Thursday, 17 January 2019

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 4

کل 67

اس هفته 188

اس ماه 914

ٹوٹل 23479

خلاصہ

اس مقالہ میں غیر مسلمان دانشوروں کی طرف سے پیغمبر ﷺ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں لگائے گئی الزامات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے  ۔جن لوگوں کے اعتراضات نقل کئے گئے ہیں  ،ان میں سے مشہور یہ ہیں : گیستالوبن ، مونتگمری  واٹ ،  اور ابوت نبیا ہیں ۔ ان کے اعتراضات کو رد کرنے کے لئے اسلام سے پہلے قوموں کے اندر رائج متعدد شادیوں کا رواج اورپیغمبر اکرم ﷺ کی مکی اور مدنی دور کی ازدواجی زندگی کو بیان کرتے ہوئے ایک سے زیادہ شادیوں کے مقصد کو چند نمونہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ کلیدی کلمات : پیغمبر اکرم ﷺ ، ازدواج ، اعتراضات ، مستشرقین ۔

 

مقدمہ :

پیغمبر اکرم ﷺ  آخری  الہٰی نمایندہ اور آخری  رسول ہونے کی  حیثیت سے قیامت تک کے لوگوں کے لیے نمونہ عمل نیز آپ  کے اقوال ، افعال اور تقریر سنت ہونے کے سبب انسانیت کےلئے مشعل راہ ہیں۔ اسلام سے  پہلے بھی آنحضرت ﷺ  اس دور کے سماج میں مورد اعتماد اور ان کی زندگی لغز شوں سے پاک رہی ہے۔ آپﷺ کیلئے  (صادق)  اور(  امین)  جیسے القاب بلا  تفریق جزیرہ عرب کے لوگوں کی زبانوں پر وارد  ہوا کرتے تھے ؛ اسی لیے اعلان  رسالت کے بعد بھی آپ ﷺکی انفرادی یا  اجتماعی زندگی کے حوالے سے حتی ان  کے دشمن بھی کبھی کوئی نقص نہیں پاسکے۔ لیکن برسوں بعد اسلام  کو  ختم کرنے کو اپنا مقصد  اور عظیم ہدف بنایا ۔ اس کے حصول کیلئے انہوں نے جھوٹ ، ریب ، دھوکہ اور بہتان تراشی کے کسی حیلے کو کراہت کی نظر سے نہیں دیکھا ۔

 

مستشرقین نے شریعت اسلامیہ کے عظیم سرچشمے قرآن و سنت کی اہمیت  کو لوگوں کی نظروں میں مخدوش کرکے ان سے ہدایت حاصل کرنے کی راہ میں کئی رکاوٹیں کھڑی کردیں ۔ قرآن مجید جو اسلام کا پہلا منبع ہے  انہوں نے اس پر ہر طرف سے حملہ کیا لیکن قرآن کی عظیم تعلیمات اور اعجاز کے سامنے بے بس ہوگئے ۔ شریعت اسلام کا دوسرا منبع  اور ستون پیغمبر اکرم ﷺ کی عظیم ذات اور سنت تھی کہ آپ ﷺ کے دامن پر  ان لوگوں کو بھی کوئی دھبہ نظر نہیں آیا جو ایک گھر کی چاردیورای میں برسوں  اس کے ساتھ رہے ۔ لیکن برسوں بعد اسلام کے ازلی دشمنوں نے پیغمبر اکرم ﷺ کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے کی بجائے مختلف بہانوں سے ان کے اوپر اعتراضات کرکے ان کے دامن کو داغدار کرنے کیلئے مختلف انداز اختیار کئے ۔ ان میں سے ایک  راستہ حضور ﷺ کی ازدواجی زندگی پر اعتراض تھا  اور آپ ﷺ کی ازواج کی تعداد کے مسئلہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ازدواجی مسئلہ پر حضور اکرم ﷺ کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ تحریری اصولوں  اور تہذیب سے عاری ہے۔ لیکن چونکہ قارئین کرام کو حقیقت سے آگاہ کرنا  اور زیر بحث موضوع کے تمام پہلوؤں  کی وضاحت کرنا مقصود ہے اس لئے ان کے اعتراضات کو ذکر کر کے   ان کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی ۔

 

 استشراق  اور مستشرقین

یہ دونوں الفاظ کلمہ شرق سے مشتق ہوئے ہیں ۔ شرق جسے انگریزی میں( Orient) ، اور      (Est) کہتے ہیں  جس کا معنی کرہ زمین کا مشرقی حصہ ہے  چنانچہ (Orient  )  کا معنی انگریزی لغت میں  یوں بیان ہوا ہے : The eastern part of the word specially china and japan. یعنی زمین کا مشرقی حصہ بطور خاص چین اور جاپان ۔ (al  Orient) یعنی شرق زمین سے تعلق رکھنے والی چیز کو کہتے ہیں ۔ لہذا استشراق  (Orientilism  )  سے مراد مشرق زمین کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کرنے  کا علم ہے ۔ اور مستشرق  (  Orientilist) سے مراد وہ شخص ہے جو مشرق زمین سے متعلق مطالعہ  اور تحقیق کرتا ہے  چنانچہ انگریزی لغت میں یوں نقل ہوا ہے :

 

(oriental countries  A person who studies the language , Art ets . ) یعنی  مستشرق وہ شخص ہے  جو مشرقی ممالک کی زبان ، فن وغیرہ کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کرتا ہے ۔

