیے دین اور ایمان کو اولین شرط کے طور پربیان کیا هےایسے گھرانوں میں شریک حیات ڈھونڈنے سے منع کیاهے جو دیندار نهیں هیں الله تعالی کا ارشاد هے «وَ لاتَنْكِحُوا الْمُشْرِكاتِ‏ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَ لَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَ لَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَ لا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَ لَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَ لَوْ أَعْجَبَكُم»

ترجمه:خبردارمشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نه کرناجب تک ایمان نه لے آئیں ،که ایک مؤمن کنیزمشرک آزادعورت سے بهترهے چاهے وه تمهیں کتنی هی بهلی معلوم هو،اورمشرکین کوبھی لڑکیاں نه دینا جب تک مسلمان نه هوجائیں ،که مسلمان غلام آزادمشرک سے بهترهے چاهے وه تمهیں کتنا هی اچھا کیوں  نه معلوم هو ۔

ایک اور آیت میں یوں  ارشادفرماتے هیں:   « الزَّاني‏ لا يَنْكِحُ‏ إِلاَّ زانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَ الزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُها إِلاَّ زانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَ حُرِّمَ ذلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنين»

ترجمه:زانی مرد زانیه  یا مشرکه عورت هی سے نکاح کریگا اور زانیه عورت زانی مرد یامشرک مردهی سے نکاح کریگی که یه صاحبان ایمان پرحرام هیں ۔

 

دیانت کلام پیغمبرﷺکی نظرمیں:

  ایک شخص پیغمبر اسلام ﷺکی خدمت اقدس میں شرفیاب  هوا اورشریک حیات کے بارے میں آنحضر ت ﷺ سے راهنمائی چاهی ، آپ ﷺنے فرمایا: « عَلَيْكَ‏ بِذَاتِ‏ الدِّين»

 (تمهار ےاوپرلازم هے  که کسی دیندارکواپناشریک حیات انتخاب کرو) آپﷺ نے ایک اورمقام پرفرمایا:« مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لِمَالِهَا وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَ مَنْ تَزَوَّجَهَا لِجَمَالِهَا رَأَى فِيهَا مَا يَكْرَهُ وَ مَنْ تَزَوَّجَهَا لِدِينِهَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ ذَلِك »  کوئی کسی خاتون کے ساتھ اس کے مال اور دولت کے خاطر ازدواج  کرے الله تعالی اسے اس کے  حال پر چھوڑ دیگا اور اگر کوئی کسی عورت  کواس کی ظاهری حسن و جمال پر انتخاب کر ے وه شخص اس عورت میں کوئی ایسا امرمشاهده کرے گا کہ جسے وه نه پسند رکھتا هے اور جس نے کسی خاتون کو ان کی ایمان اور دین کی وجه سے اسے  اپنا شریک حیات انتخاب کیاهو،الله تعالی انهیں وه سارے امتیازات (جو اوپر بیان هوئے هیں)سےنوازے گا.

 

حیرت انگیز داستان :

تفسیر ابوالفتوح میں مرقوم ہے ، ایک جوان نماز کے وقت منارہ آذان سے آذان دیتا تھا ایک روز اذان دیتے وقت اس نے اطراف کے گھروں پر ایسی نظر ڈالی جس سے اسلام نے انسانی مصلحتوں کے خاطر  حرام قرار دیا ہے ۔ ناگہان اس کی نظر ایک گھر میں قبول صورت حسین لڑکی پر پڑی جوان اس پر فریفتہ ہوا ، آذان کے بعد اس کا دروازہ کھٹکھٹایا ، صاحب خانہ نے دروازہ کھولا جوان نے کہا ، اگر اپنی لڑکی کا شادی کرنا چاہتے ہو تو میں حاضر ہوں ، صاحب خانہ نے کہا میں      ( آشوری ) ہوں اگر تم میرا مذہب قبول کرلو تو میں تم سے شادی کردوں چونکہ جوان اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوچکا تھا اور ہم کفو سے روگردانی کرچکا تھا اور اپنی شادی کے سلسلے میں شہوت ، حسن و جمال کو ہی سب کچھ سمجھ بیھٹاتھا  لھذا اس نے لڑکی کے باپ کی شرط کو قبول کرلیا ، اسلام سے منہ پھیرلیا شرک اختیار کرگیا ۔ شادی کے دن لڑکی زینہ سے گرکر ہلاک ہوگئی ۔ اور جوان  اپنے دین ، ایمان کھونے کے ساتھ لڑکی سے بھی ہاتھ دھوبیٹھا ۔

