Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 8

کل 9

اس هفته 8

اس ماه 181

ٹوٹل 22022

 تحریر:علی سردار

مملکت خداداد پاکستان 14 اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیر کے مسلمانوں کی انتھک کوششوں اور قائد اعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت و رہبری کے نتیجے میں ایک اسلامی نظر یاتی ، ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا ، بانیان پاکستان کی خواہش یہ تھی کہ اس ملک کو اسلام کے عظیم ، جاوید اور پائدار قوانین کے مطابق ادارہ کرکے اسلامی عدالت کے ایک مثالی نمونے کو دنیا کے سامنے پیش کریں ، جس میں نہ صرف تمام اسلامی فرقے بلکہ دوسری غیر مسلم اقلیتوں کو بھی تمام انسانی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہو ۔ اور یہ ایک طبیعی امر تھا کہ یہ ملک اپنے لئے دشمن پیدا کرے ، دشمنان خارجی اور دشمنان داخلی جو کسی بھی صورت میں ایک اسلامی نظریات مملکت کو برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھی یہ لوگ اپنے ناجائز مقاصد کے حصول میں سرگرم عمل رہے ، داخلی طور پر پاکستان کو اپنے اصلی اہداف سے دور کرکے بے بنیاد گوناگون مسائل میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی اور ان میں سر فہرست صوبائی ، لسانی اور علاقائی تعصّبات تھے ، جن کی طرف بانی پاکستان بخوبی متوجہ تھے اور چاہتے تھے کہ پاکستان ان مشکلات سے رہائی حاصل کرکے اپنے حقیقی اہداف کے حصول میں گامزن رہے ۔

 

انہوں نے ۱۹ مارچ  ۱۹۴۸ء کو بمقام ڈھاکہ میں اپنے ایک خطاب میں فرمایا :(پاکستان کے قیام کے خلاف اپنی کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد پاکستان کے دشمن اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ہمارے ملک کی سالمیت کے درپے ہیں وہ اس مقصد کے حصول کے لئے صوبائیت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ جب تک اپنی قومی سیاست سے اس زہر کو نکال باہر نہیں پیھنکتے قومی استحکام کا حصول ممکن نہیں۔(1)


  بدقسمتی سے قائد اعظم کی عمر بابرکت بھی وفا کر نہ سکی ، بہت ہی جلد بانی پاکستان اس دنیا سے چل بسے ، جس کے بعد آہستہ آہستہ مملکت پاکستان ان لوگوں کے چنگل میں گرفتار ہوئی جو نہ صرف اس کے اہداف سے بے خبر تھے بلکہ دشمن تھے ۔ مغربی  پاکستان جاگیرداروں کے ہاتھ میں کھلونا بن گیا۔ پاکستان کی دوسری دستور ساز اسمبلی میں مغربی پاکستان کے ۴۰ اراکین میں سے ۲۸ رکن جاگیردار تھے ۔(2)
   لسانی اور صوبائی تعصبات زور پکڑنے لگے اور خارجی طاقتیں بھی اپنی توانائیوں کو بروئے کار لانے لگیں اور مشرقی پاکستان ہم سے جدا  ہوا ، جو پاکستان کے وجود پر ایک کاری ضرب تھی، لیکن پاکستان کے عیش و نوش میں گرفتا رحکمران اس واقعے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے انقلاب برپاکیا تھا ان کو دیوار سے لگایا گیا ، اور ایک دفعہ پھر یہ ضرب المثل درست ثابت ہونے لگی (انقلاب اپنے فرزندوں کو کھا جاتا ہے اور شہید مرتضی مطہری کے بقول انقلاب نہیں بلکہ انقلاب لانے والوں کی غفلت کی وجہ سے فرزندان انقلاب موت اور زندانوں کی سلاخوں سے لگ جاتے ہیں ۔ کیونکہ عموما یہ لوگ انقلاب کو آخری منزل سمجھ کر اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوجاتے ہیں جبکہ انقلاب کامیابی کی آخری منزل نہیں پہلا قدم ہے ۔



پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں کئی قومیں اور کئی اسلامی اور غیر اسلامی فرقے زندگی گزار رہے ہیں یہاں متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں اور سالہا سال سے باہم اخوت اور رواداری سے زندگی گذار رہے تھے ، اور یہ اس ملک کا حسن ہے ۔ ان کی اگر کوئی مشترکہ شناخت ہے تو وہ مسلمان ہونا اور پاکستانی ہونا ہے ۔ لیکن دشمن نے اس کو ایک موذی مرض میں تبدیل کیا جو پاکستان کے وجود کے لئے مہلک ہے ۔ اب ہم پاکستانی ہونے کے بجائے کوئی پنجابی ہے ، کوئی سندھی ، کوئی بلوچی اور کوئی پٹھان تو کوئی گلگتی ، اور مسلمان ہونے کے بجائے کوئی شیعہ ہے تو کوئی سنّی ، کوئی اہل حدیث ہے تو کوئی بریلوی ۔۔۔ اب اس ملک میں کسی کا وجود ناپید ہے تو وہ ایک مسلمان اور ایک پاکستانی کا وجود ہے ۔ وہ مسلمان جو کلمہ توحید کے سائے میں بھائی بھائی تھے اب ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے کے درپے ہیں ۔ اب اس ملک میں نہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال ، اور نہ عزت و آبرو ، اگر کوئی چیز ارزان قیمت میں اس ملک کی بازار میں ملتی ہے تو وہ کفر کے فتوے ہیں جو جاہل اور نادان لوگوں کی ناپاک زبانوں اور قلموں سے مسلسل جاری ہوتے ہیں ، ایسے میں ہر سمجھدار اور دلسوز مسلمان خون کے آنسو روتا ہے ۔ بہت سارے لوگوں نے حسب امکان اس ملک کی حفاظت اور ترقی کے لئے اور اس ملت کی سربلندی کے لئے قربانیاں دی ہیں ۔ جن میں ہر طبقے کے لوگ ہیں ، جو قابل تحسین ہیں اور کچھ چہرے بہت نمایاں ہیں ، ان میں عارف حسین الحسینی     ؒ کا نام سرفہرست ہے ، جنہوں نے اپنے ملک اور ملت کے امراض کو بخوبی درک کیا اور ان کے علاج کے لئے ایک لمحہ بھی دیر نہیں کی اور اپنی قیمتی ترین جان کو اس ملک کی سالمیت اور اس ملت کی ارتقاء کے لئے قربان کیا ۔

انہوں نے اپنے پہلے تنظیمی کنونشن میں ملک بھر کے نمائندوں کے سامنے اعلان کردیا کہ (ہماری تین حیثیتیں ہیں)ہم مسلمان بھی ہیں ، شیعہ بھی ہیں اور پاکستانی بھی ، انھوں نے واضح طور پر فرمایا : مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم اسلام اور عالم اسلام کے امور سے دور نہیں رہ سکتے ، شیعہ ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے مکتب کا تحفظ کرنا ہے اور پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے وطن پاکستان کے مسائل میں بھی دلچسپی لینی ہے ۔ انہوں نے دشمنی اور دوستی کے معیار کو اور اپنے واضح اور اٹل موقف کا یوں اظھار کیا (ہم ظالم کے دشمن ہیں اگرچہ وہ  ظاہری طور پر شیعہ ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم کے حامی ہیں اگرچہ وہ غیر مسلمان ہی کیوں نہ ہو )) ۔(3) 


وطن عزیز کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری :


وہ پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل سے ہرگز لاپرواہ نہیں تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کی دعوت دیتے تھے ۔ وہ اس امر کو بخوبی سمجھ رہے تھے کہ بعض لوگ اجتماعی اور ملکی ذمہ داریوں سے ہچکچا رہے ہیں ، جس سے فائدہ اٹھاکر دشمن اس ملک میں مختلف مسائل پیدا کر رہا ہے ۔ دورہ بلتستان کے موقعے پر اپنے خطاب میں یوں فرماتے ہیں :( برادران عزیز ! اگر ہم واقعاً مسلمان ہیں تو ہمیں انفرادی طور پر ہماری جو ذمہ داریاں ہیں ،  انہیں بجالانا چاہئے ۔ ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے ۔ ملکی سطح پر یا بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ، ہمیں ان سے باخبر رہنا چاہئے اور پھر اپنے امکانات کے مطابق جو کچھ ہم کرسکتے ہیں ہمیں اس سلسے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہئیے آپ دیکھئے اس وقت ملک میں کیا ہوررہا ہے) ۔(4) ایک اور موقع پرآپ یوں فرماتے ہیں :(وطن عزیز پاکستان کے داخلی اور خارجی دشمنوں کا مقابلہ کسی ایک گروہ کا ذمہ نہیں ہم سب کا ذمہ ہے ۔ معاشرے کو عدل اسلامی سے ہمکنار کرنے کی جدوجھد ہم سب کے ذمہ ہے) ۔(5)


پاکستان کی حفاظت کے لئے ہر چیز قربان :


        شہید عارف حسین الحسینی ؒنے اس امر کو واضح کیا کہ وقت کے ڈکٹیٹر اور ظالم حکمرانوں کو عشر زکواۃ دینے سے گریز مملکت کے تحفظ سے گریز نہیں بلکہ ایک فقہی مسئلہ ہے جو شیعہ فقہ سے مربوط ہے ۔ انہوں نے چودہ سو سالہ جشن امام حسین ؑکے موقعے پر فرمایا :    ہم پاکستان کے بنانے والے ہیں ، پاکستان کی حفاظت کرنے والے ہیں ، کل ہم نے پاکستان بنانے کے لئے قربانی دی تھی اور آج بھی تیار ہیں ، بخدا  ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم نے اگر آج عشر زکوۃ فقہ کے مطابق نہیں ہے حکومت کو دینے سے انکار کیا ہے ۔ اگر کل اسی پاکستان اسلامی پر  ہند وستان نے یا کسی اور کافر طاقت نے حملہ کیا تو ہم اپنی زکوۃ دے کر اپنی جیبوں سے پیسہ دے کر اسلامی مملکت اور اسلامی سرزمین کے لئے خون دے کر حفاظت کریں گے)(6)


تحفظ پاکستان کا راز مساوات میں :


     (ہم اگر اتحاد چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہل سنت کو ان کا حق دیا جائے اور شیعوں کو ان کا حق دیا جائے ۔ شیعہ شیعہ بن کر اور سنّی سنّی بن کر کفار دشمن ، امریکہ ، روس ، اسرائیل اور ہندوستان کا مقابلہ کریں ۔ یہ اتحاد اس صورت میں ممکن ہے کہ جب ہر مکتب فکر کو اس کا پورا پورا حق دیا جائے ، بخدا اگر کسی کو اس کا حق نہ دیا گیا تو وہ احساس محرومی میں مبتلا ہوکر پاکستان کے لئے خطرہ بن سکتا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان ہم نے بنایا ہے۔ اس کے بنانے میں ہماری فکر اور ہمارا مال خرچ ہوا ہے ، اس کے لئے ہم نے اپنا خون دیا ہے ، جس طرح اسے شیعہ سنّی سب نے ملکر بنایا تھا اسی طرح ملکر اسی کی حفاظت بھی کریں گے ۔ یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب شیعوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں اور سنّیوں کو ان کے حقوق ملیں )) ۔(7)


 فتنوں سے آزادی قرآن سے تمسک میں :