ڈاکٹر محمد حسین  علی الصغیر   نے استشراق کی تعریف میں لکھا ہے : مختصر الفاظ میں استشراق کی تعریف یہ ہے : مشرق کی ثقافت اور خاص طور پر زبان ، تاریخ ، رسم و رواج ، ہنر ، علوم ، عقیدہ  اور لوگوں کے بودباش کے بارے میں مغربی لوگوں کی تحقیق اور مطالعہ کو کہتے ہیں ۔ پس مستشرق  (  Orientilist) وہ  ہے جو موجودہ مشرق زمین کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کرے ۔ لفظ استشراق کا  تعلق اگرچہ براہ راست اسلام اور اسلامی ممالک سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہر مغربی شخص جو مشرق زمین کے بارے میں معلومات رکھتا  ہو ، مستشرق کہلاتا ہے ، لیکن چونکہ غیرمسلمان دانشوروں کے مطالعہ کا محور اسلام ، مسلمان  اور اسلامی ممالک قرار پائے ہیں  ، نیز تبشیری اور استعماری  استشراق نے خاص طور پر اسلام اور مسلمانوں پر تحقیق کی ہے  ، اس بناء پر بعض مسلمان مفکرین نے استشراق کو اسلام سے جوڑتے ہوئے ، اس کی تعریف یوں کی ہے : مستشرق  اس کو کہا جاتا ہے جو اسلام اور مسلم ممالک کے بارے میں تحقیق کرے اور اسی علم کو استشراق سے تعبیر کیا گیا ہے  ۔

پیغمبراکرمﷺ کی ازدواجی زندگی پر مستشرقین کے اعتراضات

 

مغربی دانشوروں کے چند اعتراضات اور ان کے جوابات  درج ذیل ہیں :

1۔  بقول ساواری: اسلامی اصول کے مطابق کہ پیغمبراکرم ﷺ خود اس کے رہبر ہیں، ایک مسلمان مرد ایک ساتھ  چار سے زیادہ  شادیاں نہیں کرسکتا ہے لیکن خود ان کی پندرہ  زوجات تھیں اور بارہ کے ساتھ  ازدواجی زندگی گذار رهے تھے. 

2- گوستاولوبون : عورتوں سے عشق واحد کمزوری تھی جو که اس ( پیغمبرﷺ ) کے اوپر طاری تھی -

 

3- وات : 53 ساله مرد  اور 10 ساله خاتون جو که باپ بیٹی کی نسبت لگتی هے . ان کے درمیان ازدواجی رابطہ عجیب نظر آتا هے ۔  اس کے علاوه  اور اعتراضات دوسرےالفاظ میں  ازدواجی زندگی کے حوالے سے  کیے گئے  ہیں اور  کہا جاتاہے کہ متعدد بار شادیوں کی اجازت صرف حرص اور شہوت پرستی کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہیں ہو سکتا ہے۔ پیغمبرﷺ نے اسی وجہ سے اپنی امت کے لئے متعدد شادیوں کی اجازت دی تا کہ وہ اس کے ذریعے جنسی تسکین حاصل کر سکیں ۔  یہ مسئلہ دشمن کیلئے پیغمبر اکرمﷺ پر اعتراضات کا بہانہ بنا ہوا تھا اور یوں  پیغمبر اکرمﷺ کو شہوانی اور عورتوں کا دلدادہ  ثابت کرنے کی مذ موم کوشش کرتے تھے اور آج بھی دشمن اسی مسئلہ کا سہارا لیتاہے ۔

 

پیغمبراکرمﷺ  کی تعدد زوجات کے مسئلہ کو اسلامی نقطہ نگاہ سے پرکھنے سے پہلے ہم اس مسئلہ سے متعلق مغربی مصنفین اور دانشوروں کے نظریات کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ مستشرقین کے ان شبہات کا مناسب جواب دیا جا سکے ۔ یورپ میں کئ صدیوں اس موضوع  پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اور خاص طور پر قرون وسطی کے دوران متعد د زوجات کے مسئلہ میں بہت مبالغہ آرائی اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے پیغمبر اکرمﷺ اور اسلامی قوانین کو تہمتوں کا نشانہ بنا یا گیا۔  یہا ں تک کہ تہمتوں کا محو رہی ایک سے زیادہ  شادیوں کا مسئلہ قرار دیا گیا اور ازدواجی مسئلہ کی غلط تفسیر اور اس کو نامناسب شکل میں پیش کیا گیا ۔ دین اسلام کو مادہ پرست ،آرام طلب  اور عورت پسند  قرار دیا جاتا رہا  ہے۔  ان کا مقصد یہ تھا  کہ اسلام میں شادیوں کے مسئلہ میں کوئی محدودیت نہیں ہے ۔اور اس کے ثبوت کے لئے ، آیات قرآنی کا غلط ترجمہ کیا جا تا ہے  اور یوں حدسے تجاوز کرتے ہوئے غلط حوالوں کے ذریعہ تہمتوں کے انبار لگائے جاتے ہیں ۔ قرون وسطی کے بعد بھی یورپ میں ضعیف روایات  کا سہارا لیتے ہوئے یہی رویہ  اختیار کیا گیا۔

 

پیغمبراکرم ﷺکے بارے میں یورپ میں غیر معمولی تبدیلی پہلی بار اس وقت آئی جب مشہور فلاسفار( تو ماس کار لائل) نے چیمپئنز  کے عنوان سے کتاب لکھی اور  اس میں اظہار کرتے ہوئے کہا:ہم نے بہت بڑی غلطی کی اگر اس آدمی (پیغمبر )کو شہوت پرست انسان کے طور پر پہچانا۔ انہوں نے اس نظریہ کے ذریعہ سے گذشتہ کئ صدیوں سے جاری منفی نظریہ کو تبدیل کردیا اور اسلام پر لگائی جانے والی من گھڑت تہمتوں پر سے پردہ اٹھا کر اس کی حقیقت کو آشکار کردیا۔

 

