Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

 

تحرير: محمد حسين شريفي

قال رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم: (الحسن و الحسین عليهما السلام امامان قاما او قعدا)۔

ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ کیا وجہ ہے کہ امام حسن ؑ مجتبی نے قیام نہیں فرمایا اور معاویہ کے ساتھ صلح کی, جبکہ امام حسین ؑ نے معاویہ کے بیٹے یزید کےخلاف قیام فرمایا اور جنگ کی ؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے ضروری ہےکہ پہلے ہم تین موضوعات  کا تحقیقی جائزہ لیں:              

١     ۔ امام حسن و امام حسین عليهما السلا م کے زمانے کے سیاسی حالات ۔ ۲ ۔ معاویہ  اور یزید میں روحی اور فکری لحاظ سے فرق۔

۳ ۔امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کے اصحاب کی خصوصیات ۔

 

 

امام عليه السلام خداکی حجت ہیں :

ان تین موضوعات کا تحقیقی جائزہ لینے سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ امام حسنؑ اور امام حسین ؑ دونوں خداکی حجت ہیں۔ جوبھی کام  انجام دیتے ہیں( اس کو خدا کے فرمان کے مطابق انجام دیتے ہیں )۔۔صلح وسکوت ہویا قیام وحرکت ، ہر ایک کیلئے کوئی مصلحت ہوتی ہے ۔امام عليه السلام اس مصلحت کو جانتے ہیں اور اسی کے مطابق قدم اٹھا تے ہیں۔ گرچہ اس کی علت اور فلسفہ دوسروں کے لئے روشن نہ ہو۔  جب "ابوسعیدعقیصا"نے امام حسن عليه السلام سے پوچھا: آپ نے معاویہ کے ساتھ کیوں صلح کی؟ جبکہ آپ جانتے تھے کہ حق آپ کے ساتھ ہے نہ کہ معاویہ کے ساتھ, وہ گمراہ اور باغی ہے.

آپ عليه السلام نِے فرمایا:اے ابوسعید!کیا ہم لوگوں پر حجت خدا نہیں ہیں؟ کیا میں اپنے والد بزرگوارعلی عليه السلام کے بعد لوگوں کا امام نہیں ہوں؟ کیا پیامبراکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے میرے اور میرے بھائی حسین عليه السلام کے بارے میں نہیں فرمایا: حسن عليه السلام اور حسین عليه السلام دونوں امام ہیں چاہے دونوں قیام اور جنگ کریں, چاہے صلح؟ میں نےکہا: کیوں نہیں ایسا ہی ہے۔ فرمایا: پس میں امام عليه السلام اور حجت خدا ہوں چاہے قیام کروں, چاہے صلح اور سکوت اختیار کرلوں.جب میں خداکی طرف سے امام ہوں تو میری رأئے و نظر میں خدشہ نہیں ڈالنا چاہئیے گرچہ اسکی حکمت اور فلسفہ عیاں نہ ہو.(2) اب ہم مختصر طور پرگذشتہ تین موضوعات کا تحقیقی جایزہ لیتے ہیں:

     امام حسن عليه السلام کے زمانے کےسیاسی حالات:

یہ سوچ کہ امام حسن عليه السلام خود جہادکی طرف مائل نہیں تھےاور زیادہ بہادر نہیں تھے, بلکل غلط ہے۔ جنگ جمل اورصفین کے واقعات آپ کی بہادری کے صرف ایک گوشے کو بیان کرتے ہیں. تاریخ گواہ ہے کہ امام حسن عليه السلام ایک انتہائی شجاع اور بہادرانسان تھے ۔ آپ کی زندگی میں خوف و ہراس نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی. آپ عليه السلام جنگ جمل میں اپنے والدگرامی کے ہمراہ صف اول میں اس انداز میں جہاد کیا کہ بڑے بڑے شجاع و بہادر افراد انگشت بدندان رہ گئے.

