Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 تحریر : عین الحیات

امام موسی کاظم علیہ السلام ۷ صفر ۱۲۸ھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ابوا نامی علاقہ میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد امام جعفر صادق علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب حمیدہ ہیں ۔ اسم گرامی موسی اور کنیت ابوالحسن ، ابو ابراہیم ، ابو علی اور ابو اسماعیل تھی اور آپ کے القاب عبد صالح ، نفس زکیہ ، زین المجتہدین ، صابر ، امین ، زاہد اور صالح تھے ۔ آپ کا سب سے مشہور لقب کاظم ہے ۔ ۲۵ رجب ۱۸۳ھ کو بغداد میں سندی ابن شاہ ملک کے قید خانہ میں شہید ہوئے اور قریش کے قبرستان میں دفن ہوئے جو کاظمین کے نام سے مشہور ہے ۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک ۵۵ سال تھی ۔ آپ نے ۲۰ سال سے اپنے والد کے ساتھ زندگی بسر کی اور ۳۵ سال منصب امامت پر فائز رہے[i]۔

 

امام موسی کاظم علیہ السلام نے ماحول فراہم نہ ہونے کی وجہ سے خلفاء وقت کے ساتھ کسی قسم کا ٹکراو نہیں رکھا وہ عبادت اور اپنی زندگی کے دوسرے امور کی دیکھ بال میں مصروف رہنے کے علاوہ اپنا زیادہ وقت دینی علوم کی ترویج ، لوگوں کی ہدایت ، شاگردوں اور راویان حدیث کی تعلیم و تربیت میں صرف کرتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے زمانے کے خلفاء اور حکام آپ کی علمی شخصیت اور سماج میں آپ کے عزت و احترام سے خوفزدہ اور ہمیشہ آپ اور آپ کے شیعوں کی طرف سے ہوشیار رہتے تھے ان کے نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے ۔اور ان کی زندگی میں مختلف قسم کے مشکلات کھڑی کرتے تھے ۔کئی مرتبہ آپ کو مدینہ سے بغداد بلایا گیا اور کئی مرتبہ آپ کے قتل کا ارادہ بھی کیا گیا ۔لیکن مصلحت پروردگار کہ ایسا نہیں کر سکے اور امام علیہ السلام صحیح و سالم دوبارہ واپس مدینہ لوٹے ۔ آخر کار اپنے بعض رشتہ داروں کی شکایت پر ہارون الرشید کے ذریعے آپ کو مدینہ سے بغداد بلایا گیا ۔ اور ایک طویل مدت تک بصرہ اور بغداد کے قید خانہ میں قید رکھا گیا ۔آپ کا آخری قید خانہ بغداد میں سندی ابن شاہک کا قید خانہ تھا اس قید خانہ میں آپ کے ساتھ بہت سخت برتاو کیا جاتا تھا ۔ایک دن اسی قید خانے میں ہارون الرشید کے حکم سے سندی ابن شاہک نے آپ کو زہر دیا چند روز کے بعد آپ کی شہادت واقع ہو گئی ۔ آپ کا جسد اطہر بغداد کے پاس قریش کے قبرستان میں دفن کیا گیا [ii]۔

 

فضائل و کمالات :

امام موسی ابن جعفر علیہ السلام اپنے آباواجداد کی طرح تمام انسانی کمالات کے حامل اور اپنے زمانے کے تمام افراد میں سب سے نمایاں تھے ۔بہت سے علماء نے آپ کی شخصیت کو سراہا ہے یہاں پر چند نمونے پیش کئے جا رہے ہیں ۔ ابن صباغ مالکی :نے تحریر کیا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام عظیم ، جلیل القدر اور یکتائے روزگار امام تھے ۔آپ ایک عظیم دانشور اور حجت تھے ان کی راتیں عبادت میں بسر ہوتی تھیں ، خطا کاروں کی خطا وں کو اتنا نظر انداز کرتے تھے کہ آپ کا نام ہی کاظم پڑ گیا ۔آپ عراق کے لوگوں میں باب الحوائج کے نام سے مشہور ہیں [iii]۔

