Thursday, 13 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 1

کل 10

اس هفته 30

اس ماه 128

ٹوٹل 21969

تحریر عید علی عابدی

مقدمہ:

((بَقِيَّةُاللّهِ خَيْرٌلَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ))

       یعنی اگر آپ حقیقی مؤمن ہیں تو خدا کی طرف سے رکھا ہوا ذخیرہ آپ لوگوں کے لئے بہتر ہے  ،کے بہترین مصداق یعنی امام مہدی موعود (عج) کے وجود مبارک  اور آپ ؑ کی غیبت کے بارے جتنا شک کیا گیا ہے اتنا شاید کسی اور امام ؑ یا حتی کسی پیامبر یا رسول کے بارے میں نہیں کیا گیا ہو!حالانکہ اس قسم کی غیبت گذشتہ امتوں میں کئی انبیاء اور رسولوں  کے بارے قرآن کریم کی بہت سی آیات میں ملتی ہے ، ان سب کے علاوہ رسول اکرم ﷺ  اور ائمہ ؑ نے بھی آخری امام   ( عج) کے بارے بلکہ تمام تر  رونما ہونے والے واقعات و حوادث  اور نشانیاں حتی آپ (عج) کے خدو خال وغیرہ تک بیان کئے ہیں، اگر میں یوں کہوں کہ  پیغمبر اکرم ﷺ کے ظہور کے وقت  آپ کی پہچان کے لئے جتنی خصوصیات اور علامات پہلے آسمانی کتابوں میں بیان ہوئی ہیں اسی طرح آپ (عج ) کے لئے بھی اگر زیادہ نہیں ہے تو کم بھی نہیں ۔ تعجب کیوں نہ ہو ،ان تمام کے باوجود ہر قدم  قدم  پر شک ڈالنےکی کوشش کی گئی ہے ۔جب سے مسلمانوں کے درمیان وہابیت کافتنہ کھڑا کیا گیا ہے ، اس وقت سے  آج  تک شک و شباات ڈالنے والوں میں سب سے زیادہ یہی لوگ کھل کر سامنے آگئے ہیں اور مہدی (عج) شناسی کے موضوع پر مختلف مضامین اور عناوین سے ، وسیع پیمانے پر شایع کررہے ہیں جیسے امام زمانہ (عج) ہونے کے جھوٹے مدعی افراد کی حمایت ، امام مہدی (عج) کے بارے کتابوں ، سٹیلائٹس ، سایٹوں و۔۔۔ میں توہین آمیز مواد کا نشر ۔ اس کے علاوہ وہابی مفتیوں کا امام زمانہ (عج) کے بارے توہین آمیز فتاوا ، نواب اربعہ اور ان کےما  ننے والوں کی توہین و طعنہ ،  ظہور کے قطعی نشانیوں سے مزاق و۔۔۔کے ذریعے شیعوں کے اذہان میں شک و شبہات ڈالنے کی لاحاصل کوششیں یعنی درواقع ثقافتی یلغار،جس کے نتیجے میں علناً شیعوں کا قتل عام جاری ہے ۔اب ان سب کو ایک بہت ہی مختصر اس جیسے مقالہ میں جمع کرکے ان سب  کا جواب دینا غیر ممکن ہے لھذا اس شمارہ کے علاوہ اگلے شماروں میں بھی سلسلہ وار  اس بحث و گفتگو کو بہ ترتیب قلم بند کرنے کی کوشش کرینگے  انشاءاللہ۔

 

 

 اب امام مہدی موعود (عج) کے بارے  میں جو اس شمارہ سے مربوط چند شکوک و شبہات جن کا جواب دینا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ اصل وجود امام مہدی (عج)  کا انکار ؛

2۔ اگر ظہور مہدی کا عقیدہ صحیح ہے تو اہلسنت کی بعض معتبر کتابوں میں اس کاذکر کیوں نہیں ہے ؟ ؛

3۔ امام مہدی (عج) کی ابھی ولادت نہیں ہوئی ہے!؛

4۔ آپ (عج ) امام حسن مجتبی ؑ کی نسل سے ہیں  ؛ 

5۔ امام زمانہ  (عج) سرداب ( تہہ خانہ ) سے غائب ہوئے ہیں اور وہیں سے ظہور کرینگے ، اسی لئے شیعہ اس کے دروازے پر ہمیشہ صبح و شام انتظار میں رہتے ہیں.