      وہ شدت سے محسوس کررہےہیں کہ جہاں پہ فرقہ واریت ، قومیت ، لسانیت اور دوسری مشکلات کی وجہ سے وطن عزیز پاکستان کی جغرافیائی حدیں خطرے میں ہیں وہاں پہ اس ملک کی نظریاتی حدیں محفوظ نہیں ، بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اس وقت ہی ممکن ہے جب اس کی نظریاتی سرحدیں محفوظ ہوں اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب مسلمان قرآن کریم اور سنت رسول پاک ﷺ سے تمسک کریں ۔ ( آج ہمیں کونسی مشکلات درپیش ہیں ؟ یہ قومیت ایک فتنہ ہے ، جو آج کل پاکستان میں زوروں پر ہے ، پس اگر ہم ان فتنوں سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اور صرف قرآن کو پناہ گاہ بنانا چاہئیے ورنہ اگر یہ فتنہ جاری رہا تو معلوم نہیں کل پاکستان اور یہاں کے مسلمانوں کا کیا حال ہوگا ، قومیت کے یہ نعرے پاکستان کے مستقبل کیلئے خطرناک ہیں) ۔(8)


پاکستان کے حکمران خارجی طاقتوں کے نوکر :


شہید عارف حسین الحسینی ؒنے لوگوں کو یہ روشن کرایا کہ پاکستان کے غیر جمہوری حکمران پاکستان اور اسلام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں ، ان کا اسلام کا نام استعمال کرنا  اپنی سیاست اور حکومت کیلئے ہے ، یہ وہ موقع تھا جب پاکستان میں کچھ سادہ قسم کے مذھبی لوگ جنرل ضیاء الحق کے اسلام کے نام کواستعمال کرنے پر امیرالمؤمنین سمجھ بیٹھے تھے ، اور اس خوش فہمی کا شکار ہوئے تھے کہ ان کا کسی ایک خاص فرقے کی حمایت اور نفاذ اسلام کی بات کرنا اسلام اور پاکستان کے ساتھ خلوص کی وجہ سے ہے ۔ آپ اپنے دورہ بلتستان کے موقع پر فرماتے ہیں :( ۔۔۔ فرقہ واریت اپنے عروج پر ہے قومیت کے نام پرلوگوں کا خون بہایا جارہا ہے اور اسی طرح سیاست کے نام پر پتہ نہیں کس کس کے ہاتھ ہمارے ملک کو بیچا جارہا ہے ۔ کیا ہم صرف خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہیں ؟ یہ فرقہ واریت کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے ، اس کی کوئی پروا نہیں ؟! قومیت کے نام پر جو خونریزی ہورہی ہے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئیے ؟! سیاست کے نام پر کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کو امریکہ کی گود میں پھینک دیں ، اور کچھ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے معاملات کو روس کے سپرد کریں کیا ہم کچھ نہ کریں اور یوں ہی دیکھتے رہیں ؟!یا نہیں بلکہ ہماری اور آپ کی اس سلسلے میں کچھ ذمہ داریاں ہیں؟!) ۔(9)
1988ء کو گلگت کے نہتے شیعہ مسلمانوں پر فرقہ واریت کے نام پر حکومتی مشینری کی سرپرستی میں یلغار کرکے ایک سو کے قریب بے گناہ لوگوں کو شہید کیا گیا اور کئی گاؤں کو آگ لگائی گئی ۔ شھید قائد نے ڈیرہ اسماعیل خان کے مقام پر قرآن و سنت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی چہرے کو بے نقاب کیا اور لوگوں کو ایک دوسرے کا احترام اور قرآن و سنت کی بالا دستی قبول کرنے کی دعوت دی ۔ (ملک میں مسلح افراد کا سینکڑوں کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے نہتے مسلمانوں پر حملہ آور ہونا اور ان کا قتل عام کرنا یہ سب کچھ حکمرانوں کے اشارے پر ہورہا ہے جس کے ثبوت موجود ہیں ۔ ہم تمام مکاتب فکر کے افراد کا احترام کرتےہیں اور ان سے اپیل کرتے ہیں کہ مسلمان قانون خداوندی کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی بالا دستی کیلئے متحد ہوجائیں ۔))(10)


ہماری مشکلات کا ذمہ دار امریکہ :


