Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 تحریر:محمد حسین شریفی  

کوئی بھی تحریک وفادار ، فداکار اور اس تحریک کے اغراض و مقاصد پر دل کی گہرائیوں سے ایمان رکھنے والے بہترین ساتھیوں کی مدد کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔

اگرچہ اصحاب امام حسین ؑ تعداد میں زیادہ نہیں تھے لیکن بہترین خصوصیات اور اخلاقی فضائل کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اصحاب امام حسین حفاظ قرآن، قاریان کتاب ، عارفان امام وقت ، وفادارن اہلبیت ؑ اور حامیان حق تھے ۔

 

ہم یہاں پر صرف اصحاب امام ؑ کی کچھ اہم خصوصیات کو مختصر طور پر بیان کریں گے:

۱۔ روح و جسم کی پاکیزگی :

اسلام میں جن خاص چیزوں کے بارے میں تاکید ہوئی ہے ان میں سے ایک جسم و روح کی طہارت اور پاکیزگی ہے ۔ یہ اخلاقی خصوصیات اصحاب امام حسینؑ میں بہت نمایاں تھی ۔ ماہ رجب کی زیارت میں ان سے مخاطب ہوتا ہے : " السلام علیکم یا طاہرین من الدنس " [i]، یعنی اے ہر قسم کے برائی اور نجاست سے دور ہستیاں ! تم پر ہمارا سلام ہو ۔

اسی طرح حضرت عباس ؑ کی زیارت میں آیا ہے : " صلوات اللہ علی روحک الطیبۃ" [ii]۔ اے علمدار حسین ؑ تمہاری پاکیزہ روح پر خدا کا درود و سلام ہو ۔

۲۔ وفاداری :

اصحاب امام حسینؑ کی سب سے بڑی خصوصیت جو تحریک کی کامیابی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے وہ ہے وفاداری ۔ اگر ساتھی وفادار نہیں ہیں تو تعداد میں چاہے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ہے ۔ کربلا والے وفاداری ، جانثاری اور شجاعت و ثابت قدمی میں اس درجے پر فائز تھے کہ خود امام حسین ؑ کو ان کی وفاداری کا اعلان کرنا پڑا ۔چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں : " انی لا اعلم اصحابا اوفی ولا خیرا من اصحابی" [iii] یعنی میں نے اپنے اصحاب سے زیادہ وفادار اور بہتر ساتھی نہیں دیکھے ۔ جب امام عالیمقام ؑ نے اپنی شہادت کی خبر سنائی تو ہر طرف سے گریہ و بکاء کی آواز بلند ہونے لگی اور جب یہ فرمایا کہ : تم لوگ جہاں جانا چاہو چلے جاؤ " تو لوگوں نے ہچکیوں سے رونا شروع کیا اور جب امام ؑ کی گفتگو اختتام کو پہنچی تو اصحاب نے آپؑ کی خدمت میں عرض کیا : خدا کی قسم ہم آپ ؑ کو چھوڑ کر ہرگز کہیں نہیں جاسکتے بلکہ اپنی جان ، مال اور اپنے اہل و عیال کو بھی آپ ؑ پر قربان کریں گے ۔ خدا نہ کرے ہمیں آپ ؑ کےبعد زندہ رہنا پڑے[iv]۔

۳۔ شجاعت اور استقامت :

   اصحاب امام حسینؑ کی ایک ممتاز خصوصیت جو سب سے نمایاں نظر آتی ہے ، وہ شجاعت اور استقامت تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ؑ کے اعوان و انصار نے راہ حق میں جس استقامت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دین پر قربان ہونے کے لئے جو جذبہ پیش کیا ہے وہ تا قیام قیامت بنی نوع انسان کے لئے روشنی کا پیغام دیتا رہے گا ۔

جناب بریر ہمدانی ، جن کے بارے میں جناب شیخ عباس قمی ؒ نے لکھا ہے : " وہ زہد و عبادت سے شغف رکھنے والے انسان تھے ، تلاوت قرآن سے انہیں دلچسپی تھی اور ایسے عمدہ انداز سے تلاوت کرتے تھے کہ انہیں سید قراء ( تمام قاریوں کے سردار ) کہا جاتا تھا ۔ کوفہ کے نہایت معزز لوگوں میں سے تھے اور خاندان ہمدانیوں سے تعلق رکھتے تھے [v]۔

