Wednesday, 21 November 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 8

اس هفته 20

اس ماه 154

ٹوٹل 21753

 

تحریر : جمعہ خان جعفری   

کائنات میں خدا کی پہلی نافرمانی ابلیس ملعون نے کی ۔ یہ نافرمانی اس وقت رونما ہوئی جب خداوند عالم نے حضرت آدم ؑ کے جسم میں روح پھونکی اور ابلیس سمیت تمام فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ۔ سب نے خداوند عالم کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور حضرت آّدم کے سامنے سجدہ ریز ہوئے لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا ۔ قرآّن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے :

 

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَ ،فَسَجَدَ الْمَلآئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ،إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ))  ترجمہ : (( جب میں نے اس کو آدم کے خاکے کو ) نظام بخشا اور اس میں اپنی روح پھونکی ( تو ابلیس سمیت تمام فرشتوں کو مخاطب کرکے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ) تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا ))۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابلیس نے ایسا کیوں کیا ؟ کیوں اپنے خالق کے حکم کی نافرمانی کی ؟
 
آیئے اس سوال کا جواب جاننے کے لئے خالق کائنات کی بارگاہ میں بڑے خضوع کے ساتھ سر تسلیم خم کرکے جاتے ہیں اور اس کی عظیم کتاب قرآن مجید کی سورہ بقرہ آیت نمبر 34 کو پڑھتے ہیں ۔ ارشاد ربانی ہوتا ہے : ((وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ)) ترجمہ : ((  اور جب ہم نے ملائکہ کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا )) ۔ پس قرآن کریم کی رو سے واضح ہوا کہ ابلیس نے خداوند عالم کی یہ پہلی اور بڑی نافرمانی (( تکبر)) کی وجہ سے کی ۔


اب یہ سوال ذھن میں آتا ہے کہ (( تکبر)) ہے کیا چیز ؟ اس کی تعریف کیا ہے ۔
 
تکبر )) کے لغوی معنی :صاحب لسان العرب نے ابن عباس سے قرآن کریم کی اس آیت کےذیل میں ((يَتَكَبَّرُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ))   (( وہ لوگ ، روی زمین پر بغیر حق کے تکبر کرتے ہیں )) (( یتکبرون )) (( تکبر کرتے ہیں)) کے معنی کو اس طرح سے نقل کرتے ہیں (( انہوں نے اپنے آپ کو اچھائی میں دوسرے لوگوں سے اچھا سمجھا ))  ۔

 

شہید مطہریؒ کہتے ہیں : (( تکبر ))، عربی ادبیات میں (باب تفعل ) سے ہے اور ( باب تفعل ) کے کئی معنی ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : الف ) تلبس: ( لباس پہننا ) یعنی فلان شخص نے فلان چیز کا لباس پہنا ۔ پس " تکبر " یعنی فلان شخص نے تکبر اور کبریائی ( بڑائی) کا جامہ پہن لیا ۔حالانکہ کبریائی اور عظمت کا جامہ صرف اور صرف خداوند اکبر کی ذات پاک ہی پہن سکتی ہے یعنی بڑائی اور عظمت ، فقط اسی کے لئے مخصوص ہے ۔


ب ) تظاہر : ( باب تفعل ) کے ایک اور معنی  (( تظاہر )) ہے جس کے معنی یہ ہے کہ کوئی کسی ایسی صفت اور کمال میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرے جو حقیقتا اس میں موجود ہی نہیں ۔  بہ الفاظ دیگر جھوٹے طریقے سے کوئی شخص ، لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو کسی ایسی اچھائی کا حامل سمجھے جو حقیقت میں ، اس کا حامل ہے ہی نہیں۔ پس تکبر کے پہلے معنی کا مصداق ، صرف اور صرف خداوند عالم کی ذات پاک ہے اور اس کے علاوہ یہ بڑائی اور عظمت کسی اور کو حاصل نہیں ہے ۔ تکبر کے دوسرے معنی ( لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو بڑا اور عظیم دکھانا ، حالانکہ وہ بڑا اور عظیم ہے ہی نہیں ) کا مصداق خداوند کی ذات نہیں ہوسکتی بلکہ اس کا مصادق انسان ہے ، یہ ایک مذموم اور ناپسندیدہ معنی ہے ۔