احمد ابن ہجر ہیثمی :نے لکھا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام علم و معرفت ،کمال اور فضیلت میں اپنے والد کے وارث تھے آپ اتنے حلیم اور بردبار تھے کہ آپ کا نام کاظم پڑگیا ۔آپ عراق کے لوگوں میں باب الحوائج کے نام سے مشہور ہیں ۔اپنے زمانے میں سب سے بڑے عبادت گزار سب سے زیادہ عالم اور سب سے زیادہ سخی اور صاحب کرم تھے [iv]۔

ابن حجر عسقلانی : نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ کے فضائل و کمالات بہت زیادہ ہیں [v]۔

ابن شہر آشوب : نے تحریر کیا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام فقہ اور حفظ قرآن میں اپنے زمانے کے تمام انسانوں سے بہتر تھے۔ قرآن مجید کی بہترین آواز سے تلاوت کرتے تھے قراءت قرآن کے وقت گریہ فرماتے تھے ساتھ ساتھ سامعین بھی گریہ فرماتے تھے ۔ آپ کی شان اور مرتبہ سب سے افضل تھا ۔آپ کا دست مبارک سب سے زیادہ سخی ، زبان سب سے زیادہ فصیح اور قلب مبارک سب سے زیادہ شجاع اور بہادر تھا ولایت کا شرف آپ سے مخصوص تھا ۔آپ کو پیغمبر اسلام کی میراث ملی اور خلافت کے منصب پر فائز ہوئے [vi]۔ شیخ مفید علیہ الرحمہ : نے تحریر کیا ہے کہ حضرت امام ابوالحسن علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے عبادت گزار ، سب سے زیادہ عالم اور سب سے زیادہ سخی اور کریم تھے [vii]۔

 

علم و حکمت :

جیسا کہ دینی مسائل سے مکمل واقفیت امامت کے لئے ضروری شرائط میں سے ہے اور یہ فطری طور پر تمام ائمہ معصومین علیہم السلام میں پائی جاتی ہے لہذا امام موسی بن جعفر علیہ السلام میں بھی یہ کمال موجود تھا ۔آپ اپنے زمانے میں علم و فقہ میں مشہور تھے آپ کے زمانے کے لوگ ،آپ کے عظیم علمی مرتبہ کا اعتراف کرتے تھے اور آپ کو افقہ سب سے بڑا فقیہ سمجھتے تھے ۔ ابن صباغ مالکی :نے تحریر کیا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے عبادت گزار ، سب سے زیادہ عالم ، سب سے زیادہ سخی اور کریم انسان تھے [viii]۔

مامون کا بیا ن ہے کہ میں نے اپنے والد ہارون الرشید سے عرض کیا ، یہ شخص جس کا آپ نے اتنا احترام کیا کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا  یہ موسی ابن جعفر علوم انبیاء کے وارث تھے اگر تمہیں صحیح علم چاہئے تو ان سے مل سکتا ہے [ix]۔ آپ علیہ السلام کے علمی مرتبہ کا اندازہ لگانے کے لئے آپ سے وارد ہونے والی کثیر روایات کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے جو احادیث کی کتابوں میں ذکر ہیں ۔اسی طرح اپنے زمانے کے حکام اور علماء اہلسنت کے ساتھ آپ کے مناظرے اور احتجاجات کا مطالعہ اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ ایک محقق نے مختلف موضوعات سے متعلق آپ کی تمام احادیث کو جمع کیا ہے اور آپ سے روایت نقل کرنے والوں کی تعدادچھ سو اڑتیس ۶۳۸ افراد کا ذکر کیا ہے [x]۔

 

عبادت اور بندگی :

امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے آباو اجداد کی طرح اپنے زمانے کے سب سے بڑے عبادت گزار تھے اور ہمیشہ عبادت ، دعا ، قراءت قرآن اور اپنے پروردگار کے حضور خضوع و خشوع کی حالت میں رہتے تھے ۔ بلکہ خدا وند عالم کی عظمت ، قدرت اور اس کی توحید کے سلسلے میں اپنی عمیق معرفت کی بنا  پر اپنی زندگی کے تمام امور یہاں تک کہ کسب معاش بھی رضائے الہی کے لئے ہی انجام دیتے تھے ۔نمونے کے طور پر تاریخ و احادیث میں ذکر شدہ آپ کی بعض عبادتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ۔

