Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 مجلہ پیام المصباح اس بات پر مفتخرہے کہ جس نے  رہبرمعظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای  مدظلہ العالی کے یورپ کے جوانوں کے نام لکھے  ہوئے  دوسرے خط کو بھی اردو میں تہیہ کرکے  چھاپنے کا اہتمام کیا ہے۔ رہبر معظم (مد ظلہ العالی) نے اسرائیل کی سرکاری دہشت گردی کی پشت پناہی اور عالم اسلام پر حالیہ برسوں میں کی جانے والی تباہ کن لشکر کشی کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں آپ نوجوانوں سے چاہتا ہوں کہ صحیح شناخت اور گہرے تدبر کے ساتھ اور ناگوار تجربیات سے سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کے ساتھ باعزت اور صحیح رشتوں کی بنیاد رکھئے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے خط کا اردو ترجمہ یہ ہے:

 قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 11 فروری کو جشن انقلاب میں عوام کی پرشکوہ اور تاریخی شرکت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے عوام کے عزم راسخ، استقامت اور بیداری کی نشانی قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ چھبیس فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات بھی قوم کی بیداری، اسلامی نظام، خود مختاری اور قومی وقار کے دفاع کا آئینہ ثابت ہوں گے۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ عوام الناس وسیع پیمانے پر اور مکمل آگاہی و بصیرت کے ساتھ انتخابات میں شرکت کرکے دشمن کی مرضی کے عین مخالف سمت میں قدم رکھیں گے۔ 18 فروری 1978 کو شہر تبریز کے عوام کے تاریخ ساز قیام کی مناسبت سے شہر تبریز اور صوبہ مشرقی آذبائیجان سے سالانہ ملاقات کے لئے تہران آنے والے مختلف عوامی طبقات سے خطاب میں قائد انقلاب اسلامی نے ملک کی تاریخ کے اہم اور فیصلہ کن مواقع اور خاص طور پر اسلامی انقلاب کے دوران آذربائیجان کے عوام کی استقامت، جوش و جذبے، بیداری اور گہرے جذبہ ایمانی کی قدردانی کی۔

 رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ اصفہان کے سربراہ حضرت آیت الله حسین مظاهری نے اس شہر کے مسجد حکیم میں اپنی تقریر کے درمیان سورہ مبارکہ طلاق کی تیسری آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دنیا میں متقین کے لئے راہ اختمام نہیں ہے ۔ انہوں نے بیان کیا : انسان اہل بیت علیہم السلام سے دوستی و محبت اور ان کی اطاعت کی وجہ سے جنت تک پہوچے گا کہ جہاں جو خواہش کرے گا وہ موجود ہے جس کو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہے ۔

مرجع تقلید نے آیہ "کلوا و شربوا هنیاً بما اسلفتم فی الایام الخالیه" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : خداوند عالم نے جنت کی نعمتوں کے حصول کو خود انسان کی محنت و کوشش کا ماحصل جانا ہے اور قیامت کے روز اس شخص پر کسی طرح کا احسان نہیں جتایا جائے گا ۔ حضرت آیت الله مظاهری نے اپنی تقریر میں بیان کیا : اگر انسان دنیا کی مشکلات و دشواری کو برداشت کرے گا اور خداوند عالم کی بندگی سے دوری اختیار نہیں کرے گا تو خداوند عالم قیامت کے روز اس سر معذرت طلب کرے گا جو اجر کا سب سے عظیم درجہ ہے ۔

 رہبر انقلاب اسلامی کے خط کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یورپی جوانوں کے نام

فرانس میں اندھی دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر مجھے آپ جوانوں سے مخاطب ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ میرے لئے یہ بہت ہی افسوس کی  بات ہے کہ اس طرح کے واقعات آپ جوانوں کے ساتھ گفتگو کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دردناک واقعات باہمی مشاورت اور چارہ جوئی کا راستہ ہموار نہ کریں تو بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے انسان کا غم  بجائے خود بنی نوع انسان کے لئے رنج و اندوہ کا باعث ہے۔

ایسے مناظر کہ جن میں بچہ اپنے اعزاء و اقرباء کے سامنے موت کو گلے لگا رہا ہو، ماں کہ جس کی وجہ سے اس کے اہل خانہ کی خوشیاں غم میں تبدیل ہوجائیں، شوہر جو اپنی بیوی کے بے جان جسم کو تیزی کے ساتھ کسی سمت لے جا رہا ہو، یا وہ تماشائی کہ جسے یہ نہیں معلوم وہ چند لمحوں کے بعد خود اپنی زندگی کا آخری سین دیکھنے والا ہے،  یہ وہ  مناظر نہیں ہیں کہ جو انسان کے جذبات و احساسات کو نہ ابھارتے ہوں۔ ہر وہ شخص کہ جس میں محبت اور انسانیت پائي جاتی ہو۔ ان مناظر کو دیکھ کر متاثر  اور رنج و الم کا شکار ہوجاتا ہے۔ چاہے اس طرح کے واقعات فرانس میں رونما ہوئے ہوں، فلسطین یا عراق، لبنان اور شام میں۔ یقینا ڈیڑھ ارب مسلمان اسی احساس کے حامل ہیں اور وہ اس طرح کے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بے زار ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج کے رنج و الم ایک اچھے اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کا سبب نہ بنیں تو وہ  صرف تلخ اور بے ثمر یادوں کی صورت میں باقی رہ جائیں گے ۔ میرا اس بات پر ایمان  ہے کہ صرف آپ جوان ہی ہیں جو آج کی مشکلات سے سبق حاصل کر کے اس بات پر قادر ہو جائيں کہ مستقبل کی تعمیر کے لئے نئي راہیں تلاش کر سکیں اور ان غلط راستوں پر رکاوٹ بن جائیں کہ جو یورپ کو موجودہ مقام تک پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔

 بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔

حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔ اس طرح حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ انتہائی کمسنی کے عالم سے ہی رنج یتیمی سے آشنا اور مفہوم شہادت سے مانوس ہوگئے ۔ انھوں نے اپنا بچپن اور لڑکپن اپنی والدہ محترمہ ہاجرہ خاتون کے دامن شفقت میں گذارا ۔