Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 

تحریر:عیدعلی عابدی

          مقدمہ

عام و خاص زیادہ تر استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ثقافت ہے ۔ اس سے ہر کوئی بخوبی آشنا ہے ۔ یہ مشکل اور پیچیدہ مفاہیم اور معانی میں شمار ہوتا ہے ۔

اس کی اہمیت کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ؛ اس لئے کہ اب وہ پچھلے زمانے کی صدیاں نہیں ہے جس میں دشمن اپنی فوجی یلغار کے لئے کئی سرحدوں کو عبور کرکے اپنے مقصد تک پہنچے ۔ جس صدی میں ہم زندگی کررہے ہیں ، یہ ثقافتی یلغار اور تہذیبی تصادم کی صدی ہے ، مواصلاتی نظام یا جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو گلوبل ولیج یا بہتر کہوں ہوم ولیج میں تبدیل کردیا ہے ۔ اب دشمن اس کے ذریعے کسی شور و شرابے کے بغیر ممالک بلکہ گھروں تک کو پہنچ چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے مسلم معاشرے میں خصوصا نسل جوان مغربی ثقافتی کے دلدل میں غرق ہوتے جارہے ہیں ، ہمارے جوانوں کی سوچ ، گفتار و کردار کو لوٹا جارہا ہے ۔ اب ان حالات میں اپنے جوانوں کو غرق ہونے سے بچانے کے لئے ، کیا اب بھی دینی و سیاسی لیڈروں اور دیگر ذمہ دار افراد سے لیکر گھر کے والدین تک خصوصا علماء و دانشمندوں کا وظیفہ سنگین نہیں ہوا ہے ؟

                             

                                                                                                                                            تحریر:محمد نذیر اطلسی

تمهید

معاشرے اور دین  نے  انسان کواس کی زندگی کےبہت سارےمعاملات  میں انتخاب کا حق دیاہے ان میں سےایک حق جوبہت  ہی زیاده اہمیت کا حامل ہے، وه شریک حیات کاانتخاب ہے انسان کویه حق حاصل ہے که وه اپنی مرضی سے کسی کو اپناشریک حیات منتخب کرے.لیکن اسلام  نےاسےآزاد رکھنے کے با وجود اس پیوند کی پایداری اور استحکام کی خاطر شریک حیات کے انتخاب میں کچھ معیاروں کو بیان فرمایا ہے اگر کوئی شخص اسلام کے بتلاۓ ہوۓ ان معیاروں کے مطابق اپنی  شریک حیات کا انتخاب کرے تو ایک متعادل اور پایدار خاندان کے تشکیل کی امید کی جا سکتی هے.ایک خاندان کی استحکام اور پائداری میں مادی رفاه عامه کا رول ضرور هے ،لیکن ان مادی امکانات اور سهولیات کو  ازدواجی زندگی کےلیے بنیاد قرار نهیں دیا جا سکتا هے بلکه خاندان کے  تحفظ اور پایداری کےلیےکچھ اور ضروری عوامل کار فرما هیں ان عوامل کی پاسداری هی سے خاندانو ں کےاندر محبت ،دوستی اور اپنائیت کی فضا ء پیدا هوجاتی هے اسلام نے انسانی خوش بختی اور بد بختی کے جمله عوامل کو– هر چند مختصر هی صحیح -  بیان کر دیا هے.

 

 

تحریر : جمعہ خان جعفری   

کائنات میں خدا کی پہلی نافرمانی ابلیس ملعون نے کی ۔ یہ نافرمانی اس وقت رونما ہوئی جب خداوند عالم نے حضرت آدم ؑ کے جسم میں روح پھونکی اور ابلیس سمیت تمام فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ۔ سب نے خداوند عالم کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور حضرت آّدم کے سامنے سجدہ ریز ہوئے لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا ۔ قرآّن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے :

 

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَ ،فَسَجَدَ الْمَلآئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ،إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ))  ترجمہ : (( جب میں نے اس کو آدم کے خاکے کو ) نظام بخشا اور اس میں اپنی روح پھونکی ( تو ابلیس سمیت تمام فرشتوں کو مخاطب کرکے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ) تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا ))۔