حسن ابن محمد ابن یحیی علوی نے اپنے جد سے روایت کی ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام عبادت میں سعی کی وجہ سے عبد صالح کے نام سے یاد کئے جاتے تھے ۔ بعض اصحاب نے نقل کیا ہے کہ آپ مسجد النبی میں داخل ہوتے اور اول شب میں طویل سجدہ بجا لاتے ،آپ سجدہ میں فرماتے تھے " عظم الذنب عندی فلیحسن العفو من عندک یا ھل التقوی و المغفرۃ " ترجمہ : معبود میرا گناہ بڑا ہے لیکن تیرا عفو اس سے کہیں بہتر ہے اے صاحب تقوا اور اے صاحب مغفرت ۔ اور سجدہ کی حالت میں صبح تک اسی دعا کو دہراتے رہتے تھے [xi]۔ یحیی ابن حسن کا بیان ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے عبادت گزار عالم ، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ کریم انسان تھے [xii]۔ ابن صباغ نے تحریر کیا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام عبادت میں سعی کی وجہ سے عبد صالح کے نام سے یاد کئے جاتے تھے [xiii]۔ ابن حجر نے لکھا ہے کہ موسی کاظم علیہ السلام سب سے بڑے عبادت گزار ، سب سے بڑے عالم ، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ کریم انسان تھے [xiv]۔ ابن حوزی حنفی نے کہا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام عبادت اور نماز شب میں سعی کی وجہ سے عبد صالح کے نام سے مشہور تھے [xv]۔ یعقوبی نے لکھا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام عبادت میں دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ سعی فرماتے تھے اور اپنے والد سے حدیث نقل کرتے تھے [xvi]۔

 

شیخ مفید علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا ہے ابولحسن موسی ابن جعفر علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے عبادت گزار ، سب سے زیادہ عالم ، سب سے زیادہ سخی اور کریم انسان تھے ۔ روایت میں ہے کہ آپ نماز شب کو نماز صبح سے ملا دیتے تھے اور پھر طلوع آفتاب تک تعقیبات میں مشغول رہتے تھے پھر سجدہ میں چلے جاتے تھے اور اس طرح ذکر کرتے تھے کہ ظہر تک سجدہ سے سر نہیں اٹھا تے تھے سجدہ کی حالت میں دعا کی بہت زیادہ تکرار فرماتے تھے ۔"اللھم ان اسئلک الراحۃ عندالموت والمغفرۃ بعد الموت والعفو عند الحساب " معبود میں تجھ سے موت کے وقت راحت ، موت کے بعد مغفرت اور حساب و کتاب کے وقت عفو و بخشش کا سوال کرتا ہوں [xvii]۔

سندی ابن شاہک جو موسی ابن جعفر علیہ السلام کے قید خانہ کا نگران تھا اس کی بہن آپ کے بارے میں بیان کرتی تھی : قید خانہ میں موسی ابن جعفر علیہ السلام کی عادت یہ تھی کہ نماز عشاء کے بعد خدا کی حمد و ثناء اور ذکر و عبادت میں مشغول ہوجاتے تھے نصف شب تک اس میں مصروف رہتے تھے پھر نماز شب شروع کرتے تھے اور آذان صبح تک اس میں مشغول رہتے تھے اس کے بعد نماز صبح پڑھتے تھے ۔ اور پھر طلوع آفتاب تک ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے اس کے بعد آفتاب بلند ہونے کے وقت تک آرام کرتے تھے ۔نماز ظہر بجا لاتے تھے اور نما ز عصر کی فضیلت کے وقت تک نافلہ میں مشغول رہتے تھے پھر نماز عصر پڑھ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھ جاتے تھے اور مغرب کے وقت تک ذکر خدا میں مشغول رہتے تھے نماز مغرب کے بعد نافلہ بجا لاتے تھے یہاں تک کہ نماز عشاء کی فضیلت کا وقت ہوجاتا تھا یہ آپ کی ہمیشہ کی عادت تھی ۔ سندی ابن شاہک کی بہن جو امام کو اس حالت میں دیکھتی تھی تو کہا کرتی تھی کہ جو اس عبد صالح کے ساتھ برائی کرتے ہیں وہ نقصان میں رہیں گے [xviii]۔

 