 

 شبہہ ۱ ۔ اصل وجود امام مہدی (عج) کا انکار:

ابن خلدون ، امام مہدی (عج) پر عقیدہ کو شیعوں کا اپنا بنایا ہوا مانتا ہے ۔ اس لئے اسلامی منابع میں جہاں کہیں بھی امام مہدی (عج) کے بارے واقعیت کی بات کی گئی ہے یا اس کا انکار کیا ہے  یا اس کو مبہم رکھاہے اور شیعہ احادیث کو ان کے فاسد  مذہب  نام دے کر امام مہدی کے موضوع ( عقیدہ ) کو جعلی قرار دیتے   ہوئے رد کرتا ہے  ۔

 ابن خلدون ایک جگہ مولاؑ کے بارے میں احادیث کے انکار سے متعلق  لکھتا ہے : یہ وہ احادیث ہیں کہ جنہیں محدثین نے آپ (عج) کے آخری زمانے میں ظہور کے بارے میں نقل کیا ہے لیکن  یہ سب ( احادیث) قابل نتقید ہیں سوائے بہت ہی کم ( ۴ ) حدیث کے  ۔

 

جواب : مولا (عج)کے اصل وجود کے بارے جو قابل غیر انکار مسئلہ ہے ، سوائے ابن خلدون اور متعصب تکفیری گروہ کے علاوہ اہلسنت کے بہت سے علماء نے اس مسئلے میں نہ شبہہ  کرنے کی جرات پیدا کی ہے اور نہ  ہی اس کا انکار کیا ہے بلکہ وہی شیعہ کاعقیدہ رکھتے ہیں ۔ان میں سے چند موارد کو بطور نمونہ پیش کرتے ہیں :

۱۔  شیخ منصور علی ناصف (صحاح ستہ کے مصنفین کا ہمعصر) کہتا ہے : امام مہدی (عج) کے بارے میں احادیث کو پیامبر ﷺ کے بزرگ صحابہ نے نقل کیا ہے کہ جن کو بڑے محدثین  جسےی ابو داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، طبرانی ، ابو یعلی بزاز ، امام احمد بن حنبل ، حاکم نیشابوری نے اپنے کتابوں میں ذکر کیا ہے ۔ اور جن لوگوں نے امام مہدی (عج) کی ان تمام احادیث کوکمزور قرار دیا ہے ان میں سے ابن خلدون وغیرہ ہے ، جس نے غلط راستہ اختیار کیا ہے  ۔

2  ۔ ابن تیمیہ جو وہابیوں کا بانی ہے ، جب صحاح ستہ میں امام مہدی (عج) کے بارے میں بہت سی موجود روایات  اس کو  ملتی ہیں تو واضح الفاظ میں یوں کہتا ہے :((یہ وہ احادیث ہیں کہ جن کے ذریعے قیام حضرت امام مہدیؑ  پر دلیل لائی جاسکتی ہے ، یہ احادیث صحیح ہیں کہ جنہیں  ابوداؤد ، ترمذی اور احمد حنبل نے نقل کیا ہے)) ۔

 

۳۔ جناب بن باز کو سعودی عرب کا مفتی اعظم کہا جاتا ہے ؛ اس نے بھی امام مددی ؑکی روایات کو متواترقرار دیتے ہوئے کہتا ہے :(( امام مدہی (عج)کے بارے احادیث متواتر ہیں جن کے تواتر پر بہت سے علماء نے تصریح کی ہے ۔ کہا ہےکہ مہدی موعودؑ کا عقیدہ ایک حقیقت  ہے اور آپ کا قیام یقینی ہے۔۔۔)) ۔

۴۔ ناصرالدین البانی کہ جسے اپنے زمانے کے بخاری سے یاد کرتے ہیں ، امام مہدیؑ کے عقیدے کے بارے میں کہتا ہے :((حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کا عقیدہ ، پیغمبر اکرم ﷺ کی روایات سے ثابت ہے اور متواتر بھی ۔حضرت امام مہدیؑ کا عقیدہ ان غیبی امور میں سے شمار ہوتا ہے کہ جس کے اوپر ایمان رکھنا متقین کی صفات  میں سے قرار دیا گیا ہے جیسا کہ خداوند متعال فرماتا ہے :((الم،ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَرَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ، الَّذِين َيُؤْمِنُونَ   ِبالْغَيْبِ)) اورحضرت امام مہدیؑ کو سوائے نادان اورجاہل یا عناد رکھنےوالوں کےکوئی انکار نہیں کرسکتاہے )) ۔

 

اس بناء پر ابن خلدون کا امام مہدی (عج)کے وجود یا آپ (عج) کی ولادت کا انکار کرنا جھل اور عناد کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اس کے علاوہ  بہت سے افراد نے اس نظریہ کو شدت کے ساتھ باطل قرار دیا ہے اور مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں ، جن میں سے صرف دو مصنفین کا نام لیتے ہیں :

۱۔ احمد بن محمد الصدیق کہ جس نے اپنی کتاب ابرار الوہم المکنون من کلام ابن خلدون میں اس نظریہ کو باطل قرار دیا ہے ۔