   
تکبر کے اصطلاحی معنی :
((
تکبر )) کے اصطلاحی معنی کو امام خمینی (رہ) اپنی بے نظیر کتاب (( چھل حدیث )) چالیس حدیثیں )) میں اس طرح سے بیان کرتے ہیں : (( تکبر )) ایک ایسی نفسانی ( روحی ) حالت ہے جس کی بناء پر انسان ، دوسروں پر اپنی بڑائی اور فضیلت کا احساس کرتا ہے اور اس کے اثرات اس کے اعمال و کردار میں ظاہر ہوتے ہیں ۔۔۔ ))  ۔
دوسرے الفاظ میں (( تکبر )) کی اساس تین چیزیں ہیں : الف) : انسان ، اپنے لئے کسی اچھائی اور مقام کا قائل ہو ۔
ب) : دوسرے شخص یا دوسروں کے لئے بھی کسی اچھائی اور منزلت کا قائل ہو ۔ ج) : اپنی اچھائی اور منزلت کو ، دوسروں کی نسبت ، زیادہ سمجھے اور اس کام میں خوشی کا احساس کرے  ۔  


((
تکبر )) اور (( عُجب )) میں فرق :
 
گرچہ یہ دونوں معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں لیکن ایک ظریف اور باریک فرق ان کے درمیان موجود ہے اور وہ یہ کہ :عُجب : خود پسندی ہے اور تکبر : خودپسندی کے علاوہ دوسروں پر فخر فروشی اور اپنی بڑائی جتانا ہے ۔ یعنی جب انسان اپنے آپ میں کوئی کمال اور اچھائی دیکھتا ہے تو اس پر خوش اور مغرور ہوجاتا ہے ، اس حالت کو (( عُجب )) کہتے ہیں  ۔
بہ الفاظ دیگر  (( عُجب )) میں انسان ، صرف اپنی ذات کو دیکھتا اور اپنی کسی اچھائی پر مغرور ہوجاتا ہے جبکہ (( تکبر )) میں غرور اور فخر کا دائرہ اپنی ذات سے بھی وسیع تر ہوکر دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اپنی ذات کے علاوہ دوسروں کو بھی دیکھتا ہے اور ان پر اپنی فضیلت اور بڑائی ثابت کرنے کی کو شش کرتا ہے  ۔ لھذا اس بیان کے مطابق ،  تکبر  ، عجب  کا نتیجہ اور ثمرہ ہے  ۔


تکبر کرنے کی وجوہات :
  
تکبر کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں مگر سب کا سرچشمہ (( خودخواہی)) ، (( انانیت)) اور پروردگار عالم کی عظمت اور کبریائی سے ٹکر لینا ہے ؛ حالانکہ بڑائی اور کبریائی صرف اور صرف اسی کی ذات لایزال سے مخصوص ہے  ۔ علمای اخلاق (( تکبر)) کی بہت سی وجوہات بیان کرتے ہیں مثلا مرحوم فیض کاشانی اپنی کتاب (( المحجة البیضاء )) میں سات وجوہات بیان کی ہیں :


۱۔ علم: :
ہر چیز کی کوئی نہ کوئی آفت اور بیماری ہوتی ہے لیکن (( علم )) کے لئے بہت سی آفات اور بیماریاں ہیں اور بدترین آفت تکبر ہے ۔
امام علی ؑ فرماتے ہیں : (( لا یتعلم من یتکبر ))   ( جو تکبر کرتا ہے وہ حقیقت میں علم حاصل نہیں کرتا ) ۔


۲۔ نیک اعمال اور عبادت: :
((
تکبر )) کی ایک اور وجہ نیک اعمال اور عبادت ہیں ۔ بعض لوگ اپنے چند نیک اعمال اور عبادات کی وجہ سے تکبر  جیسی پستی میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اپنے احترام کو دوسروں پر واجب سمجھتے ہیں اور بجز اپنے جیسے افراد کے ، سب کو اہل جھنم تصور کرتے ہیں ۔ لھذا اپنا چهرہ عبوس( ٹیڑھا کرکے ) رکھتے ہیں اور دوسروں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بڑے نیک اور محبوب بندہ ہیں ، باقی تمام لوگ اللہ کے ناپسندہ  بندے ہیں  ۔