احمد ابن عبد اللہ نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں ایک دن فضل ابن ربیع کے پاس گیا وہ چھت پر بیٹھا تھا اس نے کہا : اس کھڑکی سے اس گھر میں دیکھو ،پھر پوچھا کہ کیا دیکھا ؟ میں نے کہا ایک کپڑا ہے جو زمین پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس نے کہا غور سے دیکھو ، میں نے غور سے دیکھا اور کہا ہے : لگتا ہے کوئی سجدہ میں ہے ۔ اس نے پوچھا کہ تم ان کو پہچانتے ہو ؟ وہ موسی ابن جعفر علیہ السلام ہیں ۔ رات دن میں ان کی نگرانی کرتا ہوں اور ان کو اس حالت کے علاوہ نہیں پاتا ۔ نماز صبح پڑھنے کے بعد طلوع آفتاب تک تعقیبات میں مشغول رہتے ہیں پھر سجدہ میں چلے جاتے ہیں اور ظہر تک سجدہ کی حالت میں رہتے ہیں ۔ انہوں نے کسی کو معین کر رکھا ہے جو ان کو نماز کے اوقات کی خبر دیتا ہے ، جب ان کو نماز کے وقت کی اطلاع دی جاتی ہے تو وہ سجدہ سے سراٹھا تے ہیں اور بغیر تجدید وضو کے نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں ان کی ہمیشہ کی یہی عادت ہے ۔ نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد افطار کرتے ہیں پھر تجدید وضو فرماتے ہیں اور سجدہ میں چلے جاتے ہیں آدھی رات کے بعد سے طلوع فجر تک نمازیں پڑھتے ہیں ۔بعض عینی شاہدین کا بیان ہے کہ آپ دعا میں فرماتے تھے :"اللھم انی کنت اسئلک ان تفرغنی لعبادتک و قد فعلت فلک الحمد " معبود میں تجھ سے سوال کرتا تھا کہ مجھے عبادت کا موقع فراہم کر ، تو نے یہ موقع فراہم کر دیا تو حمد و شکر کا مستحق ہے [xix]۔ ابراہیم ابن ابی البلاد کا بیان ہے امام ابولحسن نے فرمایا : کہ میں روزانہ پانچ ہزار مرتبہ استغفراللہ کہتا ہوں ۔

 

راہ خدا میں انفاق اور حسن سلوک :

شیخ مفید علیہ الرحمہ نے تحریر کیا ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام اپنے اقرباء کے ساتھ صلہ رحم فرماتے تھے ۔ فقراء مدینہ کا خیال رکھتے تھے راتوں کو ان کے لئے درہم ، دینار ، آٹا اور خرما پہنچاتے تھے اور ان کو معلوم بھی نہیں ہوپاتا تھا کہ یہ چیزیں ان تک کہاں سے پہنچتی ہیں ۔

محمد ابن عبداللہ بکری کا بیان ہے کہ میں مدینہ گیا تا کہ کچھ پیسے قرض لے سکوں لیکن مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا جو میری ضرورت پوری کر سکتا ہو میں نے سوچا بہتر ہے حضرت ابولحسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں شاید وہ میری مشکل آسان کر دیں ۔آپ مدینہ سے باہر اپنی زراعت کی دیکھ بھال میں مصروف تھے میں آپ کی خدمت  بابر کت میں حاضر ہوا آپ اپنے غلاموں کے ساتھ میرے پاس آئے ۔ غلاموں کے پاس طرح طرح کے ظروف تھے ۔ اور ان میں پکے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے ۔ موسی ابن جعفر علیہ السلام نے گوشت کے ٹکڑوں کو تناول فرمایا ۔ میں نے بھی آپ کے ساتھ کھانا کھا یا اس کے بعد آپ نے میری حاجت دریافت کی جب میں نے آپ کے سامنے اپنی ضرورت بیان کی آپ میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آئے ۔پہلے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہاں سے ہٹ جائے اس کے بعد مجھے ایک تھیلی عطا کی جس میں تین سو دینار تھے پھر آپ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے میں وہ تھیلی لے کر اپنے مرکب پر سوار ہوا اور وہاں سے واپس آیا [xx]۔