(کارلائل ) سے پندرہ سال کے بعد انگلینڈ کے محقق ( جان ڈیوی پورٹ ) نے گذشتہ کئی برسوں سے لگائی گئی تہمتوں کے مقابلہ میں پیغمبر اکرم ﷺ کا دفاع کیا اور یورپی مصنفین کی ذہنیت میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے میں بہت بڑا کردار  ادا کیا ۔ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے متعدد شادیوں کو جائز قرار دے کر شہوت پرستی کو رواج دیا ان کے جواب میں صراحت  سے کہا: ایک سے زیادہ شادیاں حضرت ابراہیم ؑ کے بعد مشرق زمین میں عام طور پر رائج تھیں ۔ اور کتاب مقدس کے کئی صفحوں میں اس کا  ذکر ہوا  ہے ۔ اور یہ اس وقت کوئی گناہ کا کام نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ یہ عمل یونانیوں میں بھی رائج تھا نیز روم میں یہ رواج عام تھا حالانکہ وہ بہت بااخلاق تھے ، ممنوع نہیں تھا ۔ لہذا  پیغمبر اکرم ﷺنے ایسے عمل کو جائز قرار دیا ہے جو کہ نہ صرف محترم تھا بلکہ گذشتہ زمانے میں رحمت و برکت کا سبب سمجھا جاتا تھا ۔

 

( جان ڈیوی پورٹ ) اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :  محمدﷺ نے ۲۵ سے ۵۰ سال کے دوران صرف ایک بیوی کے ساتھ شادی پر اکتفا کیا حالانکہ ان کا کوئی بیٹا بھی نہیں تھا اور جب تک حضرت خدیجہ(س) زندہ تھیں دوسری کوئی شادی نہیں کی ۔ وہ مزید لکھتے ہیں :  ان کے دور میں متعدد شادیوں کا معاملہ عام طور پر عربستان میں نا محدود شکل میں رواج یافتہ تھا یہ بات، مورد  تناقض ہے کہ انہوں نے شہوت پرستی کو محدود کرکے اور بیویوں کی تعداد کو معمول سے کم کرکے جنسی میلان اور شہوت پرستی کو بڑھادیا ہو ۔

(جان ڈیوی پورٹ) نے فیزیولوجی کی رو سے متعدد زوجات کے لئے دلائل پیش کرنے میں مشہور فرانسی دانشور ( منستیکو) کی رائے پر تکیہ کیا ہے کہ جنہوں نے کہا تھا  کہ گرم آب و ہوا والے علاقوں میں عورتیں آٹھ سال میں شادی کے قابل ہوجاتی ہیں اور ان جیسے ممالک میں بچپنا اور شادی ایک ساتھ نزدیک ہوجاتی ہیں  ۔

 

بیسوی صدی کے دانشوروں کی رائے :

چند شرق شناس دانشوروں کا کہنا ہے کہ بعض روایات کے مطابق  پیغمبراکرم ﷺ خواتین کے بارے میں خاص جذبہ کا احساس کرتے تھے اور یہ احساس بھی اس وقت کے معاشرے کے رسوم و آداب کا احترام بھی نظر رکھتے ہوئے دل میں رکھتے تھے ۔   نبیا ابوت ، ( ریحانہ ) صفیہ اور (ماریہ قبطیہ )سے پیغمبر اکرمﷺ کی شادی کرنے کے انگیزے کے بارے میں لکھتے ہیں : بلاشک ان تینوں کی خوبصورتی  اور دلربائی نے محمد ﷺ کے دل کو مول لیا تھا ۔

 

گوستاولوبون نے پیغمبر اکرمﷺ کے عورتوں سے متعلق جذبات کے بارے میں لکھا ہے :

 ( وہ عورتوں کی عمر کو اہمیت نہیں دیتے تھے ، عائشہ جو کہ ۱۰ سالہ تھیں ان کے ساتھ شادی کی جبکہ (میمونہ) ۵۱ سالی تھیں ان سے بھی شادی کی اور عورتوں سے محبت کی حالت یہ تھی کہ جب ایک دن ناگہان (زید) کی جو کہ  ان کے منہ بولے بیٹے تھے ، کی بیوی ( زینب بنت جحش) پر نگاہ پڑی تو اس کے نتیجے میں اس کی طرف ان کا قلبی میلان پیدا ہوگیا ۔

البتہ ان کے مقابلے میں دوسرے بہت سارے محققین ہیں جو کہ پیغمبر اکرمﷺ کو ان تہمتوں سے مبرا اور پاک سمجھتے ہیں ۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کا مسئلہ ایسا انوکھا نہیں تھا کہ جس کو حضرت محمد ﷺ نے ایجاد کیا ہو بلکہ عربوں، ایرانیوں اور یہودیوں میں اسلام سے پہلے یہ مسئلہ قدیم زمانے سے رائج تھا ۔ بلکہ اگر پیغمبر اکرمﷺ (حضرت محمد ﷺ)تورات و انجیل کے حکم کے مطابق عمل کرتے تو اس سے کئی زیادہ  عورتوں سے شادی کرسکتے تھے ۔اسلام نے اس کے برعکس ایک ہی وقت میں کئی شادیوں کی تعداد کو کم کردیا اور  بیویوں کی تعداد کو ۴ تک گٹھادیا  جبکہ اس سے قبل بیویوں کی تعداد کے بارے میں کوئی حد معین نہیں تھی نیز ان ۴ شادیوں کے سلسلہ میں بھی اسلام نے ایسی شرائط لگادی ہیں کہ ہر انسان چار عورتوں سے زیادہ  ایک ساتھ شادی نہیں کرسکتا ہے ۔ یہاں یہ نکتہ ذکر کرنا لازمی ہے کہ تاریخ کے مطابق حضرت سلیمانؑ کی دائمی  بیویوں کی تعداد  ( ۳۰۰ )   اور( ۷۰۰ )کنیزیں تھیں ۔

