Sunday, 19 May 2019

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 8

کل 12

اس هفته 83

اس ماه 228

ٹوٹل 26830

  • تمهید

اسوه ، ماڈل ، آئیڈیل ، نمونه اور اس کے  مشابه دوسرے ایسے الفاظ هیں جو اکثر و بیشتر زبانوں میں عام وخاص کے لبوں پر جاری هوتے هیں ،کیونکہ نمونه  قبول کرنا انسانی طبیعت کا  خاصہ ہے ۔ لیکن سبھی ان  الفاظ کو ایک خاص معنی اور معیار میں استعمال نہیں کرتے ہیں۔ کوئی اپنا آئیڈیل ایک معروف کھلاڑی یا فنکار کو قرار دیتا ہے اور اپنے حلیئے اور حرکات و سکنات کو  انہیں  پر منطبق کرنےکی کوشش میں رہتا ہے۔  بعض نمونہ جانچنے کے میدان میں پہلے گروہ سے سبقت لیتے ہوۓ، کسی معروف اور بلند پایہ سیاستدان،  قانونداں،  عالم دین  یا سماجی شخصیت  کو اپنے لۓ نمونہ زندگی قرار دیتے ہیں اور اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کی عادتیں  اور طور طریقے انہیں نمونوں کے تحت ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں مذکورہ نمونے یا انہیں کی طرح دوسرے آئیڈیل جو آج بالخصوص  غیر دینی ماحول میں عام طور  پرنسل نو اپناتی ہے کچھ کم نہیں ہیں۔

 

 البتہ مذکورہ نمونہ کوئی کامل اور ہمہ گیرنمونے نہیں ہیں، حتی ان کے فینڈز بھی ایسی کوئی نظر نہیں رکھتے بلکہ وہ ان کو ایک خاص رخ سے اپنے لئے آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ کوئی کسی کھلاڑی کو پسند کرتا ہے  اور اس کو اپنا  نمونہ قرار دیتا ہے تو یہ اس کے کھیل سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہے، نہ  یہ کہ  اس کی ذاتی شخصیت اور کردار سے متاثر ہونےکی وجہ سے ہو۔اسی طرح اگر کوئی کسی فنکار یا سیاستداں کو اپنا آئیڈل بناتا ہے تو یہ فنکار کی فنکاری اور سیاستداں کی  سیاسی سوجھ بوجھ اور ان کی سیاسی پالیسیوں کی بدولت ہے اور کبھی وہ  ان کو اپنی  پوری زندگی کے لئے  اپنا کامل نمونہ قرار نہیں دیتا ہے تبھی تو وہ  بسا اوقات  اپنے آئیڈیل کی کسی  خاص حرکت کو  تنقید کا نشانہ قرار دیتے ہوۓ بھی نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر بے درنگ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ آئیڈیل یا انہیں کے مشابہ اور ماڈلز، کسی فرد کے لئے ان کی زندگی کی تمام جہتوں  میں نمونہ  اور اسوہ قرار نہیں پاسکتے ، لہذا    آدمی کو چاہئے کہ ایک ایسے نمونے کی تلاش جاری رکھے جو اس کی زندگی کی تمام جہتوں کے لئے نمونہ  قرار پائے۔ تاریخ پرنظر دوڑائی جائے تو حضرت عباسؑ کی ذات عالی مقام کو معاشرے کے لئے  موزوں اور مناسب نمونہ کے طور ٍپر پیش کیا جا سکتا ہے ۔آپؑ کی ذات  میں ہر اعتبار سے  ایک مناسب نمونہ بننے کی پوری لیاقت موجود ہے۔ذیل میں ان کی کچھ خصوصیات کی طرف اشارہ  کرتے ہیں کہ آپؑ ان خصوصیات میں ہمارے  لئے بہترین نمونہ کہلا سکتے ہیں۔