عیسی ابن محمد جن کی عمر ۹۰ سال تھی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام عظام کے کنویں کے پاس ایک کھیت بنایا تھا اس میں تربوز ، کھیرے اور لوکی بوئی ہوئی تھی جب وہ چیزیں تیار ہو گئیں اور انہیں توڑنے کا وقت آیا تو ہمارے کھیت پر ٹڈیوں نے حملہ کردیا اور میرا پورا کھیت چٹ کر گئیں جب کہ میں نے اس میں ۱۲۰ دینار دو اونٹوں کو کرایہ پر بھی صرف کئے تھے میرا سب کچھ چلا گیا میں بیٹھا اپنے اس عظیم نقصان کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اچانک ادھر سے موسی ابن جعفر علیہ السلام کا گزر ہوا مجھ سے خیریت پوچھی میں نے آپ سے سارا واقعہ بیان کیا ۔آپ علیہ السلام نے پوچھا تم نے اس میں کتنا خرچ کیا تھا میں نے عرض کیا ۱۲۰ دینار ان دونوں اونٹوں کے کرایہ میں خرچ کئے تھے ۔ امام علیہ السلام نے اپنے نمائندہ سے فرمایا کہ ۱۵۰ دینار ابی الغیث کو دے دو اس کے بعد فرمایا کہ ۳۰ دینار جو زیادہ ہیں وہ تمہارا نفع ہے ۔میں نے عرض کیا : اے فرزند رسول میرے لئے دعا فرما دیں تا کہ خدا برکت عطا فرمائے آپ علیہ السلام نے میرے لئے دعا فرمائی [xxi]۔

بعض علماء کا بیان ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کی عطا و بخشش دو سو سے تین سو دینار کے بیچ میں ہوتی تھی اور آپ کی عطا کی ہوئی دینار کی تھیلیاں مشہور تھیں [xxii]۔

منصور نے موسی ابن جعفر علیہ السلام سے درخواست کی کہ عید نوروز میں تشریف رکھیں تا کہ لوگ آپ سے ملاقات کے لئے آئیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :میں نے اپنے جد پیغمبر اسلام کی احادیث میں جستجو کی تو مجھے عید نوروز کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ملی نوروز اہل فارس کی رسموں میں سے ایک رسم ہے اسلام نے اسے ختم کیا ہے میں اسے دوبارہ زندہ کرنا نہیں چاہتا ۔ منصور نے عرض کیا سیاسی طور پر فوج کو ہماہنگ رکھنے کے لئے عید نوروز منانا ضروری ہے آپ کو خدا کی قسم تشریف رکھیں ۔آپ نے منصور کی درخواست کو قبول کیا اور مبارکباد کے لئے بیٹھ گئے فوج کے کمانڈر ، امراء اور دوسرے عہدیدار آپ سے ملاقات کے لئے آئے اور امام کو مبارکباد کہا اور آپ کی خدمت میں ہدایا پیش کئے منصور کا خادم بھی وہاں موجود تھا جو ان ہدایا کی نگرانی کر رہا تھا ۔ نشت کے آخر میں ایک بوڑھا شخص آیا اور عرض کیا : اے فاطمہ بنت رسول کے فرزند میں فقیر انسان ہوں میرے پاس کچھ نہیں تھا جو آپ کے لئے ہدیہ لاتا لیکن میرے جد نے تین شعر آپ کے جد کے مصائب کے سلسلے میں لکھے ہیں میں ان کو پیش کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد اس نے وہ اشعار پڑھے ۔

امام موسی کاظم علیہ السلام نے اس سے فرمایا :میں نے تمہارا ہدیہ قبول کر لیا اس کے بعد منصور کے خادم سے کہا کہ خلیفہ کے پاس جا کر ہدایا کی فہرست پیش کرو اور اس سے پوچھو کہ ہم ان کا کیا کریں ۔خادم منصور کے پاس گیا اور واپس آکر عرض کیا کہ خلیفہ کا کہنا ہے یہ تمام اموال میں نے آپ کو عطا کر دئیے آپ جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام نے اس بوڑھے شخص سے کہا میں نے یہ سب ہدایا تجھے بخش دئیے [xxiii]۔