۳۔ حسب و نسب: :
بعض لوگ اپنے حسب و نسب کی وجہ سے تکبر اور فخر فروشی میں مبتلا ہوجاتے ہیں مثلا اپنے رشتہ داروں کے عالم ، دولت مند ، سیاست دان ، طاقتور ، وغیرہ کی وجہ سے دوسروں پر اپنی برتری جتاتے ہیں ۔
۴۔ حسن و جمال :
حسن و جمال ، خداوند جمیل کی دی ہوئی ایک نعمت ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس نعمت کے بل بوتے پر دوسروں کو (( حقیر )) سمجھے اور اپنے آپ کو برتر ۔  بعض صاحبان حسن و جمال ، خدا کی اس نعمت پر شاکر ہونے کے بجائے ، تکبر جیسی رذیلت میں مبتلا ہوجاتے ہیں‏۔


۵۔ دولت: :
تکبر اور فخر فروشی کی وجہ ، ہر زمانے میں بہت عام رہی ہے ۔ یہ وجہ پرانے زمانے میں بھی عام تھی اور اس زمانے میں نہ فقط ایک پستی تصور نہیں کی جاتی بلکہ بڑائی اور فضیلت کا ایک معیار بن چکی ہے ۔قرآن کریم نے اس حوالے سے (( قارون )) کی داستان کا ذکر کیا ہے ۔ایک دن وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنی دولت وثروت دکھانے کے لئے اپنی تمام دولت کو ساتھ لئے ان کے اندر ظاہر ہوا۔ اس کی اس دولت اور شان و شوکت کو دیکھ کر کمزور ایمان رکھنے والے لوگوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے یہ آرزو کی کہ اے کاش ! ہمارے پاس بھی قارون جیسی دولت ہوتی  ۔


۶۔ طاقت: :
طاقت ، چاہے کسی بھی صورت میں ہو ، جسمانی ہو یا روحانی ، فردی ہو یا اجتماعی ، سیاسی ہو یا غیر سیاسی، اللہ کی دی ہوئی ایک بڑی نعمت ہے ۔ اسے خداوند متعال کی رضا اور اس کی اطاعت میں استعمال کرنا چاہئے اور اس کے قرب کا ذریعہ بنانا چاہئے لیکن اگر یہی نعمت تکبر اور غرور کا باعث بنے تو نہ فقط اس کا حامل انسان ، اللہ سے نزدیک نہیں ہوتا بلکہ اس کی بارگاہ سے دور ہوجاتا ہے ۔ معاشرے میں اس کی مثالیں بہت زیادہ ملیں گی ۔


۷۔ دوستوں ، اولاد اور قوم و قبیلہ کی کثرت: :
تکبر کا یہ سبب پرانے زمانے کے علاوہ اس زمانے میں بھی موجود ہے ۔ عرب جاہلوں میں اولاد ، دوستوں ، قوم و قبیلہ کی کثرت ، بڑائی اور فضیلت کا معیار بن چکی تھی کہ ان کی مذمت میں سورہ (( تکاثر )) نازل ہوئی ۔ اس زمانے میں بھی اسکی مثالیں آپ کو کم نہیں ملیں گی۔ بعض لوگ اپنے قبیلے پر فخر کرتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی اولاد کی کثرت یا بیٹوں کے باپ ہونے پر دوسروں کی نسبت برتری کا اظہار کرتے بہیں اور بعض لوگ فلان قسم کے دوستوں پر فخر فروشی کرتے ہیں اور بعض لوگ...‏!!


تکبر کے درجات: :
تکبر کے کئی درجتاتدرجات ہیں :  الف ) : خدا کے سامنے تکبر  ب) : انبیاء الہی کے سامنے تکبر ۔ ج) : خلق خدا کے سامنے تکبر ۔
الف ) : خدا کے سامنے تکبر   : یہ تکبر کی سب سے خطرناک قسم ہے  ۔ تکبر کی یہ قسم ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو الوہیت اور خدائی کا دعوا کرتے ہیں جیسے فرعون (( انا ربکم الاعلی ))  ( میں تمہارا بڑا پروردگار ہوں ) یا (( ما علمت لکم من اله غیری ))   ( میں اپنے علاوہ تمہارے لئے کسی اور خدا کو نہیں جانتا )۔


