Monday, 22 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 10

کل 11

اس هفته 10

اس ماه 235

ٹوٹل 21531

خدارا چٹخلوں اور من گھڑت روایتوں اور غیر ضروری باتوں میں الجھا کر میرے مولا علی (ع) کی طبعی و بشری و فطری اور آفاقی انسیت اور انسانی مانوسیت کی حقیقت کو مسخ نہ کیا جائے۔نہیں اب مجھے میری روحانی و جسمانی و مادی ضرورت اور رہنمائی کرنے والے مولا علی (ع) کی تلاش ہے، مجھے عین فطرت اسلام کا عین فطرت علی (ع) چاہیے، کہ جس کے بارے میں کہا گیا کہ علی (ع) وہ ہیں کہ جس نے لوگوں کو راستہ دیکھایا اور جب دین راستے سے ہٹا تو اسے راہ راست پر لائے، مجھے ایسا علی (ع) چاہئے، مجھے مولا علی (ع) چاہئے۔

ولادت سے شہادت تک ایسے مبین وجود اور ہدایت کے حقیقی مینار کو ابہامات و توہمات کا لباس پہنا کر کسی گمنام علی کو ہمارے ذہنوں میں غیر مرئی مخلوق کے طور پر کیوں راسخ کیا جا رہا ہے؟


ٓآج جب بچے مولود کعبہ کا نام سنتے ہیں اپنے ننھے ذہن میں اپنے مولا علی (ع) کو تلاش کرتے ہیں تو بچے کو بچپنا علی (ع) تو کیا جوانی و بزرگی علی (ع) کی تصویر بھی نہیں ملتی، ہاں بس نام علی آتے ہی اس کے ذہن میں ایک دیو ہیکل یا دیو مالائی مخلوق کی تصویر بن جاتی ہے، جو کئی گز کی لمبی تلوار حمائل کیے اکثر جنگجو کے جیسا لباس پہنے کبھی مرحب و انتر سے لڑتے ہوئے نظر آتا ہے تو کبھی چٹانیں اٹھا اٹھا کر پھینکتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، تو کبھی غاروں پہاڑوں خندقوں کو پھلانگنے والا اور کبھی اتنا طاقت ور کہ منوں وزنی دروازے کو ایسا پھیکنے والا کہ وہ آج تک خلا میں لٹکا ہوا ہے۔

بچپنا بھی ایسا کہ کسی کا بازو اسلام کے نام پر توڑا، کسی کو اٹھا کر زمیں پے پٹخ دیا، مگر ہمارے بچہ کو علی (ع) کا وہ بچپنا کہیں نہیں ملتا جو اسکی انگلی پکڑ کر مزاج طفلانہ میں طبیعت دوستانہ میں اسکی رہنمائی کرے، اسکا یاور و مدد گار بنے۔ بس دیوہیکل ملتا ہے، امام ھادی کا بچپنا نہیں ملتا۔ بچہ جب پڑھتا یا سنتا ہے کہ مولا علی (ع) بچپنے سے ہی اسلام پر تھے یا سات یا نو سال کے بعد عملی دعوت اسلام کو اپنے نبی پاک (ص) ہاتھوں قبول کیا تو حیران ہو جاتا ہے کہ ایسے موقع پر جب اسلام کا آغاز تھا، نبی (ص) کے بعد کوئی عملی مسلم تھا تو علی (ع) جیسا بچہ تھا، جبکہ اس وقت تو اسلام کو بڑے افراد کی ضرورت تھی تو اسلام کو ایک بچہ کی کیا ضرورت؟ محو حیرت ہمارے بچے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاید مولا علی (ع) سرشت انسانی و طبیعت بشری سے کوئی الگ تھلگ مخلوق تھے، ورنہ ایک بچہ کو ہمارے معاشرے میں تو خصوصاً کسی ہدف و بڑے مقصد کے آغاز میں تو کیا عام حالات میں بھی ذمہ داری نہیں دی جاتی۔