عمر ابن خطاب کی نسل کا ایک شخص مدینہ میں رہتا تھا موسی ابن جعفر علیہ السلام کو بہت اذیت دیتا تھا اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو بہت گالیاں دیتا تھا جس پر امام علیہ السلام نے عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دے دیں تو ہم اسے قتل کر دیں گے ۔ آپ نے ان کو اس کام سے سختی سے منع کیا ۔ امام علیہ السلام نے ایک دن اس شخص کے بارے میں پوچھا جو آپ کو اذیت دیتا رہتا تھا تو معلوم ہوا کہ فلاں جگہ پر اپنے کھیت میں کام کر رہا ہے جس پر آپ اپنے مرکب پر سوار ہو کر اس کے کھیت کی طرف گئے جس پر اس شخص نے اس طرح آپ کو اپنے کھیت میں آتا دیکھ کر تعجب کیا آپ اس کے پاس بیٹھ گئے اورمذاق میں مسکراتے ہوئے پوچھا کہ اپنے کھیت میں کتنے پیسے خرچ کئے ہیں ؟ اس نے عرض کیا : سو دینار ۔ آپ نے پوچھا : کتنے کی فصل تیار ہوگی ؟ اس نے کہا میرے پاس علم غیب نہیں ہے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا : میں پوچھ رہا ہوں تمہیں اس سے کتنا فائدہ ہوگا ؟ اس نے کہا : مجھے امید ہے کہ دو سو دینار کی فصل تیار ہوگی ۔ آپ نے اسے تین سو دینار عطا کئے اور فرمایا : یہ زراعت بھی تمہاری اپنی ہی ہے اس شخص نے اٹھ کر آپ کی پیشانی چوم لی ۔

موسی ابن جعفر علیہ السلام مدینہ واپس آگئے ایک دن آپ مسجد گئے اور مسجد میں اس شخص کو دیکھا جیسے ہی اس کی نظر موسی ابن جعفر علیہ السلام پر پڑی عرض کیا " اللہ اعلم یجعل رسالتہ " خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے ۔

اس شخص کے دوستوں نے جب اس کا یہ رویہ دیکھا تو اس پر اعتراض کیا ، اس نے ان سے بحث کرتے ہوئے امام موسی ابن جعفر علیہ السلام کی تعریف کی ۔ اس کے بعد ہمیشہ آپ کی تعریف اور مدح و ثنا کیا کرتا تھا ۔ امام موسی ابن جعفر علیہ السلام نے ایک دن اپنے دوستوں سے جو اس کو قتل کرنا چاہتے تھے فرمایا : کہ اس شخص کی اصلاح کے لئے تمہاری پیش کش صحیح تھی یا میرا عمل ؟ [xxiv]۔

 



[i]بحارالانوار ، ج ۴۸، ص ۱،۶،۷،مناقب آل ابی طالب ،ج ۴ ، ص ۳۴۸ ، الارشاد ، ج ۲ ، ص ۲۱۵

[ii]الارشاد ،ج ۲، ص ۲۳۴۔۲۳۷

[iii]الفصول المہمہ،ص ۲۱۳

[iv]الصواعق المحرقہ ،ص ۲۰۳

[v]تہذیب التہذیب ،ج ۱۰،ص ۳۴۰

[vi]مناقب آل ابی طالب ،ج ۴، ص ۳۴۸

[vii]الارشاد ، ج ۲ ، ص ۲۳۱

[viii]الفصول المہمہ ، ص ۲۱۹

[ix]مناقب آل ابی طالب ، ج ۴ ،ص ۳۳۵

[x]فضیلتوں کے نمونے ،ص ۳۳۸

[xi]تاریخ بغداد ، ج ۱۳، ص ۲۲

[xii]تہذیب التہذیب ،ج ۱۰، ص ۳۴۰

[xiii]الفصول المہمہ،ص ۲۱۹

[xiv]الصواعق المحرقہ،ص ۲۰۳

[xv]تذکرۃ الخواص ،ص ۳۴۸

[xvi]تاریخ یعقوبی

[xvii]الارشاد ، ج ۲ ، ص ۲۳۱

[xviii]تاریخ بغداد ، ج ۱۳ ، ص ۳۱

[xix]فضیلتوں کے نمونے ، آیت اللہ ابراہیم امینی ، ص ۳۴۱

[xx]مناقب آل ابی طالب ، ج ۴ ، ص ۳۴۳

[xxi]بحار الانوار ، ج ۴۸، ص ۱۱۹

[xxii]کشف الغمہ ،ج۳،ص ۱۹

[xxiii]مناقب آل ابی طالب ، ج ۴ ، ص ۳۴۴

[xxiv]تاریخ بغداد ، ج ۱۳ ، ص ۲۸