Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 تمہید :

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں مختلف ملل و مذاہب کے مصنفین اور دانشمندوں نے گفتگو کی ہے اور بہت ساری کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ہر ایک کتاب حضرت علیؑ کی زندگی کے ایک چھوٹے سے حصے کو بیان کرتی ہے اور ان کی زندگی کا ہر پہلو تمام نوع انسانی بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب و مکتب، قوم و ملت، شرق و غرب زندگی کے تمام مراحل، شعبے اور ادوار کے لئے مشعل راہ ہے۔ آج علماء و دانشور اپنی علمی پیاس بجھانے اپنے ہادی سے درس ہدایت کی تلاش میں ہیں۔ زاہد، متقی، عابد امام المتقین کی تلاش میں ہیں۔ انسانی حقوق سے لے کر اس کائنات میں موجود ہر ذی حق کے حق تک یا عائلی حقوق سے لےکر عالمی طبقاتی و غیر طبقاتی حقوق تک سب فطری طور پر ایک ایسے ہی فطری رہنماء کی تلاش میں ہیں۔ سیاستدان اپنی سیاست، دیندار اپنے دینی مسائل، تاجر اپنی تجارت کے معاملات میں، محقق اپنی تحقیق کے مراحل میں، فطرت سلیم جیسے کامل ترین رہنماء کی تلاش میں ہیں۔ مختلف مکاتب و مسالک، مذاہب و ادیان کے علماء و دانشوروں نے حضرت علی علیہ السلام کو ان تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیا ہے۔ ہم اپنے اس مختصر مقالے میں حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں چند ایک غیر مسلم دانشوروں کے افکار و نظریات کو مختصر طور پہ بیان کرتے ہیں۔

 

مادام دیالافو (Jane Dieulafoy) :
یہ ایک فرانسیسی سیاح ہے جو حضرت علیؑ کے بارے میں لکھتا ہے : شیعہ علی علیہ السلام کا بےنہایت احترام کرتے ہیں اور حق بھی یہی ہے کیونکہ اس بزرگ ہستی نے اسلام کی سربلندی و سرافرازی کے لئے جنگوں کے علاوہ بہت ساری فداکاریاں انجام دی ہیں ۔ علم ، فضائل ، عدالت اور نیک صفات میں بے مثال تھے ۔ اپنے بعد ایک پاک و پاکیزہ اور مقدس نسل کو باقی رکھا جنہوں نے ان کی پیروی کی اور اسلام کی سربلندی کے لئے مظلومانہ طریقے سے اپنی جانیں قربان کیں ۔ امیرالمومنین علی ؑ وہ ہستی ہیں جنہوں نے ان تمام بتوں کو توڑا جنہیں اعراب خدا کے شریک سمجھتے تھے ۔ علی ؑ نے توحید و یکتا پرستی کی تبلیغ کی ۔ علی ؑ وہ ہستی ہیں کہ جن کا کردار اور عمل تمام انسانوں کے لئے عادلانہ تھا ۔


جانین( Janen ):
یہ جرمنی کا ایک مشہور و معروف شاعر ہے جو حضرت علیؑ کے بارے میں لکھتا ہے : "علی علیہ السلام سے محبت کرنے اور اُن پر فدا ہونے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ ہی نہیں کیونکہ وہ شریف النفس اور بلند مرتبہ کے جوان تھے۔ ایسےپاک نفس کے مالک تھے جو مہربانی اور نیکی سے لبریز تھا۔ اُن کا دل جذبہ ایثار اور ہمدردی سے سرشار تھا۔ وہ بپھرے ہوئے شیر سے بھی زیادہ بہادر اور شجاع تھے، ایسی شجاعت جو لطف و مہربانی، ہمدردی اور محبت کے جذبات سے سرشار تھی"۔