۲۔ الطیب بن احمد بن ابی الحسن الحسینی نے اپنی کتاب  الازاعۃ لما کان وما یکون بین یدی الساعۃ میں ۔

 

اہلسنت کے دانشمند احمد محمد شاکری مصری  اور شیخ محسن عباد  جو مدینہ یونیورسٹی کے استاد  ہیں ، ابن خلدون کے اس عقیدے کے جواب میں اس طرح لکھتے ہیں :(( ۔۔۔ لیکن ابن خلدون جس چیز کے بارے علم نہیں رکھتا تھا ( رجالی بحث میں کسی راوی کو کمزور قرار دینا یا صحیح قرار دینا  ) ، اس کو پس پشت ڈال دیا ہے ؛ کیونکہ حکومتی اور سیاسی کاموں میں مصروف رہنے اور بادشاؤں اور حاکموں کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے وہ واقعیت سے دور ہوگیا ہے ؛ اس لئے خیال کیا ہے کہ مہدی (عج) کا موضوع شیعہ کا اپنا جعل کردہ ہے ۔

 

شبہہ ۲۔ اگر ظہور امام مہدی (عج)  کا عقیدہ صحیح ہے تو اہلسنت کی بعض معتبر کتابوں میں اس کاذکر کیوں نہیں ہے؟

شبہہ کرنے والے (خصوصا وہابی)کہتے ہیں :اگر امام مہدی(عج)کے ظہور کے بارے احادیث صحیح ہے تو کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ذکر کیوں نہیں ہے ؟

 اس شبہہ کو بہت سے افراد نے ذکر  کیا ہے منجملہ  احمد امین نے کتاب المہدی والمدجویۃ میں ، ابو زہرہ نے کتاب امام صادق کے ص ۳۲۸ میں ، محمد فرید وجدی نے بیسوی صدی کے دائرۃ المعارف ( عربی ) ، ج۱۰ ، ص ۴۸۱ میں  اور احمد محمود صبحی نے کتاب نظریۃ الامامۃ کے ص ۴۰۳ میں ۔

جواب : اس شبہہ کاہمارے بہت سے محققین نے تفصیلی  اچھے انداز میں جواب دیا ہے مگر ہم یہاں بہت ہی مختصر بیان کرتے ہیں :

پہلی بات : کیا بخاری اور مسلم نے تمام صحیح روایات کو ذکر کیا ہے ؟  بالفرض اگر کوئی صحیح روایت ان دو کتابوں میں ذکر نہیں ہوئی ہو تو کیا وہ روایت حجیت کی اعتبار سے گرجائے گی ؟ جناب بخاری نے جیسا کہ  اہلسنت کہتے ہیں ، مکرر روایات کو حذف کرکے کل 2761 روایت بیان کیا ہے جبکہ خود بخاری کا ادعا یہ تھا کہ مجھے ایک لاکھ حدیث صحیح حفظ ہیں  ۔

 

اس کے علاوہ اہلسنت کے ایک دانشمند بنام ڈاکٹر عبدالباقی کا اس جملہ کو یہاں ذکر کرتے ہیں جو اپنی کتاب (( بین یدی الساعۃ ))  میں کہتا ہے :   یعنی کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنے دین کو ان دو کتابوں ( صحیح بخاری و مسلم ) کے ساتھ اپنے کو پابند کردے ۔ اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو کیا  اسلاختم ہوجاتا اور کیا ہمارے دینی مسائل متوقف ہوجاتے ؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے ۔

 