 

 تعجب کی بات یہ ہے کہ مغربی مفکرین اور دانشوروں کو پیغمبر اکرمﷺ کی نو بیویاں ،حضرت سلیمانؑ کی اتنی بڑی تعداد میں موجود بیویوں کے مقابلے میں بہت زیادہ لگتی ہیں جن کا بہانہ بنا کر تہمتوں کا نشانہ بنایا ہے ۔ قرآن کی آیات کا متن بھی عورتوں کی تعداد کو محدود کرتا ہے زیادہ عورتوں سے شادی کی تائید نہیں کر تا ہے ۔چنانچہ آیت میں نقل ہوا ہے :(( اور اگر یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہیں دو. تین. چار ان سے نکاح کرلو اور اگر ان میں بھی انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہے تو صرف ایک یا جو کنیزیں تمہارے ہاتھ کی ملکیت ہیں, یہ بات انصاف سے تجاوز نہ کرنے سے قریب تر ہے۔ دوسری آیت میں ذکر ہوا ہے : (( تم لوگ قلبی اعتبار سے تمام عورتوں کے درمیان عادلانہ سلوک برقرار رکھنے پر قادر نہیں ہو اگرچہ کوشش  کرو ، لیکن اپنی توجہ کوصرف ایک عورت کی طرف مائل نہ کرو کہ جس کے نتیجے میں دوسری کو بیوہ عورت کی طرح قرار دو ))۔

 

ان دو آیتوں کو آپس میں ملانے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قرآن مجید نے متعدد شادیوں کی اجازت دی ہے ۔ لیکن ایک عورت سے شادی کو ترجیح دی ہے ۔

( جیمز بیکر) امریکی مصنف نے شہوت پرستی کی تہمت کو رد کرتے ہوئے لکھا ہے : (( وہ (پیغمبر ﷺ) ایسی شخصیت ہے جس نے ایسی قوم کے درمیان جوکہ شادی کے مسئلے میں کوئی حدو حصر نہیں تھی اور اس سے پہلے کے مرد، جتنی عورتوں سے چاہتے شادی کرلیتے، اس کو محدود کرکے چار شادیوں تک کم کردیا۔  جہاں تک خواتین سے محبت کی بات ہے تو پیغمبر اکرمﷺ اپنی بیویوں سے یکسان محبت رکھتے تھے اور یہ عدالت، انسانیت سے دوستی کی وجہ سے تھی ۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ ہر طریقے سے چاہتے تھے کہ ہر ایک کے ساتھ منصفانہ سلوک کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ سب سے پہلے جس چیز کو عو رتوں سے متعلق حرام قرار دیا وہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کا مسئلہ تھا جبکہ اس قبیح فعل  کو انتہائی بے دردی کے ساتھ انجام دیا جاتا تھا ۔ خود ان مستشرقین نے پیغمبر اکرمﷺ کی متعدد شادیوں کے انگیزے کو بیان کیا ہے ۔

 

(( ویل دیورانت)) کے مطابق متعدد شادیوں سے پیغمبر اکرمﷺ کا ہدف یہ تھا کہ وہ  مذکر اولاد کی خواہش رکھتے تھے  اور  اس کا شہوت سے کوئی تعلق  نہیں ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں : ( شاید پیغمبر اکرمﷺ نے ان خواتین میں سے بعض کے ساتھ اس لئے شادی کی تھی کہ ان سے بیٹا پیدا ہوجائے  کیونکہ وہ طویل مدت سے  بیٹے کی نعمت سے محروم رہے اور حضرت خدیجہ کے علاوہ تمام بیویاں نازاں تھیں اسی مسئلے کو ( متعدد شادیاں ) الزام تراشی کے لئے دشمن نے دستاویز کے طور پر استعمال کیا ہے ۔

کچھ اور شرق شناس محققین کے نزدیک پیغمبر اکرمﷺ نے متعدد شادیاں احسان اور رحم کی بنیاد  پر کی ہیں ؛ کیونکہ بہت ساری عورتیں پیغمبر اکرمﷺ کے پیروکاروں یا دوستوں کے شہید یا دنیا سے چلے جانے کی وجہ سے بیوہ ہوگئی تھیں  اور ان کا سرپرستی کرنے والا کوئی نہ تھا(( رودلف یوکل)) کا کہنا ہے کہ : پیغمبر اکرمﷺ کی متعدد  شادیوں کی ایک دلیل یہ تھی کہ بہت سارے مرد جنگوں میں مارے جاتے تھے اور ان کی بیویاں بیوہ اور ان کے بچے یتیم ہوجاتے  اور یوں عورتیں بے سرپرست ہوجاتیں تو پیغمبر اکرمﷺ شادی کے ذریعے اپنی یا کسی صحابی کی سرپرستی میں ان کی معاش کا بندوبست کرتے اور اس وقت کی صورت حال کے پیش نظر ،یہ کام (ایسی عورتوں کی سرپرستی اور بچوں کی نگہداری ) شادی کے ذریعے ہی ممکن تھی ۔   

 

کچھ اور مغربی دانشور متعدد شادیوں کے سلسلے میں پیغمبر اکرمﷺ کے مقاصد کو سیاسی اور  اجتماعی بھی قرار دیا ہے چنانچہ ان میں سے بعض محققین  کا کہنا ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ کا (عائشہ ) اور ( صفیہ) کے ساتھ شادی کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے اپنے اتحادوں اور ہم نظر  افراد کے ساتھ تعلقات کو بڑھاسکیں۔