پروفیسر استانسیلاس گویارد ( Guyard,Stanisals) :
یہ فرانس کے ایک پروفیسر اور مشہور و معروف مصنف ہیں جو حضرت علیؑ کے بارے میں فرماتے ہیں:" معاویہ نے روح اسلام کے خلاف بہت سے اقدامات کئے جیسے علی ابن ابی طالبؑ کے ساتھ جو بعد از پیغمبر اسلامﷺ شجاع ترین، پرہیزگار ترین، فاضل ترین اور خطیب ترین فردِ عرب تھے، سے برسرِ پیکارہوگیا"۔


واشنگٹن ارونیک ( Washington Irving) :
یہ امریکہ کے ایک محقق اور مصنف ہیں جو حضرت علی ؑکے بارے میں لکھتے ہیں : علی علیہ السلام کا تعلق عرب قوم کے با عظمت ترین خاندان یعنی قریش سے تھا ۔وہ تین بڑی خصلتوں ، شجاعت ، فصاحت اور سخاوت کے مالک تھے ۔ ان کی دلیرانہ اور شجاعانہ روح کی وجہ سے انہیں شیر خدا کا لقب ملا ۔ وہ لقب جسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں عطا کیا۔


جُرجی زیدان (Jurji Zaydan) :
یہ عرب کے مشہور و معروف عیسائی دانشور اور مصنف ہیں جو حضرت علی ؑکے حوالے سے لکھتے ہیں: اگر میں کہوں کہ( مسیح حضرت عیسیٰ ؑ) علی علیہ السلام سے بالا تر تھے تو میری عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی اور اگر میں کہوں کہ علی علیہ السلام مسیح سے بالاتر تھے تو میرا دین اجازت نہیں دیتا ۔ "معاویہ اور اُس کے ساتھیوں نے اپنے فردی مقاصد کے حصول کیلئے کسی بھی جنایت سے دریغ نہ کیا لیکن علی ؑاور اُن کے ساتھی صراطِ مستقیم اور حق کے دفاع سے کبھی پیچھے نہ ہٹے"۔


ڈاکٹر پولس سلامہ ( Dr.Bolas Salameh) :
یہ ایک عیسائی ادیب و حقوق دان ہیں جو حضرت علی ؑکے بارے میں لکھتے ہیں:علی علیہ السلام اس مقام و منزلت تک پہنچ چکے تھے کہ ایک دانشور اسے علم و ادب کے آسمان کا درخشان ستارہ سمجھتا اور ایک اعلی و برجستہ مصنف علی علیہ السلام کے شیوہ نگارش کی پیروی کرتا ہے۔ ایک فقیہ ہمیشہ علی علیہ السلام کی تحقیقات و ابتکارات پہ تکیہ کرتا ہے۔ علی علیہ السلام اپنے فیصلوں میں کسی استثناء کے قائل نہیں ہوتے اور عدل و انصاف کے مطابق حکم کرتے ، غلام و آقا کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے تھے۔ علی علیہ السلام ہمیشہ یتیموں و فقیروں کی حالت پہ غمگین ہوتے اور ان کا خیال رکھتے تھے۔


ایلیاپاولویچ پطروشفسکی ( Pavlovich Petrushevsky Ilya ) :
یہ روس کے معروف مورخ و تاریخ دان ہیں جو حضرت علی ؑکے بارے میں لکھتے ہیں : "علیؑ ،محمدﷺ کے تربیت یافتہ اور دین اسلام کے بےحد وفادار تھے۔ علی علیہ السلام عشق کی حد تک دین کے پابند ، سچے اور صادق تھے۔ اخلاقی معاملات میں انتہائی منکسر المزاج تھے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ اُن کے وجودِ پاک میں ولی خدا ہونے کیلئے تمام لازم اور ضروری صفات موجود تھیں"۔