  •  
  • خدا پر پختہ ایمان :
  •  تمام فضائل  اور کرامتوں کی بنیاد خدا  پر پخته ایمان رکھنا هے۔  امام سجاد ؑ فرماتے هیں:  «وبلغ بِایمَانِی اَکمَل الایمان واجعل یقینی افضل الیقین»  (اور میرے  ایمان کو کاملترین ایمان کو پهنچا اور میرے  یقین کو بهترین یقین قرار دے۔) ہرفعل اور عمل کی قدر و قیمت کا اندازہ ایمان، یقین اور نیت خالص پر مبنی ہے۔ حضرت عباسؑ ایمان کامل، یقین محکم اور نیت پاک و خالص کے مظہر ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو چوں کہ انہوں نے ایک ایسے باپ کی زیرسایہ تربیت پائی ہے ،جن کا کہنا تھا:   «لَوْ كُشِفَ الْغِطَاءُ مَا ازْدَدْتُ ُ يَقِينَاً» (اگر حقیقت کے چہرے سے پردہ ہٹایا جائےمیں اپنی یقین میں ذرہ برابر بھی اضافہ نہیں پاؤنگا۔ ) علوی تربیت گاہ میں حضرت عباسؑ ایمان اور یقین کے اس مرتبے پر پہنچے کہ نمونہ توحید و تقوی بنے ،تبھی تو اپنے امام ؑکی نصرت میں اپنی جان کو فدا کیا ۔ امام صادق ؑ نے  آ پؑ کی توصیف میں فرمایا : « «كان عمّنا العبّاس نافذ البصيرة، صلب الايمان‏ » ( ہمارے چچا عباس بصیرت نافذ  اور ایمان محکم کے مالک تھے۔) خدا پر محکم ایمان کا نتیجہ تھا کہ آپ نےامامت  ۔ جو اکمال دین اور اتمام نعمت ہے  ۔ کے تحفظ اور نصرت کے لئے اپنی جان کی بازی لگائی، جبکہ یہ وہ وقت تھا  کہ لوگوں کی قاطع اکثریت نے نہ فقط امام حسینؑ کی حمایت اور نصرت نہ کی  بلکہ حکام جور کی حمایت کو چل دیئے۔اس کٹھن مرحلے میں حضرت عباسؑ نے  ایمان کامل اور یقین محکم  کے بلند ترین درجات پر فائض ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے  اکمال دین اور اتمام نعمت  کی حمایت میں وہ کارنامہ انجام دیا  کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایسے دوراہیے پر قرار پانے والوں کے لئے نمونہ عمل بنے۔
  •  
  • عصر حاضر میں جب کچھ لوگ اپنے رہبر اور ولی امرمسلمین کی تابعداری میں پیچھے رہ جاتے ہیں  یہ ان کی ایمان میں کمزوری کی بدولت ہے۔ انہیں چاہئے اس سلسلے میں حضرت عباس کو اپنا نمونہ عمل قرار دے کر ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔ حدیث میں آیا ہے: « لو ان عبداً صام و صلی و زکی و لم یاتی بالولایة ما قبل الله له عملا ًابداً »  امام صادقؑ  فرماتے ہیں:اگر کوئی بندہ روزہ، نماز، اور زکات کو بجا لائے لیکن وہ اہل ولایت نہ ہو تو خداوند ہرگز اس کے کسی بھی عمل کو قبول نہیں کرتا۔ آج جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا آئیڈیل شخصیت حضرت عباسؑ ہے  انہیں چاہئے کہ بابصیرت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے امام زمان (عج) کے حقیقی نائب اور ولی فقیہ زمان کی اطاعت اور پیروی کے لئے کمربستہ ہوں، کیونکہ ولی فقیہ کا مطیع ایسا ہی شخص ہوسکتا ہے ، جس کا خدا اور اس کے رسول پر پختہ ایمان ہو۔
  •  
  • حضرت عباسؑ باب ولایت:
  • حضرت عباسؑ  ولایت امر کی پیروی میں عظیم مقام پر فائز تھے۔  تبھی تو   آپ باب ولایت کے لقب سے موسوم ہوئے، جس طرح آپ کےبابا علی مرتضی ؑ حدیث نبوی :(أَ نَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا) کے مضمون کی رو سے باب نبوت قرار پائے۔ اگر کوئی شہر نبوت محمدی اور اس کے محکم قلعہ میں داخل ہونا چاہتا ہے  تو اس کو پہلے باب قبولی ولایت علی ابن ابی طالب ؑسے داخل ہونا پڑے گا۔غرض یہ کہ جس طرح ولایت حضرت علی(ع) کو قبول کئے بغیر شہر نبوت میں داخلہ ممکن نہیں  اسی طرح محبت حضرت عباس(ع) کے بغیر شہر علی اور آل علی میں بھی داخل نہیں ہوا جاسکتا ہے۔ مذکورہ مطالب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آئمہ اطہارؑ سے محبت رکھنے کے باب میں بھی حضرت عباسؑ  نمونہ عمل ہیں۔  ایسا کیوں نہ ہو آپ نے ولایت کی اطاعت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ تبھی تو جب حضرت عباس کی ولادت ہوئی  تو امیرمومنین نے اشک بار آنکھوں سے ان کے دونوں ہاتھوں کا بھوسہ لیا اور فرمایا : میں دیکھ رہا ہوں میرا یہ بیٹا نہر علقمہ کے کنارے اپنے بھائی حسین کی حمایت میں اپنے دونوں بازو کٹوائے گا۔ 
  •  
  • امامت اور ولایت کی اطاعت
  • مؤمن کی خصوصیتوں میں سے ایک اہم خاصیت اپنے زمانے کے امام، رہبر اور دینی قائد کی اطاعت اور پیروی کرنا ہے۔ اس اطاعت کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے ایک عملی نمونہ کو سامنے رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔اس سلسلے میں حضرت عباسؑ کی شخصیت کو آئڈل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے تین اماموں کے ساتھ زندگی گزاری، یوں آپ کی زندگی مختلف نشیب و فراز سے گزری۔کبھی اپنے بابا علیؑ کی معیت میں بہادری کے جوہر دکھائے اور کبھی امام حسن مجتبیؑ کی اطاعت میں تلوار کھیچنے  کی اقتضاء کے باوجود اس کو نیام میں رکھا۔ جب کربلا کا میدان سجا تو امام حسینؑ کی حمایت میں اپنے دونوں ہاتھوں کو کٹواکر نہر علقمہ پر شہادت کا جام نوش فرمایا۔ اطاعت و پیروی کا عملی نمونہ آپ کی ذات مقدس میں موجزن ہے۔آپؑ کی ذات سے ہی اطاعت و پیروی کا صحیح مفہوم  ملتا ہے۔معاشرے میں موجود افراد پر دقت کی جائے تو ایسے شواہد بکثرت پائے جاتے ہیں جن کے پاوں دینی فرائض  کی انجام دہی میں اپنے دینی رہبروں کی اطاعت میں ڈگمگا جاتے ہیں۔تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ لوگوں نے اپنے امام اور رہبر کی پیروی کے بجائے ان پر اپنے تصمیمات تھونپنے کی کوشش کی۔ جنگ صفین میں حکمین کا مسئلہ  اور صلح امام حسنؑ میں لوگوں کے کردار کو اس سلسلے میں بیان کئے جاسکتے ہیں۔
  •  
  • اطاعت اور پیروی کا معنی یہ ہے اپنے دینی قائدین کے ہمرا ہ حرکت کریں ، نہ ان سے آگے بڑھیں اور نہ ہی ان سے پیچھے رہ جائیں۔جس طرح افراط صحیح نہیں ہے اسی طرح تفریط بھی مذموم ہے۔   آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کچھ لوگ صرف ان کی رای مقبول واقع نہ ہونے کی وجہ سے دینی قیادت سے کنارہ  کشی کرتے ہیں، دوسری طرف بعض  رہبر دینی سے آگے بڑھ جاتے ہیں ان کے سخنان کو مصلحت اندیشی سے پرو کر از خود اقدام کرنے لگ جاتے ہیں ۔ حقیقت میں یہ دونوں گروہ اسلام کے پیکر پر ضرب لگاتے ہیں۔ اگر کسی کے آگے حضرت ابوالفضلؑ جیسا نمونہ ہو تو وہ کسی بھی پرآشوب دور میں منحرف نہیں ہوسکتا۔
  •  
  • شجاعت وبهادری
  • اخلاق ارسطوی میں شجاعت ، ڈرپوکی اور بے باکی کے درمیانی صفت کو کہتے ہیں۔ بہادر شخص اعتدال کے اعلی درجہ پر فائز ہوتا ہے، وہ کبھی افراط و تفریط سے کام نہیں لیتا۔