مگر کون بتائے ہمارے بچوں کو کہ مولا علی (ع) کوئی فطرت انسانی سے مکمل جدا ہرگز نہ تھے، بلکہ قدرتی عطاء خاص و تربیت نبی (ص) ایسی تھی کہ جو علی (ع) عوامی نظر میں نابالغ بچہ تھا وہ اسلام کی نظر میں فکری بلوغت کے حد کمال تک پہنچا ہوا تھا اور یہ کوئی غیر طبعی بات نہیں تھی بلکہ میرے بچوں کیلئے بچپنا علی کی رہنمائی کی ایک مثال تھی۔ اب یہ تلاش تو جوانوں، بزرگوں اور ماوں، بہنوں کی فکری دنیا میں گردش کرنے لگ گئی ہے، جواں علی کی طبعی جوانی کی تلاش میں ہے، وہ جادوئی طاقت یا معجزاتی قدرت خاص عطاء سے ہٹ کر اپنے مولا (ع) کی بشری جوانی سے شجاعت، علم، حلم، زہد، تقویٰٰ اور علمی محاکمے و مباحثے کا طور طریقہ اور ذاتی و آفاقی تحقیقات کی تہذیب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں، وہ معجزاتی شجاعت سے لاتعلق ہو کر اپنی طبعیت کی شجاعت کی تلاش میں ہیں، جیسے بدلہ کی طاقت رکھتے ہوئے کسی کو معاف کر دینا جیسی شجاعت کا مظاہرہ یا جسمانی شجاعت میں زیادتی نہ کرنا اور اپنی مادی جنگ کی بجائے مادیت کو خدا کیلیے وقف کرکے قربانی دینا، صبر کا عملی مظاہرہ جوانی کے جذبات کو دبا کر کرنا۔

آزادی کے مقابلہ میں ایک ہی غلامی وہ عبودیت پروردگار ہے قبول کرنا۔ جوان مولا علی کی میراث علمی کی تلاش میں جس تک اسکی پہنچ ہو، نہ کہ غیر فطری مایوسی نے اسکے اور مولا کے درمیاں ڈیرہ ڈالا ہوا ہو، جبکہ اسی طرح بزرگوں کو انکے حکیم الامت امام کی بزرگی کی کڑی آج کہیں دور ٹوٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ اب تو جو جس ذہنیت سے تلاش میں نکلا، اسے اسکا مولا علی (ع) ما بعد طبعیات کی فلسفیانہ سطروں میں تو ملا، مگر طبعی و فطرتی علی (ع) اور ہماری تفکرات کی بیچ میں ایک غیر مرئی علی (ع) حد فاصل بن جاتا ہے۔ اکثر یہ جملہ سنا جاتا ہے کہ (ان علی ابن ابی طالب لایقاس بہ احدا) کہ علی کا کسی کے ساتھ موازنہ نہ کرایا جائے۔ ہاں یہ بات بھی درست ہے مگر اس بات سے علی (ع) اپنی طبعی و بشری حیثیت اور ذمہ داری سے نکل نہیں جاتے۔

آج ایک سادہ لو کو بھی اپنی رہنمائی کیلیے سادگی علی (ع) کی تلاش ہے، اگر کوئی فقیر ہے تو وہ بھی امام الفقراء کی تلاش میں سرگراداں ہے، اگر کوئی امیر تو وہ بھی امیری علی کی نجات دہندہ امیری کی تلاش میں ہے۔ زاہد، متقی، عابد امام المتقین کی تلاش میں ہے، عالم علمی پیاس بجھانے اور ناخواندہ اپنے ھادی سے درس ہدایت کی تلاش میں ہے۔ حقوق انسانی سے لیکر حقوق غیر بشری تک یا گھریلو حقوق سے لیکر عالمی طبقاتی و غیر طبقاتی حقوق تک سب فطری طور پر ایک ایسے ہی فطری رہنماء علی (ع) کی تلاش میں ہیں۔ سیاسی اپنی سیاست، دیندار اپنے دینی مسائل میں، تاجر تجارت کے معاملات میں، محقق تحقیق کے مراحل میں عالم علم کے مراحل میں اور خادم اپنی خدماتی ذمہ داریوں کو سمجھنے کیلئے اپنی جبلت و سرشت اور فطرت سلیم جیسے کامل ترین مادہ انسیت والے رہنماء کی تلاش میں ہیں۔

خود سیاست حقیقی بھی سیاست علویہ کی تلاش میں ہے، جب کسی نے کہا اے مولا (ع) اگر نبی (ص) کا کوئی بالغ بیٹا ہوتا اسوقت تو کیا عرب والے جو آپ (ع) سے حکومت کا حق چھین کر تخت نشین ہیں، اس کے ہاتھ میں حکومت دے دیتے۔ فرمایا خدا کی قسم اگر نبی (ص) کا بیٹا بھی وہ طرز عمل اور حکمت و پالیسی نا اپناتا جو میں نے اپنائی ہے اور کسی اور انداز میں عرب کے سامنے آتا تو عرب اسی وقت قتل کر دیتے۔ مطلب یہ کہ نبی ہو یا نبی زادہ یا امام ہمیشہ طبعی معاملات سرانجام دیتے ہیں، وہ کامل بادشاہ ہوتے ہوئے بھی ناقصین کی دنیا میں فخر و مباحات اور لالچ و طمع سے دور رہ کر بشری مزاج کی رہنمائی کرتے ہیں، جب خلافت اپنے وقت زوال بقاء کی بھیک مانگتے ہوئے در علی (ع) پر آئی تو عوامی جذبات سے متاثر نہ ہوئے اور ہاتھ بدستور خلافت کی لجام کی طرف نہ بڑھنے دیا، مگر جب عوامی رجحان نے حجت تمام کر دی تو ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے قبول کر لیا اور ساتھ ہی بادشاہی نطام کا جنازہ اس جملے سے نکال دیا کہ خدا کی قسم تخت و تاج کی قیمت علی (ع) کے پھٹے ہوئے جوتے کے تسمے کے برابر بھی نہیں۔

