Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021


 

آیت اللہ العظمیٰ سید باقرالصدر کا شمار گذشتہ صدی کے عظیم فلسفیوں ،مذہبی اسکالرز،اور مفکرین میں ہوتا ہے۔ آپ کی تحریروں اور قیادت نے عراقی عوام سمیت دنیا بھر کے دبے ہوئے محروم طبقوں کو متاثر کیا اور حرارت دی،آپ نے نہ صرف مذہبی عناصر کو چیلنج کیا بلکہ ان نام نہاد مذہبی عناصر کو بھی چیلنج کیا جو انقلابی اسلامی فکر کی راہ میں رکاوٹ تھے۔یہ شہید باقر الصدر ہی تھے جنہوں نے عراق میں اسلامی دعوۃ پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے صدام کے دور میں مظلوم شیعوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی،بلکہ آج بھی اسی تنظیم کے افراد عراق بھر میں شیعیان عراق اور مظلوم عراقی مسلمانوں کے لئے جد وجہد کر رہے ہیں،موجودہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔


 تحریر: عین الحیات


تاریخ و جائے ولادت
علامہ شہید سید ضیاء الدین رضوی ایک مذہبی ، علمی اور سادات گھرانے میں گلگت شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی حضرت حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید فاضل شاہ رضوی تھے ۔ انہوں نے ملت تشیع کے لئے عظیم خدمات انجام دیں ۔ آپ نے ایک مجاہد اور عظیم بیٹے یعنی سید ضیاء الدین رضوی کو ملت تشیع کے لئے عظیم سرمایہ و تحفہ کے طور پر چھوڑ دیا۔  ۱؂

 تحریر:علی سردار

مملکت خداداد پاکستان 14 اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیر کے مسلمانوں کی انتھک کوششوں اور قائد اعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ قیادت و رہبری کے نتیجے میں ایک اسلامی نظر یاتی ، ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا ، بانیان پاکستان کی خواہش یہ تھی کہ اس ملک کو اسلام کے عظیم ، جاوید اور پائدار قوانین کے مطابق ادارہ کرکے اسلامی عدالت کے ایک مثالی نمونے کو دنیا کے سامنے پیش کریں ، جس میں نہ صرف تمام اسلامی فرقے بلکہ دوسری غیر مسلم اقلیتوں کو بھی تمام انسانی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہو ۔ اور یہ ایک طبیعی امر تھا کہ یہ ملک اپنے لئے دشمن پیدا کرے ، دشمنان خارجی اور دشمنان داخلی جو کسی بھی صورت میں ایک اسلامی نظریات مملکت کو برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھی یہ لوگ اپنے ناجائز مقاصد کے حصول میں سرگرم عمل رہے ، داخلی طور پر پاکستان کو اپنے اصلی اہداف سے دور کرکے بے بنیاد گوناگون مسائل میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی اور ان میں سر فہرست صوبائی ، لسانی اور علاقائی تعصّبات تھے ، جن کی طرف بانی پاکستان بخوبی متوجہ تھے اور چاہتے تھے کہ پاکستان ان مشکلات سے رہائی حاصل کرکے اپنے حقیقی اہداف کے حصول میں گامزن رہے ۔