روڈلف زیگر (Rudolf Zechner) :
یہ جرمنی کے معروف محقق و مصنف ہیں جو حضرت علیؑ کے بارے میں فرماتے ہیں :صدر اسلام میں علی علیہ السلام بے مثال دانشمندوں میں سے ایک تھے۔ علی علیہ السلام مختلف ممالک خصوصا ایران میں اچھی طرح جانے پہچانے جاتے تھے ۔ جبکہ وہ ایک جوان مرد تھے اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ایک جوان دانشور اپنی زادگاہ و ملک سے باہر معروف ہو اور احترام پیدا کرے ۔


بارون کارادوو (Bernard Carra de Vaux) :
یہ فرانس کے ایک مشہور و معروف محقق و مورخ ہیں جو کہ حضرت علیؑ کے بارے میں لکھتے ہیں : "علی علیہ السلام ایسے بلند ہمت، شجاع اور بہادرانسان تھے جو پیغمبر اسلام کے ہمراہ اُن کے قدم بہ قدم دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑتے رہے اور آپ نے بہت بڑے عظیم کام انجام دئیے۔ معرکہٴ بدر میں علیؑ 20سالہ جوان تھے کہ اپنے ایک ہی وار میں قریش کے ایک گھڑ سوار کو دو ٹکڑے کردیا۔ جنگ ِ اُحد میں پیغمبر اسلام کی تلوار(ذوالفقار) کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دشمن کے سروں کو کاٹ دیا۔ اُن کی زرہوں کو پھاڑ دیا۔ جنگ ِخیبر میں ایک ہی حملے میں یہودیوں کے قلعہ کے بہت ہی وزنی دروازے کو اپنے ایک ہاتھ سے اکھاڑ دیا اور اُسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ پیغمبر اسلام اُن کو بہت عزیز رکھتے تھے اور اُن پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ ایک دن پیغمبر نے علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: (مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌ مَوْلَاہُ) ۔

 

ویل دورانٹ ( Will Durant) :
یہ انگلینڈ کے مشہور مستشرق ہیں جو حضرت علیؑ کے بارے میں فرماتے ہیں :علی علیہ السلام جوانی کے عالم میں ہی دین کی راہ میں تواضع ، تقوی ، خوش خلقی و اخلاص کے نمونہ کامل تھے ۔

 

جارج جرداق (George Jordac) :
یہ ایک مسیحی لبنانی مشہور و معروف مصنف ہیں جنہوں نے (الامام علی صوت العدالۃ الانسانیۃ)کے عنوان سے پانچ جلدوں پر مشتمل حضرت علی علیہ السلام پہ کتاب لکھی ہے جو عصر حاضر میں اپنی نوعیت کی بے مثال کتاب ہے ۔


جارج جرداق علی علیہ السلام کی عدالت کے بارے میں فرماتے ہیں : (قُتِلَ فِی مِحْرَابِهِ لِعَدْالِتِهِ) علیؑ اپنی عدالت کی وجہ سے نماز کے محراب میں مارے گئے ۔ خرد میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ وہ اسلام کے قطب اور معارف و علوم عرب کے سرچشمہ تھے۔ عرب میں کوئی ایسا علم پایا نہیں جاتا جس کی بنیاد علی علیہ السلام نے نہ رکھی ہو یا اس کے وضع میں شریک و سہیم نہ رہے ہوں ۔ علی علیہ السلام کی لوگوں کے ساتھ الفت اور لوگوں کی علی علیہ السلام کے ساتھ محبت اور دوستی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حقیقی بزرگوار وہ ہے جو نیکی کا دوستدار ہو اور اسی نیکی کی راہ میں شہید ہو۔ علی ؑ وہی شہید بزرگوار ہیں ۔ علی ابن ابی طالب علیہ السلام منبر پر بڑے اطمینان اور اعتمادِ کامل کے ساتھ اپنے ارشاداتِ عادلانہ کا پرچار کرتے اور تقریر کرتے۔ وہ بہت سمجھ دار اور جلد نتیجہ پر پہنچنے والے انسان تھے۔ وہ لوگوں کے دلوں کے رازوں سے آگاہ تھے اور اُن کی اندرونی ہوس و خواہشات سے بھی واقف تھے۔ علی علیہ السلام ایسا دل رکھتے تھے جو محبت و مہربانی سے مالا مال تھا اور آزادی اور فضائلِ انسانیت سے پُر تھا۔ علی علیہ السلام سچائی اور راست گوئی سے زندگی میں پہچانے گئے اور یہ ان کا طرہ امتیاز ہے۔ آج کے دور میں جب ایسے حالات پیدا کردئیے گئے ہیں جو اقوام کی بدبختی کا باعث ہیں اور دنیا جنگ کے شعلوں میں جل رہی ہے، یقینا واجب ہے کہ ہم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ارشادات و اقوال پر کان دھریں اور اُن کو مشعلِ راہ بنائیں اور اُن کے آگے سرِ تعظیم خم کردیں"۔