دوسری بات:ہم کہتے ہیں امام مہدی (عج) کے بارے میں ان دونوں کتابوں میں روایت موجود ہے ( لفظ مہدی(عج)تو نہیں لیکن آپ (عج)کی  صفت بیان ہوئی ہے جیسا کہ بعد میں ذکر کریں گے )لیکن چونکہ یہ دونوں ( بخاری متوفای 256  و مسلم متوفای 261 )عباسی خلفاء کے ٹھیک اس سخت دور میں رہتے  تھے کہ عباسی حکومت ، بالکل اپنی پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ ، امام مہدی (عج) کے پیچھے لگی ہوئی تھی یہاں تک کہ امام علی ہادی (ع) کو اپنے گھر میں ہی قید کردیا تھا تاکہ اس بہانے سے امام مہدی (عج) کی ولادت کو روکا جاسکے ۔ امام حسن عسکری ؑ کے شاادت کے بعد آپ ؑ کا گھر مکمل گھیرے میں رکھاہوا تھا اس وجہ سے یہاں تک کہ امام مہدی (عج) کی مادر گرامی کو بھی قید کیا ہوا تھا چونکہ ان کے خیال میں ۸ یا ۹ ماہ بعد امام مہدی (عج) پیدا ہونگے ، اس بناء پر گھر اور سرداب ( تہہ خانہ ) کو لحظہ بہ لحظہ ، قدم بہ قدم  تفتیش اور ڈیوٹی دے رہے تھے ۔ مگر کیااس خطرناک حساس موقع پر جناب بخاری اور مسلم کو جرئت تھی کہ وہ امام مہدی (عج) کے بارے احادیث کا اپنے کتابوں میں نقل کرسکیں ؟ !  لیکن پھر بھی اس کے باوجود امام مہدی (عج) کے بارے میں گرچہ صریح الفاظ پر مشتمل نہیں ہے بلکہ کچھ صفات کے ساتھ بخاری اور مسلم میں وہ روایات موجود ہیں ۔ بخاری  ایک جگہ لکھتا ہے : ((أَنَّ أَبَاهُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ كَيفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ))  یعنی اس وقت آپ لوگوں کا کیا حال ہوگا جب عیسی بن مریم آسمان سے اتریں گے جبکہ آپ کا امام ، آپ مسلمانوں میں سے ہوگا ( یعنی حضرت عیسی ؑ  آپ کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے )۔

 

اب یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اس حدیث میں جملہ (وَ إِمَامُكُمْ‏ مِنْكُم‏ هُوَ الْمَهْدِي ) سے مراد امام مہدی (عج) کے  ہونے پر ، صحیح بخاری اور مسلم کے تمام شارحین ( تشریح کرنے والوں ) اتفاق نظر رکھتے ہیں ۔ جن میں سے دو نمونوں کی طرف اشارہ کر دیتا ہوں :

۱۔ جناب قسطلانی ، ارشاد الساری کی جلد ۵ ، ص ۴۱۹ میں لکھتا ہے : (وَ إِمَامُكُمْ‏ مِنْكُم‏ هُوَ الْمَهْدِي ) ۔

2۔ جناب عینی کتاب عمدۃ القاری کی جلد ۱۶ ، ص ۴۰ میں لکھتا ہے : ((وَ إِمَامُكُمْ‏ مِنْكُم‏)) سے مراد حضرت امام مہدی(عج)ہے ۔

جناب عبدالمحسن العماد ، رسالۃ الثقلین ، عدد 3 ، سال ہفتم کے رسالہ  میں لکھتا ہے :((فھذہ الحدیثان الواردان فی الصحیحین و ان لم یکن فیھا التصریح بلفظ المہدی تدل علی صفات رجل صالح یؤم المسلمین )) یعنی یہ دو روایت ( جس میں سے ایک کا اوپر ذکر کیا) جو صحیح بخاری اور مسلم میں آئی ہے ، اگرچہ اس میں صراحتا لفظ مہدی نہیں ہے مگر یہ روایت ایک مرد صالح پر دلالت کرتی ہے جو مسلمانوں کا پیشوا ہوگا ۔

بالکل یہی روایات  ، شیعوں کے ان روایات کی مطابقت اور تصدیق کرتی ہیں کہ جو شخص حضرت عیسی (ع)کے امام ہونگے وہ حضرت امام مہدی (عج) کے سوا کوئی اور نہیں ۔

 

ابن تیمیہ جو وہابیوں کا اصلی مؤسس کہلایا جاتا ہے ، یہ بھی جب صحاح ستہ میں بہت ساری روایات کے روبرو ہوتا ہے یہاں تک  کہ صحیح بخاری اور مسلم میں ، حضرت امام مہدی (عج) کے بارے واضح کہتا ہے : یعنی یہ وہ احادیث ہیں کہ جن کے ذریعے قیام حضرت مہدی (عج) پر استدلال کیا جاسکتا ہے ، یہ احادیث صحیح ہیں کہ جنہیں ابوداؤد ، ترمذی اور احمد نے نقل کیا ہے  ۔

 

اس کے علاوہ بہت سے اہلسنت علماء حتی منصف وہابی دانشمندوں اور مفکرین لوگوں کے کلمات اور بیانات اتنے زیادہ ہیں کہ شمار نہیں کرسکتے۔

 خلاصہ یہ ہے کہ امام زمانہ (عج) کا عقیدہ تمام اسلامی مذہب کے درمیان متفق علیہ ہے اور اس موضوع پر احادیث متواتر ہے کہ جنہیں شیعہ ، اہلسنت اور حتی وہابی علماء نے بھی  اپنے کتابوں میں نقل کیا ہے۔

شبہہ 3۔ امام مہدی (عج) کی ولادت ابھی نہیں ہوئی ہے!

