Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

تحریر: عید علی عابدی

تمهید :

دنیا کے تمام آسمانی دینوں میں ایک عظیم مصلح کا انتظار شامل ہے ہر قوم اس کو ایک مخصوص نام سے یاد کرتی ہے۔ اس بناء پر انتظار صرف اسلامی عقیدہ نہیں بلکہ تمام ادیان و مذاہب اپنے عقائد کے اختلاف کے باوجود ، اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں ۔ یہ عقیدہ محض ایک تسکین نہیں بلکہ نیکی اور قوت کا سر چشمہ ہے کیونکہ حضرت امام مہدی (عج) کے ظہور پر ظلم اور جور کے خاتمہ پر یقین ہے۔ آپ (عج)  کا تصور جھانی ہے اور تاریخی اعتبار سے اسلام سے پہلے سے ہے لیکن اسلام نے اور بالخصوص عالم تشیع نے آپ (عج)  کے جو علامتیں و خدوخال متعین کئے ہیں وہ سب سے واضح تر ہیں ۔ شیعہ عقیدہ کے لحاظ سے آپ (عج)  جسمانی طور پر زندہ ہیں اور یہی مرکزی خیال غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کی بنیاد ہے۔ وہ محض ایک اجنبی نجات دہندہ نہیں اور نہ ہی ایک تخیلی ہستی ہیں بلکہ ایک معین فرد ہیں جو ہمارے درمیان ایک حقیقی انسان کی مانند زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہماری امیدوں ، خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ دنیا کے مظالم کو دیکھتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح خود بھی متاثر ہوتے ہیں اور اس معینہ وقت کے انتظار میں ہیں جب ان کو ظاہر ہو نے کا حکم دیاجائےگا  ۔  

   

تحریر عید علی عابدی

مقدمہ:

((بَقِيَّةُاللّهِ خَيْرٌلَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ))

       یعنی اگر آپ حقیقی مؤمن ہیں تو خدا کی طرف سے رکھا ہوا ذخیرہ آپ لوگوں کے لئے بہتر ہے  ،کے بہترین مصداق یعنی امام مہدی موعود (عج) کے وجود مبارک  اور آپ ؑ کی غیبت کے بارے جتنا شک کیا گیا ہے اتنا شاید کسی اور امام ؑ یا حتی کسی پیامبر یا رسول کے بارے میں نہیں کیا گیا ہو!حالانکہ اس قسم کی غیبت گذشتہ امتوں میں کئی انبیاء اور رسولوں  کے بارے قرآن کریم کی بہت سی آیات میں ملتی ہے ، ان سب کے علاوہ رسول اکرم ﷺ  اور ائمہ ؑ نے بھی آخری امام   ( عج) کے بارے بلکہ تمام تر  رونما ہونے والے واقعات و حوادث  اور نشانیاں حتی آپ (عج) کے خدو خال وغیرہ تک بیان کئے ہیں، اگر میں یوں کہوں کہ  پیغمبر اکرم ﷺ کے ظہور کے وقت  آپ کی پہچان کے لئے جتنی خصوصیات اور علامات پہلے آسمانی کتابوں میں بیان ہوئی ہیں اسی طرح آپ (عج ) کے لئے بھی اگر زیادہ نہیں ہے تو کم بھی نہیں ۔ تعجب کیوں نہ ہو ،ان تمام کے باوجود ہر قدم  قدم  پر شک ڈالنےکی کوشش کی گئی ہے ۔جب سے مسلمانوں کے درمیان وہابیت کافتنہ کھڑا کیا گیا ہے ، اس وقت سے  آج  تک شک و شباات ڈالنے والوں میں سب سے زیادہ یہی لوگ کھل کر سامنے آگئے ہیں اور مہدی (عج) شناسی کے موضوع پر مختلف مضامین اور عناوین سے ، وسیع پیمانے پر شایع کررہے ہیں جیسے امام زمانہ (عج) ہونے کے جھوٹے مدعی افراد کی حمایت ، امام مہدی (عج) کے بارے کتابوں ، سٹیلائٹس ، سایٹوں و۔۔۔ میں توہین آمیز مواد کا نشر ۔ اس کے علاوہ وہابی مفتیوں کا امام زمانہ (عج) کے بارے توہین آمیز فتاوا ، نواب اربعہ اور ان کےما  ننے والوں کی توہین و طعنہ ،  ظہور کے قطعی نشانیوں سے مزاق و۔۔۔کے ذریعے شیعوں کے اذہان میں شک و شبہات ڈالنے کی لاحاصل کوششیں یعنی درواقع ثقافتی یلغار،جس کے نتیجے میں علناً شیعوں کا قتل عام جاری ہے ۔اب ان سب کو ایک بہت ہی مختصر اس جیسے مقالہ میں جمع کرکے ان سب  کا جواب دینا غیر ممکن ہے لھذا اس شمارہ کے علاوہ اگلے شماروں میں بھی سلسلہ وار  اس بحث و گفتگو کو بہ ترتیب قلم بند کرنے کی کوشش کرینگے  انشاءاللہ۔