  • حضرت عباسؑ ایک بہادر اور شجاع انسان تھے۔ انہوں نے اس شجاعت کو اپنے بابا علی مرتضیؑ سے ورثہ میں پایا تھا۔ آپ شجاعت کے پیکر تھے۔ زمانے کے مختلف  ادوار میں چاہے وہ صلح  کا زمانہ ہو یا جنگ کا میدان آپ کی شخصیت پر کبھی خوف و اضطراب کا غلبہ نہ رہا۔ بہادر سے بہادر شخص بھی آپ کے مقابلہ میں آنے سے کتراتا تھا۔ شجاعت و بہادری کے اس درجہ پر فائز ہونے کے باوجود اپنی بہادری کو از خود بروی کار نہیں لایا، ہمیشہ اپنے امام وقت کے مطیع و فرمانبردار رہے۔ ایک قدم بھی ان کے حکم کے بغیر نہ رکھا۔ بابا علی مرتضیؑ کی شہادت کے بعد بھائی حسن مجتبیؑ کا زمانہ ہو یا بھائی امام حسینؑ کا، کسی وقت بھی اپنی مرضی سے تلوار کو نیام سے نہیں نکالا۔ ایک بہادر شخص کے لئے سب سے دشوار وقت وہ ہوتا ہے، جب  مقابلہ بمثل  کی طاقت کے رکھنے کے باوجود محض اطاعت امام کی خاطر صبر کو اپنائے۔ اب جب مقابلہ کی اجازت ملے تو بہا  دری کے وہ جوہر دکھائے  کہ رہتی دنیا تک ان کا نام نہ فقط  زندہ و تابندہ  رہے بلکہ بہادروں کے لئے نمونہ عمل  بھی رہے۔ عصر حاضر کے جوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ  حضرت عباس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی بہادری کو اپنے ولی امر اور ان کے حقیقی نمائندوں کی پیروی میں اس کا استعمال کریں۔
  •  
  • عزت و کرامت نفس
  • حضرت عباسؑ عزت و کرامت نفس میں بھی سرآمد روزگار تھے۔ آپؑ نے اموی خاندان کے ظالمانہ حکومت کو کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ جب کربلا کے کٹھن حالات میں آپ کو آمان نامہ کی پیشکش کی گئی تو  آپؑ نے اسے یوں ٹھکرایا کہ عمّال حکومت  اموی ذلیل و خوار ہوئے اورآپؑ ہمیشہ کے لئے آزاد اندیش لوگوں کے لئے اس صفت میں اسوہ قرار پائے۔
  •         عصر حاضر میں بھی سامراجی اور باطل طاقتیں نیک اور مخلص لوگوں کو مختلف بہانوں سے بہکانے کی کوشش  کرتے ہیں، ان میں سے جو حضرت عباسؑ کو اپنا اسوہ قرار دیتے ہیں وہ اس طرح کی سازشوں کا  کبھی شکار نہیں ہوتے ، بلکہ اپنی بصیرت  آفروزی سے دوسروں کے لئے بھی نجات بخشی   کا موجب بنتے  ہیں۔ ان کا ہمیشہ سے یہی نعرہ ہوتا ہے، وَ لِلَّهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ  (ساری عزت اللہ , رسول اور صاحبان ایمان کے لئے ہے)
  •  
  • صبر و  بردباری
  • صبروبردباری  کو انسانی  اوراخلاقی کمالات   و فضائل کے لئے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ گوہر ایمان کی پاسبانی صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اگر ایمان کو ایک پیکر سے تشبیہ دیں تو صفت صبر اس پیکر کے لئے سر کی حیثیت رکھتی ہے۔ امام صادق ؑ فرماتے ہیں« الصَّبْر رَأْس‏مِنَ الْإِيمَانِ»   یعنی صبر ایمان کا سر ہے۔  ‏اسی بنا پر صبر و بردباری جس وجود میں نہ ہو ایمان کا وہاں ہونا ممکن نہیں ہے۔ امام صادق ؑ فرماتے ہیں: « «الصَّبْرُ مِنَ‏ الْإِيمَانِ‏ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، فَإِذَا ذَهَبَ الرَّأْسُ ذَهَبَ الْجَسَدُ، كَذلِكَ إِذَا ذَهَبَ الصَّبْرُ ذَهَبَ الْإِيمَانُ» (صبر ایمان کے نسبت  بدن کے لئے سر جیسا ہے جب سر جائے تو بدن بھی چلا جاتا ہے، اسی طرح اگر صبر چلا جائے تو ایمان بھی چلا  جاتا ہے ۔)