جنگ صفین میں آپ عليه السلام نے لوگوں کو میدان جنگ میں جانے کیلئے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور میدان جنگ میں آپ عليه السلام کے عزم و حوصلہ اور شجاعت و جوانمردی کو دیکھ کر مولائے کائنات عليه السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایاکہ امام حسن عليه السلام اور امام حسین عليه السلام کومزید آگےبڑھنے سےروکو, کہیں نسل پیغمبرصلى الله عليه وآله وسلم منقطع نہ ہوجائے.(3)

مذکورہ باتوں سے پتہ چلتاہے کہ امام حسن عليه السلام کو معاویہ کے ساتھ صلح کرنے پر مجبورکیاگیا  اسکی ایک علت امام حسن عليه السلام کے زمانے کے سیاسی تقاضے اور حالات تھے  امام حسن عليه السلام نےصلح قبول کرنے سے پہلے بہت سےخطبوں کے ذریعہ لوگوں کو جہاد کی ترغیب دلائی۔ اس کے باوجود اصحاب امام کی طرف سے "البقیہ, البقیہ" ہم باقی اور زندہ رہنا چاہتے ہیں کی آواز بلند ہوتی تھی, جب امام نےاپنے آپ کو اکیلے پائے تو معاویہ کے ساتھ صلح کرلی. (4)

 

 

 

امام حسین عليه السلام کےزمانے کی سیاسی حالات:

امام حسین عليه السلام کے زمانے میں سیاسی حالات بدل گئے تھے,جب امام حسین عليه السلام نے قیام کیا تواس وقت جنگ جمل,صفین اورنہروان سے فارغ ہوکر تقریباٍ 22 سال گذرگئےتھے, لوگ جنگ سے خوفزدہ نہیں تھے کیونکہ معاویہ کے ظلم وستم خصوصاً پاک اوربافضیلت انسانوں کے قتل عام,بیت المال کے لوٹ مارسے لوگ تنگ آچکےتھے اورجہاد کے جذبےان کے دلوں میں موجزن تھے.

جب معاویہ کی موت کی خبر کوفےکے لوگوں تک پہنچی توشیعوں نے "سلیمان بن صردخزاعی" کے گھرمیں جمع ہوکے امام حسین عليه السلام کے نام خط لکھا جس میں انہوں نے معاویہ کے ظلم وستم اور بیت المال کے لوٹ مارکو ذکر کرنے کے علاوہ امام عليه السلام کوکوفہ تشریف لانے کی دعوت دی تھی اور امام عليه السلام کی نصرت کرنے کا وعدہ بھی دیا تھا.(5) اس خط اور دوسرے متعدد خطوط سے جسے کوفہ والوں نےامام حسین عليه السلام کے نام لکھا تھا معلوم ہوتاہے کہ عصرصلح اورعصرقیام کے لوگوں کے روحی حالات میں کافی فرق آگیا تھا.

معاویہ اوریزید میں روحی اور فکری لحاظ سے فرق:

جب معاویہ اوریزید کی زندگی اور حکومت کی تاریخ کا مطالعه کیا جائے توروشن ہوجائےگا کہ دونوں اسلامی اصول وعقائد کے نہ صرف پابند نہیں تھے,بلکہ ان پربالکل اعتقاد نہیں رکھتےتھے اور صرف نفسانی خواہشات اور ہوا وہوس کی پیروی کرتےتھے۔ معاویہ اپنے دوست"مغیرہ بن شعبہ"سے کہتاہے:اگر اپنا نام تاریخ میں باقی رکھنا چاہتے ہوں توپیغمبرصلى الله عليه وآله وسلم کے نام کو دفنا دو اور ایسا کام کرو جس سے کوئی بھی پیغمبرصلى الله عليه وآله وسلم کا نام بھی  نہ لے. (6) وہ ایسا آدمی ہے جس نے "زیادبن ابیہ"اور"بسربن ارطاة"جیسے ظالموں کو معاشرے کے افرادپر مسلط کرکے"رُشیدہجری","حجربن عدی"اور "عمروبن حمق" جیسے شریف اور بافضیلت انسانوں کو شہید کرادیا.