 
یا ایسے لوگوں میں پائی جاتی ہے جو بالکل خدا کے وجود کے منکر ہیں اور کافر معاند کہلاتے ہیں یا ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر حق اور اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکانے اور اس کی اطاعت کرنے سے گریزاں ہیں ۔ اس کی مثالیں مسلم معاشرے میں بہت زیادہ ہیں ۔ اسلامی احکامات پر عمل نہ کرنے والے بلکہ اس کے برعکس شیطانی کام کرنے والے اور منافقین ، اس کی بہت واضح مثالیں ہیں ۔ ایسے لوگوں میں تکبر کا ایک درجہ پایا جاتا ہے اور شیطان کی طرح پروردگار حکیم کی حکمت پر ایک قسم کا اعتراض ہے ۔ جس طرح شیطان نے عرض کیا تھا کہ (( خداوندا ، میں آدم کے سامنے سجدہ کرنے والا تیرا یہ حکم نہیں مان سکتا )) ۔ یہ لوگ بھی درحقیقت یہ کہتے ہیں: (( پروردگارا ، گرچہ تو ہمارا خالق و مالک ہے لیکن نماز و روزہ ۔۔۔ والے احکامات کو ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ))۔


ب) : انبیاء الہی کے سامنے تکبر:
تکبر کی یہ قسم گذشتہ اقوام میں زیادہ نظر آتی ہے ۔ جس طرح فرعون کے طرفداروں نے حضرت موسیؑ اور حضرت ہارونؑ  پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا : ((أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا ))    ( کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لائیں !؟ ) ۔ آج کل کے مسلم اور غیر مسلم معاشرے میں بھی اس کی مثال اس صورت میں ملتی ہے کہ بعض لوگ اپنی سستی اور کاہلی کو پیغمبر اسلام ﷺ کے لائے ہوئے دین یعنی اسلام سے نسبت دیتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ اسلام ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے ، حالانکہ مسلمانوں کی پسماندگی کا دین اسلام سے کوئی ربط نہیں بلکہ اس کے برعکس جس مقدار اور کیفیت میں اسلام نے علم و ترقی کی طرف ترغیب دلائی ہے کسی اور دین یا مکتب فکر نے نہیں دلائی ۔


ج) : خلق خدا کے سامنے تکبر:


تکبر کی یہ قسم ، انسانی معاشرے میں ہر گھر میں پائی جاتی ہے اور جیسا کہ تکبر کی (( وجوہات )) میں بیان کیا جاچکا ہے ، اپنی وجوہات کی بناء پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ متکبرانہ انداز میں پیش آتے ہیں اور اپنی چیزوں کو فضیلت اور برتری کا معیار سمجھتے ہیں ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہم ہر روز کئی مرتبہ ، کسی نہ کسی مناسبت سے ابلیس ملعون کے اس جملے کو (( انا خیر منہ )) ( میں تو آدمؑ سے بہتر ہوں ) جو اس کی پستی اور خداوند عالم کے دربار سے دوری کا سبب بنا ، دہراتے ہیں ۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ میرا علم اس سے زیادہ ہے ۔ میری دولت ، حسن ، طاقت اور ۔۔۔ فلاں کی نسبت زیادہ ہے ، پس میں اس سے بہتر ہوں ۔ لھذا میں اسے کیوں سلام کروں ، کیوں اس سے میل جول رکھوں کیوں اس سے ۔۔۔  ملاحظہ فرمایا کہ ہم ہر روز خدا کے بجائے شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اس کو ملعون کرنے والے جملے کو کسی نہ کسی شکل میں دہراتے ہیں اور سب کی روح ایک ہوتی ہے اور وہ یہ کہ (( میں  تو اس سے بہتر ہوں ))۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ گھروں ، محلوں ، ملکوں اور دنیا میں بہت سے لڑائی جھگڑے اسی تکبر اور بڑائی دکھانے کا نتیجہ ہیں ۔ ساس بہو ، دو دوستوں ، دو خاندانوں ، دو قبیلوں وغیرہ میں اکثر ناراضگیوں کی وجہ (( تکبر )) ہے ۔