  • حضرت عباسؑ کی ذات میں صبرو بردباری کی صفت موجزن تھی۔ آپ ؑنے سخت ترین حالات میں بھی حزن و ملال اور بیتابی کو اپنے قریب آنے نہیں دیا۔ حادثہ  کربلا میں صبرو برد باری کی یہ خصوصیت  حضرت عباسؑ میں اپنے اوج کو پہنچی۔آپ  نے تمام مصائب کو ایک محکم پہاڑ کی طرح اپنے سینے سے لگایا۔الہی احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرکے اپنے بھائی کی نصرت کے لئے اپنی جان تک جان آفرین کے سپرد کیا۔ ہمیں بھی چاہئے کہ زمانہ کے تلخ وشرین واقعات میں حضرت عباسؑ کو اپنا اسوہ قرار دے کر مناسب فیصلہ اختیار کریں۔معاشرے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ معمولی سی مصیبتوں کے سامنے ہار جاتے ہیں اور بے تابی کا مظہر بن کر دینی  رہبروں پر شکایتوں کا انبار لگاتے ہیں۔ کبھی تو حد کو پار کرکے اپنے مذہب اور امام زمان(عج) سے بھی بدبین ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔
  •  
  • وفاداری
  •  فضائل اخلاقی کی ایک اہم قسم وفاداری ہے۔ وفادری کی ضد بے وفائی ہے۔ امام صادق ؑ فرماتے ہیں۔ (الوفاء و ضدہ  الغدر)  یعنی وفا جو عقل کی وزیر ہے اور اس کی ضد بے وفائی اور دھوکہ دہی ہے۔امام صادق ؑ کے ارشاد کے مطابق وفا ایمان کا ایک جزہے ۔ آپ فرماتے ہیں۔ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَضَعَ الْإِيمَانَ عَلَى سَبْعَةِ أَسْهُمٍ عَلَى الْبِرِّ وَ الصِّدْقِ وَ الْيَقِينِ وَ الرِّضَا وَ الْوَفَاءِ وَ الْعِلْمِ‏ وَ الْحِلْم‏» ( خدا نے ایمان کو سات حصوں میں قرار دیا ہے: نیکی، سچائی، یقین، رضاء، وفاء ، علم و حلم و بردباری) حضرت عباسؑ خدا کے ان مخلص بندوں میں سے ایک ہیں جو اپنے عہد پر وفادار  رہے  اور اس عہد سے وفاداری کرتے ہوئے اپنی جان تک قربان کر ڈالی ۔ حضرت عباسؑ وفا کے پیکر ہیں  اسی سے ہی وفا کا سبق سیکھنا چاہیے۔
  •  
  • عزم و ارادہ میں محکم
  • حضرت عباس ؑکی  جملہ خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت عزم و ارادہ میں قوی اور محکم ہونا ہے۔ تاریخ میں جو لوگ کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے ہیں ان کی کامیابی کے رازوں میں سے ایک عزم و ارادہ کی قوت ہے۔ امام باقرؑ فرماتے ہیں: « الْمُؤْمِنُ‏ أَصْلَبُ‏ مِنَ‏ الْجَبَلِ‏ الْجَبَلُ يُسْتَقَلُّ مِنْهُ وَ الْمُؤْمِنُ لَا يُسْتَقَلُّ مِنْ دِينِهِ شَيْ‏ء»  (مومن پہاڑسے زیادہ باصلابت اور پختہ ہے ، پہاڑ میں کمی بیشی آسکتی ہے لیکن مومن کے دین میں کوئی کمی نہیں آتی۔) حضرت عباسؑ عزم و ارادہ  میں اس قدر قوی اور محکم تھے کہ زندگی کے دشوار اور سخت حالات میں بھی آپ کا ارادہ متزلزل نہیں ہوا۔ آپؑ کے قوت ارادہ کی بدولت جب تک کربلا   میں آپ ؑ زندہ تھے اھل حرم پرسکون تھے۔ حضرت عباس کی یاد آج  تازہ  ہے، چونکہ  تاریخ پرعزم لوگوں کو   زندہ رکھتی ہے۔سست  ارادہ کے مالک لوگوں کو تاریخ بھلا دیتی ہے۔ عصر حاضر میں بھی اگر کوئی تاریخ میں جاوید رہنا چاہتا ہے اور آیندہ نسل اس کونیکی کے ساتھ یاد رکھیں  تو اسے چاہئے حضرت عباسؑ کو اپنا اسوہ قرار دے کر محکم اور قوی عزم و ارادہ  کا مالک بنیں۔
  •  
  • منابع :
  • ۱۔ قرآن کریم
  • ۲۔ اصول کافی
  • ۳۔ زندگی وکرامات حضرت ابوالفضل۔ سید جعفرمیر عظیمی
  • ۴۔ صحیفه سجادیه(دعای مکارم الاخلاق)
  • ۵۔ إرشاد القلوب إلى الصواب