ایسا فطری رویہ درکار ہے، ہم ایسے عین فطرت علی (ع) کی تلاش میں ہیں، مری طبیعت جہاں کعبہ کے اندر کی داستاں سنتی ہے، وہاں علی (ع) کے اندر کی آفاقیت میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے مگر نہیں آج میرا مولا علی (ع) مجھ سے کہیں دور اور بہت دور دکھائی دینے لگا ہے، علی (ع) کی علویت کے بہانے علی (ع) کی بشری حقیقت کہ جس سے انسانیت مانوس ہے، اسکو آواز کی طرح ہوا کی لہروں میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اے واعظ، اے خطیب، اے شاعر، اے قصیدہ گو، میرے مولا (ع) کو ہم سے دور مت کریں، کبھی ماوراء طبیعت بنا دیتا ہے کوئی، تو کبھی کوئی قصہ ہائے پارینہ۔ ولادت و ظہور کی کشمکش سے لیکر عبادت و روح کی متضاد جنگ میں دھکیل کر مولا (ع) اور ہمارے درمیان فرسخوں میل کے فاصلے پیدا کئے جا رہے ہیں، لوگوں کی عقل و منطق کے تضاد سے میرے مولا (ع) کی اصلی تصویر دھندلی کی جا رہی ہے۔

عناد داخلی و خارجی کا یہ عالم کہ اپنی ناقص محبت میں رہنماء بشریت کی تصویر پہ جہالت و نادانی کی مصوری کے اتنے رنگ چڑہائے کہ اصل تصویر اپنی پاک و پاکیزہ حالت کھوئے جا رہی ہے اور غیروں نے ایسا نظر انداز کیا کہ علی (ع) کی الہیٰ و عطائی وراثت کی نااہل کے حق میں بندر بانٹ کر ڈالی۔ میں ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہوں، مگر مجھ میں بسا میرا مولا علی (ع) میرے طبعی مزاج سے لاتعلق دکھائی دیتا ہے۔ بس اپنوں میں میرے مولا غیر مرئی مددگار اور دشمن کی طرف سے غیر منصوص من اللہ نظر آتے ہیں۔ اب کشمکش کا یہ عالم کہ میری سرشت اور فطرت اب ان دیدہ و نادیدہ حملوں کی زد میں ہے اور میری ذہنیت کی دیواریں لگاتار نادیدہ حملوں کا شکار ہو جائیں، جب دفاع کیلیے میرے پاس غیر فطری اور تخیلاتی علی (ع) کے مقابلہ میں فطرت سلیم کا حامل بشری اقدار کا مالک علی(ع) نہیں ہوگا تو میں نہ چاہتے ہوئے مان لوں گا۔

جیسے کسی نے مذاق میں جھوٹ بولا کہ وہاں خیرات بٹ رہی ہے، لوگ ہجوم در ہجوم چل دیئے چند لحظات کے بعد جس نے جھوٹ بولا وہ بھی برتن لئے اسی جانب چل نکلا، تو ساتھ والے نے پوچھا کہ تجھے تو پتہ ہے کہ جھوٹ ہے پھر تم کیوں؟ وہ آگے سے بولا کہ عوام کا لگاتار اس طرف جانا میرے دل میں یقین پیدا کر گیا ہے کہ واقعی خیرات بانٹی جا رہی ہے۔ خدارا چٹخلوں اور من گھڑت روایتوں اور غیر ضروری باتوں میں الجھا کر میرے مولا علی (ع) کی طبعی و بشری و فطری اور آفاقی انسیت اور انسانی مانوسیت کی حقیقت کو مسخ نہ کیا جائے۔ نہیں اب مجھے میری روحانی و جسمانی و مادی ضرورت اور رہنمائی کرنے والے مولا علی (ع) کی تلاش ہے، مجھے عین فطرت اسلام کا عین فطرت علی (ع) چاہیے، کہ جس کے بارے میں کہا گیا کہ علی (ع) وہ ہیں کہ جس نے لوگوں کو راستہ دیکھایا اور جب دین راستے سے ہٹا تو اسے راہ راست پر لائے، مجھے ایسا علی (ع) چاہئے، مجھے مولا علی (ع) چاہئے۔