 

وہابی اس عقیدہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ شخص جس کے بارے پیغمبر ﷺنے خبر دی ہے وہ دنیا میں ابھی  آیا نہیں ہے!، آخری زمانے میں آئے گا ۔ چونکہ طبری جو تاریخ اسلام کا مشہور مؤرخ ہے اس نے لکھا ہے کہ امام حسن عسکریؑ  کا کوئی فرزند نہیں تھا ۔

      وہابی دانشمندوں میں سے جیسے احسان ظہیر الہی ( پاکستانی ) ، محی الدین خطی ، عبدالجبار تیونسی ( افریقی ) ، محمد مال اللہ بحرینی ، ڈاکٹر ناصر غفاری  ( مدینہ یونیورسٹی کا استاد) ، ڈاکٹر رشاد    ( ریاض کے محمد بن صعود ی یونیورسٹی کے استاد ) ان سب نے اتفاق رائے کے ساتھ صراحت سے بیان کیا ہے کہ : ((  ان الحسن العسکری لیس له عقب من ذکر او انثی )) یعنی امام حسن عسکریؑ کے نہ کوئی بیٹا تھانہ بیٹی۔

دوسری طرف اپنے عقیدے کو ابن خلدون کی کتاب سے پیش کرتے ہیں چونکہ  ابن خلدون نے کہا ہے کہ امام مہدی (عج) کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ملتی ہے  لذا معلوم ہوتا ہے ابھی وہ دنیا میں آیا نہیں ہے!! ۔

 

جواب : پہلی بات ۔امام مہدی(عج) کی ولادت با سعادت کے بارے میں تمام شیعہ اور اہلسنت کے بعض علماء کا قطعی عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے جس شخص ( امام مہدی عج ) کے بارے میں  آخری زمانے میں ظہور کا خبر دی ہے اس کی ولادت ہوئی ہے ، وہ اس وقت زندہ اور موجود ہیں ، وہ حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کی اولاد اور امام حسینؑ کی نسل سے ہیں  ، آپ (عج) کی مادر گرامی کا نام نرگس یا نرجس خاتون اور والد گرامی کا نام امام حسن عسکری بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابیطالب ؑ ہے ۔

دوسری بات ۔ ابن خلدون کا ۲۳ احادیث کو  ضعیف قرار دے کر انکار کرنے سے ، نہ امام مہدی (عج) کا موضوع ختم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت میں کمی آجائے گی  کیونکہ امام مہدی(عج)کے موضوع پر اتنی زیادہ احادیث موجود ہیں جیسا کہ ہم نے اہلسنت کے بہت سے کتابوں کا حوالہ ذکر کر دیا جن میں متواتر ہونے کا اعتراف کیاہے ۔

 

تیسری بات ۔جس عقیدے کی نسبت جناب نوبختی کی طرف دی گئی ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے اس لئے کہ نوبختی نے اپنی کتاب فرق الشیعہ میں تمام فرقوں کے جو اقوال نقل کئےہیں  ان میں سے غیر شیعی کسی قول کو اس کی طرف نسبت دی گئی ہے  حالانکہ اس نے اپنا شیعی عقیدہ بھی بیان کیا ہے  ۔ اہلسنت کے بھی بہت سے ( ۴۰ سے زیادہ ) فرقیں ہیں ، اگر ہم آجائیں اور اہلسنت کے بعض فرقوں کے کسی کمزورقول کو اہلسنت کی طرف نسبت دیں تو کیا یہ صحیح ہے ؟  بہت سے ایسے فتوے ایک دوسرے مذاہب کے خلاف موجود ہیں ، ان میں سے ایک نمونہ  پیش کرتے ہیں :

 

خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے پاس امام مہدی (عج) کی ولادت پر شیعہ اور اہلسنت کی کتابوں میں بہت زیادہ نقلی دلائل موجود ہیں ۔ ان سب سے ہٹ کر اپنی بات کی وضاحت کے لئے پیغمبر ﷺ کی وہ معروف و مشہور حدیث جس کے  متواتر ہونے میں کسی کو شک نہیں ہے بیان کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں : ((مَنْ‏ مَاتَ‏ وَ لَمْ‏ يَعْرِفْ‏ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ))( یعنی جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت  حاصل کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے) اس کے ذیل میں ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر امام مہدی (عج) جو زمانے کے آخری امام(عج) ہیں ، اس وقت زندہ اور موجود نہ ہوں تو پیغمبر ﷺ کی اس حدیث کے مطابق  جو آپ (عج)کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ ابھی تک دنیا میں آئے  نہیں ہیں تو ماننا پڑے گا کہ آپ (عج) کے آنے تک کے جو لوگ مریں گے  وہ سب کے سب جاہلیت کی موت مرچکے ہونگے  ؛ کیونکہ بقول آپ کے ابھی کوئی امام نہیں ہے تاکہ اس کی معرفت حاصل کی جائے ! اس لئے ہر زمانے میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے اس بات کو نہ ماننا رسول اللہﷺکے حدیث مبارک کے انکار کے مترادف ہے۔

 

شبہہ 4۔امام مہدی (عج)  امام حسن مجتبی ؑ کی نسل سے ہیں  !