 

خدارا چٹخلوں اور من گھڑت روایتوں اور غیر ضروری باتوں میں الجھا کر میرے مولا علی (ع) کی طبعی و بشری و فطری اور آفاقی انسیت اور انسانی مانوسیت کی حقیقت کو مسخ نہ کیا جائے۔نہیں اب مجھے میری روحانی و جسمانی و مادی ضرورت اور رہنمائی کرنے والے مولا علی (ع) کی تلاش ہے، مجھے عین فطرت اسلام کا عین فطرت علی (ع) چاہیے، کہ جس کے بارے میں کہا گیا کہ علی (ع) وہ ہیں کہ جس نے لوگوں کو راستہ دیکھایا اور جب دین راستے سے ہٹا تو اسے راہ راست پر لائے، مجھے ایسا علی (ع) چاہئے، مجھے مولا علی (ع) چاہئے۔

ولادت سے شہادت تک ایسے مبین وجود اور ہدایت کے حقیقی مینار کو ابہامات و توہمات کا لباس پہنا کر کسی گمنام علی کو ہمارے ذہنوں میں غیر مرئی مخلوق کے طور پر کیوں راسخ کیا جا رہا ہے؟

تحریر : محمد عارف حیدر

 

ان الله لا یضیع اجر المحسنین- ترجمہ: بے شک اللہ احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے۔

 

حضرت علی علیہ السلام کے  اسلام اور مسلمین کےلئے خدمات اور قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خدا وند منان نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں حضرت علی علیہ السلام کی عظمت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زبان مبارک سے بھی آپ ؑکے فضائل بیان ہیں ۔ ذیل میں احادیث نبویﷺ کی روشنی میں ترتیب سے، پہلے حضرت علی علیہ السلام کے وہ فضائل جو حضرتؑ کو صفت الہی سے متجلّی کرتے ہیں بیان کئے جائیں گے، پھر رسول گرامی اسلامﷺ سےمتعلق صفات بیان کی جائیں گی اور آخر میں حضرتؑ کے دیگر فضائل رسول رحمتﷺ کی زبانی بیان کیے جائیں گے۔

 

25 رجب راہب آل محمد،باب الحوائج و اسیر بغداد و کاظم الغیض کی شہادت کا دن اسلام کی ارتقائی بنیاد کو منہدم کرنے کا دن ہے ساتویں تاجدار ولایت و معارف توحید و رسالت و ستون اسلام کی حیات طیبہ کا جہاں روحانی و نورانی چہرا معاشرہ کی کوک کو منور کرتا ہے وہاں خود وجود معاشرہ و بقاء معاشرہ کا دارومدار بھی خدا کی انہی مستحکم بنیادوں کی مرہون منت ہے 14 سالہ قید ہو یا اس سے پہلے مشکلات اور صعوبتوں کا دور منصبی تقاضے کسی بھی جگہ فراموش نہیں کیے یہی وہ گوہر نایاب ہے جو عام انسان سے ممتاز کرتا ہے حالات و واقعات کے پیچ و خم اور معاشرتی نشیب و فراز اور طبعیتوں کا اتار چڑہاو کبھی بھی سلیم الفطرت منصب دار کو اپنے محکم عزم سے ہرگز نہیں دستبردار کرا سکتا یہی وہ نایاب پہلو ہے جو امام موسی کاظم (ع) میں بھی بدرجہ اتم نظر آتا ہے میں پوری سیرت پے بات کرنے سے کہیں قاصر ہوں مگر ایک فرمان زیشان امام پے نظر پڑتے ہی میرے وجدان کی کھڑکیاں کھل گئیں اور طبیعت میں ایک متائثر کن کرن ابھر ائی ظاہرا یہ ایک سادہ سا فرمان نظر اتا ہے مگر باطن میں یہ کلام الامام امام الکلام کا مصداق ہے امام کا یہ فرمان یقینا قیمتی زندگی کی زمانت ہے