فرعون ، نمرود ، ابوسفیان ، معاویہ ، یزید ، ہٹلر ، صدام  اور  حسنی مبارک وغیرہ اپنے تکبر کی وجہ سے لوگوں پر ظلم روا رکھتے تھے ورنہ ماں کے پیٹ سے کوئی ظالم پیدا نہیں ہوتا ۔ اگر امریکہ اپنے آپ کو دنیا کا بدمعاش کہتا ہے ، اگر ایٹم بم پھینک کر (( ہیروشیما )) اور (( ناکازاگی)) کے لاکھوں لوگوں کا ایک ہی لمحے میں قتل عام کرتا ہے ، اگر عراق ، افغانستان اور پاکستان وغیرہ میں لاکھوں بےگناہ مسلمانوں کو ان کے خون میں نہلاتا ہے ، اگر (( ابوغریب )) اور (( گوانتامو)) جیسے وحشتناک قیدخانوں میں درندگی کی انتہا کرتا ہے ، اگر خود ہزاروں کی تعداد میں ایٹم بم بناکر اور سینکڑوں کی تعداد میں اسرائیل جسیے سفاک اور غاصب ملک کے حوالے کرتا ہے اور مسلمان ممالک کو (( ایٹمی انرجی )) سے فائدہ اٹھانے سے روکتا ہے اور اگر دنیا کے ہر تباہی اور فساد کے پیچھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھ نظر آتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ امریکہ کا (( تکبر )) اور بڑائی کی خصلت ہے جس کے بناء پر وہ پوری دنیا پر اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے اور دنیا کے باقی مستضعفین ( ظلم کے ماروں ) کو ، خصوصا مسلمانوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے ۔۔


تکبر کے آثار اور نقصانات:
تکبر کے اخروی آثار کے علاوہ ، دنیوی آثار بھی ہیں : الف ) دنیوی آثار اور نقصانات
۱۔ ذلت :

تکبر کا پہلا دنیوی اثر (( ذلت)) ہے ۔ متکبر انسان ، لوگوں کی نظروں سے گرجاتا ہے ۔ تکبر کرنے والا ، اپنے کام سے اپنے خیال میں (( لوگوں میں )) عزت تلاش کرتا ہے مگر حقیقت میں اسے   (( ذلت )) کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا یعنی نتیجہ الٹا نکلتا ہے ۔ مولا علی ؑ فرماتے ہیں : (( من تکبر علی الناس ذل))  ( جو شخص دوسروں کے ساتھ تکبر کرتا ہے ، ذلیل ہوجاتا ہے ) ۔ پھر فرماتے ہیں (( امقت الناس المتکبر ))  ( لوگوں کے نزدیک منفورترین شخص ، ((متکبر ))ہے ۔


۲۔ تنہائی :

تکبر کا ایک اور اثر (( تنہائی )) ہے ، اس لئے کہ جب متکبر انسان ، لوگوں کی نظروں میں منفور ہوتا ہے اور لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں  تو اس کا نتیجہ ، تنہائی کے سوا کچھ نہیں ۔   اس تنہائی کی وجہ یہ ہے کہ انسان فطرتا متواضع اور منکسر المزاج انسان سے محبت کرتا ہے اور متکبر انسان سے نفرت کرتا ہے ۔ لھذا متکبر انسان کا کوئی دوست نہیں ہوتا ۔ مولائے کائنات علی ؑ فرماتے ہیں : (( لیس للمتکبر صدیق ))  ( متکبر شخص کا کوئی دوست نہیں ہوتا ) ۔


۳۔ بدنامی :

تکبر کا ایک اور ثمرہ (( بدنامی )) ہے ۔  جیسا کہ بیان ہوچکا کہ ہر انسان متکبر سے نفرت کرت ہے ، لھذا اس کا لازمہ یہ ہے کہ کوئی بھی متکبًر شخص کو نیک نام سے یاد نہیں کرتا بلکہ ہر کسی کے ذہن میں اس کا ایک بڑا تصور ہوتا ہے ۔ اس سلسلے میں امیرا لمؤمنین  ؑ فرماتے ہیں : (( ثمرۃ التکبر المسبة ))  ((  تکبر کا ثمرہ  اور نتیجہ ، بدنامی ہے )) ۔


۴۔ علم و دانش سے محرومی : 