 

معاویہ وہی شخص ہےجس نے امیرالمؤمنین عليه السلام پر سب وشتم کا رواج لوگوں میں پیداکیا اورلوگوں میں غلط اور نامشروع سنتوں کوایجاد کیا اورجنگ صفین کی آگ بھڑکا کے ایک لاکھ دس ہزارافرادکو قتل کرادیا.

معاویہ اوراس کے دھوکے:

جوکچھ اوپر ذکر ہوا وہ معاویہ کے رفتاروکردار اورافکارکا ایک نمونہ تھا اس کی شرح حال لکھنے کیلئے مفصل کتاب کی ضرورت ہے اورتاریخ میں اس کی شرح حال کو مختلف کتابوں کی شکل میں ہم پاتے ہیں. وہ ظواہر اسلام کی رعایت کرتاتھا, لبادہ اسلام کو اوڑھ کر اسلام کے ساتھ جنگ کرتاتھا یہاں تک کہ امام علیعليه السلام کے کچھ اصحاب بھی اس بارے میں شک میں پڑگئے. جنگ صفین کے واقعے میں امام عليه السلام کی لشکر میں تقریباً چار ہزار افراد امیر المؤمنین عليه السلام کے پاس آگئے اور کہنے لگےکہ ہم آپ عليه السلام کی فضیلتوں کا اعتراف کرتےہیں لیکن معاویہ کے ساتھ جنگ کرنے میں ہمیں شک و تردید ہے  لہذا ہمیں کسی ایسے بارڈر اور ایسی جگہ پر بھیجدیں جہاں کافروں کے ساتھ جنگ ہو.(7) معاویہ نہ صرف اس قسم کی ریاکاری میں کامیاب ہوگیابلکہ مختلف پروپیگنڈے اورتبلیغات کے ذریعہ امام علیعليه السلامو آپ کے آل کی دشمنی کا بیج لوگوں کے دلوں میں بونے میں کامیاب ہوا اوراصحاب امام علیعليه السلام کے دلوں میں شک وتردید ایجادکی.

جنگ صفین میں جب ہاشم ابن عتبہ لشکر امام علیعليه السلام سے میدان میں آئے تو لشکرمعاویہ سے ایک شخص اس کے مقابلہ کیلئے آیااور اس کے سامنے کھڑا ہوا تو امام علیعليه السلام کو برابھلاکہنے لگا. ہاشم نے کہا : اللہ سے ڈر۔ برابھلا مت کہو تواس دنیاسے جانے والاہے لیکن اپنی(بری)باتوں کا جواب دہ ہوگا. شامی آدمی نےکہا: میں کیسےبرابھلانہ کہوں اورتجھ پرلعنت نہ بھیج دوں حالانکہ میں نے سناہے کہ تمہارے رہبرامام علی عليه السلام نماز نہیں پڑھتاہےاورتم بھی نمازنہیں پڑھتے ہو! ہاشم نے کہا:جسطرح تونے سناہےوہ درست نہیں ہے, خدا کی قسم ہم میں سے کوئی بھی نمازکووقت پہ پڑھنے کی فضیلت کوہاتھ سے جانے نہیں دیتا. خداکی قسم ہمارا امام اوررہبروہ ہے جو تمام لوگوں سے زیادہ دین کو جانتے ہیں اورپیغمبر کے بعدپہلے شخص ہے جس نے نمازپڑھی ہے.