شب عاشور اپنے ساتھیوں سے باتیں کرتے ہوئے اس قدر خوش اور مطمئن نظر آرہے تھے کہ کسی نے انہیں ٹوک دیا کہ ہم لوگ نرغہ اعداء میں گھرے ہوئے ہیں اور تم اس قدر مطمئن نظر آرہے ہو ؟  تو جناب بریر نے جواب دیا کہ اس سے بڑی  مسرّت اور کیا ہوگی کہ یہ رات ہم عبادت میں بسر کریں گے ، صبح ہوگی تو نصرت امام ؑ میں جان دےکر حوض کوثر پر حضرت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے [vi]۔

 

۴۔ عبادت اور بندگی :

اصحاب امام ؑ کی ایک  اور اہم خصوصیت، ان کی عبادت اور بندگی تھی۔جب عاشور کے دن وقت زوال ہوا تو ابو ثمامہ صیداوی نے امام عالیمقامؑ سے گزارش کی کہ:مولا!نماز کا اول وقت آچکا ہے اور ہم چاہتے ہیں زندگی کی آخری نماز آپؑ کی اقتداء میں پڑھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔ تو امام ؑ نے انہیں دعائے خیر دی اور فرمایا کہ:

  ان دشمنوں سے کہو کہ اتنی مہلت دے  دیں کہ نواسہ رسولﷺ نماز ادا کرسکیں،مگر ان ملعونوں نے بات نہ سنی تو امام عالیمقامؑ اپنے گنے چنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ظہر کے لئے کھڑے ہوئے۔آپ کے سامنے جان نثار ساتھی کھڑے ہوگئے (جناب زہیر بن قین اور جناب سعید بن عبداللہ)۔

امام ؑ نے نماز شروع کی اور دشمنوں کی طرف سے تیروں کی بارش ہونے لگی مگر حالت یہ تھی جناب زہیر بن قین اور جناب سعید آگے بڑھ بڑھ کر ان تیروں کو اپنے سینوں پر لیتے رہے۔جب بھی دیکھتے کہ کوئی تیر امام ؑ کی طرف آرہا ہے ، یہ حضرات تیزی سے آگے بڑھتے اور اپنے سینوں کو ڈھال بنا لیتے تا کہ کوئی تیر امام ؑ تک نہ پہنچنے پائے۔جب امام ؑ نے نماز تمام کی تو سعید اپنے سینے پر ۱۳ اور جناب زہیر ۱۹ تیر کھا چکے تھے۔ادھر امام ؑ کی نماز تمام ہوئی اور جناب سعید زمین پر گرے، امام ان کے سر ہانے پہنچے تو سعید نے عرض کیا:

  مولا!میری تمنا ہے کہ آپؑ اپنی زبان مبارک سے یہ فرمادیں کہ " میں تم سے راضی ہوں "۔ اسی طرح عبادت حبیب بن مظاہر کے بارے میں آیا ہے کہ آپ ایک عابد ، متقی و  پرہیزگار ، حدود الہی کی رعایت کرنے والے ، حافظ کل قرآن اور عابد شب زندہ دار تھے[vii]۔ امام حسین ؑ کے ایک قول کے مطابق حبیب ہر رات ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے[viii]۔آپ ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری رات بھی(شب عاشورا)اللہ کے حوالے کردی۔

 

۵۔امام زمانہ(عج)  کا  اسلام:

  اصحاب امام حسین ؑ کی خصوصیات  بے شمار ہیں ان سب کا احصاء نہیں کرسکتے ہیں لیکن آخر میں امام زمانہ (عج) کے زبان مبارک سے  صرف ایک خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔یہ وہ خصوصیت ہے کہ جسےیوسف زہراءؑ نے زیارت ناحیہ میں ان الفاظ کے ساتھ ان کو سلام بھیجا ہے "السلام علیکم یا خیر انصار"۔

یا لیتنا کنا معھم فنفوز فوزا عظیما۔

 



[i]۔ بحارالانوار ، ج۱۰۱ ، ص ۳۴۶

[ii]۔ وہی منبع ، ص ۳۳۰

[iii]۔ وہی منبع ، ج۴۴ ، ص ۳۹۲

[iv]۔ الارشاد، ج ۲، ص ۱۳۵

[v]۔ منتہی الاآمال ، ج ۲، ص ۳۸۹

[vi]۔ وہی منبع ، ص ۳۹۰

[vii]۔ ابصار العین فی انصارالحسین ، ص ۵۶

[viii]۔ اعیان الشیعہ ، ج4 ، ص ۵۵۴