ہر انسان فطرتا علم کا طالب ہے اور اسلام کی نظر میں علم ، مؤمن کی گمشدہ چیز ہے ، اسے جہاں ملے ، حاصل کرنا چاہئے ۔ اسلام کی نظر میں (( حقیقی علم )) ، ایک نور ہے خدا جسے چاہتا ہے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے  ۔ اور تکبر ، تاریکی ہے ۔ نور اور تاریکی کبھی بھی ایک جگہ اکھٹے نہیں ہوسکتے ۔


اس کے علاوہ علم ، ایک ایسا نور ہے کہ جسے خدا چاہتا ہے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے اور خدا تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، ((إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ ))  ۔ پس حقیقی علم ، تکبر کرنے والوں کو کبھی بھی نصیب نہیں ہوسکتا ۔ آیئے اس بارے میں باب علم ، امام علی ؑ کی چوکھٹ پر جاتے ہیں اور ان سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : (( لا یتعلم من یتکبر ))   (( جو تکبر کرتا ہے وہ ( درحقیقت ) علم حاصل نہیں کرتا )) ۔  متکبر انسان کا دل ، سخت پتھر  کی طرح ہے اور پھول ہرگز سخت پتھروں میں نہیں کھلتا بلکہ نرم مٹی میں کھلتا ہے ، علم کی مثال بھی اسی طرح ہے ۔ 
   (( 
در  بہاران  کی  شود  سرسبز سنگ خاک شو تا گل شوی بر وی رنگ رنگ ))


ب) : تکبر کے اخروی آثار اور نقصانات:


۱۔ شرک اور کفر :

تکبر کا پہلا اخروی اثر اور نقصان ، شرک اور کفر ہے ۔ تکبر کی حقیقت خدا کی حکمت پر اعتراض ، اس کی تشریعی    ( ربوبیت کا نکار اور اس کی کبریائی اور بڑائی کو چیلنچ کرنا ہے ) ۔ قرآن کریم اس اخروی نقصان کے بارے فرماتا ہے : ((أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ))     ((  ((( " شیطان نے سجدہ کرنے سے )"  انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا )) اور کافر کی جگہ دوزخ ہے ۔


۲۔ خدا کی رحمت سے دوری :

تکبر کے پچھلے اخروی اثر سے واضح ہوا کہ جو تکبر کرتا ہے وہ کافر بن جاتا ہے اور ( کفر ) کا مطلب ہے خدا کی رحمت سے دوری ۔ پس چونکہ تکبر اور بڑائی صرف اور صرف خداوند عالم کی ذات سے مخصوص ہے اس لئے جو شخص کبریائی اور بڑائی کی ردا کو اوڑھ لیتا ہے وہ خدا کو اس کی بڑائی میں چیلنچ کرتا ہے اور جو خدا کو چیلنچ کرے وہ انسانیت اور خدا کی رحمت کی بارگاہ سے دور ہوجاتا ہے ۔ اسی لئے خود خداوند کا فرمان ہے : ((إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ ))  (( وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا )) ۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا :((سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ))  (جو لوگ زمین پر بغیر حق کے تکبر کرتے ہیں ، میں ان کو اپنی رحمت کی نشانیاں نہیں دکھاؤں گا )‏۔


تکبر کا علاج:


تکبر کا علاج دو طریقوں سے کیا جاسکتا ہے : ایک علمی ( فکری ) طریقہ ، دوسرا ، عملی طریقہ ۔ الف : علمی ( فکری ) طریقہ : ۱۔ خدا کی عظمت کی شناخت:


 
تکبر کی ایک وجہ خدا کی عظمت سے غفلت ہے ۔ اگر انسان ، پروردگار عالم کی عظمت اور کبریائی کے بارے میں فکر کرے اور اس کی شناخت حاصل کرے تو اتنی آسانی سے تکبر جیسی ذلت کا شکار نہیں ہوسکتا ‏۔ اس خدا کے بارے میں فکر کرے جو مولائے کائنات علی ؑ کے بقول: ((مدح کرنے والے اس کی ثناء کو نہیں پہنچ سکتے اور گنتی کرنے والے اس کی بے شمار نعمتوں کو نہیں گن سکتے اور جدوجہد کرنے والے  ہرگز  اس کے حق کو  ادا نہیں کرسکتے ،  وہی خدا جس کی ذات کو  صاحب افکار لوگ درک نہیں کرسکتے ۔۔۔  اور وہی خدا جس نے خلائق کو اپنی  قدرت سے خلق کیا))  ۔