شُمَیِّل شبلی ( Shameel Shibly) :
یہ ایک عیسائی محقق و ڈاکٹر ہیں جو حضرت علیؑ کے بارے میں لکھتے ہیں :"امام علی ابن ابی طالب علیہما السلام تمام بزرگ انسانوں کے بزرگ ہیں اور ایسی شخصیت ہیں کہ دنیا نے مشرق و مغرب میں، زمانہٴ گزشتہ اور حال میں آپ کی نظیر نہیں دیکھی"۔

 

خلیل جبران ( Kahlil Gibran) :
یہ ایک مشہور و معروف عرب عیسائی مفکر مصنف و دانشور ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں :"میرے عقیدے کے مطابق ابو طالب کا بیٹا علی علیہ السلام پہلا عرب تھا جس کا رابطہ کل جہان کے ساتھ تھا ۔ وہ عرب کی پہلی شخصیت تھے جنہوں نے روح کلی کے نغمے لوگوں کے گوش گزار کئے جنہیں کسی نے اس سے پہلے نہیں سنا تھا ۔ علی علیہ السلام نے اس حال میں دنیا فانی سے رخت سفر باندھا کہ اپنی رسالت کو دنیا والوں تک نہیں پہنچا سکے ۔ ان پیغمبروں کی طرح جو کسی قوم یا ملت میں مبعوث ہوتے تھے لیکن ان میں پیامبران کے لئے کوئی گنجائش اور ان کی معرفت نہیں ہوتی تھی اور ایسے لوگوں کے درمیان ہوتے تھے کہ وہ ان پیغمبروں کے لائق اور قابل نہیں تھے۔ اور ایسے زمانے میں ظہور کرتے تھے جو ان کا زمانہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کام میں خدا کی کوئی مصلحت پوشیدہ ہے کہ خدا خود دانا تر ہے ۔


ہنری لامنس (Henri Lammens) :
یہ بیلجیم کے مشہور مستشرق ہیں جو حضرت علیؑ کے بارے میں لکھتے ہیں :علی علیہ السلام کی عظمت کے لئے اتنا بس ہے کہ وہ تمام اخبار و معارف کا سرچشمہ ہیں۔ ان کا حافظہ و توانائی حیرت انگیز تھی ۔ تمام علماء و دانشور اپنی احادیث اور اخبار کو وثاقت اور اعتبار بخشنے کے لئے ان تک پہنچاتے ہیں اور تمام علمائے اسلام ، مخالف و موافق ، دوست و دشمن اس بات پر افتخار کرتے ہیں کہ وہ اپنی باتوں کو علی علیہ السلام سے استناد کرتے ہیں ۔