جو ان کے ساتھ ہیں وہ سب قاری قرآن ہیں اور حدود خدا کو جاننے والےہیں کیوں اس جماعت(معاویہ اور اس کے ساتھیوں)کے تبلیغات اورپروپیگنڈے نےتجھے گمراہ کیاہے؟

 

شامی آدمی ہاشم کی باتوں کو سن کر منقلب ہوا اور کہا : تو نے مجھے جہالت سے نکال دیا پھروہ معاویہ کے لشکر سے نکلا اور امام علی عليه السلامکے لشکر میں داخل ہو گیا۔ (۸)

یہ معاویہ کے دھوکوں میں سے ایک تھا جس کو نمونہ کے طور پہ ذکر کیا گیا ہے ۔ واضح تھا کہ امام حسن عليه السلام اس قسم کے دھوکہ باز انسانوں کے ساتھ جنگ کرتے تو اسکا نتیجہ صرف آپ کی شہادت کے علاوہ کچھ نہیں نکل سکتا تھا اور آپ کی شہادت بھی  اس وقت مثبت نتیجہ کی حامل نہ ہوتی کیوں کہ معاویہ اپنے دھوکہ بازی اور پروپیگنڈے کے ذریعہ آپ کے خون کو بے اثر بنا دیتا اور اسلام کیلئے اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔

 

معاویہ کے زمانے میں امام حسین عليه السلامکا کردار :

معاویہ کے ساتھ صلح کرنااور اس کے ساتھ جنگ نہ کرنا امام حسن عليه السلام کا وہی واحد راستہ تھا جس کو آپنے چن لیا اس کی دلیل یہ ہے کہ امام حسینعليه السلام نے اپنی دس سال کی امامت کی مدت میں بھی معاویہ کے ساتھ جنگ نہیں کی بلکہ اپنے بھائی امام حسنعليه السلام کے راستے کو انتخاب کیا اور صلح کو برقرار رکھا ۔ یزید کون ہے؟ یزید کے مفسد اور منحرف ہونے کاذکر شیعہ اور اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں  ہوا ہے ,اس کے اشعار میں یہ بات بالکل ظاہر  ہے  کہ وہ اسلام و دین پیغبرصلى الله عليه وآله وسلم کا معتقد نہیں تھا بلکہ بالکل انکار کرتا تھا ۔ معاویہ اور یزید میں کافی فرق تھا چون کہ معاویہ جیساکہ ذکرہوا ظاہری اسلام کی رعایت کرتا تھا ,لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ظاہراً  اپنے آپ کو اسلام کے لباس میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا تھالیکن یزید ظاہری اسلام کا بھی پابند نہیں تھا , وہ ایک عیاش ,گناہوں میں آلودہ ,اور شراب خوار انسان تھا وہ اپنی جوانی کے غرور میں آکر اسلامی احکام سے تجاوز کیا کرتا تھا اس کی فکر اور عقیدہ بالکل مسیحیت سے متاثر ہوکر اسلام کے مٹانے کےدر پے تھا ۔

وہ اپنے کاموں میں سرجون رومی جیسے مسیحی افراد سے مشورہ لیا کرتا تھا  اور اسی کے مشورے سے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنادیا(۹)۔ یزید کے بہت سے اشعار ہیں جن میں اس نے وہ  باتیں کی ہیں جن سے اس کا  کافر ہو نا اور عقائد  اسلامی کا پابند نہ ہونا بالکل روشن ہوجاتا ہے ہم  یہاں پر اس کا صرف ایک شعر نمونہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں ۔ جب امام حسین عليه السلام کے سر اقدس کو یزید کے سامنے رکھا گیا تو وہ گستاخی کرنے لگا اورچھڑی کو آنحضرت عليه السلام کے سر مبارک پر مارتے ہوئے کہنے لگا : "اےکاش!  آج میرے بزرگ جوجنگ بدر وغیرہ میں مارے گئے موجود ہوتے تو مجھے داد دیتے اور خوش ہوتے! میں نے کیا ان کے خون کا انتقام لیا ,اگر میں ایسا نہ کرتا تو بےشک عقبہ کی نسل میں شمار ہونے کے لائق نہ رہتا !در حقیقت بنی ہاشم نے ملک گیری  کی خواہش پوری کی ورنہ واقعہ  یہ ہے کہ نہ ان کے پاس کوئی فرشتہ آتا تھا اور نہ کبھی کوئی وحی نازل ہوئی تھی" (۹)

 

امام حسن اور امام حسین عليهما السلام کے اصحاب کے خصوصیات:

امام حسن عليه السلام کے اصحاب :

امام حسن عليه السلام کا  معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کے عوامل میں سے ایک,  امام کے دوستوں اور سپاہیوں کی بے وفائی اور سپہ سالار کی غداری ہے ۔ امام حسن عليه السلام جنگ کیلئے کوفہ سے نکلنے کے بعد بارہ ہزار کا ہراول دستہ آگے روانہ کردیا تھا جس کا سپہ سالار عبیداللہ ابن عباس کو معین کیا تھا اور اپنے دو دیگر ساتھیوں قیس ابن سعد اور سعید بن قیس کو انکا مشیر اور بالترتیب جانشین معین کیا تھا ۔ آپ نے حکم دیا تھا کہ جب معاویہ کے لشکرکا سامنا ہو تو اس کو مزید آگے بڑھنے سے روکیں اور مجھے حالات سے آگاہ کرتے رہیں تاکہ میں اپنے اصلی لشکر کے ساتھ تم سے ملحق ہو کر جنگ کا فیصلہ کر سکوں ,،لیکن عبید اللہ ابن عباس دس لاکھ درہم کے عوض آٹھ ہزارکا لشکر کے  ساتھ معاویہ سےجا ملا ! ظاہر ہےکہ اس غداری کی وجہ سے لشکر کے کتنے  حوصلے پست ہوگئے ہوں گے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ امام حسن عليه السلام نے اپنی صلح پر اعتراض کرنے والے ایک شخص کے جواب میں اس صلح کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے اس زمانے کے تلخ حقائق سے اس طرح پردہ اٹھا یا ہے , مجھے یہ حکومت اس لئے معاویہ کے حوالے کرنا پڑی کہ میرے پاس اس سے جنگ کرنے کیلئے افراد نہیں تھے ! اگر میرے اصحاب و انصار ہوتے تو میں اس  سے دن رات جنگ کرتا اور اسکا کام تمام کردیتا ۔

میں اہل کوفہ کوخوب پہچانتا ہوں اور میں نے ان کو باربار آزمایا ہے ,وہ فساد میں مبتلا ایسے افراد ہیں جنکی اصلاح ناممکن ہے ان کے اندر نہ وفادار ی ہے اور نہ اپنے وعدہ کے پابند ہیں یہاں تک کہ ان کے دو افراد بھی بالکل ایک دوسرے سے ہماہنگ نہیں ہیں بظاہر ہماری اطاعت کا اعلان کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ہمارے دشمنوں کا ساتھ دیتے ہیں (۱۱)

اسی طرح آپعليه السلام  فرماتے ہیں کہ : اگر میرے پاس ایسے اصحاب ہوتے جن کے ساتھ معاویہ کے ساتھ جنگ کی جا سکتی تو میں  ہرگز اس سے صلح نہ کرتا اس لئے کہ خلافت بنی امیہ پر حرام ہے ۔(۱۲) اب ایسے حالات میں امام حسن عليه السلامکے پاس صلح کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیوں کہ بے وفا اور غدار لشکر پر اعتماد کرکے ایک طاقتور لشکر کے ساتھ جنگ کرکے ایک مثبت اور فائدہ مند نتیجہ نہیں لیا جاسکتا تھا ۔

 

امام حسین عليه السلام کے اصحاب:

امام حسین عليه السلام کے اصحاب گرچہ تعداد میں بہت کم تھے لیکن ایمان ,استقامت اور وفاداری کے لحاظ  سے بے نظیر تھے۔ وہ اطاعت اولی الامر کر تے  ہوئے باطل قوتوں سے ٹکرا گئے ۔ اصحاب امام حسین عليه السلام حفاظ قرآن, قاریان کتاب ,عارفان امام وقت, وفاداران اہل بیت علیهم السلام اور حامیان حق تھے ۔ عاشور کی شب اپنے اصحاب کی وفاداری اور فضیلت کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے ان کیلئے دعائے خیر کرتے ہیں آپ نے حمد وثنائے الٰہی کے بعد فرمایا : اما بعد فانّی لا اعلم اصحاباْ اوفیٰ ولا خیرا ْ من اصحابی ,ولا اھل بیت ابرّ ولا اوصل من اهلبیتی, فجزاکم الله عنی خیراْ۔(۱۳) "میں نے اپنے اصحاب سے زیادہ وفادار اور کسی کو نہیں پایا اور اپنے اہل بیت سے بڑھ کر نیک اور مہربان بھی نہیں پایا ,خدا میری طرف سے ان کو جزائے خیر دے ۔"