 ( ام حبیبہ ) ابوسفیان جو کہ مخالفین بلکہ دشمنوں کا سربراہ تھا ، کی بیٹی  سے شادی کو سیاسی طور پر اتحاد سے تعبیر کیا گیا ہے چنانچہ (ابوت نیباء) کہتے ہیں : اس کے ساتھ شادی قوی امکان کے مطابق یا تو اس کے والد کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لئے کی گئی تھی یا رشتہ  کے ذریعہ جو نسبت حاصل کی تھی اس  سےفائدہ اٹھاکر اپنی طاقت اور اثر رسوخ کو مضبوط بناسکیں ۔

 

( جان بروا) قائل ہے کہ  پیغمبر اکرمﷺ کا یہ عمل ( ام حبیبہ سے شادی ) سیاسی بصیرت ، تدبیر اور فکر کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے ۔ انہوں نے اس عمل کے ذریعے قریش  کے سپہ سالار اور سخت ترین دشمن کو خاموش اور راضی رکھا ۔ بیسوی صدی  کے آخر کے شرق شناس محققین خاص طور پر ( مونٹگمری واٹ) اور ( جان بروا) نے اسلام میں ایک سے زیادہ شادیوں کے مسئلے کو سماجی  کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں : جو تبدیلیاں اور اصلاحات قرآن مجید کے ذریعے شادی کے حوالے سے لائی گئی ہیں ضروری ہے کہ گذشتہ ادوار میں اسلام سے پہلے کی جانے  والی لاتعداد شادیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مورد مطالعہ قرار دیا جائے ۔ پیغمبر ﷺ کے دور کے جزیرہ عرب میں کئی قسم کی شادیاں کی جاتی تھیں کہ جن میں کچھ کی کوئی بنیادی اور عقلی دلیل ہی نہیں ہوتی تھی  اور متعدد بیویوں کا ایک شوہر کے ساتھ ازدواج کو معمول اور رائج عمل شمار کیا جاتا تھا  اور متعدد شادیوں کا امر مرد کی دلی خواہش اور مالی توانائی پر منحصر ہوتا تھا ۔ جس کی خواہش اور مالی استعداد جتنی زیادہ ہوتی اتنی ہی عورتوں سے شادی کرلیتا  اور اس حوالے سے کوئی حد معین نہیں تھی ۔جنسی مسئلہ نے سب کے اذہان کو مشغول بنا رکھا تھا  اور یہ مسئلہ ہر طبقہ کے لوگوں میں بلا تفریق امیر و غریب زبان زد مشہور تھا ۔ یہاں تک شرق شناس محققین کی  رای کو دقت سے ملاحظہ کیا گیا ۔ اب مسلمان دانشوروں کا پیغمبر اکرمﷺ کی متعدد شادیوں کے بارے  رائ اور نظریئے کو دیکھتے ہیں تاکہ قرآن و سنت اور تاریخ کی روشنی میں مستشرقین کی تہمتوں کا مکمل جواب دیا جاسکے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے پیغمبر ﷺ دوسرے انبیاءؑ کی طرح پاک اور معصوم ہیں ۔ اور شہوت پرستی جیسی بری صفت  سے پاک ہیں ، ان کی دوسری سیرت زندگی کی طرح ازدواجی زندگی بھی عمومی مصلحت یا انسانی یا اجتماعی ہدف کی خاطر یا کسی حکم  شرعی کی بنیاد پر مبنی تھی ۔

 

پیغمبر اکرمﷺ نے پہلی شادی ۲۵ سال کے ہیجان آمیز جوانی کے اوج میں کی تھی اور دوسری کوئی شادی نہیں کی جبکہ اس دوران جوانی میں انسان کی فکر صرف اس بات پر مشغول رہتی ہے کہ ایک اچھی خاتون سے اس کی شادی ہوجائے جبکہ پیغمبر اکرمﷺ نے کسی خوبصورت دوشیزہ سے شادی نہیں کی بلکہ ایک چالیس سالہ بیوہ کو انتخاب  کیا ۔

مسلمان دانشوروں کی رائے:

 

مسلمان دانشوروں کی رائے کے بارے میں لکھنے سے پہلے مستشرقین مغرض کو اس نکتے کی طرف متوجہ کرنا لازمی سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کرمﷺ کی متعدد شادیوں کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں تھا کہ انہوں نے اس کو عیب اور کمزوری بناکر پیغمبر اکرمﷺ کے اوپر الزام تراشی کا بہانہ بنایا اور شہوت پرستی کا وسیلہ قرار دیا ہے ؛ کیونکہ پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت خدیجہ (س) کی وفات کے بعد جب بھی کسی خاتون سے شادی کی ہے ، اس میں خاص منطقی ہدف کو مدنظر رکھا ہے ۔ جبکہ مغربی دانشوروں نے اس کو افسانہ بناکر پیغمبر اکرمﷺ کی شخصیت کو خدشہ دار بنانے اور اسلام کی بڑھتی ہوئی وسعت کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔

 