 اہلسنت کے بعض علماء ( جیسےترمذی ) نے کہا ہے کہ امام مہدی (عج)  امام حسن مجتبیؑ  کی نسل سے ہیں! ۔

ابن حجر اس کی علت اور راز کے بارے اس طرح کہتا ہے : امام حسن مجتبی ؑ چونکہ اپنے جد امجد ﷺکی امت پر بہت مرنبان تھے  اس لئے خلافت معاویہ کے ساتھ صلح کرکے حوالہ کردیا ؛ اس لئے خدا نے امام مہدی(عج) کو امام حسن مجتبی ؑکی اولاد سے قرار دیا ہے ۔ اور وہ روایات جو امام حسین ؑ کی نسل سے قرار دیتی ہیں وہ صحیح نہیں ہے ، کیونکہ  کوئی بھی صحیح روایت  اس پر دلالت نہیں کرتی ہے ۔

 

جواب : پہلی بات۔ اس قول کو بہت سی روایات کے ذریعے رد کیا گیاہے اور یہ ثابت ہے کہ امام مہدی (عج) امام حسین ؑ کی نسل سے ہیں ۔

الف )۔ امام حسین ؑ کی نسل سے قرار دینے والی روایات قطعی اور متواتر ہیں جبکہ امام حسنؑ کی نسل سے قرار دینے والی روایات  بہت کم ہیں جو  بنی امیہ اور بنی عباس کے دور حکومت میں اپنے  سیاسی مقاصد کے لئے ( لوگوں کو گمراہ  کرنے کی خاطر ) بنائی گئی ہیں ۔

ب) ۔ نظام امامت کے سلسلہ  میں  جو روایات بیان ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت باپ کے صلب سے ہے یعنی والدکی طرف سےیہ امامت کاسلسلہ چلے گا نہ کہ ماں کی طرف سے ۔ اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مخالفین نے کیوں امامت کے سلسلے کو ماں    ( امام باقر ؑ سے آگے امامت کو  ماں) کی طرف موڑ دیا ہے !جبکہ صراحت کے ساتھ متواتر روایات کا ہم نے  ذکر کیا ۔

ج) ۔ ان متواتر روایات کے مطابق  جب امام زمانہ (عج) امام حسین ؑ کی نسل سے ہیں تو یہ بات واضح ہے کہ سلسلہ امامت میں امام حسین ؑ تیسرے امام ہیں ، لامحالہ امامت بھی اس سے آگے چلے گی نہ کہ پیچھے ہٹ کر دوسرے امام حسن ؑ سے ۔

د)۔ امام رضا ؑ نے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے  : خدا نے ارادہ کیا کہ امام حسین ؑ کی نسل سے ہوں  اور جو چیز خدا کے ارادے سے انجام پائے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جاسکتا )) ۔ ایک اور روایت میں  امام صادق ؑ نے کسی سوال کرنے والے کے جواب میں امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کو حضرت موسی ؑ اور حضرت ہارون ؑ سے تشبیہ دی ہے ۔  ۔ ان روایات سے معلوم ہوا  کہ یہ مصلحت خداوندی ہے ۔ جو اس مصلحت کے سامنے اپنا سر تسلیم خم نہ کرے  تو  اُس کا وہی حشر ہوگا  جو شیطان کا ہُوا تھا ۔

 

شبہہ 5۔ امام زمان (عج) کا سرداب  سے غائب ہونے کاعقیدہ:

اس شبہہ  کا خلاصہ یہ ہے : 1۔ حضرت امام مہدی (عج) سرداب سے غائب ہوئے ہیں اور وہیں موجود ہیں ، 2۔ اسی لئے شیعہ  اپنے امام زمان (عج) کا سرداب سے ظہور کے منتظر رہتے ہیں اور اپنے ساتھ ایک خچر یا گھوڑے کو بھی سجاکرتیار رکھا ہوا ہے  ۔ ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں :  و قد یقیمون هناک دابة ۔ اما بغلة و اما فرسا و اماغیر ذلک ۔ لیرکبها اذا خرج )) یعنی شیعہ سرداب کے دروازے پر ہمیشہ ایک خچر یا گھوڑا وغیرہ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تاکہ جب سرداب سے نکلیں تو اس پر سوار ہوں ۔ یہاں احسان الہی ظہیر کی یہ بات بھی قابل غور ہے وہ لکھتا ہے : بعض شیعہ نماز نہیں پڑھتے ہیں؛ کیونکہ ان کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں جب نماز میں مشغول ہو تو امام زمانہ (عج) ظہور کریں گے اور یہ لوگ چند منٹ دیر سے آپ کی خدمت میں پہنچے گے  ۔