 

۔ عفت ، پاکدامنی میں برابری :

 اسلام نے شر یک حیات کے انتخاب کے لئے جن اصولوں اور معیاروں کو اہمیت دی  ہے ان میں سے ایک مرد اور عورت کا باعفت ، باکردار اور پاک دامن  ہونا ہے ۔افراد پاکدامن اور عفیف  معاشرے میں لوگوں کے نزدیک ہردلعزیز اور محبوب ہوتے ہیں لیکن بد کار اور لا ابالی افراد کو معاشرہ ناپسندگی  کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، یہاں تک کہ خود وہی افراد بھی اپنی دل کی گہرائیوں میں اپنی بے عفتی سے متنفر اور بیزار ہیں تبھی تو معاشرے میں خود کو عفیف و پاکدامن ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 با عفت اور پاکدامن مرد اور عورت  ہی ایک دوسرےکے ہم پلہ اور کفو ہونے کی دلیل یہ ہے کہ پاکدل افراد کی روح بے عفتی کی برائی سے آلودہ نہیں ہوا کرتی ہے لہذا وہ بد کار  اور بے عفت  افراد کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا کرتی ہے اور ایسے دو متقابل اوصاف کے افراد میں ہمدلی و ہمراہی کا قاعدہ تشکیل خاندان کے لئے نہایت ضروری ہے ، واقع نہیں ہو سکے گا اور نتیجے میں یہ افراد کامیاب اور پرسکون گھرانہ نہیں پا سکیں گے۔

 

قرآن نے بہت سی آیات میں اس امرکی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں سے کچھ آیات کو نمونے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

1۔ ((فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء)) ۔ ترجمہ: پس خواتین میں سے پاکیزہ عورتوں کے ساتھ شادی کرو۔

2۔((الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ000 وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ)) ۔    ترجمہ: آج تمہارے  لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں0000 اور پاکدامن مؤمنہ عورتیں نیز جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے ان کی پاکدامن  عورتیں  بھی(حلال کی گئی ہیں) بشرطیکہ ان کا مہر دے دو اور ان کی عفت کے محافظ بنو ، چوری چھپے آشنائیاں یا بدکاری نہ کرو۔

2۔((الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ)) ۔ترجمہ: خبیث عورتیں  خبیث مردوں کے لئے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔

 قرآنی آیات کے علاوہ معصومینؑ کے احادیث میں بھی اس امر کی سفارش کی گئی ہے۔ ایک دفعہ کسی شخص نے امام حسنؑ سے اپنی بیٹی کے رشتے کے بارے میں مشورہ مانگی  تو امامؑ نے فرمایا :

 اپنی بیٹی کا رشتہ کسی پرہیزگار اور متقی شخص سے کردو اگر وہ اسے پسند کرے تو نازوں میں رکھے گا اور اگر اس کو پسند نہ کرے تو اس کے ساتھ کبھی دشمنی نہیں کرے گا ۔

 


۔خاندانی شرافت میں برابری:

 خاندانی اصالت بھی شریک حیات کے انتخاب میں اہم حیثیت رکھتی ہے ۔ایسے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے بہترین کفو بن سکتے ہیں جنہوں نے ایک اصیل اور مذہبی گھرانے میں پرورش پائی اور انہیں اسلامی نقطہ نگاہ سے تربیت دی گئی ہو۔ علاوہ ازیں صالح اور مذہبی ماں باپ خاندانی اعتبار سے بھی اپنی اولاد میں بہترین نقوش منتقل کرتے ہیں۔

کسی فرد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا گویا ایک خاندان اور فیملی کے ساتھ رشتہ جوڑنے کے  برابر ہے لہذا یہ قرین عقل نہیں کہ کوئی یہ کہے کہ میرا اس کے خاندان اور فیملی سے کیا لینا دینا  مجھے تو فلان فرد کے ساتھ شادی کرنی ہے، یہ بات کئی جہتوں سے قابل اعتراض ہے۔