اگر پیغمبر اکرمﷺ معاذاللہ شہوت پرست انسان ہوتے تو اس معاشرے میں خوبصورت ، جوان دوشیزاؤں کی کمی نہیں تھی وہ جس سے چاہتے فخر کے ساتھ وہ  پیغمبر اکرمﷺ سے شادی کرلیتی جبکہ ہم دیکھتے ہیں حضرت خدیجہ (س) کے ہوتے ہوئے حضرت ﷺ نے ایک بار بھی کسی دوشیزہ سے شادی نہیں کی ۔ دوسری جانب جب اسلامی حکومت قائم ہوئی اور پیغمبر اکرمﷺ کے دن رات کی مصروفیتیں بڑھ گئیں  اور عمر کا بہت حصہ بیت گیا ، پچاس سال کی عمر میں جب انسان کی جسمانی طاقت جوانی  کی نسبت کمزور ہوجاتی ہے اور جسم جواب دینے  لگتا ہے اس وقت پیغمبر اکرمﷺ نے متعدد شادی کی ہے۔ جبکہ مصروفتیں ایسی متعدد شادیوں کی اجازت بھی نہیں  دیتی تھیں  ایسی شادیوں کو شہوت کی بنیاد پر  کی ہو، کیا یہ ممکن ہے کہ کسی عورت کو بہت بڑی عشق اور محبت کے بعد حاصل کیا ہو اس کو ایک معمولی مطالبہ پر طلاق دے دے ، ایسے میں ایک انصاف پسند دانشور اور محقق کے لئے اس کے علاوہ کوئی بات باقی نہیں رہتی ہے کہ وہ پیغمبر اکرمﷺ کے بارے میں شہوت پرستی کے علاوہ متعدد شادیوں کے لئے کوئی اور سبب اور علت ڈھونڈے ۔

 

( جان ڈیوی پورٹ) کہتے ہیں : (کیا ایک شہوت پرست مرد کے لئے یہ ممکن ہے کہ ۲۵ سال تک ایسے ملک میں ایک بیوی پر اکتفاء کرے جہاں پر متعدد شادیاں رواج ہوں ۔

اب تک کے مختلف اقوال سے یہ بات سامنے آگئی کہ پیغمبر اکرمﷺ کی متعدد شادیوں کے اسباب  سیاسی اور اجتماعی مسائل کو حل کرنے اور دشمن کے ضرر کو کم کرنا تھا نہ یہ کہ شہوت پرستی ،تاکہ پرامن ماحول سے فائدہ اٹھاکر اسلام کی تبلیغ کی جاسکے ۔ ان موارد کے علاوہ کچھ  اور اسباب بھی تھے جن کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے :

 

۱۔ خواتین کی تعلیم و تربیت :

پیغمبر اکرمﷺ متعدد عورتوں سے شادی اس لئے بھی کیا کرتے تھے  تاکہ ان کو تعلیم دی جائے۔ اور ان کے ذریعے  عورتوں سے مخصوص مسائل کو دیگر خواتین کو تعلیم دیں ۔ بعض اوقات خواتین ایسے سوالات پیغمبر اکرمﷺ سے پوچھتی تھیں کہ جن کا صراحتاً جواب دینا پیغمبر اکرمﷺ کے لئے شرم و حیاء کی وجہ سے ممکن نہ ہوتا تھا ، چنانچہ ایک دفعہ کسی خاتون نے پیغمبر اکرمﷺ سے سوال کیا تو  مسئلے کی نوعیت کی وجہ سے جواب دینے میں پیغمبر اکرمﷺ کو حیاء آئی ، تو  حضرت  عائشہ نے اس عورت کو اس مسئلے کے بارے میں تفصیل سے بتایا ۔ پس ایسے مراحل میں پیغمبر اکرمﷺ کی زوجات بہترین معلمہ تھیں ۔ جوکہ خواتین کو ان سے مربوط مسائل میں احکام کو تفصیل سے آگاہ کرسکتی تھیں یوں خواتین تفقہ فی الدین حاصل کرتی  تھیں ۔

 

۲۔ غلط رسومات اور سنتوں کا خاتمہ :

پیغمبر اکرمﷺ کی بعض عورتوں کے ساتھ شادی میں کسی شرعی حکم کے تشریع اور کسی غلط رسم کے خاتمے کی حکمت  چھپی ہوئی تھی ؛ کیونکہ  کچھ مسائل میں لوگ جاہلیت کے غلط رسومات کی پیروی کرتے تھے ۔ جیسا کہ ارث ، نکاح ، حرم اور نسبیت کا معاملہ تھا کہ جس کو قرآن  مجید میں آئی ایک مثال کے ساتھ واضح کریں گے ۔

حضرت خدیجہ (س) کا ایک زید نامی غلام تھا جس کو آپ نے پیغمبر اکرمﷺ کو ہدیہ میں بخشا تھا آنحضرت ﷺ نے اس کو آزاد  کردیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا، یوں  پیغمبر اکرمﷺ نے بھی شفقت کی بنا پر اس کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا ۔ پیغمبر اکرمﷺ نے اپنی پھوپھی زاد  بہن ( زینب بنت جحش )  کے ساتھ اس کی شادی کروادی کچھ  مدت کے بعد دونوں میں نا اتفاقی  کی وجہ سے طلاق ہوگیا  ، زینب چونکہ معروف خاندان سے تھیں اور ایک آزاد شدہ فرد کے ہاتھوں ان کا طلاق ان کے لئے ذہنی اذیت اور پریشانی کا سبب بنا  ۔ پیغمبر اکرمﷺ نے خدا وند متعال کے حکم سے  ان سے شادی  کرلی ۔جاہلیت کے رسم کے مطابق منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی حیثیت حاصل تھی اور تمام احکام  میں دونوں کو ایک جیسا سمجھا جاتا تھا ؛ اس لئے لوگوں کو اعتراض ہوسکتا تھا اور اس سے پیغمبر اکرمﷺ کو پریشانی بھی ہوگئی ؛ کیونکہ اس وقت کے رسم کے مطابق منہ بولے بیٹے کی بیوی سے آدمی نکاح نہیں کرسکتا تھا ۔ اس سنت جاہلی کو ختم کرنے اور (حکم شرعی جواز نکاح) کو جعل کرنے کے لئے پیغمبر اکرمﷺ نے خداوند متعال کے حکم سے اس سے شادی کرلی اور ایسی  سنت کا خاتمہ کردیا ۔ قرآن مجید میں اس کا قصہ یوں ذکر ہوا ہے: ( اے پیغمبر ﷺ :) اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے بھی نعمت نازل کی اور تم نے بھی احسان کیا یہ کہہ رہے تھے کہ اپنی زوجہ کو روک کر رکھو اوراللہ سے ڈرو اور تم اپنے دل میں اس بات کو چھپائے ہوئے تھے جسے خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنوں کا خوف تھا حالانکہ خدا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اس کے بعد جب زید نے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس عورت کا عقد تم سے کردیا تاکہ مومنین کے لئے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے عقد کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جب وہ لوگ اپنی ضرورت پوری کرچکیں اوراللہ کا حکم بہرحال نافذ ہوکر رہتا ہے۔ یہ شادی الہٰی شادی تھی  جس کے اوپر زینب ہمیشہ دوسری ازواج نبی پر فخر کرتی تھی اور کہتی تھی کہ تمہاری شادی تمہارے اقوام نے اور میری شادی آسمان سے خداوند عالم نے کرائی ہے ۔