۲۔ کائنات کی عظمت کا مطالعہ

:
    
آج کے ہر بچے کو پتہ ہے کہ سائنسدانوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ کائنات میں ہماری زمین کی نسبت فضا میں ایک ذرے سے بھی کم ہے ۔ انسان کی نسبت زمین سے ایک ذرًے کے برابر ہے. زمین کی سورج کے برابر یہی نسبت ہے . ہمارا سورج ہمارے نظام شمسی کا ایک ستارہ ہے ۔ اسی طرح کے کروڑوں نظام شمسی ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں جن کے مقابلے میں ہمارا سورج ایک ذرے سے بھی کم ہے . پھر اے انسان سوچ ! اس بڑی کائنات میں تیری کیا حیثیت ہے ؟ !! ۔


۳۔ انسان کی کمزوری کے بارے میں فکر

:
ارشاد ربانی ہے : ((وَخُلِقَ الإِنسَانُ ضَعِيفًا ))   (( اور انسان ، ضعیف اور کمزور خلق کیا گیا ہے ))۔ مولائے کائناتؑ کا فرمان ہے : (( ما لابن آدم والفخر، اوله نطفة و آخره جیفة ولا یرزق نفسه ولا یدفع حتفه )) 
((
بنی آدم کو تکبر اور فخر فروشی سے کیا کام ! اس کا آغاز ، نطفہ ہے اور انجام مردار ، نہ اپنے آپ کو رزق دے سکتا ہے اور نہ ہی موت کو اپنے سے دور کرسکتا ہے )) ۔


۴۔ موت کی یاد

:
 
امام علی ؑ فرماتے هیں: (( ضع فخرک و حطط کبرک واذکر قبرک ))  (( تکبر اور فخر فروشی کو چھوڑ دو اور اپنی قبر کو یاد کرو )) ۔


ب ) : عملی طریقہ :

تکبر اور دیگر تمام روحی بیماریوں کا عملی علاج ، اس بیماری کے برعکس کام کرنا ہے اور تکبر کا عملی علاج ، (( تواضع )) ہے ۔ جیسا کہ امیرالمؤمنین علی ؑ کا فرمان ہے :((ضادواالکبر: (( ضادوا الکبر بالتواضع )) ( تواضع (( توضع کے ذریعے ، تکبر سے مقابلہ کرو) )) ۔ اس تواضع کو حاصل کرنے کے لئے درج ذیل کاموں کا انجام دینا ضروری ہے :
۱۔ چھوٹے بڑے ، امیر فقیر ، سب کو سلام کرنا ۔
۲۔ اس جگہ پر بیٹھنا جس پر بیھٹنا انسان اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے  ۔
۳۔ دوسروں کے فضائل پر توجہ کرنا ۔
۴۔ فقیروں کے ساتھ میل جول رکھنا ۔
۵۔ امیر لوگوں کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ۔
۶۔ عام لوگوں کی طرح کام انجام دینا  وغیرہ ۔۔۔


دو ضروری نکتے

:
۱۔ تکبر بالحق :
گرچہ (( تکبر )) اپنی تمام تر اقسام کے ساتھ ایک ناپسندیدہ اور مذموم صفت ہے اور انسان کو اس صفت سے دور رہنا چاہیئے لیکن     (( تکبر بالحق )) ایک ایسی پسندیدہ صفت  ہے جسے انسان کو اپنانا چاہیئے‏۔ (( تکبر بالحق )) کا مطلب یہ ہے کہ انسان ، اپنے اندر یہ صفت پیدا کرے کہ خداوند عالم کی ذات کے سوا باقی تمام مخلوقات سے بے نیاز رہے ۔ صرف اسی کی ذات کاملہ کی طرف توجہ رکھے ۔ مولائے کائناتؑ کیا خوب فرماتے ہیں : (( ما احسن تواضع الاغنیاء للفقراء طلبا لما عندالله و احسن منه لله الفقراء علی الاغنیاء ، اتکالا علی الله ))  (( خدا کی خوشنودی کے لئے فقیروں کے سامنے امیروں کی تواضع ، بہت اچھی ہے ، مگر اس سے اچھی ، خدا پر توکل کرتے ہوئے فقیروں کی امیروں سے بے نیازی ہے )) ۔