انقلاب اسلامی ایران کے تربیت یافتہ یہ مجاہد عالم دین امام خمینی ؒ کا  یہ فرمان بخوبی درک کرچکے تھے کہ (امریکہ شیطان بزرگ ہے) اور وہ مسلمانوں کیلئے نہ صرف خیرخواہ نہیں ، بلکہ ان کا دشمن ہے ۔ امریکہ کے خلاف پاکستان کی سرزمین میں آواز بلند کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا ؛ کیونکہ پاکستان کے حکمران تو خود اس کے گماشتہ تھے اور سادہ لوح عوام اس کے مکر وفریب سے آشنا نہیں تھے ۔ آج ہم جب پاکستان کے ہر گوشہ وکنار میں امریکہ مردہ باد کے نعرے سن رہے ہیں اور لوگ اس کے چنگل سے آزادی کیلئے جو مسلسل کوشش کررہے ہیں وہ اسی شہید کی با بصیرت قیادت اور رہبری کی مرہون منت ہے ۔ انہوں نے مسلمانان پاکستان کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کروائی ، ضلع وھاڑی میلی کے مقام پر  یوں اظھار خیال کرتے ہیں :(امریکہ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مشغول ہے ، اور اس طرح آج آپ کیلئے چھوٹے چھوٹے مسائل پیدا کرکے بھائی کو بھائی کے ساتھ لڑاکر اپنے لئے میدان خالی کرتا ہے اور ہم اسی طرح اپنے سیاسی اور بنیادی مسائل بھول جاتے ہیں ، اگر یہ مسائل ، اختلافات اور مشکلات ہمارے لئے امریکہ ایجاد کررہا ہے تو ہم کیوں نہ اس امریکہ کے خلاف آواز بلند کریں جو اس وقت نہ صرف خود بھی دہشت گرد ہے بلکہ دہشت گردوں کی سرپرستی بھی کررہا ہے ۔)(11)


امریکہ اور  روس خالی بت :


وہ ان لوگوں کو جو امریکہ اور روس کو سپر طاقت سمجھ کر ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ سپر طاقت صرف خدا کی ذات اقدس ہے ۔ یہ روس اور امریکہ جن کو تم کچھ سمجھتے ہو کھوکھلے بت ہیں جو اپنے لئے کچھ کرنے سے عاجز ہیں تو تمہارے لئے کیا کرسکتے ہیں ؟! تمہیں ان کو چھوڑ کر قرآن اور سنت سے تمسک کرنا چاہئے ، کراچی میں اوائل قیادت کے دوران خطاب کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں :      
 (اے اسلام کے نام لینے والو ! تمہیں ہم یہ نصیحت کرتے ہیں کہ امریکہ اور روس پر اعتماد مت کرو یہ خالی بت ہیں جن کے اندر کچھ بھی نہیں ، اگر ان کے اندر کچھ ہوتا تو وہ اپنے فوجیوں کیلئے بیروت میں کچھ کرتے ، ان میں اگر کچھ طاقت ہوتی تو آج روس افغانستان میں مجاھدین کے مقابلے میں یوں سرگردان نہ ہوتا ، آج ثابت ہوچکا ہے کہ سپر طاقت صرف اور صرف اللہ ہے ۔ اسلام اور قرآن ہے ، تمہیں چاہیئے کہ اسلام اور قرآن کی طرف واپس لوٹ آؤ)(12)


غیرت مسلم کو چیلنچ :


