Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 8

کل 9

اس هفته 8

اس ماه 181

ٹوٹل 22022

 تحریر:محمد حسین شریفی  

کوئی بھی تحریک وفادار ، فداکار اور اس تحریک کے اغراض و مقاصد پر دل کی گہرائیوں سے ایمان رکھنے والے بہترین ساتھیوں کی مدد کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔

اگرچہ اصحاب امام حسین ؑ تعداد میں زیادہ نہیں تھے لیکن بہترین خصوصیات اور اخلاقی فضائل کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اصحاب امام حسین حفاظ قرآن، قاریان کتاب ، عارفان امام وقت ، وفادارن اہلبیت ؑ اور حامیان حق تھے ۔

 تحریر :محمدنذیر

تمہید: ہر انسان اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں نشیب و فراز سے دوچار ہوتا ہے، وہ مختلف قسم کی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرتا ہے۔ عام طور پر لوگ مشکلات کے سامنے ہارمان کر اپنے آپ کو حالات کے بہاؤ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ لیکن انسانوں کے درمیان کچھ اس طرح کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو معاشرے میں موجود سخت ترین حالات اور کٹھن سے کٹھن لمحات میں بھی پائداری کا ثبوت  دیتے ہوئے ایک ذرّےبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے نمائندوں کی صحیح طرح سے معرفت حاصل کی اور اپنی زندگی  امامت اور ولایت کی اطاعت میں گزاری ۔ ائمہ اطہار  ؑ کو اپنی زندگی میں نمونہ اور آیڈیل قرار دیا ۔ ایثار و وفا کے پیکر، حیدر کرار ؑ کی تمنا ، ام البنین (س) کی آس ، حسنینؑ کے قوت بازو ، زینب و ام کلثوم (علیہما السلام) کی ڈھارس ، قمر بنی ہاشم حضرت ابوالفضل العباس ؑ کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے

تحریر: محمدنذیر اطلسی

تمهید:    

    حضرت عباس علیہ السلام کی ذات بابرکت، فضائل اوربرکات کاوہ موج زن سمندر ہے کہ ایک  یا چند مقالوں سے اس  عظیم شخصیت کے کسی ایک پہلو پر بھی سیر حاصل بحث نہیں کی جاسکتی، لیکن عربی کےاس معروف موکلہ«مالا یدرک کله لا یترک کلہکله» کومدنظررکھتےہوۓ  اس مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت عباس علمدار کی ایک اہم ترین صفت( وفاء) کےذیل میں کچھ مطالب بیان کریں ، البتہ یہ اعتراف کرتے ہوے کہ حضرت عباس (ع) کی زندگی تحلیل کرنا ایک معمولی کام نہیں ، اور مجھ جیسے بے بضاعت کے بس میں نہیں کہ ایک سیر حاصل بحث کر سکوں فقط اس امیدکے ساتھ  کہ میرا نام بھی محبان خاندان عترت و طہارت کی فهرست میں شامل ہوجاے آنحضرت (ع)کے فضائل و کمالات کے کچھ موتی اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں اورنیز اپنے اس مقالے کو یوم جانباز(غازیوں کادن) کی مناسبت سے اسلام کےتمام غازیوں کےنام منسوب کرتا ہوں۔

 

 

تحرير: محمد حسين شريفي

قال رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم: (الحسن و الحسین عليهما السلام امامان قاما او قعدا)۔

ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ کیا وجہ ہے کہ امام حسن ؑ مجتبی نے قیام نہیں فرمایا اور معاویہ کے ساتھ صلح کی, جبکہ امام حسین ؑ نے معاویہ کے بیٹے یزید کےخلاف قیام فرمایا اور جنگ کی ؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے ضروری ہےکہ پہلے ہم تین موضوعات  کا تحقیقی جائزہ لیں:              

١     ۔ امام حسن و امام حسین عليهما السلا م کے زمانے کے سیاسی حالات ۔ ۲ ۔ معاویہ  اور یزید میں روحی اور فکری لحاظ سے فرق۔

۳ ۔امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کے اصحاب کی خصوصیات ۔

 

تحریر: عید علی عابدی

تمهید :

دنیا کے تمام آسمانی دینوں میں ایک عظیم مصلح کا انتظار شامل ہے ہر قوم اس کو ایک مخصوص نام سے یاد کرتی ہے۔ اس بناء پر انتظار صرف اسلامی عقیدہ نہیں بلکہ تمام ادیان و مذاہب اپنے عقائد کے اختلاف کے باوجود ، اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں ۔ یہ عقیدہ محض ایک تسکین نہیں بلکہ نیکی اور قوت کا سر چشمہ ہے کیونکہ حضرت امام مہدی (عج) کے ظہور پر ظلم اور جور کے خاتمہ پر یقین ہے۔ آپ (عج)  کا تصور جھانی ہے اور تاریخی اعتبار سے اسلام سے پہلے سے ہے لیکن اسلام نے اور بالخصوص عالم تشیع نے آپ (عج)  کے جو علامتیں و خدوخال متعین کئے ہیں وہ سب سے واضح تر ہیں ۔ شیعہ عقیدہ کے لحاظ سے آپ (عج)  جسمانی طور پر زندہ ہیں اور یہی مرکزی خیال غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کی بنیاد ہے۔ وہ محض ایک اجنبی نجات دہندہ نہیں اور نہ ہی ایک تخیلی ہستی ہیں بلکہ ایک معین فرد ہیں جو ہمارے درمیان ایک حقیقی انسان کی مانند زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہماری امیدوں ، خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ دنیا کے مظالم کو دیکھتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح خود بھی متاثر ہوتے ہیں اور اس معینہ وقت کے انتظار میں ہیں جب ان کو ظاہر ہو نے کا حکم دیاجائےگا  ۔