ابن خلدون  ایک جگہ لکھتا ہے : شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مہدی حلہ کے سرداب سے غائب ہوا ہے  ۔

 

 

جواب : پہلی بات  یہ ہے کہ  سرداب ( تہہ خانہ ) شیعوں کے لئے مقدس ہے ؛ کیونکہ یہاں امام ہادی اور امام حسن عسکری  اور امام زمان (علیہم السلام ) نے زندگی گزاری ہے اور اس جگہ عبادت انجام دی ہے  اس لئے یہ ان کے نزدیک  ایک پاک و مقدس جگہ ہے ۔

دوسری بات  ۔ امام مہدی (عج) کا وہاں سے غائب ہونایہ بالکل درست ہے  لیکن کسی شیعہ عالم حتی کسی جاہل نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ وہ اب تک اسی جگہ موجود ہیں  اور وہیں سے ظہور کریں گے اور نہ ہی اس قسم کے مقصد کے خاطر نہ کوئی خچر اور نہ کوئی گھوڑا سرداب کے باہر تیار رکھا ہوا ہے  اور نہ ہی نماز ظہر و عصر  اور نہ ہی مغرب و عشاء اس نیت سے ایک ہی ساتھ قضاء ہونے کے نزدیک پڑھتے ہیں ! ۔

تیسری بات  ۔ امام  مہدی ( عج)  کے موضوع پر شیعہ علماء نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں مگر کسی ایک شیعہ عالم نے اپنی کتاب میں اس مطلب کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ امام  مہدی ( عج)  کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں سے ایک کتاب معجم احادیث المہدی ہے کہ جس کی ج۱ ، ص ۳۶۴ پر پچاس سے زیادہ شیعہ سنی علماء کا ذکر موجود ہے ، سب کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مہدی (عج) کے ظہور کا مقام نہ سرداب ہے ، نہ سامرا ہے اور نہ ہی کربلاء ہے بلکہ کعبۃ اللہ ہے جو رکن و مقام کے درمیان سے بیعت کے بعد اپنے ظہور کا اعلان فرمائیں گے ۔

 

اس  بات کی تصدیق جناب احمد بن حنبل کی مسند ، ج ۶ ص ۳۱۶ اور ابن داؤد کی سنن ، ج ۴ ، ص ۱۰۷ اور ابن شیبہ کی کتاب المصنف ، ج ۱۵ ، ص ۴۵ میں وہ احادیث ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ حضرت امام مہدی(عج) کا ظہور کعبۃ اللہ کے پاس رکن و مقام کے درمیان سے ہے ۔

 

نتیجہ : امام مہدی(عج) کا عقیدہ صرف شیعوں سے مخصوص نہیں بلکہ اسلامی ہے اور تمام مذاہب اسلامی کے نزدیک متفق علیہ ہے کہ جس کے وجود کے بارے ، ولادت کے بارے ، ظہور کے بارے ، حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی اولاد سے امام حسین ؑ کی نسل سے ہونے کے بارے ، پیغمبر اسلام ﷺ اور اہلبیت ٍؑ کی متواتر روایات کو  صحابہ کرام اور علماء اسلام اور مصنفین و محققین نے اپنے کتابوں میں ذکر کیا ہے اور یہاں تک کہ وہابیوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے ۔

 

انہی روایات کی روشنی میں یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ امام مہدی (عج) کی ولادت سامراء سنہ ۲۵۵ ھ میں واقع ہوئی ۔ آپ (عج) نہ ہی سامراء کے سرداب اور نہ ہی کسی خاص مسکن میں   بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ  اس وقت لوگوں کے درمیان  اپنے رب حکیم  کے اذن ظہور  تک زندگی گزاررہے ہیں  کہ جو ایک خاص مقصد  کے لئے خدائے منان نے ظالموں جابروں اور طاغوتوں سے بچاکر اتنی طولانی عمر دے رکھی ہے اور تمام انبیاءؑ ، اولیاء ، مستضعفین اور مظلومین جہان کی امیدیں آپ (عج ) سے وابستہ ہیں۔ جب اذن ظہور ملے گا تو نہ ہی سامراء سے ، نہ ہی کربلاء سے بلکہ کعبۃ اللہ  کے رکن و مقام کے درمیان سے اپنے ظہور کا اعلان فرمائیں گے  انشاء اللہ

...................................................................................

