Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ اصفہان کے سربراہ حضرت آیت الله حسین مظاهری نے اس شہر کے مسجد حکیم میں اپنی تقریر کے درمیان سورہ مبارکہ طلاق کی تیسری آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دنیا میں متقین کے لئے راہ اختمام نہیں ہے ۔ انہوں نے بیان کیا : انسان اہل بیت علیہم السلام سے دوستی و محبت اور ان کی اطاعت کی وجہ سے جنت تک پہوچے گا کہ جہاں جو خواہش کرے گا وہ موجود ہے جس کو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہے ۔

مرجع تقلید نے آیہ "کلوا و شربوا هنیاً بما اسلفتم فی الایام الخالیه" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : خداوند عالم نے جنت کی نعمتوں کے حصول کو خود انسان کی محنت و کوشش کا ماحصل جانا ہے اور قیامت کے روز اس شخص پر کسی طرح کا احسان نہیں جتایا جائے گا ۔ حضرت آیت الله مظاهری نے اپنی تقریر میں بیان کیا : اگر انسان دنیا کی مشکلات و دشواری کو برداشت کرے گا اور خداوند عالم کی بندگی سے دوری اختیار نہیں کرے گا تو خداوند عالم قیامت کے روز اس سر معذرت طلب کرے گا جو اجر کا سب سے عظیم درجہ ہے ۔



انہوں نے سورہ طلاق کی آیت دوم کے آخری حصہ " و من یتق الله یجعل له مخرجا" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی ہے : دنیا میں متقین کے راہ اختمام نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی زندگی کے تمام مرحل کو خداوند عالم کے احکامات کے مطابق منظم کرتے ہیں ۔ حوزہ علمہ اصفہان کے سربراہ نے آیہ " من اعرض عن ذکری ان له معیشة ضنکا " کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : اگر کوئی خداوند عالم کی معصیت کا راستہ اپناتا ہے تو دنیا کی زندگی اس کے لئے سخت و مشکل ہو جاتی ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے آیت " فکفرت بانعم الله فاذاقها الله بما کانو یکسبون " کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : بعض لوگ گناہ میں مبتلی ہو کر خود اور خداوند عالم پر ظلم کرتے ہیں اور قیامت کے روز بھی خداوند عالم کی عدالت پر شکایت کرتے ہیں حالانکہ انسان کو خداوند عالم کے رضای پر راضی ہونا چاہیئے اور قضا و قدر الہی کی شکایت نہیں کرنی چاہیئے ۔ انہوں نے اظہار کیا : اخلاقی و اداری کرپشن، تجمل گرائی اور اسراف اس وقت دنیا میں اوج پر ہے اور بعض مفاد پرست انسان اس کرپشن سے مقابلہ کے بجائے اس کو پھیلانے میں مشغول ہیں ، ہمارے ملک کی ظاھری سلامتی اچھی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ سماج کے اکثر لوگ اس میں ملوث ہو چکے ہیں جو دل کی نا امنی کا سبب ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے آیہ " الذین آمنوا و لم یلبسوا بظلم" کو بیان کرنے کے ساتھ وضاحت کی : دل کی سلامتی و اطمینان کے حصول کا راستہ خداوند عالم اور اہل بیت علیہم السلام کے احکامات کی پیروی ہے اور "الا ان اولیاء الله لا خوف علیهم و لا هم یحزنون" سے مراد خاص اولیا ہیں اور اس سے مراد شیعہ ہیں ۔ حضرت آیت الله مظاهری نے اپنی تقریر کے اختمامی مراحل میں حدیث قدسی کے فرمودات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا " اگر کوئی اولیاء اللہ پر ظلم کرتا ہے وہ خداوند عالم کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے " شیعوں پر ظلم کرنا انسان کے سر سے خداوند عالم کی عنایت ختم ہونے کا سبب ہے ۔