تھامس کارلائل (Thomas Carlyle) :
یہ ایک انگریز فلاسفر اور رائٹر ہیں جو حضرت علیؑ کے بارے میں لکھتے ہیں :"ہم علیؑ کواس سے زیادہ نہ جان سکے کہ ہم اُن کو دوست رکھتے ہیں اور اُن کو عشق کی حد تک چاہتے ہیں۔ وہ کس قدر جوانمرد، بہادر اور عظیم انسان تھے۔ اُن کے جسم کے ذرّے ذرّے سے مہربانی اور نیکی کے سرچشمے پھوٹتے تھے۔ اُن کے دل سے قوت و بہادری کے نورانی شعلے بلند ہوتے تھے۔ وہ دھاڑتے ہوئے شیر سے بھی زیادہ شجاع تھے لیکن اُن کی شجاعت میں مہربانی اور لطف و کرم کی آمیزش تھی۔ حضرت علیؑ کوکوفہ میں قتل کیا گیا ۔عدالت میں سختی اس جنایت کی وجہ بنی۔ وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح عادل تصور کرتے تھے ۔شہادت سے پہلے اپنے قاتل کے بارے میں فرمایا :اگر میں زندہ رہا تو میں جانتا ہوں(کہ مجھے کیا فیصلہ کرنا چاہئے) ۔اگر میں زندہ نہ رہا تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے۔اگر آپ نے قصاص لینا چاہاتو آپ صرف ایک ہی ضربت لگا کر سزا دیں اور اگر اس کو معاف کردیں تو یہ تقویٰ کے نزدیک تر ہے"۔


میخائل نعیمہ (Mikha'il Na'ima) :
"یہ عرب کے مشہور عیسائی متفکر و مصنف ہیں جو حضرت علی ؑکے بارے میں فرماتے ہیں : امام علی علیہ السلام کی قوت و شجاعت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی ۔ بلکہ طہارت ضمیر ، حرارتِ ایمانی ، تقویٰ ، نرم خوئی ، بلند ہمتی ، دردِ انسانی ، فصاحت و بلاغت ، مستضعفین اور مظلومین کی مدد اور حق کی حمایت کے میدانوں کے بھی فاتح تھے ۔ اورہر حال میں حق کے لئے سر تسلیم خم تھے چاہے حق جس شکل و صورت میں بھی تجلی پیدا کرے اگرچہ حضرت علی ؑ کو اس دنیا سے گزرے صدیاں بیت چکی ہیں لیکن آپ ؑ کی یہ ضمیر اور نفس کی فتوحات ہمیشہ سے ہمارے لئے محرک اور مشوق رہی ہیں ۔


نرسیسان ( Nrsysan) :
یہ ایک مشہور و معروف عیسائی دانشور ہیں جو حضرت علی ؑکے بارے میں لکھتے ہیں :اگر یہ با عظمت خطیب امام علی علیہ السلام آج اسی زمانے میں مسجد کوفہ کے منبر پہ جاتے ، آپ دیکھتے کہ مسجد کوفہ اپنی اس وسعت کے باوجود ، علی علیہ السلام کے علم بیکراں سے استفادہ کرنے کے لئے مغرب کے لوگوں اور دنیا کے دانشوروں سے کھچا کھچ بھر جاتی۔


ابولفرج اہرون معروف بہ ابن العبری :
یہ ایک معروف عیسائی مورخ و دانشور ہیں جو حضرت کے بارے میں لکھتے ہیں :وہ علی علیہ السلام ہی تھے کہ جنہوں نے خلفاء کے زمانے میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فقدان اور خلا کو پر کیا، پیغمبر اسلام کے بعد عقیدتی جنگوں کی ذمہ داری ان کے اوپر تھی ۔ جس کی گواہی تاریخ میں ثبت شدہ علی علیہ السلام کے مناظرات و احتجاجات دیتے ہیں ۔ خلفاء کے درمیان حضرت علی علیہ السلام کے وجود مقدس نے پیغمبر کے با عظمت مقام و منزلت کو پر کیا ہوا تھا۔ شیعہ و سنی کتابیں ایسے مطالب سے پر ہیں جس کا ایک چھوٹا سا نمونہ حضرت عمر کا یہ معروف جملہ ہے " لولا علی لھک عمر " جو کہ کم از کم ستّر مرتبہ تاریخ میں ثبت و ضبط ہو چکا ہے۔