 (بخدا پاکستان کے مسلمان متحد و متفق ہوجائیں تو ہم خود پاکستان کی حفاظت کرسکتے ہیں ، یہ امریکہ کون ہوتا ہے کہ اس کا سفیر یہ بیان دے کہ (( پاکستان کی حفاظت امریکہ کی ذمہ داری ہے ، امریکہ کیا ہے ؟ امریکہ اپنے فوجیوں کی حفاظت لبنان میں نہیں کرسکا ، امریکہ ویتنام میں اپنی حفاظت نہیں کرسکا ، آج مسلمانوں کی غیرت کہاں گئی ؟ اے پاکستان کے مسلمانو ! تمہاری غیرت کو کیا ہوگیا ہے ؟!  کہ آج یہ کافر اس قسم کی باتیں کرتا ہے ، وہی کافر جس نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کیا ، ہنری کسنجر (امریکی وزیرخارجہ) کا بیان آپ نے سنا ہوگا کہ اس نے اقرار کیا ہے کہ مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدہ گی کا منصوبہ خود امریکہ نے تیار کیا تھا ۔۔۔ میں پاکستان میں اپنے سب بھائیوں کی خدمت میں عرض کروں گا کہ آپ مسلمان ہیں اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جن کی طرف توجہ کرنا اور انہیں بجالانا آپ کا شرعی وظیفہ ہے ۔)(13)


اتحاد و اتفاق اور حقیقی جمہوریت میں عزت و سربلندی :


شہید قائد نے  اس استعماری سازش کو شدت سے رد کرتے ہوئے کہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا ہیں ، دین کو اجتماعی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ، وہ علماء کو پیغام دیتے ہوئے فرماتے ہیں :(اس موقع پر میں پھر اس امر پر زور دیتا ہوں کہ دین و سیاست کو جدا کرنے کی استعماری سازش کو عوام کے سامنے آشکار کرکے ناکام بنادیں اور اپنی مساعی میں اتحاد بین المسلمین کی اہمیت ہرگز فراموش نہ کریں ۔)(14) ڈیرہ اسماعیل خان میں قرآن و سنت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :(موجودہ صدر نے جمہوریت کی شمع گل کردی ہے ، ہم نے پہلے کہہ دیاتھا کہ جنرل ضیاء الحق کی دوہری حیثیت ملک و قوم اور جمہوریت کیلئے ہرگز بہتر نہیں ، انھوں نے جونیجو حکومت کی چھٹی کراکے ہمارے موقف کو سچ ثابت کردیا ۔)(15)


    قرآن و سنت کانفرنس ملتان میں فرمایا :(جمہوریت کے جو خطوط حضرت علی علیہ السلام نے واضح کیئے ہیں وہ نظام اسلامی کی  اساس ہیں ۔ اگر ہم دیگر قوموں کے درمیان باوقار قوم بننا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اسلام کو مکمل طور پر اپنانا ہوگا ، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران اسلام کے مقدس نام کو اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے استعمال کررہے ہیں اور ان کے اس عمل سے قوم کے حقوق کا استحصال ہوررہا ہے جسے پاکستان کے عوام زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتے ، جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام میں ان کے مسائل کا حل موجود ہے تو وہ اسلام کی حقیقی روح سے نابلد ہیں ، اسلام تو اخوت کا درس دیتا ہے ، نفرتوں کا نہیں ۔۔۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد اور قرآن و سنت سے حقیقی وابستگی ان کے حقوق کے بقاء کی ضامن ہے ۔))(16)


فرقہ واریت ، قومیت اور تنگ نظری کی مذمت :