اصحاب مظلوم کربلا میں کچھ اصحاب رسول صلى الله عليه وآله وسلمتھے جن کا بچپن یا جوانی خاتم الانبیاء صلى الله عليه وآله وسلمکی سرپرستی میں گذر ی تھی , سایۂ رسالت و تربیت نبوت کے اثر  سے انہوں نے اپنا تن من دہن قربان کردیا ۔ انہوں نے اما م عالی مقام کی نصرت کرکے عشق مصطفی صلى الله عليه وآله وسلمکا واضح ثبوت فراہم کیا ۔ حضرت حبیب ابن مظاہرکوفہ کے اسدی قبیلہ کے سردار تھے۔  انہیں امام حسین عليه السلام نے خط لکھ کر بلایا تھا جب قاصد حسین عليه السلام حبیب کے  گھر پہنچا تو حبیب نے اس سے کہا : ائے قاصد مجھے  پہلے وہ ہاتھ چومنے دے جو چند روز قبل فرزند زہرا سلام اللہ علیہا کے ہاتھوں میں تھا ,  اوروہ آنکھىں   چومنے دے ۔ جنھوں نے میرے امام وقت کو دیکھا ہے , وہ فوراًراہی کربلا ہوئے ۔

 

حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی بھی انھی کے قبیلہ سے تھے جنھوں نے شب عاشور ا خضاب لگایا تو حبیب نے پوچھا تھا آپ آج کی شب خضاب لگا رہے ہیں؟  تو فرمانے لگے کہ ہم میں اور جنت میں صرف ایک رات کا فاصلہ رہ گیا ہے امام حسینعليه السلام کے اصحاب میں اس قسم کے جذبے موجزن تھے اور موت کو آغوش سے لگانے والے تھے ۔ چنانچہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام حسن عليه السلام اور امام حسین عليه السلام نے جو بھی رویہ اختیار کیا اس کو دینی فریضہ کے تحت اختیار کیا,چونکہ دونوں کا مقصد حفظ دین تھا ,حفظ دین کبھی صلح وسکوت سے ہوتا ہے اور کبھی جنگ وقیام سے ۔

 

 .........................................................................................

 

حوالہ جات

 

      ١ ۔ مجلسی , محمد باقر ,بحارالانوار , جلد ۴۴ ,ص ۱

 

      ٢ ۔ مجلسی , محمد باقر ,بحارالانوار , جلد ۴۴ ,ص ۱ ۔۲

 

      ٣ ۔ صبحی صالح,نہج البلاغہ , کلام  ۲۰۷ /مہدی پیشوائی ,سیرۂ پیشوایان ,ص ۹۳

 

      ٤ ۔ جزری ,اسدا لغابہ , ج ۲ , ص ۱۴ / بحارالانوار , جلد ۴۴ ,ص 22

 

      ٥ ۔ مفید , ارشاد , ج 4 ص ۳۴

 

      ٦ ۔ مسعودی , مروج الذہب , ج ۳ص ۴۲۹

 

      ٧ ۔ نضر بن مزاحم ,  کتاب صفین ,ص۱۶۶

 

      ٨ ۔ ابن اعثم کوفی ,الفتوح ,ج ۳ص 196

 

      ٩ ۔ ابن اثیر ,الکامل فی التاریخ ,ج ۳ص ۲۶۸

 

      10- خوازمی, تذکرة الخواص, ص261؛ البدء والتاریخ, ج6, ص12.