۲۔ دوسرا ضروری نکتہ:
یہ ہے کہ : (( متکبر )) کے ساتھ تکبر کرنا ، عبادت ہے  ۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ انسان (( تکبر )) کی خصلت پیدا کرے یا اسے اپنے اندر سے دور نہ کرے ۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اندر سے متواضع ہو لیکن عمل اور ظاہر میں ، تکبر اور برتری دکھانے والے انسان کے ساتھ تکبر اور سختی کے ساتھ پیش آئے ۔ اگر ایسا کرے گا تو تکبر کرنے والے کی ناک اور اس کا غرور خاک میں مل جائے گا ۔
اگر شروع ہی سے انسان ، روے زمین پر متکبرین کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کے بجائے اور ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ، سختی اور تکبر سے پیش آتا تو ہرگز اتنی تعداد میں فرعون ، نمرود ، ابوسفیان ، معاویہ ، یزید ، صدام ، ہٹلر ، قذافی اور حسنی مبارک وغیرہ پیدا نہ ہوتے ۔


خدا ہم سب کو پسندیدہ معنی میں (( تکبر )) کی نعمت عطا فرمائے اور ناپسندیدہ و مذموم معنی میں (( تکبر )) کی صفت سے نجات عطا فرمائے ۔ آمین

.............................................................................

منابع :

۔ سورہ حجر /29۔31
۔ سورہ بقرہ / ۳۴
۔ اعراف/146
۔ لسان العرب ، ج۵، ص ۱۲۹
۔ مجموعہ آثار ، شھید مطھری ، ج۲۷، ص ۱۹۷
۔ امام خمینی ، چھل حدیث ، ص ۷۹
۔ آیت اللہ مکارم شیرازی ، اخلاق در قرآّن ، ج ۲ ، ص ۴۳
۔ چھل حدیث ، امام خمینی ، ص ۷۹
۔ آیت اللہ مکارم شیرازی ، اخلاق در قرآن ، ج۲ ، ص۴۳
10
۔ چھل حدیث ، امام خمینی ، ص ۷۹
11 
۔ ترجمہ تفسیر المیزان ، علامہ طباطبائی ، ج ۸ ، ص ۳۴
 12
۔ شرح غررا لحکم ، آمدی ، ج۳ ، ص ۳۲۷
13 
۔ المحجۃ البیضاء ، فیض کاشانی ، ج ۶ ، ص ۲۴۲
14 
۔ چھل حدیث ، امام خمینی ، ص 85
15 
۔ قصص / ۷۹
16 
۔ چھل حدیث ، امام خمینی ، ص 81
17 
۔ سورہ نازعات /24
18 
۔ سورہ قصص /38
19 
۔ سورہ مؤمنون /47
20 
۔ بحار ، ج ۷۴، ص ۲۳۵
21 
۔ اسی کتاب ۔ ج ۷۰ ، ص ۲۳۱
 22
۔ غرر الحکم ، حدیث ۷۱۶۲
 23
۔ شرح غرر الحکم ، ج ۳ ، ص ۳۲۷
 24
۔ بحار ، ج۱ ، ص ۲۲۵
25 
۔ سورہ نحل /23
26 
۔ شرح غرر الحکم ، ج۳ ، ص ۳۲۷
27 
۔ مولانا رومی ، مثنوی معنوی
28 
۔ سورہ بقرہ / 34
29 
۔ سورہ نحل/ 23
 30
۔ سورہ اعراف / 146
 31
۔ نھج البلاغہ ، خ اول
32 
۔ سورہ نساء /28
33 
۔ نھج البلاغہ ، حکمت ۴۴۵
 34
۔ وہی ، حکمت / 386
 35
۔ غررالحکم ، آمدی ، ج۴ ، ص ۲۳۲
 36
۔ نھج البلاغہ ، حکمت ۲۹۸
37 
۔ شھید مطھری ۔ مجموعہ آثار ، ج ۲۲ ، ص ۶۲۱