فرزند خمینی  ؒ علامہ عارف حسین الحسینی  نے ۶ جولائی ۱۹۸۲ ء کو مینار پاکستان لاہور میں عظیم تاریخی اجتماع"قرآن و سنت" کانفرنس میں اسلامی نظام کے ایک بنیادی اور اہم اصول بیان کیے اور کچھ خطرات جو اس ملک کی سالمیت کیلئے درپیش تھے ان سے یوں پردہ گشائی کی : ( اے فرزندان قرآن و سنت ! قومیت کے بت توڑ دو اور فرقہ واریت کا خاتمہ کردو ، میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ قومیت اور فرقہ واریت کو ہوا دینا روس اور امریکہ کی خدمت کرنے کے مترادف ہے ۔ یاد  رکھیئے فرقہ واریت اور آپس کی تنگ نظری سے جو نقصان ہمارے پیارے ملک کو پہنچ سکتا ہے وہ بیرونی دشمن سے نہیں ، یہ ہماری قوم کی بد قسمتی رہی ہے  کہ یہاں کے چند تنگ نظر افراد نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک اپنے پاکستانی مسلمان بھائیوں پر کفر کے فتوے لگائے ہیں اور اب حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کوئی مسلمان بھی یہاں اپنے آپ کو کفر کے فتوے سے محفوظ نہیں سمجھتا ۔   
اے برادران اسلام ! ذرا حوصلے سے سوچیں ، اپنے ملک کے استحکام کو مد نظر رکھ کر غور کریں کہ بیرونی قوتیں ہماری سرحدوں پر بم پھینک رہی ہیں اور ہم مسلمان داخلی طور پر کمزور ہوتے جارہے ہیں ایسے میں سرحدوں کی حفاظت اور ملکی استحکام کا تحفظ کون کرے گا ؟ آج میں کلمہ توحید کے فرزندان ، چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنّی ، دیوبندی ہو یا بریلوی ، اہل حدیث ہوں یا اہل کتاب ، تمام سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ اے کلمہ توحید کے پرستارو ! آپ کے عقائد کی جنگ اور معمولی سے فقہی اختلافات کی محاذ آرائی سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے ؟ شیعہ کو یا سنّی کو ؟ نہیں قسم بخدا !ہمارے اختلافات سے کفر کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ لہذا ہمیں چاہیئے کہ ہم کفر کی خدمت نہ کریں بلکہ اپنی توانائیاں باہم متحد رہ کر راہ اسلام میں صرف کریں اور ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کریں ۔))(17)  

 شہید عارف حسین الحسینی  ؒنے اپنے پاک خون کے ذریعےسے آنے والوں کیلئے عزت اور سربلندی کے راستے واضح کئے ۔ لہذا امام امت خمینی بت شکن نے ان کے افکار کو زندہ رکھنے کی تاکید کی (پاکستان کے با شرف اور غیّور عوام جو حقیقی معنوں میں ایک انقلابی ملت ہیں اور اسلامی اقدار کے پابند ہیں ۔۔۔ انہیں میں اس امر کی تاکید کرتا ہوں کہ وہ شہید راہ حق (علامہ عارف حسین الحسینی     ؒ)کے افکار کو زندہ رکھیں ۔))(18)

   ہمیں چاہئیے کہ اس مملکت عزیز پاکستان کی سالمیت اور سربلندی کیلئے فرزند زہراء سلام اللہ علیہاکے افکار کو زندہ رکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلیں ۔                                                  

.....................................................................................................
منابع :
(1) پاکستان کیوں ٹوٹا ، ڈاکٹر صفدر محمود ، ص ۲۱ ، جنگ پبلیشر لاہور ، اشاعت دوم ، دسمبر 1996ء

(2) ایضا ، ص ۱۷۔

(3) علامہ عارف حسین الحسینی ، اسلامی شخصیات کی نظر میں ، ص ۹ ، ناشر تحریک جعفریہ پاکستان امور فرہنگی شیعہ ،شعبہ قم /1414 ھ ق ۔

(4) آداب کاروان ، ص ۲۸۲ ، العارف اکیڈمی لاہور۔

(5) ایضا ، ص ۳۲۸۔

(6) میثاق خون ، العارف اکیڈمی لاہور ، ص ۸۵ ۔

(7) ایضا ، ص ۸۶۔

(8) سخن عشق ، ص ۳۲ ۔ ۳۳ ، العارف اکیڈمی ، لاہور ۔
(9) آداب کاروان ، ص ۲۸۲۔

(10) سفیر نور ، تسلیم رضا خان ، ص ۲۷۲ ، العارف اکیڈمی لاہور۔
(11) میثاق خون ، ص ۱۲۹۔

(12) ایضا ، ص ۴۶۔

(13) ایضا ، ص ۱۳۰۔

(14) آداب کاروان ، ص 328۔

(15) سفیر نور ، ص ۱۷۱۔ ۱۷۲۔

(16) ایضا ، ۲۶۶۔ ۲۶۷۔

(17) ایضا ، ص ۲۶۱۔

(18) میثاق خون ، ص ۱۲ ۔