منابع :

1  ۔ سورہ ھود /86۔

2 ۔ ذہنیت مستشرقین و اصالت مھدویت ، حسین منظر ، ص ۵۸ ۔ ۶۶ ۔

3 ۔ مقدمہ ابن خلدون ، ص ۳۲۲۔

4 ۔ شیخ منصور علی ناصف ، التاج لجامع الاصول ، ج ۵ ، ص ۳۴۱

5 ۔  منامج السنۃ النبویۃ ، ج۴ ، ص ۲۱۱۔

6 ۔ مجلۃ الجامعۃ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورۃ ، العدد ۳ ، السنۃ الولی 1388 ، فی ذیل محاضرۃ عبدالمحسن العباد۔

7 ۔ مجلۃ التمدن الاسلمی الدمشقیۃ ، العدد ۲۷ و ۲۸ ، سال ۲۲ ، ص ۶۴۲  ۔

8 ۔ احمد محمد شاکری مصری ، حاشیہ مسند احمد بن حنبل ، ج ۵ ، ص ۱۹۷ ؛ شیخ محسن عباد ، الجامعۃ الاسلامیۃ المدینۃ ،ش 46 ۔

9 ۔ مقدمہ فتح الباری ، ص ۴۸۸ ؛ فیض القدیر ، مناوی ، ص ۳۱ ؛ تاریخ بغداد ، ج۲ ، ص ۲۵ ؛ تاریخ دمشق ، ج ۵۲ ، ص ۶۴ ؛ تذکرۃ الحفاظ ذہبی ، ج۲ ، ص ۵۵۶ ؛ کشف الظنون ، ج۱ ، ص ۵۹۷ ؛ تاریخ الاسلام ذہبی ، ج ۱۹ ، ص ۲۴۵ ۔

10 ۔ عبدالباقی ، بین یدی الساعۃ ، ص ۱۲۳۔

11 ۔ صحیح بخاری ، ج ۴ ، ص ۲۵ ، حدیث نمبر 3449

12 ۔ منھاج السنۃ النبویۃ ، ج ۴ ، ص ۲۱۱۔

13 ۔ابن خلدون نے کل ۲۳ احادیث کو امام مہدی (عج) کے بارے جمع آوری کیا ہے ان میں سے ۱۹ کو ضعیف قرار دے کر کہتا ہے ان کی سند معتبر نہیں ہے لذا حجیت نہیں رکھتے ہیں ، ان میں سے  باقی  ۴ حدیث کے بارے خاموشی اختیار کیا ہے اور کوئی بات نہیں کی ہے ۔

14 ۔ صواعق محرقہ ، ابن حجر ہیثمی ، ص 208 ، چاپ دوم قاہرہ 1358ھ ۔

15 ۔ صدوق ، کمال الدین و تمام النعمۃ ، ج ۲ ، ص ۲۸۲ ، باب 24 اور ص ۳28 ، باب 30 میں 38 احادیث سے زیادہ بیان کیا ہے ۔  

16 ۔185 روایات امام زمانہ (عج) کو امام حسین ؑ کی نسل سے قرار دیتی ہیں ۔ ان کے علاوہ  ۱۴۸ روایات دلالت کرتی ہیں کہ امام زمانہ (عج) امام حسین ؑ کے نویں فرزند ہیں ۔(رجوع کیجئے :  ابرہیم امینی نے اپنی کتاب دادگستر  جھان ، ص ۸۷ ؛ شیخ صدوق ، کمال الدین و تمام النعمۃ ، ج ۲ ، ص ۲۸۲ ، باب ۲۴ ، اور ص 328 ، باب 30 ؛ حافظ محمد گنجی شافعی ، البیان فی اخبار صاحب الزمان ، طبع مؤسسہ اعلمی ، مطبوعات بیروت ۱۹۷۷م ؛ شیخ الاسلام ابراہیم بن محمد جوینی شافعی ، فرائد السمطین ، ج۲ ، باب ۳۵ ، مؤسسہ طبع و نشر بیروت ، طبع اول ۱۹۷۸م ؛ علاء الدین متقی ھندی ، کنزالعمال ، مؤسسہ الرسالہ ، بیروت 1979م  ؛ علی بن محمد مالکی ۃ(ابن صباغ سے مشہور) الفصول المہمۃ .

17 ۔ شیخ حائری یزدی ، الزام الناصب ، ج۱ ، ص ۴۷

18 ۔ شیخ صدوق ، کمال الدین و تمام النعمۃ ، ص ۴۱۶۔

19 ۔  منہاج السنۃ ، ج ۱ ، ص ۴۴۔

20 ۔  فرق معاصرہ ، ج ۱ ، ص ۲۰۸۔

21 ۔ مقدمہ ابن خلدون ، ص ۱۹۹۔