Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

تحریر: سید آصف علی رضوی

 

امام زین العابدین ؑ  کی ولادت باسعادت:

آپ بتاریخ ۱۵/جمادی الثانی ۳۸ ھ ق،یوم جمعہ ( ایک قول کے مطابق ) ۱۵/ جمادی الاول ۳۸ ھ جمعرات کو بمقام مدینہ منورہ پیداہوئے  ۔(1)
علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانوایران سے مدینہ کے لیے روانہ ہورہی تھیں توجناب رسالت مآب نے عالم خواب میں ان کاعقدحضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پڑھ دیاتھا ۔(2) اورجب آپ واردمدینہ ہوئیں توحضرت علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے سپردکرکے فرمایاکہ یہ وہ عصمت پروربی بی ہے کہ جس کے بطن سے تمہارے بعدافضل اوصیاء اورافضل کائنات ہونے والابچہ پیداہوگا چنانچہ حضرت امام زین العابدین متولدہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کالطف اٹھانہ سکے ”ماتت فی نفاسہابہ“ آپ کے پیداہوتے ہی ”مدت نفاس“ میں جناب شہربانوکی وفات ہوگئی ۔(3)

 تحریر: محمد علی ذاکری

تمہید :
کسی بھی رہبر یا قائد کو اپنے مشن میں کامیابی اس وقت ملتی ہے جب اس کے پاس مخلص اور وفادار افراد ہوں۔ تاریخ میں بھی یہ حقیقت موجود ہے کہ اب تک   جو بھی اسلامی تحریکیں رونما ہوئیں اور ان میں کامیابی ملی ہے اس کا راز یہی ہے کہ اس تحریک کے قائدین کے پاس مخلص اور وفادار ساتھی موجود تھے۔ کربلا کے عظیم اور دلخراش واقعہ میں بھی امام حسینؑ کے پاس نہایت ہی وفادار اصحاب  تھے کہ جنکی قربانی کے سبب آپؑ کو کامیابی ملی۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہم آنے والی سطور میں امام حسینؑ  اور امام زمانہ عج کے اصحاب کی خصوصیات کے بارے میں بحث کریں گے ۔ چونکہ اہلبیتؑ کے پیروکار ہونے کے ناطے ، یہ خصوصیات ہم میں ضرور ہونا چاہیے۔ لہذا یہ مقالہ معاشرے کے جوانوں کی تربیت اور ان کو امام زمانہ عج کے صحیح پیروکاروں میں سے قرار دینےکے لئے کافی حد تک معاون ثابت ہوگا۔ البتہ اس شرط کے ساتھ کہ پڑھنے والا یہ کوشش کرے کہ ان خصوصیات کو اپنے اندر پیدا کرے۔ اگرچہ اس مختصر مقالہ میں ان دونوں اماموں ؑکے اصحاب کی تمام خصوصیات کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے لیکن ہم صرف ایسی خصوصیات کی طرف اشارہ کرینگے جو دوسری بعض خصوصیات کی بہ نسبت اہمیت کی حامل ہیں  اور دونوں اماموں ؑکے اصحاب میں مشترک ہیں۔