حرف آخر :
اس مختصر سے مقالے میں اس ہستی کے بارے میں غیر مسلم دانشوروں کے نظریات کی جستجو کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ معلوم ہوا ہر ایک نے ایک خاص زاویے سے امام علی علیہ السلام کی شخصیت پر نگاہ ڈال کر آنحضرت علیہ السلام کے کمالات کا اعتراف کیا ہے ۔ امام علی علیہ السلام کے کمالات کے مطابق اگر کل کائنات بھی آنحضرت علیہ السلام کی مدح و ستائش میں گفتگو کرے تب بھی اس ہستی کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اب بھی اس ہستی کے بارے میں بات کرنا ایسا ہے جیسے آج ہمارے دور کی کسی ہستی کے بارے میں گفتگو ہورہی ہو ۔ اس طولانی مدت میں اس ہستی کے بارے میں بے حد کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن اس کے باوجود اس ہستی کی حقیقت تک کوئی نہیں پہنچ سکا ۔ جس طریقے سے اسے جانا اور پہچانا جاتا ، اس کی معرفت حاصل نہیں کرسکے ۔ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں گفتگو کرنا فقط ان کی ظاہری زندگی کے ادوار اور تاریخ تک منحصر نہیں ہے ۔ ان کے اعمال ، گفتار ، خطوط ، احکام و غیرہ سب کے سب اپنے اندر حکمت و دانش کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہیں جو ہر ایک اپنی جگہ پہ دنیا والوں کے لئے مشعل راہ اور دستورالعمل بن سکتے ہیں ۔ اسی وجہ سے تاریخ کی اس بزرگ ہستی ، پرچم دار و منادی انسانی حقوق کے بارے میں گفتگو کرنا حقیقت میں کسی ملت و مذہب کے ساتھ مختص و منحصر نہیں اور دنیا کے تمام لوگوں کے ساتھ مربوط ہے اور حضرت علی ؑ ایک ابدی حقیقت ہیں جن کو کبھی زوال نہیں آسکتا اور نہ ہی زمانے کے قفس ان کو اپنے حصار میں مقید کرسکتے ہیں۔


امید ہے کہ یہ مختصر مقالہ حق کے متلاشی نہ فقط مؤمنین اور مسلمین بلکہ تمام عالم انسانیت کے لئے قابل استفادہ قرار پائے اور ہم سب کو توفیق ہو حضرت امام علی علیہ السلام کے فرامین کو اپنی زندگی کے لئے رہنماء قرار دیں ، جن کی پیروی میں دنیا و آخرت کی سعادت و خوشبختی پوشیدہ ہے ۔

 

منابع :

۱۔ اسد، علی زادہ، اکبر، امام علی از نگاہ اندیشمندان غیر شیعہ۔

۲۔  سراج ، محمد ابراہیم ، امام علی علیہ السلام خورشید بی غروب ۔

۳۔ رضایی ، عبدالرحمن، درآستانہ آفتاب۔

۴۔ کریم خانی، صمدانی، علی علیہ السلام فراسوی ادیان ۔

۵۔ جرج جرداق، امام علی علیہ السلام صدای عدالت انسانی، ترجمہ ہادی خسرو شاہی، ج۱۔

۶۔ رہبر،محمد تقی، علی علیہ السلام ابرمرد مظلوم ۔

۷۔ مظاہری، حسین، چہاردہ معصوم ۔

۸۔ جعفری، محمد تقی ، ترجمہ و تفسیر نہج البلاغہ، ج۱ ۔

۹۔ عبدالفتاح عبدالمقصود، الامام علی بن ابی طالب ؑ ، جلد ۱، مقدمہ ، ترجمہ سید محمد مہدی جعفری ۔