 

۳۔ سیاسی اور معاشرتی ہدف :

پیغمبر اکرمﷺ کی بعض دوسری خواتین سے شادی کرنے کا فلسفہ ، اجتماعی اور سیاسی حوالے سے تھا جیسا کہ اسلام کے اعلان کے بعد قریش نےسخت  مخالفت کی اور بہت ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ، دوسری طرف سے یہ رسم تھی  کہ اگر کوئی آدمی کسی قبیلے کی خاتون سے شادی کرلیتا تو اس کا  اپنے بیٹے کی حیثیت  سے احترام کرتے  اسی لئے پیغمبر اکرمﷺ نے مختلف قبائل کی حمایت حاصل کرنے اور ان  کی توجہات کو اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے ان کی خواتین سے شادی کرلی ۔ ذیل میں چند کا نام ذکرکرتے ہیں :

 

۱۔ جویریہ :

قبیلہ بنی المصطلق کے بزرگ ( حارث) کی بیٹی سے پیغمبر اکرمﷺ نے شادی کرلی جب مسلمانوں نے اس کے بارے میں سنا تو پیغمبر اکرمﷺ کے احترام میں اس قبیلے کے تمام اسیروں کو آزاد کردیا ۔ یہ خبر قبیلہ بنی مصطلق تک پہنچی اور مسلمان کے رحم دلی مروت اور شہامت کو دیکھا  تو متاثر ہوکر سب نے اسلام قبول کرلیا ۔

 

۲۔ ام حبیبہ :

اسلام کے سر سخت دشمن ابو سفیان کی بیٹی کہ جس کے دماغ میں مسلمانوں سےصلح اور ان کے ساتھ زندگی گذارنے کا تصور بھی نہیں تھا نیز (ام حبیبہ)  کے شوہر نے  حبشہ جا کر عیسائی مذہب اختیارکرلیا  اور وہی پر  اس کی موت واقع ہوگئی  جس کی وجہ سے (ام حبیبہ) بے سرپرست بن گئیں ان کا باپ مشرک اورسخت  دشمن اسلام  تھا جب کہ وہ خود مسلمان تھیں ایسے میں اپنے باپ ابوسفیان کے ساتھ رہنا ان کے لئے مشکل بات تھی اس لئے وہ بہت پریشانی اور اضطراب کی  حالت میں دن رات گذار رہی تھیں ۔ پیغمبر اکرمﷺ نے ان سے شادی کی تا کہ ان کی سرپرستی کی جا سکے وہاں بنو امیہ کی توجہات کو حاصل کیا جاسکے  اور ان کا باپ اسلام  کی دشمنی سے باز آجائے  ۔جب پیغمبر اکرمﷺ کی ام حبیبہ شادی کی خبر ابو سفیان کو ملی تو وہ بہت خوش ہوگیا اور اس پر فخر کیا اور یہ شادی ابو سفیان کے ہاتھوں اسلام ، پیغمبر اکرمﷺ اور مسلمانوں کو لا حق خطرات اور اذیتوں سے نجات ملنے میں معاون ثابت ہوئی۔     

      

3۔ صفیہ:

قبیلہ بنی النضیر کے سر براہ حی ابن اخطب کی بیٹی جس نے اپنے شوہر اور باپ کو کھودیا تھا اور وہ خود اسیر ہوگئی تھیں۔ پیغمبر اکرمﷺ نے ان سے شادی کرکے اس کو اسارت سے نجات دلا دی اور مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ کنیزوں کو آزاد کر کے ان سے شادی کریں ۔ اس شادی کے ذریعے سے پیغمبر اکرمﷺ بنی اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات  پیدا کرنے  میں کامیاب ہوئے۔

 

4 ، 5 ، 6( عائشہ ، حفصہ اور میمونہ) :

عرب کے مشہور قبیلوں کے سر کر دہ افراد کی بیٹیاں تھیں۔ پیغمبر اکرمﷺ نے ابو بکر اور عمر کے ان کے قبیلوں میں اثر رسوخ کو بخوبی درک کیا تھا لہذا  ان قبیلوں کی حمایت حاصل کرنے اور اسلام کے اندرونی طاقت اور اتحاد کومزید مستحکم کرنے کے لئے ان تینوں حضرات سے شادی کرلی اور مذکورہ  ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔

گذشتہ اقوال میں ذکرکئے گئے اسباب کا انسانی جذبہ اور اجتماعی فلاح سےتعلق کا ہونا کسی عقلمند انسان سے پوشیدہ نہیں خصوصا بے سرپرست عورتوں کی سرپرستی ، ان کا مالی تعاون اور  پریشانی سے نجات دلاکر نفسیاتی سکون  پہنچانے کو پیغمبر اکرمﷺ نے شادی کے ہدف کے طور پر انتخاب کیا ؛ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک عورت مرد کی مانند قابل احترام انسان اور  برابرحقوق  کی مالک ہے ۔ لہذا عورت کو معاشرے میں پریشان حال نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اور عورت کے بارے میں تاکید کے ساتھ اچھے سلوک کرنے نیز شفقت سے پیش آنے کے بارے میں فرمایا : نماز نماز اور تمہاری ملکیت میں موجود عورتوں کے بارے میں ہوشیار رہیں ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں  خدا را خدا را تمہاری بیویاں تمہارے زیر کفالت  ہیں ۔ جہاں تک گوستالوبون کے ادعا کا تعلق ہے کہ وہ کہتا ہے :  پیغمبر اکرمﷺ نے زینب بنت جحش کو دیکھ کر اس کے دل میں اس کے لئے محبت پیدا ہوگئی ، بالکل غلط ہے کیونکہ یہ بات اسرائیلیات اور جھوٹی روایات کا گھڑا ہوا قصہ ہے اور یہ کہ زینب بنت جحش پیغمبر اکرمﷺ کی پھوپھی زاد تھی وہ اس کو بچپن سے جانتے تھے ، اگر ان سے شادی کرنے کا شوق رکھتے تو وہ فخر سے مانتی ۔ چنانچہ جب زید کے لئے رشتہ لے کر  پیغمبر اکرمﷺ ان کے گھر گئے تو وہ اس خیال سے کہ پیغمبر اکرمﷺ اپنے لئے رشتہ لے کر آئیں ہوں وہ بہت خوش ہوگئی تھی ، نیز پیغمبر اکرمﷺ کے لئے کوئی مشکل بات نہیں تھی ۔

 

نتیجہ :

پیغمبر اکرمﷺ کی سیرت زندگی اور سورہ احزاب کی آیت ۲۸ اور ۲۹ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  پیغمبر اکرمﷺ کی متعدد شادیوں سے متعلق مستشرقین کی رای حقیقت سے دور اور شہوت پرستی کا ادعا بے بنیاد  ہے ۔  پیغمبر اکرمﷺ جہاں خود تقوی کے اعلیٰ منزل پر فائز تھے وہاں اپنی ازواج کو بھی تجملات دنیا سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے  ۔ چنانچہ سورہ احزاب کی آیات ۲۸ اور ۲۹ اس پر گواہ ہیں ۔ لہذا ایک عقلمند اور انصاف پسند محقق کے لئے اس کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں رہتی  کہ یہ  بات تسلیم کرے کہ پیغمبر اکرمﷺ اگر متعدد شادیاں کی ہیں تو وہ  سیاسی ، اجتماعی اور انسانی عوامل اور اسباب کو مدنظر رکھتے ہوتے کی ہیں جس کو گذشتہ صفحات میں ذکرکیا گیا  ہے اور وہ اہداف یہ تھے  ؛ بے سرپرست اور پریشان خواتین کی سرپرستی ، مختلف قبائل اور سرکردہ افراد کے ساتھ تعلقات بناکر اسلام کے خلاف دشمن کی سازشوں کو کم کرنا اور ازدواج کے ذریعےعورتوں کو دینی تعلیمات سے آگاہ کرنا ۔ ان اہداف میں سے کسی کا  بھی تعلق شہوت پرستی اور جنسی میلان کو رواج دینے سے نہیں ہے ۔

 

منابع :

۱۔ تعدد زوجات در اسلام ، فرھانی فریدہ ، پایان نامہ ارشد

۲۔ الصحیح  من  سیرۃ النبی الاعظم ، العاملی جعفر مرتضی ، قم ، جامعہ مدرسین ، ۱۴۰۲ ھ ق

۳۔ المیزان فی تفسیر القرآن ، محمد حسین طباطبائی

۴۔ تاریخ پیامبر اسلام ، ابراہیم آیتی ، دانشگاہ تہران ، ۱۳۶۵ ش

۵۔ السیرۃ النبویہ ، ابن ھشام ، بی جا، مکتبہ محمد علی صبیح و اولادہ 1382 ھ ق

۶۔ زادالمسیر فی علم التفسیر ، ابن جوزی ، بیروت ، دالفکر

۷۔ قرآن کریم

۸۔ الکامل ، ابن اثیر ، بیروت ، مؤسسہ التاریخ العربی 1416 ھ ق

۹۔ عذر تقصیر بہ  پیشگاہ ، محمد و قرآن ، جان دیوی پورت

۱۰۔ بررسی زندگی اجتماعی پیامبر اکرمﷺ از نظر قرآن ( پایان نامہ) محمد اعجاز نگری

۱۱۔ پنجگام ، صفا مجذوب ، تہران ، انتشارات بعثت ، چاپ دوم ، ۱۳۵۰ ش

۱۲۔ محمد ﷺ پیامبر و سیاست مدار ، وات ، ویلیام مونتگمری

۱۳۔ عائشہ ہمسر پیامبر ﷺ ،ابوت نبیا

۱۴۔ اسلام از دیدگاہ دانشمندان جہان ، علی آل اسحاق

۱۵۔ تاریخ تمدن ، ویل دیورانت ، عصر ایمان ، ترجمہ ابوطالب صادقی ، تہران ، انتشارات علمی ، ۱۳۷۳

۱۶۔ اسلام در ایران

۱۷۔ پاسخ بہ نقض سلمان رشدی ، آل اسحاق خوئینی ، قم ، دفتر تبلیغات ۱۳۵۷

۱۸۔ اسلام از دیدگاہ چشم مسیحیان، محمد خاتم پیامبران، نیتو صمیمی مجتبی ، تہران انتشارات حسینیہ ارشاد