 

پہلی بات ۔یاد رکھنا چاہیے کہ جس فرد سے ازدواج کرنے جارہا ہے وہ اسی خاندان کا پھل  ہے اور اسی خاندان کے ریشوں سے پلا بڑھاہے اور نتیجے میں بہت ساری جسمی ، عقلی اور روحی خصوصیات تخلیقی اور تربیتی اعتبار سے والدین کی جانب سے ارث میں اسے ملی ہیں۔وراثت کا یہ قاعدہ  مسلم قاعدوں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کے قصے میں یہودیوں کی جانب سے  اس قاعدے کی حکایت فرمائی ہے:(( يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا)) ۔ ترجمہ: ای ہارون کی بہن نہ تمہارا باپ برا  آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں  بد کردار تھی۔

 پیامبر گرامی اسلام ﷺ نے بھی اس امر کی طرف  توجہ مبذول کرنے کی تاکید فرمایا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں :(( تَزَوَّجُوا فِي‏ الْحُجْزِ الصَّالِحِ فَإِنَّ الْعِرْقَ دَسَّاس)) ۔  ترجمہ : نیک اور صالح خاندان میں شادی کرو چونکہ نطفہ     ( ژن) تاثیر رکھتا ہے ۔

دوسری بات ۔ شادی کے بعد بیوی یا شوہر کا رابطہ اس کے خاندان سے کٹنا ممکن نہیں ، لھذا میاں بیوی میں سے کسی ایک کا خاندان برائی اور فساد سے بدنام ہوتو یہ بدنامی آخر عمر تک اس کے ساتھ باقی رہتی ہے جس طرح خاندانی نیک نامی انسان کے ساتھ ہمیشہ باقی رہتی ہے ۔

 

تیسری بات ۔ خاندانی صفات اور خصوصیات ان کی نسل اور اولاد میں مؤثر واقع ہوتی ہیں ؛ چونکہ آخر کار ان کو انہیں کے ساتھ معاشرت اور اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے اور انہیں کے ماحول اور تربیت میں پلنے بڑھنے سے اولاد پر منفی اثرات مرتب ہونگے ۔

پیامبر اسلام ﷺ کی یہ معروف حدیث اس سلسلے میں کافی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : ((أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ‏ وَ خَضْرَاءَ الدِّمَنِ‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا خَضْرَاءُ الدِّمَنِ قَالَ الْمَرْأَةُ الْحَسْنَاءُ فِي مَنْبِتِ السَّوْءِ )) ۔ ترجمہ : اے لوگو ! جوہڑ پر اگے ہوئے سبزے سے پرہیز کرو ،پوچھا گیا منجلاب اور جوہڑ پر اگے ہوئے سبزہ کیا ہے ؟ فرمایا : ایک پلید اور فاسد خاندان میں پلی بڑھی حسین اور خوبصورت عورت ہے ۔ آپ ﷺنے ایک اور مقام پر فرمایا :  ((تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُم‏ فإن‏ الأبناء يشبه الأخوال ))  ترجمہ : یعنی متوجہ رہو کہ کس شریک حیات کا انتخاب کرنے جارہے ہو چونکہ  اولاداپنے ماموؤ ں پر جاتی ہے یعنی ان کے مشابہ ہوتی ہے۔

البتہ مخفی نہ رہے اسلام کا بتایا ہوا یہ معیار اکثر اور اغلب طور پر ہے لیکن ایسے افراد  تاریخ میں کم نہیں گزرے ہیں جو غیر مہذب خاندانوں میں پلے بڑھے لیکن انہوں نے ایسے فاسد خاندانوں کے برعکس سعادت کی ایسی منزلوں کو طے کیا یہاں تک کہ پرہیزگاروں کے لئے نمونہ بنے ۔

 

۔ اخلاق حسنہ میں کفویت  و تناسب:

میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لئے اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونا بھی شریک حیات کے انتخاب کے اسلامی معیاروں میں سے ایک ہے ۔ گھریلو زندگی میں میاں بیوی کے درمیان مہر و محبت ان کے اچھے اخلاق ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی نے انبیاء کو مبعوث فرمایا  تا کہ وہ اخلاقی اصول و اقدار کو زندہ کریں ، پیغمبر اسلام ﷺ فرماتے ہیں : ((إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ‏ مَكَارِمَ‏ الْأَخْلَاق )) ۔ترجمہ : یعنی میں لوگوں کے درمیان اخلاقی اقدار کو زندہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔

حسن خلق اور اچھا اخلاق خاندانی ماحول اور شریک حیات کے انتخاب میں اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ بعض روایات میں حسن خلق کو حتی دینداری پر مقدم کرکے بیان کیا گیا ہے ۔ جب رسول خدا ﷺ سے پوچھا گیا کہ اپنی لڑکیوں کو کس طرح کے  لوگوں میں بیاہا کریں ، آپ ﷺ نے فرمایا :  ((إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ‏ تَرْضَوْنَ‏ خُلُقَهُ‏ وَ دِينَهُ فَزَوِّجُوه))  ترجمہ : ایسے شخص کے ساتھ جو اخلاق اور دین میں مورد پسند ہو ، انہیں سے شادی کرو ۔

 حضرت ﷺ نے اپنے اس نورانی کلام میں شریک حیات کے انتخاب میں دو معیار بتلائے ہیں ان میں سے ایک اخلاق حسنہ اور دوسرا دینداری ہے ۔ حقیقت میں یہی دو معیار سعادت مند زندگی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔

ائمہ اطہار ؑ بداخلاق لوگوں میں بیٹی دینے سے منع فرماتے تھے ۔ چنانچہ حسین بن بشار باسطی نام کے ایک مسلمان نے حضرت امام رضاؑ کے نام ایک خط میں لکھا کہ ایک شخص جو میری اپنی رشتہ داری میں سے ہے اور اور وہ میری بچی کارشتہ مانگ رہاہے البتہ وہ شخص بداخلاق ہے  میرا وظیفہ اس سلسلے میں کیا ہے ۔ انہیں میں بیٹی دوں یا نہ دوں ؟ امامؑ نے خط کے جواب میں مرقوم فرمایا : لَا تُزَوِّجْهُ‏ إِنْ كَانَ سَيِّئَ الْخُلُقِ ))۔ ترجمہ : اگر بداخلاق ہے تو اپنی بیٹی اسے نہ دو۔ لھذا ہم سب پر ضروری ہے کہ اپنی شریک حیات کے انتخاب میں بہت زیادہ احتیاط برتیں اور سنجیدگی سے کام لیں،اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں اور معیاروں کے مطابق شریک حیات کا انتخاب کریں تاکہ دنیا ہی میں ہمارا گھر جنت کا ایک ٹکڑا بنے اور صالح نیک اولاد کی تربیت کرکے معاشرے کےحوالہ کریں ۔

  .........................................................

منابع

[1]۔ وسائل الشیعه ،ج 14،ص29 ،باب مقدمات نکاح، باب13،حدیث25001

[2]۔  ایضاً، باب 14 ،ص 28 ،ح24998

[3]۔ ایضاً، باب 14 ،ص 30 ،ح 25004

[4]سورہ بقرہ /221

[5]۔ سوره نور/3

[6]۔وسائل الشیعه، ج14،باب مقدمات نکاح ،باب14،ص30،حدیث25005

[7]۔  ایضاً، ص 31 حدیث 25008

[8]۔ سورہ نساء/3

[9]۔ سورہ مائدہ/5

[10]۔ سورہ نور/26

[11]۔ بحار الانوار ، علامہ مجلسی ، ج ۱۰۰ ، ص ۲۷۲ ؛ وسائل الشیعۃ ، شیخ حرعاملی ، ج۱۴ ، ابواب النکاح ، باب ۲۱ ، حدیث ۴

[12]۔ سورہ مریم/28

[13]۔ متقی ہندی ، کنزالعمال ، ج ۱۶ ، ص ۲۹۶ ، ح ۴۴۵۵۹

[14]۔ وسائل الشیعۃ ، ج ۱۴ ، ص ۲۹ ، باب مقدمات نکاح ، باب ۱۳ ، حدیث ۲۵۰۰۱

[15]۔ سفینۃ البحار ، ج ۲ ، ص ۶۷۶، باب حسن الخلق ، مادۃ الخاء بعد اللام